ٹرمپ اور تاریخ کے نئے آثار

  • تحریر
  • جمعہ 22 / ستمبر / 2017
  • 3624

صدر ٹرمپ کے ناقدین کی بھی کمی نہیں اور ان کے چاہنے والوں کی بھی کمی نہیں جنہوں نے ان کی صدارت کے آٹھ ماہ بعد بھی ان کی توصیف نہیں چھوڑی۔ موصوف کی ایک خوبی ان کے چاہنے والے یہ بتاتے ہیں کہ وہ لگی لپٹی رکھے بغیر کہہ دیتے ہیں اور دوسری خوبی یہ کہ ایک کاروباری ہونے کے ناطے اپنا نفع نقصان خوب سمجھتے ہیں۔ سو یہ دو خوبیاں امریکی صدر میں ہوتے ہوئے امریکہ کو ایک بار Great Again سے کون روک سکتا ہے۔ ان کی خواہش کے عین مطابق صدر ٹرمپ صدارت سنبھالنے کے بعد مسلسل دو کام دھڑلے سے کام کر رہے ہیں۔ تقریباٌ ہر ایک کو اور ہر معاملے پر لگی لپٹے رکھے بغیر کہہ دیتے ہیں۔ لگی لپٹی رکھے بغیر انہوں نے تازہ ترین گفتگو اقوام متحدہ میں کی اور وہ بھی یوں کہ سب ایک دوسرے سے سوالیہ نگاہوں سے پوچھ رہے ہیں کہ ۔۔۔ تم ہی کہو یہ اندازِ گفتگو کیا ہے۔

صدر ٹرمپ کی اقوامِ متحدہ میں بطور صدر پہلی تقریر تھی۔ پون گھنٹے کی اس تقریر کی شعلہ بیانی کے چار اہداف تھے۔ ایک تو اقوامِ متحدہ کا ادار ہ جس پر وہ انتخابی مہم میں بھی شدید تنقید کرتے رہے ۔ اقوام متحدہ کے بجٹ کا بیشتر حصہ امریکہ فراہم کرتا ہے اور اس کے مرکزی دفاتر بھی اس کی سر زمین پر ہیں۔ صدر ٹرمپ کا یہ خیال ہے کہ امریکی ٹیکس دہندگان کی خون پسینے کی کمائی سے یہ ادارہ سفید پاتھی بن گیا ہے۔ بہت ہو چکی، اب باقی ممالک بھی اپنا اپنا حصہ اس میں ڈالیں۔ اس پر مستزاد ان کے مخالف اس ادارے کے فورم سے چوہدراہٹ جتلاتے رہتے ہیں۔ اپنی اس تقریر میں وہ اقوام متحدہ پر خوب برسے کہ اس کی بیوروکریسی پھل پھول رہی اور اپنے اصل مقاصد سے کہیں دور ہے۔ اردو میں ایسے جذبات کے لئے کچھ ملتا جلتا محاورہ کچھ ہوں ہے : کام کے نہ کاج کے دشمن اناج کے۔

دنیا بھر کے میڈیا اور لیڈران کو البتہ صدر ٹرمپ کے جس پہلو نے جھٹکا دیا وہ شمالی کوریا کے بارے میں ان کا لگی لپٹی رکھے بغیر یہ دھمکی تھی کہ وہاں کا راکٹ مین اگر باز نہ آیا تو وہ اپنے ملک اور اپنے اتحادیوں کے تحفظ کے لئے شمالی کوریا نامی پورے ملک کو اڑا دیں گے۔ ڈھائی کروڑ آبادی کے اس ملک کو صفحہء ہستی سے مکمل ختم کرنے کے لئے کیا طریقہ کار طے کریں گے، اس کا اندازہ انہوں نے عالمی برادری پر چھوڑ دیا ہے۔ اقوام متحدہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد بنی ہی اس بنیادی مقصد کے لئے تھی کہ دنیا کو ایک بار پھر اس طرح کی ہولناک تباہی سے دوچار نہ ہونا پڑے۔ اقوامِ متحدہ بننے کے بعد جنگیں مکمل طور پر نہ رکیں بلکہ حالیہ کچھ سالوں میں نئی نئی جنگیں شروع کرنے کے لئے اس کا ادارہ سلامتی کونسل استعمال کیا گیا۔ اس سب کے باوجود اس ادارے کا دم غنیمت ہے کہ عالمی برادری کے پاس یہ ایک فورم ہے جہاں متحارب ممالک اپنا اپنا نکتہ نطر ایک دوسرے کے سامنے رکھتے ہیں۔ اس کے مختلف ادارے پناہ گزینوں سمیت بہت سے اجتماعی امور میں دنیا کے لئے فائدہ مند ہیں۔ یو این او کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہے کہ کسی بھی سربراہ مملکت نے یوں اس فورم پر مخالفت اور دشمنی میں ایک ممبر ملک کو یوں دنیا سے مٹانے کی بات کی ہو۔  لگی لپٹی رکھے بغیر ایسی بات کرنے کی آج تک کسی کو جرات ہوئی نہ حوصلہ مگر موصوف یہ کر گزرے۔

