جماعت اسلامی کی احتساب ریلی
- تحریر سید تاثیر مصطفیٰ
- بدھ 20 / ستمبر / 2017
- 4971
ملک میں ایک عرصے سے کرپشن کے خلاف آواز اٹھائی جا رہی ہے اور احتساب کا مطالبہ ہو رہا ہے۔ پاکستان اس اعتبار سے ایک بدقسمت ملک ہے کہ قدرتی وسائل اور معدنی دولت سے مالامال ہونے اور محنتی، جفاکش اور باصلاحیت آبادی کا حامل ہونے کے باوجود ترقی و خوشحالی کے معاملے میں اس کا الٹا سفر پہلے دن ہی سے جاری ہے۔ جس کی وجہ کرپشن کا ہر روز بڑھنا اور احتساب کا نہ ہونا ہے۔ یہ کام پہلے دن سے جاری ہے اور ہر روز اس کے حجم میں اضافہ ہو رہا ہے۔
قیامِ پاکستان سے بھٹو دور تک کرپشن کا حجم زیادہ محسوس نہیں ہوتا تھا اور عام آدمی اُس سے براہِ راست کم متاثر ہو رہا تھا۔ لیکن بھٹو دور کے بعد عام آدمی نے اپنے آپ کو براہِ راست متاثر ہوتا ہوا محسوس کیا۔ کرپشن کے کھلے اثرات معاشرے پر ظاہر ہونے لگے۔ سیاست میں بھی پیسے کا چلن عام ہوگیا اور معاشرے میں بھی پیسے والے کی قدر زیادہ بڑھنے لگی مگر کسی نے اس طرف دھیان نہیں دیا کہ پیسہ جائز ہے یا لوٹ مار کا۔2013 کے انتخابات کے بعد عمران خان نے کرپشن کے خلاف باقاعدہ آواز اٹھائی اور اپریل 2016 میں پانامہ لیکس کے آنے کے بعد یہ ڈھول پھٹ گیا، لیکن حکومت کچھ کرنے کو تیار نہیں تھی۔ چنانچہ سینیٹر سراج الحق، عمران خان اور شیخ رشید سپریم کورٹ گئے جس کے نتیجے میں وزیراعظم نوازشریف نااہل ہو گئے۔ شاید عمران خان اور شیخ رشید یہی چاہتے تھے۔ لیکن سراج الحق نے پانامہ کے کل 436 کرداروں کے خلاف کارروائی کی استدعا کی تھی۔ چنانچہ اس فیصلے کے بعد وہ زیادہ متحرک ہوئے اور سب کے احتساب کا مطالبہ کیا۔
یاد رہے کہ پانامہ کیس میں بہت پہلے جماعت اسلامی انٹی کرپشن ٹرین مارچ کر چکی تھی۔ اس بار بھی جماعت اسلامی نے لاہور تا اسلام آباد احتساب مارچ کا اعلان کیا ۔ریلی صبح 10 بجے منصورہ سے راولپنڈی روانہ ہو گئی، جو سیکڑوں کاروں، وینگوں اور دوسری گاڑیوں پر مشتمل تھی۔ ریلی لاہور کی جن سڑکوں سے گزری وہاں جماعت اسلامی کے پرچم لہرا رہے تھے اور جگہ جگہ کرپشن کے خاتمے اور احتساب کے مطالبے پر مبنی جماعت اسلامی اور اس کی برادر تنظیموں کی جانب سے بینرز، ہورڈنگز اور فلیکسز لگے ہوئے تھے۔ لاہور شہر کے اندر جگہ جگہ شہریوں نے نعرے لگا کر ریلی کا استقبال کیا اور قائدین پرپھولوں کی پتیاں نچھاور کیں۔ ریلی میں اتنی بڑی تعداد میں کاریں، جیپیں، ویگنیں اور ڈالے شامل تھے کہ جگہ جگہ ٹریفک بلاک ہوتی رہی۔ جلوس کے ساتھ جماعت اسلامی کے جھنڈے اٹھائے ہوئے سیکڑوں موٹر سائیکل سوار بھی چل رہے تھے۔
ریلی کا پہلا قیام چوک داتا دربار تھا جہاں چند دن قبل نوازشریف نے اپنی ریلی کا اختتام کیا تھا۔ یہ چوک لاہور کے تاریخی حلقے این اے 120 میں آتا ہے جہاں سے جماعت ا سلامی کے پُرعزم، باصلاحیت اور شفاف کردار اور بے داغ ماضی رکھنے والے رہنما ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ جماعت اسلامی کے امیدوار ہیں۔ ریلی کی کامیابی کا اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ریلی کے ساتھ جانے والی میڈیا کی کوچ اُسی چوک میں ٹریفک کے اژدہام کی وجہ سے تقریباً ایک گھنٹے تک پھنسی رہی۔ یہاں درجنوں ٹی وی چینلز کی وین اور ڈی ایس این جیز پہلے سے موجود تھیں جو جلسہ کی لائیو کوریج کر رہی تھیں۔ جہاں لیاقت بلوچ، زبیر گوندل اور ضیاء الدین انصاری نے مختصر خطاب کیا۔ جبکہ سراج الحق نے انتہائی جوشیلے انداز میں اس کرپٹ نظام اور کرپٹ حکمرانوں کو للکارا۔ انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ میں اُن کی پٹیشن پانامہ کیس میں سامنے آنے والے تمام 436 افراد کے خلاف تھی۔ ابھی صرف نوازشریف نااہل ہوئے ہیں۔ اُن کا ابھی پانامہ کیس میں احتساب باقی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ پانامہ کے تمام کرداروں کے خلاف کارروائی چاہتے ہیں اور سپریم کورٹ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اُن کا پورا کیس سنا جائے۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف کو نااہل قرار دلوانا میرا پہلا حملہ ہے۔ میں کرپشن اور ظالمانہ نظام کے خاتمے کے لیے محمود عزنوی کی طرح 17 حملے کروں گا اور کرپشن کے سومنات کو گرا کر دم لوں گا۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف میرا مشورہ مان کر استعفیٰ دے دیتے تو اُن کی عزت بچ جاتی۔ اب اسحاق ڈار کو یہی مشورہ دیتا ہوں کہ وہ فوری مستعفی ہو جائیں، ورنہ اُن کاانجام بھی ایسا ہی ہوگا۔
جلسے کے اختتام پر ریلی راولپنڈی کی جانب روانہ ہوئی تو موٹرسائیکل سوار نوجوانوں نے راوی پل تک ریلی کو دونوں جانب سے حصار میں لیا ہوا تھا۔ موٹر سائیکل سواروں کے ہاتھوں میں جماعت اسلامی کے جھنڈے اور زبانوں پر دلوں کو گرمانے والے نعرے تھے۔ چونکہ لاہور سے نکلتے ہوئے خاصی دیر ہو چکی تھی، اس لیے جماعت کی قیادت نے کالاشاہ کاکو میں موجود کارکنوں کو ہاتھ لہرا کر جواب دیا مگر قلت وقت کے باعث شرکا سے خطاب نہ کیا۔ مریدکے اور کامونکی اور دوسری جگہوں پر بھی مختصر قیام کے بعد قافلہ آگے روانہ ہو گیا۔ گوجرانوالہ میں شہریوں کا جذبہ دیدنی اور جماعت کے کارکنوں کے انتظامات قابل رشک تھے۔ پورا شہر جماعت اسلامی کے بینرز اور فلیکسز سے بھرا ہوا تھا۔ جلسہ گاہ سے تقریباً ایک کلومیٹر قبل ہی قائدین جماعت کو گاڑیوں سے اتار کر بگھیوں میں سوار کرا دیا گیا۔ اس طرح سراج الحق اور جماعت اسلامی کے دوسرے قائدین بگھیوں کے جلو میں شہرکے تاریخی جلسہ گاہ شیرانوالہ باغ پہنچے۔ جہاں پہلے سے سٹیج لگا ہوا تھا اور سیکڑوں افراد اپنے قائدین کا انتظار کر رہے تھے۔ جبکہ ہزاروں افراد بگھیوں کے ساتھ پیدل اور موٹرسائیکلوں پر سوار ہوکر جلوس کے ساتھ یہاں پہنچے تھے۔
پہلوانوں کے اس شہر میں زبیر گوندل، علامہ جاوید قصوری اور مقامی قائدین نے مختصر خطاب کیا جبکہ سینیٹر سراج الحق نے اپنے پُرجوش خطاب میں کہا کہ میں ایسے نظام کونہیں مانتا جس میں عوام ووٹ دیں اور لیڈر اپنی جیبیں بھریں۔ ہمیں موقع ملا تو سیاست اورایوانوں کے دروازے عام شہریوں کے لیے کھول دیں گے۔ گوجرانوالہ میں نمازِ ظہر کا وقت ہوچکا تھا، لیکن قائدین نے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا اور گکھڑمنڈی کے قریب ایک مسجد میں ظہر کی نماز ادا کرکے قافلہ ایک بار پھر منزل کی جانب روانہ ہو گیا۔ جی ٹی روڈ پر جگہ جگہ جماعت اسلامی کے کارکن جھنڈے اٹھائے ہوئے شرکا ے ریلی کے استقبال کے لیے موجود تھے۔ محترم سراج الحق ہر جگہ پر گاڑی کی رفتار آہستہ کرواتے، شرکا کو ہاتھ لہرا کر اُن کے نعروں کے جواب دیتے اور آگے بڑھ جاتے۔ دریائے چناب کے پل پرجماعت اسلامی کے کارکنوں کی معقول تعداد موجود تھی۔
