تحریک انصاف کا داخلی بحران

اگرچہ لاہو رکے ضمنی انتخاب میں تحریک انصاف کی شکست میں کچھ خارجی عوامل بھی نمایاں تھے اور وفاقی و صوبائی حکومت کی موجودگی میں جیت کے امکانات بہت کم تھے ۔  اس کے باوجود تحریک انصاف کی شکست میں کچھ داخلی عوامل کا بھی بڑا حصہ ہے ۔ ہمارے ہاں سیاسی جماعتوں میں اپنی خامیوں کو تسلیم کرنے کی روایت کم  ہے ۔ ہم زیادہ تر اپنی ناکامی کو خارجی عوامل کو قرار دے کر خود کو مطمن کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تحریک انصاف نے مقابلہ خوب کیا او ران کی شکست ماضی کی شکست کے مقابلے میں بہت کم مارجن سے ہوئی ۔ لیکن اس کے باوجود اس انتخابی مہم میں تحریک انصاف بطور جماعت کتنی منظم تھی اس کا بھی تجزیہ کیا جانا چاہیے اور وہ کیا عوامل ہیں جو داخلی سطح پر اس شکست کا سبب بنے ہیں ۔

بنیادی طور پرتحریک انصاف کی قیادت میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو ڈاکٹر یاسمین راشد کو انتخابی امیدوار ہی بنانے کے لیے تیار نہیں تھے ۔ ان کا موقف تھا کہ ہمیں ان کے مقابلے میں کسی اورکو  میدان میں لانا چاہیے۔ لیکن عمران خان کی جانب سے خود ڈاکٹر یاسمین راشد کی نامزدگی نے سب کو خاموش کردیا ۔ لیکن جو لوگ ابتدا ہی سے ڈاکٹر یاسمین راشد کے حق میں نہیں تھے اور وہ سمجھتے تھے کہ ان کی جیت سے لاہور کی سیاست میں ان کا سیاسی قد کاٹھ بڑھ جائے گا ، وہی عناصر ان کی جیت میں رکاوٹ بنے ہوئے تھے۔ اور انہوں نے وہ  کردار ادا نہیں کیا ، جو پارٹی کا حق بنتا تھا ۔

حلقہ این اے 120دو صوبائی نشستوں پر مشتمل تھا ۔ ایک صوبائی نشست کی موجود دس یونین کونسل میں تحریک انصاف کی امیدوار کو کافی بڑی کامیابی ملی ۔ اس کامیابی میں چوہدری سرور، اعجاز چوہدری اور میاں محمود الرشید کا کردار نمایاں تھا ۔ لیکن اس کے برعکس دوسری صوبائی نشست جو بارہ یونین کونسلوں پر مشتمل تھی وہاں پی ٹی آئی کیوں زیادہ بہتر طور پر کامیابی حاصل نہیں کرسکی ، اس کا نہ صرف تجزیہ کیا جانا چاہیے بلکہ جو بھی ان یونین کونسلوں اور صوبائی نشست کے ذمہ داران تھے ان کو احتساب کے عمل میں لانا چاہیے ۔ لاہور میں ضمنی انتخاب کے حوالے سے جو جلسہ اور ریلی نکالی گئی اس میں خاطر خواہ لوگوں کی عدم شمولیت پر بھی غور کیا جائے کہ کیا وجہ ہے کہ پارٹی لوگوں کو بڑے پیمانے پر موبلائز نہیں کرسکی  تحریک انصاف کی بڑی طاقت یہ ہے کہ وہ بہت کم وقت میں بڑی تعداد میں لوگوں کو جلسہ گاہ میں لانے کی صلاحیت رکھتی ہے ، مگر اس بار ہمیں یہ دیکھنے کو نہیں مل سکا ۔

