بائیو مولی۔۔۔۔

تب ہماری زبان توتلی تھی اور درست طریقے سے مولوی بول ہی نہ سکتا تھا۔ اور اس کے بجائے مولی صاحب ہی بولتا تھا۔ اس وقت ہمیں یہ سمجھ نہیں آتی تھی کہ مولی میم پر پیش کے ساتھ اور مولی میم پر زبر کے ساتھ میں کیا فرق ہے۔ البتہ کھانے کے اور پڑھانے کے اور  کے مابین فرق کا  ضرور علم تھا۔  بچپن میں جب مولی صاحب سے پڑھتا تھا تو امی نے کئی بار ڈانٹا۔  بیٹا مولی صاحب نہیں مولوی صاحب درست ہے۔ البتہ تب مولوی صاحب درست  بھی ہوا کرتے تھے۔ اب نہیں۔

اس وقت جو مولی کھانے کے میز پر عموما دوپہر کے کھانے پر پیش ہوا کرتی تھی۔ وہ پتلی پتلی اور نازک سی مولی ہوتی تھی۔ اس کا رنگ کچھ کچھ گلابی مائل ہوتا تھا۔ آج کل کی، بازاروں میں دستیاب مولیوں کی طرح سفید نہیں۔ کہ جیسے خون سفید ہوگیا ہو۔ امی کا کہنا تھا کہ بڑی اور موٹی مولی بد ذائقہ ہوتی ہے اور ہاضمہ خراب کرنے کا باعث بنتی ہے۔ اس دور میں اگر کسی کو نیچا دکھانا ہوتا تو کہتے جناب آپ کس کھیت کی مولی ہیں۔ صاحب زمانہ بدل گیا ہے۔ ہم بڑے ہوگئے ہیں اور مولیاں موٹی ہوگئی ہیں۔ ان میں اب وہ ذائقہ رہا ہی نہیں۔ مولی کا سالن، مولی کا اچار اور مولی کے پراٹھے تو قصہ پارینہ ہو چکے ہیں۔ب چے تو خود کو برگر جنریشن کہلانے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ مولی کے ساتھ مولی صاب کا بھی قد وزن اور حجم سب کچھ بدل گیا۔

ہمیں مولی کے موٹے اور حجم و قد میں بے تحاشہ بڑھنے کا غم کھائے جارہا تھا۔ کہ یہ مولی اسی طرح بڑھتی رہی تو ضرور ایک دن پھٹ جائیں گی۔ اور سچ مچ ایسا ہو بھی گیا۔ اب مولیاں اتنی موٹی ہو چکی ہیں کہ دھڑادھڑ پھٹ رہی ہیں۔ شکر ہے کہ ہمارے یہاں اب بھی اس تند و مند مولی کے دور میں کچھ خوش ذائقہ نازک اندام مولیاں ملتی ہیں مگر ان کا تلاش کرنا کافی مشکل ہے اور اس سے بھی زیادہ مشکل ان کا خریدنا ہے۔ کیونکہ وہ بکتی نہیں ہیں۔ 

یورپ میں کچھ عرصے سے البتہ یہ نیا چلن چل پڑا ہے یعنی بائیو پراڈکٹس۔ عام طریقے سے اگائی فصلوں اور ان سے حاصل ہونے والے انتہائی سستے داموں پر دستیاب اجزائے خوردونوش کے بارے میں آئے دن کے اسکنڈلز نے اس نئے چلن کا رواج ڈال کر نہ صرف لوگوں کو نفسیاتی دباؤ سے بچایا ہے بلکہ قیمتوں میں بھی استحکام بخشا ہے۔ ان بائیو پراڈکٹس میں بائیو مولی بھی شامل ہے۔ موٹی موٹی بد مزہ  سستی مولی کے ساتھ ساتھ نرم و نازک ذائقہ دار پتلی پتلی مولیاں۔

اور صرف اجناس ہی کیا، اس بائیو نے ہر شعبے میں اپنا کردار ادا کرنا شروع کر دیا ہے۔ یہاں تو ہلکے پھلکے رسم ورواج اور مذہبی رسوم والے بائیو مذہب بھی میسر ہیں۔۔۔ ذائیقہ بدلنے میں کیا حرج ۔۔۔۔ بائیو اپنائیے مولی بھی۔۔۔۔ اور۔۔۔