ضمنی انتخاب کے بعد مسلم لیگ (ن) کی سیاست کا رخ

یہ ستمبر 2012 کا ایک روشن دن تھا۔ ماڈل ٹاؤن لاہور کی ایک کوٹھی جو امتدادِ زمانہ سے کئی بار اجڑی اور کئی بار آباد ہوئی تھی اُس کے بڑے ہال میں کوئی تیس کے قریب افراد ایک بڑی میز کے گرد بیٹھے اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے۔ سب کے سامنے دوچار اخبارات پڑے تھے۔ سخت سیکورٹی انتظامات کے باوجود کوٹھی میں خاصی چہل پہل تھی۔ اوپر کی منزل کو جانے والی سیڑھیوں میں کھڑی ایک خاتون جو اب وفاقی وزیر ہیں، ملازمین کو ہدایات دے رہی تھیں۔ سیکورٹی چیکنگ پر مامور عملہ آنے والے بیشتر افراد کو نامراد لوٹا رہا تھا، کچھ کو ذلیل بھی کیا جارہا تھا۔ البتہ مؤثر اور عملہ کی مٹھی گرم کرنے والے افراد کوٹھی کے اندر آجا سکتے تھے، جہاں دوسرا عملہ مختلف حیلوں بہانوں سے اُن کی جیبیں خالی کرا رہا تھا۔

بارہ بجے کے قریب بڑے ہال کے دائیں جانب والے چھوٹے سے شیشے کے کمرے میں ایک میٹنگ کا آغاز ہوا۔ اس میٹنگ میں ایک موجودہ وفاقی وزیر، ایک معزول وفاقی وزیر، ایک ترقی یافتہ مغربی ملک میں اس وقت پاکستان کے ہائی کمشنر، پورے اہتمام سے تیار ہوکر آنے والی ایک خوش شکل خاتون اور ملک کے سب سے بڑے صوبے کے ایک موجودہ وزیر شریک تھے۔ اس میٹنگ کا ایک شریکِ کار راقم بھی تھا۔ صوبائی وزیر نے میٹنگ شروع ہونے سے قبل ہی خاتون کی تعریفوں اور خوشامد کی انتہا کردی۔ اپنا کام مکمل کرکے صوبائی وزیر تو اٹھ گئے اور باقی لوگوں نے میٹنگ کا غیر رسمی آغاز کیا۔ یہ میٹنگ ایک میڈیا سیل کی تشکیل، اُس کے اہداف، طریقہ کار سے متعلق تھی۔ اس میٹنگ میں کھڑے کھڑے موجودہ وزیراعلیٰ پنجاب اور حال ہی میں سینیٹر منتخب ہونے والے ایک ڈاکٹر صاحب بھی شریک ہوئے۔ میٹنگ بہت جلد ختم ہوگئی۔ میٹنگ کے شرکاء خود سینئر ہونے کے باوجود اس جونیئر بلکہ نووارد خاتون کو بہت زیادہ اہمیت دے رہے تھے جو اُس وقت تک صرف سوشل میڈیا پر نظر آرہی تھیں اور صرف ایک بار اپنے سابقہ کالج میں طالبات سے ایک خطاب کرکے آئی تھیں۔ میٹنگ ختم ہوئی تو اس میٹنگ کی غیر اعلانیہ طور پر صدارت کرنے والے موجودہ ہائی کمشنر نے راقم سے کہا کہ وہ اس بچی (شریکِ مجلس خاتون) کو مستقبل کی وزیراعظم دیکھ رہے ہیں۔ یہ بات وہ خوشامد کے لیے کہہ رہے تھے یا واقعتاً ان کا سیاسی قیافہ یہی تھا یہ تو اللہ بہتر جانتا ہے۔ لیکن چونکہ یہ بات انہوں نے متذکرہ بالا خاتون سے نہیں راقم سے کہی تھی اس لیے اس میں خوشامد کا عنصر کم نظر آتا ہے۔