یہ تسلیم کیا جانا چاہیے کہ تحریک انصاف کا اصل بحران کا اس داخلی تنظیمی بحران ہے ۔ جب سے تحریک انصاف نے اپنی پارٹی کے داخلی انتخابات کروائے تھے ، پارٹی بحران سے باہر نہیں نکل سکی ۔ پارٹی کے داخلی انتخابات کا عمل پارٹی کے لیے خود کش حملہ ہی کے مترادف ثابت ہوا اور پارٹی اس وقت سے گروپ بندی اور دھڑے بندیوں سے باہر ہی نہیں نکل سکی ۔ اب بھی پارٹی کو ایڈہاک پالیسی کے تحت چلایا جارہا ہے اور پارٹی میں کسی بھی سطح پر مستقل عہدے دار یا تنظیمی ڈھانچہ موجود نہیں ۔ لاہور ہی میں اس وقت پانچ بڑے گروپس ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑے ہیں اور ایک دوسرے کی حیثیت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ نوجوانوں، یوتھ ونگ، انصاف طلبہ، ویمن ونگ سمیت جتنے بھی دیگر ونگز ہیں ان کے بارے میں ایڈہاک پالیسی غالب ہے ۔

تحریک انصاف کی قیادت عملا ایڈہاک پالیسی کے تحت اپنے نظام کو چلانا چاہتی ہے جو نہ تو جماعت کے عمل کو مضبوط بناسکے گی اورنہ ہی ان کو انتخابی عمل میں کوئی بڑی کامیابی دے سکے گی ۔ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ ہم 2018 کے انتخاب میں بڑی کامیابی حاصل کریں گے ، مگر اس کے لیے جماعت کو تنظیمی سطح پر جو مضبوطی اور اتفاق رائے درکار ہے اس کا فقدان نظر آتا ہے ۔ تحریک انصاف کی قیادت جب غیر سیاسی طرز کے لوگوں کے ساتھ سیاسی فیصلے کرے گی یا ان کو تنظیمی اختیارات دے گی تو یہ ہی نتیجہ نکلے گا جس کا سامنا اس وقت پارٹی کو سیاسی میدان میں درپیش ہے ۔ چوہدری سرور پنجاب میں ایک بڑی قیادت کے طور پر موجود تھے ۔ انہوں نے اپنے دور میں جس مضبوطی سے پارٹی کو بنایا اور جو تنظیمی عمل کو متحرک اور فعال کیا وہ واقعی قابل دید تھا ۔ لیکن وہ بھی پارٹی میں غیر سیاسی لوگوں کے مفادات کی سیاست کا شکار ہوئے اور پارٹی چوہدری سرور کے تجربے سے بھی فائدہ نہیں اٹھاسکی ۔ حالانکہ پنجاب میں قیادت کے لیے چوہدری سرور کا کوئی متبادل نہیں اور وہ ہی عملی طور پر جماعت کو مضبوط کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

لاہور کی سیاست کو پنجاب کی سیاست کا دل کہا جاتا ہے لیکن لاہور کو بھی عملی طور پر غیر سیاسی لوگوں کے ساتھ چلایا جارہا ہے اور اصل شہر کے سیاسی کرداروں کو پس پشت رکھ کر پارٹی کے مفادات کو نقصان پہنچایا جارہا ہے ۔ تحریک انصاف کو اندازہ ہی نہیں کہ ان کا مقابلہ مضبوط مسلم لیگ سے ہے جو انتخابی سیاست کا وسیع تحربہ رکھتی ہے ۔ اس ضمنی انتخاب میں بھی ماضی کی طرح پی ٹی آئی کے سیاسی ورکرز انتخابی مینجمنٹ کے عمل میں بہت کمزور نظر آئے ۔ انتخاب کے دن کی مینجمنٹ انتخابات میں کامیابی کی کنجی سمجھی جاتی ہے مگر تحریک انصاف ہر برس یہ ہی دعویٰ کرتی ہے کہ اب اس نے اپنی انتخابی مینجمنٹ کے مسائل پر قابو پالیا ہے۔ مگر یہ دعویٰ ہر انتخابات میں غلط ثابت ہوتا ہے ۔ تحریک انصاف میں ہر گروہ دوسرے گروہ کو ناکام بنانے کے کھیل میں شریک ہے ۔ وہ جماعتی مفاد سے زیادہ ذاتی مفاد میں الجھ کر پارٹی کو نقصان پہنچانے کا سبب بن رہا ہے۔  اس پر پارٹی میں کوئی جوابدہی کا نظام موجود نہیں ۔