لالٰہ موسیٰ میں شرکا کی بڑی تعداد کے باعث پہلے ہی ٹریفک جام تھی۔ سراج الحق گاڑی سے اترکر سٹیج پر پہنچے اور اہل لالٰہ موسیٰ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کرپشن ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ جماعت اسلامی اسے ختم کرکے ہی دم لے گی۔ یہاں سے قافلہ گجرات پہنچا جہاں رش اور ٹریفک کے باعث ریلی کا ایک حصہ شہر میں داخل ہی نہیں ہوسکا اور بعد میں بائی پاس کے ذریعے ریلی سے آکرمل سکا۔ گجرات میں سراج الحق نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ظالمانہ نظام کے خاتمے کے لیے عوام سے مشورہ کرنے کے لیے نکلا ہوں اور راولپنڈی پہنچ کر اپنے لائحہ عمل کا اعلان کروں گا۔ گجرات کے بعد دینہ میں بھی جماعت اسلامی کے سیکڑوں کارکن جھنڈے لیے استقبال کے لیے موجود تھے۔ کھاریاں میں خطاب کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ نوازشریف ہمارے کرپٹ نظام کی پیداوار ہیں۔ قوم بہادر لیکن قیادت بزدل ہے جو بھارت سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات نہیں کر سکتی۔
راولپنڈی سے قبل اگرچہ بعض چھوٹے چھوٹے مقامات پر بھی سراج الحق نے خطاب کیا، لیکن گوجرانوالہ کے بعد سب سے بڑا استقبال سابق وزیراعظم راجا پرویز اشرف کے شہر گوجر خان میں تھا، جہاں شرکا نے زبردست آتش بازی کرکے ریلی کا استقبال کیا۔ یہاں سراج الحق نے پشتو میں بھی خطاب کیا اور کہا کہ گوجر خان غازیوں اور شہیدوں کی سرزمین ہے لیکن اس ملک کے سیاسی برہمن خدا بننے کی کوشش میں ہیں۔ ہم انہیں کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ یہاں معذور افراد کے ایک وفد نے بھی سراج الحق سے مختصر ملاقات کی جبکہ لاہور سے روانگی کے وقت نابینا افراد کے ایک وفد نے سٹیج پر جا کر سراج الحق کو اپنی حمایت کا یقین دلایا تھا۔ لاہور سے ریلی کے ساتھ کوریج کے لیے آنے والی ٹی وی چینلز گاڑیاں اور ڈی ایس این جیز جہلم تک ریلی کے ساتھ رہیں اور جگہ جگہ صحافی حضرات اپنے اپنے چینلز کو تازہ ترین خبر دیتے رہے۔
راولپنڈی پہنچ کر امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے نیب کے خلاف اکتوبر کے پہلے ہفتے میں دھرنا دینے کا اعلان کیا اور کہا کہ اگر نیب نے پانامہ کیس کے 436 کرداروں کے خلاف چالان مکمل کرکے کارروائی شروع نہ کی تو وہ اکتوبر کے پہلے ہفتے میں نیب ہیڈکوارٹر کے سامنے دھرنا دیں گے۔ انہوں نے نیب کو 30 ستمبر تک کا وقت دیا ہے کہ وہ ان لٹیروں، غاصبوں اور قومی دولت کو شیرمادر کی طرح ہضم کرنے والوں کے خلاف انکوائری مکمل کرکے کیس عدالت میں پیش کرے۔ احتساب مارچ کے اختتام پر مری روڈ راولپنڈی کے معروف ترین مقام چوک وارث میں احتجاجی جلسہ عام سے خطاب کے لیے سراج الحق جلسہ گاہ میں پہنچے تو شرکائے جلسہ نے کھڑے ہو کر ان کا استقبال کیا اور نعروں کی گونج میں انہیں سٹیج تک پہنچایا۔ جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ، مرکزی سیکرٹری اطلاعات امیرالعظیم، ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف، امیر جماعت اسلامی لاہور ڈاکٹر ذکراللہ مجاہد اور جماعت اسلامی کے دیگر قائدین ان کے ہمراہ تھے۔ جبکہ نائب امیر جماعت اور سابق رکن قومی اسمبلی میاں محمد اسلم، امیر جماعت اسلامی راولپنڈی اور جماعت اسلامی کے مقامی قائدین نےسراج الحق کا استقبال کیا اور انہیں راولپنڈی آنے پرخوش آمدید کہا۔