پھر 17 ستمبر 2017 کی رات اس خاتون نے اسی بالکونی سے پُرجوش انداز میں نعرے لگانے والے کارکنوں سے خطاب کیا جہاں 11 مئی 2013 کی رات دوبار ملک کے وزیراعظم رہنے والے اور تیسری بار وزارتِ عظمیٰ کا حلف اٹھانے کے لیے پر تولتے ہوئے نوازشریف نے خطاب کیا تھا۔ وقت بھی تقریباً وہی تھا کوئی 11 بجے کا۔ نوازشریف کے دائیں بائیں شہبازشریف، طارق عظیم، اسحاق ڈار، انوشہ رحمان تھے، جبکہ مریم نواز کے دائیں جانب مریم اورنگ زیب اور بائیں جانب شائستہ پرویز ملک نظر آرہی تھیں۔ 2011 میں مریم نواز عارضی طور پر چھت پر بنائے گئے اسٹیج کے بالکل پچھلے حصے میں خاموش کھڑی تھیں۔ جبکہ 17 ستمبر 2017 کو مرکزی اور واحد مقرر وہی تھیں۔ 11 مئی2013 کو نوازشریف کی وہ تقریر جس میں انہوں نے کہا تھا کہ نہیں زیادہ سے زیادہ اکثریت دلائیں تاکہ وہ فیصلوں کے لیے کسی کے محتاج نہ ہوں، چار سال تک متنازع رہی اور اسی تقریر سے سر اٹھانے والے فتنے نہ صرف اُن کے لیے چار سال تک دردِ سر بنے رہے بلکہ اُن کی نااہلی میں ان فتنوں کا بڑا ہاتھ تھا۔

اور 17 ستمبر کی رات11 بجے مریم نوازشریف کی وہ تقریر جس میں ان کا کہنا تھا کہ عوام نے ناانصافی پر مبنی فیصلوں کے ساتھ ان کے ترجمانوں کو بھی مسترد کردیا ہے۔ عوام نے نااہلی کا فیصلہ مسترد کیا ہے۔ ہمارا مقابلہ نظر نہ آنے والی قوتوں کے ساتھ بھی تھا۔ اس موقع پر انہوں نے چوتھی واری فیر۔۔۔ شیر کے نعرے بھی لگوائے۔ یہ تقریر بھی اتنی ہی متنازع ہے اور بہت جلد اس کے منفی اثرات بھی نظر آنے لگیں گے۔ نوازشریف کی تقریر کو عمران خان اور اپوزیشن جماعتوں نے متنازع اور مشکوک بنایا تھا، جبکہ مریم نواز کی تقریر کا جہاں تجزیہ ہوگا، وہاں سے جواب میں تقریریں ہوتی ہیں نہ جواب آتے ہیں۔ وہاں خاموشی سے ایکشن ہوتا ہے، کارروائی ہوتی ہے۔ یہ ایکشن آرام سے اور تسلی سے ہوتا ہے مگر غیر محسوس انداز میں۔ نوازشریف اپنی تقریر کے ذریعے اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کی منصوبہ بندی کررہے تھے اور مریم نواز اپنی تقریر کے ذریعے اقتدار سے نکالے ہوئے نوازشریف اور ان کے خاندان کی اقتدار میں واپسی کی حکمت عملی بنارہی تھیں۔ نوازشریف بھی کچھ عرصے کامیاب رہے اور پھر ناکامی ان کے گلے کا ہار بن گئی۔ شاید مریم نواز کو بھی ابتدا میں کامیابی نظر آئے ۔۔۔ مگر بعد میں کیا ہوتا ہے یہ اللہ ہی جانتا ہے۔ مریم نواز کی اس تقریر سے یہ بات بالکل واضح ہوگئی ہے کہ نوازشریف اور مریم نواز مزاحمت کی سیاست کرنے والے ہیں۔ وہ اُن تمام اداروں کو چیلنج کررہے ہیں جنہوں نے انہیں چیلنج کیا ہے۔ لیکن لگتا یہ ہے کہ اس لڑائی میں نہ شریف خاندان کے دوسرے لوگ ان کے ساتھ ہیں، نہ پارٹی اور نہ ان کی حکومتیں۔ سب مفاہمت کے راہی ہیں، اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار ہیں، اوراب بھی اسی کے زیر سایہ سیاست کرنا چاہتے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے پرو نواز حلقوں میں مستقبل کی وزیراعظم مریم نواز کا یہ جوش وخروش اور آئینی اداروں کو چیلنج کرنے کا اقدام لاہور کے حلقہ این اے 120 میں کامیابی کے بعد تھا، جہاں سے ان کی والدہ اور سابقہ خاتونِ اول کلثوم نواز 61745 ووٹ لے کر کامیاب ہوئی ہیں۔ وزیراعظم نوازشریف کی نااہلی کے بعد خالی ہونے والی اس نشست پر اُن کا اصل مقابلہ تحریک انصاف کی ڈاکٹر یاسمین راشد سے تھا جو معروف گائناکالوجسٹ اور پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کی کئی سال تک صدر رہنے کے علاوہ 2013 کے انتخابات میں اس حلقے میں نوازشریف کے مدمقابل تھیں اور انہوں نے نوازشریف کے 91 ہزار ووٹوں کے مقابلے میں 52 ہزار ووٹ حاصل کیے تھے۔ حالیہ انتخابات میں اس حلقے سے کُل 43 امیدوار تھے، مگر نتیجہ دیوار پر لکھا ہوا تھا۔ معمولی سا بھی سیاسی شعور رکھنے والا شخص جانتا تھا کہ یہاں کلثوم نواز آسانی سے کامیاب ہوجائیں گی اور اُن کی واحد مدمقابل ڈاکٹر یاسمین راشد ہیں۔ یہ اندازہ سیاسی جماعتوں اور ان کے امیدواروں کو بھی تھا۔ لیکن انہوں نے میدان خالی نہیں چھوڑا، اور میدان میں موجود رہے۔ اپنے کارکن کو اپنے ساتھ جوڑے رکھنے، انہیں متحرک کرنے اور شکست دیکھتے ہوئے بھی مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ اس حلقے کا نتیجہ عین توقع کے مطابق اور دیوار پر لکھا ہوا تھا۔

