بے باک اور بے خوف صحافی کا قتل
ہندوستان کے شہر بنگلور میں ممتاز صحافی گؤری لنکیش کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ اس خبر کی جتنی مذمّت ہندوستان میں ہوئی اتنا ہی احتجاج اس قتل کے خلاف عالمی سطح پر بھی کیا گیا ہے۔ ظاہر سی بات ہے اگر کسی صحافی کا قتل ہو تو دنیا بھر کے صحافیوں میں اس بات پر غم و غصّہ پایا جانا لازمی ہوتا ہے۔ اس خبر کو بی بی سی اور دیگر خبر ایجنسیوں نے بڑے پیمانے پر شائع کیا۔
گؤری ایک ایماندار اور بے باک صحافی تھیں ۔ انہوں نے اپنے قلم سے سماج کے ان لوگوں اور ان باتوں کی طرف اشارہ اور آگاہ کیا تھا جو اپنے ناپاک ارادوں سے لوگوں کے بیچ نفرتوں کی دیوار کھڑا کرنا چاہ رہے تھے۔ انہوں نے سماج کے کمزور اور اقلیتی طبقہ کے لئے قلم اٹھایا تھا اور وہ کٹّر ہندو پرستوں کے خلاف بھی لکھتی تھیں۔ گؤری لنکیش کے قتل سے کئی ایسے سوال اٹھ کھڑے ہوئے ہیں جس پر ہر انسان حیران وپریشان ہے۔ 55 سالہ گؤری لنکیش کی لاش خون میں لپٹی ان کے فلیٹ کے باہر پائی گئی۔ حملہ آوروں نے گؤری لنکیش کے سر اور سینے میں گولی ماری تھی جس سے اندازہ لگایا جارہا ہے کہ یہ کام کسی کرایے کے بدمعاشوں کا ہے۔ پولیس کے بیان کے مطابق گؤری لنکیش جب اپنے گھر کو لوٹی اور جیسے ہی گاڑی سے باہر آئیں حملہ آوروں نے ان گولی چلا دی۔ جس سے ان کی موقع واردات پر ہی موت ہو گئی۔ تاہم حکّام نے بتایا ہے ایسا معلوم پڑتا ہے کہ حملہ آور گؤری پر نظر رکھے ہوئے تھے۔
ہندوستان کی دیگر تنظیموں نے کہا ہے کہ اس کام کے پیچھے انتہا ہندو قوم پرستوں کا ہاتھ ہے جو پچھلے کچھ برس سے کئی صحافیوں کا خون کر چکے ہیں۔ چونکہ ان کو صوبائی اور مرکزی حکومتوں کی پُشت پناہی حاصل ہے، اس لئے پولیس ان کو جان بوجھ کر گرفتار نہیں کر رہی ہے۔ جس کی وجہ سے ان لوگوں کی کافی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے۔ کہا جارہا ہے کہ پچھلے پانچ برسوں میں وہ صحافی جنہوں نے ہندو قوم ہرستوں کے خلاف قلم اٹھایا ہے انہیں سوشل میڈیا پر مسلسل دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ جبکہ خواتین صحافیوں کو تو عصمت دری اور اُن پر حملہ کرنے کی بھی دھمکی دی جارہی ہے۔ ہندوستان کی مرکزی حکومت جس پر بھارتیہ جنتا پارٹی بر سرِ اقتدار ہے ان کے وزیروں کو اکثر صحافیوں کو دھمکاتے ہوئے پایا گیا ہے۔ ان صحافیوں کے خلاف جملے بھی کسے گئے ہیں اور انہیں ایک خاص انگریزی لفظ A mix of press and prostitute کہہ کر مخاطب کیا جا رہا ہے۔
گؤری لنکیش کو ان کے جاننے والے صرف گؤری کہہ کر بلاتے تھے۔ وہ ایک مقامی ہفتہ وار’ لنکیش پاتریک ‘ اخبار کی ایڈیٹر تھیں۔ جس کا آغاز ان کے والد پی لنکیش نے کیا تھا۔ ان کے والد پی لنکیش بذاتِ خود ایک شاعر اور ادیب تھے اور بائیں بازو کے حمایتی تھے۔ اس سے قبل انہوں نے ’دی ٹائمس آف انڈیا ‘ کے لئے بھی کام کیا تھا۔ بعد میں گؤری نے اپنا ایک اخبار جاری کیا جس کانام انہوں نے گؤری لنکیش پاتریک رکھا تھا۔ ان کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ ایک بے باک اور بے خوف صحافی تھیں۔ وہ ہمیشہ اپنی سیکولر اصول کی پابند رہیں اور کٹّر پسند اور قوم پرست ہندؤں، خاص کرسیاسی جماعت بی جے پی کو ہمیشہ اپنی تنقید بناتی رہیں۔ جس سے اس بات کا اندازہ لگایا جارہا ہے کہ اس قتل کے پیچھے کہیں نہ کہیں کٹّراور قوم پرست ہندؤں کا ہاتھ ہے۔
