جنرل اسمبلی کا اجلاس اور پاکستانی وزیرِ اعظم
- تحریر شیخ خالد زاہد
- جمعرات 21 / ستمبر / 2017
- 3667
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس امریکہ کے شہر نیویارک میں جاری ہے ۔ اس اجلاس میں لگ بھگ 200 ممالک کے سربراہ شرکت کر رہے ہیں۔ گزشتہ روزامریکہ کے صدر نے اس اجلاس سے خطاب کیا اور حسب معمول دہشت زدہ کرنے والی تقریر سے اجلاس میں شرکت کیلئے آئے ہوئے سربراہانِ مملکت پر رعب ڈالنے کی بھرپور کوشش کی۔ اس تقریر میں خصوصی طور پر شمالی کوریا کو انتہائی سخت الفاظ میں تنبیہ کی اور تنقید کا نشانہ بنایا بلکہ فوجی کاروائی کی دھمکی بھی دے ڈالی۔ دوسری طرف ایران کو مشرق وسطی میں کی جانے والی کاروائیوں سے باز رہنے کو بھی کہا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریر کی دو باتیں اور بھی اہم ہیں۔ جن میں پہلی تو سب سے پہلے امریکہ کا نعرہ دہرایا۔ اس نعرے کی بنیاد پر ہی وہ امریکہ کے صدر منتخب ہوئے ہیں۔ دوسری اہم بات یہ کہ انہوں نے اپنی تقریر میں پاکستان پر کسی قسم کی کوئی تنقید نہیں کی، جبکہ کچھ دن پہلے ہی وہ پاکستان کو دھمکی آمیز پیغام دے چکے تھے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ دنیا کی جانب سے امریکی صدر کی دھمکی کے جواب میں آنے والے بیانات نے امریکی دفتر خارجہ کی آنکھوں پر بندھی پٹی کھول دی ہو اور انہیں وہ سب نظر آگیا ہو جو پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے امریکہ کے ایما پر کیا جا رہا ہے ۔
بدقسمتی سے یا پھر خارجہ امور کی ناکامی کی وجہ سے پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شمار کیا جاتا ہے جن کا نام دنیا میں ہونے والی دہشت گردی کے حوالے سے سامنے آتا ہے۔ کیونکہ دنیا میں جہاں کہیں بھی دہشت گردی کی کوئی واردات ہوتی ہے تو دنیا کے ذہن میں پہلے مسلمان اور پھر پاکستان کا نام ضرور آتا ہے۔ یہ انتہائی دکھ کی بات ہے ۔ پاکستان دنیا میں دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ کا اہم حصہ رہا ہے ۔ جس نے امریکہ کی خاطر اپنے ہی ملک کو دہشت گردوں کے حوالے کردیا۔ اب پاکستانی افواج اپنے ہی علاقے ان دہشت گردوں سے صاف کروا رہی ہے۔ جس کی مد میں جانی و مالی نقصان کا تخمینہ لگانا بہت مشکل ہے ۔
وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اس ملک کے ایک ہونہار سپوت ہیں بلکہ آج آپ کی حیثیت ایک سپاہی یا سپاہ سالار کی ہے۔ آپ کو دنیا کے سامنے ایسے کھڑے ہونا چاہئے کہ انہیں پتہ لگ جائے کہ آپ ایک ایٹمی طاقت رکھنے والے ملک کے وزیر اعظم ہیں آپ دنیا کی سب سے بہترین فوج رکھنے والے ملک کے وزیر اعظم ہیں۔ آپ ایک ایسی نظریاتی مملکت کے وزیر اعظم ہیں جس کا نظریہ لاالہ الاا اللہ محمد رسول اللہ ہے ۔ ہم آپ سے کسی جذباتی تقریر کا تقاضہ نہیں کرسکتے کیونکہ ہم جذباتیت کے متحمل ہو ہی نہیں سکتے۔ مگر آپ سے یہ استدعا ضرور ہے کہ آپ دنیا کو وہ تمام حقائق بتائیں جو ہمارے پڑوسی ہماری سرحدیں عبور کرکے کر رہے ہیں اور الزام بھی ہمارے ہی سر پر ڈالا جا رہا ہے ۔ آپ کو کلبھوشن کا ذکر بھی کرنا ہے۔ ہمیں یقین ہے آپ میانمار میں ڈھائے جانے والے ہوش ربا مظالم کا تذکرہ ضرور کریں گے۔
وزیر اعظم صاحب اللہ رب العزت نے آپ کو بہت پراثر شخصیت سے نوازا ہے۔ آپ اپنی شخصیت سے ساری دنیا کو مرعوب کر سکتے ہیں آپ دنیا کو بتائیں کہ اگر مسلمانوں کے خلاف نفرت کا پروپیگینڈا ختم نہیں کیا گیا تومسلمان ممالک مل کر مسلم اقوام متحدہ کی بنیاد رکھنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ خصوصی طور پر امریکی صدر کو اور باقی دنیا کو یہ بھی بتانا پڑے گا کہ مسلم دہشت گردی جیسے الفاظ سے گریز کریں۔ اگر دہشت گردی کو کسی بھی مذہب سے منسلک کیا جائے گا تو سفارتی تعلقات میں دراڑ پڑنے کا خطرہ ہوسکتا ہے۔ دہشت گردی کو دہشت گردی ہی رہنے دیا جائے ورنہ امریکی دہشت گردی کے بھی باب کھلنا شروع ہوجائں گے۔ وزیر اعظم صاحب آپ اس اجلاس سے خطاب میں یہ بھی واضح کردیں کے پاکستان وہ ملک ہے جو بیک وقت بین الاقوامی سطح پر بھی دہشت گردی سے جنگ میں برسر پیکار ہے اور داخلی سطح پر بھی دہشت گردوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹ رہا ہے ۔
پاکستان کو جہاں خارجی خطرات گھیرے میں لئے ہوئے ہیں تو اندرونی طور پر بھی مستحکم نہیں ہونے دیا جا رہا۔ جس کی وجہ مسلسل سیاسی بحران ہے ۔ آج پاکستان کی حیثیت کسی سپر پاور ملک سے کم نہیں ہے جو محدود وسائل کے باوجود اتنے بڑے بڑے مسائل سے نبردآزما ہے ۔ دنیا کو پتہ چلنا چاہئے کہ پاکستان کی فوج ہی نہیں بلکہ پاکستان بھی دنیا کا سب سے مضبوط ترین ملک ہے۔ جناب شاہد خاقان عباسی صاحب ایک خاموش مگر پر اثر سپر پاور مملکت کے وزیر اعظم ہیں۔ بے شک اللہ بہادروں کی مدد کرتا ہے۔