پیپلزپارٹی کے لیے سبق
- تحریر فرخ سہیل گوئندی
- منگل 19 / ستمبر / 2017
- 3990
این اے 120کے ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ (ن) کی کامیابی غیرمتوقع نہیں لیکن اس انتخاب نے کئی سیاسی سوالوں کو بڑی شدت سے ایک بار پھر اٹھایا ہے۔ یہ حلقہ انتخاب سالوں سے میاں نوازشریف کا حلقہ ہے۔ پاکستان تحریک انصاف 2013 میں اس حلقے میں بھی دوسرے انتخابی حلقوں کی طرح ایک طاقتور انتخابی جماعت بن کر سامنے آئی۔ اس حلقے سمیت سارا لاہور کسی وقت پاکستان پیپلزپارٹی کا گڑھ کہلاتا تھا۔ 1970 کے انتخابات میں امیر جماعت اسلامی میاں طفیل محمد کو بابائے سوشلزم نے انتخابی شکست سے دوچار تو کیا لیکن لاہور ہی سے ذوالفقار علی بھٹو نے ایک سیٹ پر خود الیکشن لڑکر اپنی سیاست کا مرکز لاہور کو ثابت کیا۔
1970 کے انتخابات میں لاہور سے اُن کے مقابل مفکر پاکستان علامہ اقبال کے بیٹے جاوید اقبال کو کھڑا کیا گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کو میں نے کم سنی میں اس حلقے میں خود اپنی آنکھوں سے انتخابات کے دوران دیکھا۔ علامہ اقبال کے بیٹے کو ایک ابھرتے ہوئے سیاسی رہنما کی طرف سے انتخابی شکست دینا کوئی اتنا آسان کام نہیں تھا۔ اسی لیے ذوالفقار علی بھٹو جیل کی کوٹھڑی میں بھی اپنی اس کامیابی پر نازاں تھے کہ انہوں نے جسٹس جاوید اقبال مرحوم کو انتخابی شکست سے دوچار کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو اور جاوید اقبال دونوں دوست بھی تھے۔ جسٹس جاوید اقبال ہمیشہ مسٹر بھٹو سے اپنے تعلق دوستی کا ذکر بڑے فخر سے کرتے تھے۔ پاکستان پیپلزپارٹی، پنجاب اور لاہور کی بنیاد پر ہی پاکستان کی مقبول جماعت کہلائی جاتی تھی۔ لیکن اس پارٹی نے 1988 کے بعد پنجاب اور لاہور میں ایسا سکڑنا شروع کیا کہ اب سیاسی وصحافتی حلقوں میں پاکستان پیپلزپارٹی پنجاب ولاہور کے حوالے سے بحث کا حصہ ہی نہیں۔
2013 کے انتخابی نتائج کے بعد پاکستان پیپلزپارٹی کے سکڑنے کا عمل کنفرم ہوگیا۔ پنجاب میں طاقت رکھنے والی اس جماعت کو پہلے مسلم لیگ (ن) اور پھر پاکستان تحریک انصاف نے انتخابی سیاست میں عملاً غیراہم کردیا۔ عام لوگوں کا کہنا ہے کہ اس کا سبب آصف علی زرداری ہیں جنہوں نے مفاہمت کی سیاست کی بنیاد رکھی۔ یہ ایک سطحی تجزیہ یا رائے ہے۔ عملاً اس سیاست کی بنیاد مرحلہ وار خود محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے رکھی اور اگر آپ غور سے دیکھیں، پی پی پی 1988 کے بعد ہر انتخابات میں پنجاب میں سکڑنا شروع ہوئی۔ 2008 کے انتخابات کے بعد جس ’’جمہوری مفاہمت‘‘ کا عَلم آصف علی زرداری نے بلند کیا، اس عَلم کو محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنے ہاتھوں سے بنایا۔ جنرل پرویز مشرف سے مفاہمت، امریکی سامراج سے مفاہمت اور اپنے سیاسی مخالف مسلم لیگ (ن) سے مفاہمت۔ یہ نظر آنے والی مفاہمتیں ہیں، انہوں نے حقیقتاً اپنی ہی پارٹی کے نظریات سے بھی Deviate کیا۔ یہ وہ مفاہمت ہے جس نے پی پی پی کو پنجاب اور دوسری جگہوں میں تیزی کے ساتھ اور فیصلہ کن انداز میں سکڑنے میں مدد دی۔