خطاب کے دوران کئی مواقع پر سینیٹر سراج الحق جذباتی ہو گئے جبکہ شرکا کے جوش وخروش کا یہ عالم تھا کہ جماعت کے قائدین کو باربار جلسہ گاہ اور سٹیج سے نعرے لگانے والے نوجوانوں کو روکنا پڑا۔ امیر جماعت اسلامی نے اس موقع پر کہا کہ وہ لاہور سے چل کر یہاں اس لیے آئے ہیں تاکہ اپنے عوام اور نوجوانوں سے جرگہ کریں۔ پاکستان کے اصل وارثوں سے مشورہ کریں کہ وہ تعداد میں 20 کروڑ ہونے، بے پناہ صلاحیتیں رکھنے اور وسائل سے مالامال ملک رکھنے کے باوجود غریب ہیں تو آخر کب تک اس ظالمانہ نظام کو برداشت کریں گے اور کب اس نظام سے اپنی اور اپنے عوام کی جان چھڑانے کے لیے میدان میں آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں جبر، ظلم اور ناانصافی کے اس نظام کے خلاف بغاوت کا اعلان کرتا ہوں۔ کیا آپ بھی میرے ساتھ ہیں۔ اس موقع پر شرکا نے انتہائی جذباتی انداز میں سراج الحق کا ساتھ دینے کا اعلان کیا اور مردِ مومن مردِ حق ۔۔۔ سراج الحق ، سراج الحق کے نعرے لگائے۔
انہوں نے کہا کہ میں ملک بھر کے نوجوانوں سے کہتا ہوں کہ اس ملک کو قائداعظم کے افکاراور سوچ کا حامل پاکستان بنانے کے لیے میرا ساتھ دیں تاکہ یہ ملک حقیقی معنوں میں قائد کا پاکستان بن جائے۔ انہوں نے کہا کہ نائن الیون ایک فراڈ اور ڈرامہ تھا جس کی ہم بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ آج تک امریکہ اس حملے میں کسی ایک مسلمان کے ملوث ہونے کو بھی ثابت نہیں کر سکا، البتہ اس نام نہاد حملے کی آڑ میں اس نے عراق، افغانستان اور شام پرچڑھائی کی۔ برما میں مسلمانوں کی نسل کشی ہو رہی ہے اور اسلام آباد میں بے غیرتی کا راج ہے۔ ہمیں اداکاروں کی نہیں ابن قاسم، محمود غزنوی اور ابدالی جیسے باحمیت حکمران چاہییں۔ اب تک کوئی پاکستان حکمران برما کے مسلمانوں کے زخموں مرہم رکھنے کے لیے وہاں نہیں پہنچا۔ البتہ الخدمت کا وفد وہاں پہنچ کر اپنا کام کر رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان ہی نہیں او آئی سی کے رکن 56 مسلم ممالک اپنے ا پنے ملکوں میں برما کے سفارت خانے بند کر دیں اور وہاں موجود برما کے سفیروں کو ملک سے باہر نکال دیں۔ اسلامی ممالک، برما کے ساتھ ہر قسم کے تعلقات ختم کر دیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ پاکستانی قوم ایک شیر دل قوم ہے مگر اس کی قیادت گیدڑوں کے ہاتھ میں آ گئی ہے۔ سراج الحق کے خطاب اور دعا کے بعد یہ ریلی اختتام کو پہنچی۔
سراج الحق اپنے طے شدہ مقاصد کے حصول کے لیے انتہائی سنجیدہ اور پُرعزم ہیں۔ اس معاملے میں اُن کی متعلقہ افراد سے مشاورت جاری ہے۔ وہ پانامہ کے تمام کرداروں کے خلاف انصاف پر مبنی کارروائی چاہتے ہیں اور نیب کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ وہ دوبارہ سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے تاکہ پانامہ کے تمام کرداروں کے خلاف کارروائی شروع ہو سکے۔ ساتھ ہی وہ نیب کوبھی من مانی یا مک مکا کرنے نہیں دیں گے۔ ضرورت بھی اس امر کی ہے کہ نیب اپنا کام آزادی سے کرے۔ لیکن وہ بھی قانون اور ضابطوں میں اس طرح کارروائی کرے کہ نہ تو کوئی لٹیرا احتساب سے بچ سکے اور نہ کوئی بے گناہ بلاوجہ گرفت میں آئے۔ دیکھنا یہ ہے کہ نیب ستمبر کے آخر تک اپنا کام مکمل کرتی ہے یا پھر سراج الحق کو اپنے اعلان کے مطابق اکتوبر میں نیب کے خلاف دھرنا دینا پڑتا ہے۔