گؤری کا قلم ہمیشہ ان لوگوں کی حمایت میں چلتا تھا جو حکومت سے اپنی مانگ منگوانے کے لئے ایک لڑائی لڑ رہے تھے۔ گؤری خاص کر نکسلی تحریک اور ماؤیسٹ کی حمایت کرتی تھیں اور ان سے ہمدردی رکھتی تھیں۔ تاہم نکسلی لوگوں کی جنگ حکومت سے مسلسل جاری ہے اور جس کی وجہ سے مرکزی اور صوبائی حکومتوں اور نکسلیوں کے درمیان کافی تناؤ پایا جارہا ہے۔ یہاں یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ ہندوستان کے ان ریاستوں میں نکسلیوں اور حکومت کے درمیان زیادہ تناؤ پایا جارہا ہے جہاں بی جے پی کی سرکارہے۔ یہاں یہ بات بھی غورِ طلب ہے کہ پچھلے سال گؤری نے ایم مقامی بی جے پی لیڈر کے خلاف رپورٹ شائع کرنے پر ان کے خلاف ڈیفیمیشن کیا گیا تھا جس کی وجہ سے انہیں چھ سال کی سزا سنائی گئی تھی۔ لیکن بیل ملنے پر وہ رہا ہو گئی تھیں اور اپنی سزا کے خلاف اپیل کر رکھی تھی۔ جب ’نرادا نیوز ‘ نے ان کی سزا کے فوراً بعد ان سے انٹر ویو لیا تو انہوں نے بی جے پی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’ بی جے پی فاشسٹ اور سامراجی سیاست پر یقین رکھتی ہے۔ میرا آئین مجھے ایک سیکولر شہری ہونے کا درس دیتا ہے نہ کہ ایک سامراجی ہونے کا۔ یہ میری ڈیوٹی اور حق ہے کہ میں ان سامراجی طاقتوں کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھوں‘۔
انہوں نے مزید یہ کہا تھا کہ ’ میں جمہوریت اور اظہارِ رائے کی آزادی پر یقین رکھتی ہوں ۔ لہذا میں تنقید کرنے کا بھی حق رکھتی ہوں۔ میں لوگوں کی ان باتوں کا قطعی برا نہیں مانتی کہ وہ مجھے بی جے پی مخالف کہیں یا مجھے مودی مخالف کہیں۔ ان لوگوں کوا اپنی رائے دینے کی پوری آزادی ہے۔ اسی طرح مجھے بھی اپنی رائے دینے کی پوری آزادی ہے‘۔ گؤری کو جس طرح قتل کیا گیا ہے اس کی ہندوستان سمیت پوری دنیا میں مذمّت کی گئی ہے۔ ہندوستان کے مختلف شہروں میں گؤری کے قتل کے خلاف احتجاج کیا گیا ہے۔ خاص کر راجدھانی دلّی، ممبئی ، بنگلور اور کولکاتا جیسے بڑے شہروں میں کافی تعداد میں احتجاج کیا گیا جس میں صحافیوں کے ساتھ ساتھ عام لوگوں نے بھی حصّہ لیا۔ کولکاتا میں بنگال کی وزیر اعلیٰ شری ممتا بنرجی نے صحافیوں کے جلوس کی نمائندگی بھی کی تھی۔ تاہم کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سیدارامیا سب سے پہلے سیاسی لیڈر تھے جنہوں نے گؤری کے قتل پر کہا تھا کہ ’ یہ جمہوریت پرحملہ ہے‘۔
گؤری کا قتل صرف جمہوریت کا قتل نہیں ہے بلکہ دیکھا جائے تو گؤری کا قتل پورے اس سماج پر حملہ ہے جو ایک آزاد ہندوستان کا خواب بن رہا ہے۔ آج ہر ہندوستانی آزاد ہندوستان میں رہ کر بھی ان کٹّر پسند اور قوم پرست ہندؤں کی جارحانہ اور نفر توں کی پالیسی کے کھوکھلے جال میں قید ہے۔ لیکن ان کٹّر اور قوم پرست ہندؤں کو یہ جان لینا چاہئے کہ ہندوستان نہ تو کسی ایک مذہب ، قوم ، ذات ، زبان اور سیاسی پارٹی کا ملک ہے بلکہ یہ ملک نانک، رام ، رحیم اور تمام مذاہب ، ذات اور زبان بولنے والوں کا ملک ہے۔ جس کا حسین اور باوقار نام نہ تو کٹّر پسند اور قوم پرست ہندو مٹا پائے گے اور نہ ان کے ناپاک ارادے۔
ہم گؤری کے قتل کی پُر زور مذمّت کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ہندوستان کے امن پسند شہری بزدل کٹّر پسند اور قوم پرست ہندؤں کے گولیوں سے کبھی خوف زدہ نہیں ہوں گے۔