2008 کے انتخابات کے بعد آصف علی زرداری نے اس عَلم مفاہمت کو اپنے انداز میں مزید بلند کرکے پارٹی کی عدم مقبولیت میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ البتہ ایک بات ضرور ہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید چوں کہ ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی، اُن کی Legacy کی مالک اور خود ایک طاقتور سیاسی تشخص رکھتی تھیں، اس لیے پارٹی کی کمزوریاں اُن کی شخصیت تلے سما جاتی تھیں۔ لیکن 1997 کے انتخابات میں اُن کی قیادت ایک مرتبہ بری طرح پنجاب میں انتخابی شکست سے دوچار ہوچکی ہے۔ 2013 کے انتخابات میں پیپلزپارٹی کے پاس اب بے نظیر بھٹو یا اُن کے قتل کی مظلومیت کا رونا نہیں تھا، اس لیے پی پی پی پنجاب میں یک دم ایک غیرمقبول جماعت بن گئی۔ اس کا سبب آصف علی زرداری کے فیصلوں کے مطابق حکومتوں اور پارٹی فیصلوں میں اُن کو مقدم بنایا جانا بھی شامل ہے جنہوں نے پارٹی کی بجائے اپنی جیبوں کو اہمیت دی اور دوسری وجہ لوگوں کو عمران خان کی شکل میں ایک متبادل بھی مل گیا۔ اس متبادل کے ہونے نے یقیناً پارٹی کو اس مقام پر پہنچا دیا جس کا وہ تصور بھی نہیں کرسکتی تھی۔
این اے 120 کے انتخابی معرکے میں شروع میں پی پی پی کو انتخابی حوالے سے ایک غیراہم جماعت سمجھا گیا۔ لیکن کچھ دنوں بعد پارٹی نے نظر آنے والی انتخابی مہم میں اپنا وجود ظاہر کرنا شروع کردیا۔ سیاسی حلقوں میں جو پی پی پی کے لیے ہمدردیاں رکھتے ہیں، اس بات کا اظہار کیا کہ اگر پی پی پی دس ہزار ووٹ لے جائے تو اسے پی پی پی کی واپسی سمجھا جائے گا۔ یہ تاثر انتخاب سے قبل پی پی پی کی نظر آنے والی بھرپور مہم سے ابھرا۔ لیکن اتوار کو آنے والے نتائج نے ثابت کردیا کہ پی پی پی پنجاب میں انتخابی نتائج کے حوالے سے 2013 سے آگے نہیں آسکی۔ انتخابی سیاست میں پہلا اور آخری تقابل مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی میں ہی ہے۔ این اے 120 نے اُن مثبت وسوسوں کو مسترد کردیا کہ پی پی پی انتخابی مقبولیت کی طرف جا رہی ہے۔ ایک حوالے سے یہ صورتِ حال پی پی پی کی قیادت کے لیے خوش آئند ہے کہ اُن کو 2018ء تک کسی غلط فہمی میں رہے بغیر اپنی جماعت کی انتخابی بحالی کے لیے اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ اور ابھی وقت ہے کہ وہ اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کرنے میں کامیاب ہوجائیں۔
دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید کی جانے والی محترمہ بے نظیر بھٹو کے اس جہانِ فانی سے جانے کو لوگ پارٹی کا نقصانِ عظیم تصور کرتے ہیں جوکہ غلط نہیں۔ لیکن جب میں اس پارٹی میں اُن کی قیادت میں بھرپور سرگرمِ عمل تھا، تب میں اُن لوگوں میں شامل تھا جو 1986 سے 1997 تک ان سے کہتے رہے کہ آپ پارٹی کو مفاہمت کی طرف لے کر جا رہی ہیں اور یہ کہ آپ کسی حادثے یا خدانخواستہ کسی خطرناک بیماری کا شکار ہوکر پارٹی کو اپنی بھرپور شخصیت سے محروم کردیں تو پارٹی کا انجام کیا ہوگا۔ ایسے کڑوے سچ کی میں نے بہت بڑی قیمت بھی ادا کی۔ اُن کے سامنے سیاسی دربار میں جہاں فاروق لغاری سے لے کر بڑے خوشامدی باادب کھڑے ہوتے تھے، ایسا سچ بولنا آسان نہیں تھا۔ لیکن مجھے وہی کہنا اچھا لگتا ہے جو حقیقت ہو اور جو مستقبل کے بارے میں ہو۔ موجودہ پارٹی 2008 کے انتخابات تک جو آصف علی زرداری کو حصے میں ملی، وہ محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنے ہاتھوں سے استوار کی تھی اور آج بھی وہی تسلسل ہے۔