عمران خان عملی طور پر چند سیاسی راہنماؤں اور مشیروں کے درمیان گھرے ہوئے نظر آتے ہیں اور ان کو اندھیرے میں رکھ کر بہت سے تنظیمی معاملات میں مزید خرابیاں پیدا کی جارہی ہیں ۔ ہر سیاسی جماعت میں داخلی بحران ہوتے ہیں  لیکن قیادت کا کمال یہ ہوتا ہے کووہ اپنے فہم ، تدبر اور فہم فراست سے پارٹی میں موجود مختلف گروپ بندیوں کو ختم کرکے ان تمام فریقین کومل کر کام کرنے اور باہمی تعاون میں اپنا موثر کردار ادا کرتا ہے۔  عمران خان ان معاملات میں براہ راست مداخلت کرنے یا لوگوں کی باز پرس کرنے کی بجائے خود کو تنظیمی معاملات سے علیحدہ رکھتے ہیں جو مزید خرابیوں کا سبب بنتا ہے ۔عمران خان کو سمجھنا ہوگا کہ اگر وہ تنظیمی معاملات میں بڑے  فیصلے نہیں کریں گے تو ان کا موجودہ طرز عمل پارٹی کو کمزور ہی رکھے گا ۔

بنیادی طو رپر جب جماعتی نظام کو ایڈہاک پالیسی کے تحت چلایا جاتا ہے اورمستقل قیادت کی نامزدگی سے گریز کیا جاتا ہے تووہ پارٹی میں مزید گروپ بندی کو عمل کو طاقت فراہم کرتا ہے ۔ اب بھی وقت ہے کہ عمران خان2018 میں بہتر نتائج کے لیے پارٹی کے داخلی انتخابات سے گریز کریں اور مستقل بنیادوں پر مرکز سے لے کر ضلعی سطح تک براہ راست سیاسی چہروں اور تجربہ کار قیادت بشمول نئے چہروں کی نامزدگی کو یقینی بنائیں ۔ وگرنہ عام انتخابات سے قبل داخلی انتخابات ایک اور خود کش حملہ کے مترادف ہوگا۔ تحریک انصاف کی اصل طاقت نوجوان لڑکے اور لڑکیاں، عورتیں  اور پروفیشنل طبقات ہیں ۔ لیکن پارٹی ان لوگوں کو کیسے اپنی ایک بڑی طاقت کے طور پر استعمال کرے اس سے پارٹی کی قیادت سمجھنے سے قاصر ہے ۔ کیونکہ جب وہ خود منظم نہیں اور ایک دوسرے کو قبول کرنے کی بجائے اپنی اپنی سیاست کی دوکان سجائے ہوئے ہیں تو یہ عمل تحریک انصا ف کے کارکنوں میں بھی مایوسی پیدا کرتا ہے ۔ خود تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان لاہو رکی سیاست سے دور رہتے ہیں۔ ان کو چاہئے کہ وہ بنی گالا سے نکل کر لاہور میں بھی زیادہ وقت دیں اور خود براہ راست لاہور کے معا ملات کو دیکھیں ۔ کیونکہ جو کچھ لاہور میں انتشار کی صورت میں ہوگا وہی دیگر شہروں میں بھی دیکھنے کو ملے گا اور اس انتشار پر قابو پانے کی ضرورت ہے ۔

عمران خان اور تحریک انصاف عملی طور پر مسلم لیگ (ن) کے لیے ایک بڑا خطرہ بن گئے ہیں۔ لیکن اب اصل مسئلہ ان کا تنظیمی بحران ہے۔ اگر اس پر قابو پالیا گیا تو اپنے حق میں نتائج کو لانا ممکن ہوگا۔ ورنہ یہ بحران مزید بحران پیدا کرے گا اور نتائج ماضی کے انتخابات سے مختلف نہیں ہوں گے ۔