لاہور کا کوئی صحافی، تجزیہ نگار اور سیاسی مبصر یہاں کلثوم کے سوا کسی کو کامیاب ہوتا ہوا نہیں دیکھ رہا تھا۔ یہی حال عوام کا تھا۔ حلقہ کا کوئی ووٹر چاہے وہ کسی کے بھی ساتھ ہو، یہ بات تسلیم کررہا تھا کہ یہاں کامیابی کلثوم نواز کے حصے میں آئے گی۔ خود تحریک انصاف اور دوسری اپوزیشن جماعتیں انتخابی مہم کے دوران یہ تسلیم کررہی تھیں کہ کامیابی تو کلثوم ہی کے حصے میں آئے گی لیکن ان کی کامیابی کا مارجن پہلے سے کم ہوجائے گا۔ حقیقت میں اس انتخاب کے پس پردہ یہی نفسیات کام کررہی تھی۔ مسلم لیگ (ن) اپنی کامیابی کو دیکھتے ہوئے بھی 2013 سے زیادہ ووٹ چاہتی تھی۔ ان کی خواہش تھی کہ کلثوم نواز کے ووٹ 91 ہزار یا اس سے زیادہ ہوجائیں اور کسی طرح ڈاکٹر یاسمین کے ووٹ کم ہوجائیں۔ یہی حکمت عملی تحریک انصاف کی تھی کہ کسی طرح مسلم لیگ (ن) کی امیداوار 2013 سے کم ووٹ لے، چاہے وہ جیت ہی جائے، اور دوسرے ڈاکٹر صاحبہ کے ووٹ 2013 کے 52ہزار ووٹوں سے کچھ بڑھ جائیں۔ اس معاملے میں دونوں جماعتوں کو کامیابی نہیں ہوسکی۔ نہ کلثوم کے ووٹ 2013 جتنے یا اس سے زیادہ ہوسکے، اور نہ ڈاکٹر یاسمین کے ووٹ پہلے جتنے نکلے۔

ڈاکٹر یاسمین نے 2013 کے مقابلے میں 47099 ووٹ حاصل کیے جو 2013 کے مقابلے میں 5ہزار کم تھے۔ دراصل یہاں مسلم لیگ (ن) نے بڑی کامیاب حکمت عملی بنائی تھی۔ یہ شہر گزشتہ کئی انتخابات سے مسلم لیگ (ن) کا قلعہ قرار دیا جارہا ہے۔ حلقہ این اے 120 شریف خاندان کا آبائی حلقہ ہے، یہاں مسلم لیگی کارکنوں کے علاوہ کشمیریوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ مسلم لیگ (ن) تحریک انصاف اور دوسری جماعتوں سے بڑی اور منظم پارٹی ہے۔ نوازشریف کی نااہلی اور کلثوم کی بیماری کی وجہ سے اسے ہمدردی کا ووٹ بھی ملا۔ مرکز اور صوبے میں حکومت ہونے کی وجہ سے نفسیاتی طور پر مسلم لیگ (ن) بہتر پوزیشن میں تھی۔ اس حلقے میں نون لیگ کے ہارنے سے مرکز، صوبے یا بلدیات میں کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا اور کسی اور کے جیتنے سے کوئی تبدیلی آنے والی نہیں تھی۔ پھر مسلم لیگ (ن) نے یہاں پانی کی طرح پیسہ بہایا، ناراض کارکنوں کو منایا، مؤثر گروہوں کو متحرک کیا، آخری دن تک حلقہ میں ترقیاتی کام کروائے۔ آخری ہفتے میں سیکڑوں افراد کو امدادی چیک دیئے، انتخابی دفاتر میں کسی چیز کی کمی نہیں آنے دی۔ جلسوں کے لیے گاڑیاں، کھانا، جھنڈے سب بروقت تیار۔ پولنگ والے دن پولنگ ایجنٹس، گاڑیاں، انتخابی فہرستیں، انتخابی میٹریل موجود۔ یہ انتظامات دوسری جانب دیکھنے میں نہیں آرہے تھے۔