گو مناسب تو نہیں لیکن میں عرض کرنا اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ راقم نے پارٹی کی عملی سیاست کو انہی اعتراضات پر چھوڑا اور یہ کہ پارٹی جس مقصد کے لیے بنائی گئی، جس عظیم منزل کے لیے ذوالفقار علی بھٹو شہید نے پھانسی کا پھندا چوما، ہزاروں کارکنوں نے اپنی زندگیاں تیاگ دیں، بیگم نصرت بھٹو اور خود بے نظیر بھٹو نے مرد معاشرے میں بے مثال جدوجہد کی اور آخر میں آکر آپ اور ہم اس سیاست کو چھوڑ کر اُس سیاست کو اپنا لیں ، جس خیانت کے خلاف یہ سب کچھ قربان کردیا۔ اس سیاست جس کا نتیجہ این اے 120 میں آیا ہے۔ اس کی بنیاد 10اپریل 1986 کو رکھی گئی، جب پارٹی کے نظریات اور حقیقی قیادت کو مسترد کرکے یوسف رضا گیلانی ، شاہ محمود قریشی، فاروق لغاری سمیت سینکڑوں لوگوں کے ہاتھوں میں پارٹی دینے کا آغاز ہوا۔ این اے 120 تک سفر کا آغاز 10اپریل 1986 سے ہوا۔
لیکن آج بھی وقت ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی، پاکستان میں مقبولیت کی معراج کو بھی چھو سکتی ہے اور اہم بات یہ ہے کہ آج بھی یہی پارٹی ہے جو اپنے آپ کو اگر ازسرنو درست نظریاتی سمت میں ڈال دے تو پاکستان کے سب سے زیادہ پسے ہوئے طبقات کو لے کر ملک میں ایک شان دار کردار ادا کرسکتی ہے۔ آج بھی اس جماعت کے ساتھ سب سے زیادہ پسے ہوئے لوگ ہیں۔ اس کے لیے تنظیمی نہیں نظریاتی حوالے سے فیصلے کرنا ہوں گے:
1۔ پارٹی کو مکمل طور پر پارٹی کے منشور اور نظریے کے مطابق واپس کردیا جائے۔ 2۔ پارٹی کو شخصیت پرستی کے مرثیوں سے نکال کر حال کی پارٹی بنایا جائے۔ 3۔ پارٹی کو کھل کر جاگیرداری کے خلاف بولنا چاہیے اور جاگیرداروں کو پارٹی سے فارغ کردیا جائے۔ 4۔ پارٹی کو کھل کر امریکی سامراج، ورلڈ بینک، آئی ایم ایف کی مخالفت کرنی چاہیے۔ 5۔ پارٹی کو ملکی اور بیرونی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مفاہمت کی بجائے، پسے ہوئے عوام اور مڈل کلاس لوگوں کی پارٹی بنایا جائے۔ 6۔ پارٹی کو بھرپور انداز میں سوشلسٹ پالیسیوں کو اجاگر کرنا چاہیے۔ سوشلزم کا پرچم بلند کیا جائے نہ کہ حکمران طبقات، اشرافیہ اور سامراج کے ساتھ مفاہمت کا پرچم۔ 7۔ پارٹی کو اندرونی طور پر مکمل جمہوری انداز میں چلایا جائے۔ 8۔ پارٹی کے اندر اور باہر بھرپور تنقید کا ماحول پیدا کیا جائے۔ 9 ۔ پارٹی کو جاگیرداروں، نودولتیوں، موقع پرستوں سے نجات دلا کر اس کی قیادت درمیانے اور نچلے طبقات کو واپس کر دیا جائے۔ پارٹی ماضی پرستی کی بجائے حال اور مستقبل میں زندہ رہنے کا احساس پیدا کرے۔ 10۔ پارٹی کو نوجوانوں کے ہاتھوں میں منتقل اور خاندانوں کے ہاتھوں سے آزاد کردیا جائے۔ 11۔ پارٹی کو عوامی چندوں پر چلایا جائے اور پارٹی کے دفاتر گلی محلوں میں کھولے جائیں۔
اگر پیپلزپارٹی ، مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف کے مقابلے میں اپنا علیحدہ تشخص بحال کرنے میں کامیاب نہیں ہوگی تو پارٹی کبھی بھی اپنے قائد ذوالفقار علی بھٹو کے نظریے کے مطابق نظر آنے والی پارٹی نہیں بن سکتی۔ کسی حکومت میں مخلوط حصے دار کے طور پر شامل ہونا کوئی بڑا کام یا کامیابی نہیں۔ پی پی پی کی شناخت ایک نظریاتی، عوامی، ترقی پسند، جاگیردار مخالف، سرمایہ دار مخالف، کسانوں، مزدوروں اور دانشوروں کی جماعت کے طور پر ہی ہے۔ اگر وہ اپنا حلیہ مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی جیسا رکھنے میں سرگرم رہے گی تو اس کا مستقبل مخلوط حکومت میں شامل ہونا تو ہو سکتاہے، ملک کی تقدیر بدلنے والی جماعت نہیں بن سکتی۔
(قارئین، اس کالم کو 12ستمبر 2017 کو شائع ہونے والے کالم ’’پیپلزپارٹی- NA120 تک‘‘ کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے۔)