مسلم لیگ (ن) نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر کم سے کم تنقید کی اور اسے عدالتی فیصلے پر ریفرنڈم نہیں بننے دیا۔ جبکہ عمران خان کی کوشش تھی کہ اس انتخاب کو عدالتی فیصلے پر ریفرنڈم بنادیا جائے۔ لیکن جب مسلم لیگ (ن) کی امیدوار کامیاب ہوگئیں تو فوراً ہی کہہ دیا گیا کہ عوام نے عدالتی فیصلے کو مسترد کردیا ہے۔ ان کی کامیابی کو عمومی طور پر اسی طرح دیکھا جائے گا، لیکن تصویر کا ایک رخ یہ بھی ہے کہ کلثوم کے مخالف امیدواروں نے مجموعی طور پر ان سے ووٹ زیادہ لیے ہیں۔ یہ تمام کے تمام امیدوار عدالتی فیصلے کے حق میں تھے۔ اس طرح حلقہ کے عوام کا مجموعی فیصلہ عدالتی فیصلے کے حق میں آیا۔ یہاں پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی نے بہت اچھی مہم چلائی۔ پیپلزپارٹی کے فیصل میر معروف صحافی وارث میر مرحوم کے فرزند اور نامور اینکر حامد میر کے بھائی ہیں، جبکہ ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ بطور طالب علم اور وکیل دونوں طبقات کی قیادت کرتے رہے۔ وہ متعدد بار بلدیاتی انتخاب جیتے ہیں۔ اگرچہ ان دونوں امیدواروں کے ووٹ پہلے سے کم نکلے ہیں لیکن اس ماحول میں ان کا ڈٹے رہنا بہت اہم ہے۔

اس حلقے میں سب سے بڑا اپ سیٹ دو امیدواروں نے کیا۔ جماعت الدعوۃ کے سیاسی ونگ ’’ملّی مسلم لیگ‘‘ اور لبیک یارسول اللہ تحریک کے امیدوار پہلی بار انتخابی میدان میں اترے تھے۔ لبیک تحریک کے امیر لاہور اظہر حسین رضوی نے 7130 اور ملّی مسلم لیگ کے شیخ یعقوب نے 5822 ووٹ حاصل کئے۔ گویا یہ دونوں جماعتیں کم از کم لاہور کی حد تک اہمیت حاصل کرگئی ہیں۔ حلقہ میں ووٹرز کی کُل تعداد 321786 تھی، جبکہ صرف 126860ووٹرز نے ووٹ ڈالا۔ اس طرح تقریباً2 لاکھ ووٹرز نے ووٹ ہی نہیں ڈالا۔ ایک اطلاع کے مطابق ڈالے گئے ووٹوں کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے ووٹ 2013 کے مقابلے میں 33 فیصد کم ہوگئے، جبکہ تحریک انصاف کے 3 فیصد بڑھ گئے۔

ڈاکٹر یاسمین راشد اس حلقہ سے 29 ہزار غیر تصدیق شدہ ووٹ کو عدالت میں چیلنج کررہی ہیں۔ دوسری جانب مریم نواز،  کیپٹن صفدر اور پرویز رشید  لندن جاچکے ہیں جہاں وزیراعظم اور وفاقی وزرا نے نوازشریف سے ملاقات کی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ این اے 120کے انتخابات کے بعد مسلم لیگ (ن) کیا پالیسی اپناتی ہے اور کیا اس پالیسی پر تمام مسلم لیگی متفق بھی ہوتے ہیں یا نہیں۔