ہر امریکی صدر کی طرح ان کا محبوب ہدف ایران بھی تھا۔ اپنی انتخابی مہم کے دوران کا موقف انہوں نے پھر دوہرایا کہ ایران کے ساتھ جوہری ڈیل ایک بد ترین ڈیل تھی۔ اور یہ کہ ایران مشرق وسطیٰ میں دہشت گردی کو سپورٹ کر رہا ہے۔ یہ بھی کہ جمہوریت کے پردے میں وہاں ایک سخت گیر حکومت قائم ہے جس نے اس ملک کے عوام اور معیشت کو تباہ حال کر دیا ہے۔ گو اس جوہری ڈیل میں امریکہ کے ساتھ چھ دیگر ممالک بھی شامل تھے۔ اور حال ہی میں یو این او کے جوہری انسپکٹرز تمام چھان بین کے بعد اسی نتیجے پر پہنچے کہ ایران اس جوہری معاہدے سے سرِ مو انحراف نہیں کر رہا لیکن موصوف کو لگی لپٹی رکھے بغیر جو کہنا تھا کہہ گزرے۔ اگلے روز البتہ ایرانی صدر روحانی نے اپنی تقریر میں اس کا مدلل جواب دیا کہ دامن کو ذرا دیکھ ذرا بندِ قبا دیکھ!

صدر ٹرمپ کو چوتھا ہدف وینزویلا تھا۔ امریکہ کے پچھواڑے میں تیل کی دولت سے مالامال اس ملک نے ایک دِہائی سے زائد امریکہ کی پالیسیوں سے بغاوت کر رکھی ہے۔ صدر شاویز کی ذات کا کرشمہ ہی کچھ ایسا تھا کہ ملک کی اکثریت اشرافیہ کی سالہاسال کی لوٹ کھسوٹ سے تنگ ان کے پیچھے کھڑی ہو گئی۔ انہوں نے اپنی آزادانہ پالیسیوں سے علاقے میں امریکہ کی چالوں کو کم ہی جمنے دیا۔ موصوف نے کیوبا کے فیڈل کاسترو اور ان کے بھائی صدر راہول کاسترو سے بھی دوستی بنائے رکھی ۔ ان کی وفات کے بعد ان کے ایک معتمد ساتھی نکولس موڈیرو صدر بن گئے۔ خیال تھا کہ یہ لقمہ تر ثابت ہوں گے لیکن موڈیرو، شاویز سے بھی سر پھرے نکلے۔ ان کے خلاف مسلسل ہرتالیں اور ہنگاموں کا سلسلہ جاری رہا لیکن وہ قائم دائم بیٹھے ہیں۔ اب انہوں نے ایک اور کوشش شروع کر رکھی ہے کہ تیل کی فروخت کی ادائیگی ڈالر کے علاوہ دوسری کرنسیوں میں یعنی روبل، یوآن، یورو میں کی جائے۔ ا ن ڈھیر ساری گستاخیوں پر وہ اس چھوٹے سے ملک پر خوب برسے اور لگی لپٹی  رکھے بغیر جی بھر کے لتاڑا۔

عالمی میڈیا اور تجزیہ نگار حیران اور پریشان ہیں کہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت کے صدر جو کہ عالمی قیادت کے دعوے دار ہیں اور بزعمِ خود دنیا میں امن کے علم بردار بھی ہیں ، ان کے مونہہ سے یہ واشگاف دھمکی سفارت کے تمام آداب کے منافی تھی۔ اسی طرح ایران اور وینزویلا کے بارے میں جارحانہ انداز بھی نامناسب تھا۔ ماضی میں بھی امریکی صدور شمالی کوریا اور ایران پر اسی فورم پر تنقید کرتے رہے ہیں لیکن سفارتی لب و لہجے میں۔ اس تقریر میں نہ صرف مخالفین پر تابڑ توڑ حملے تھے بلکہ پوری تقریر میں اپنی طاقت کا زعم اس قدر نمایاں تھا کہ موصوف کی تقریر میں اپنے لئے لفظ Sovereign اور اس سے ماخوذ الفاظ کی تعداد اکیس تھی۔ یہ امریکہ کی  اس نئی سوچ کا ایک اشارہ ہے جس میں اسے دنیا سے کہیں زیادہ اب اپنی بڑائی اور قطیعت کی فکر ہے اور اس فکر میں کسی کو بھی لتاڑنے سے گریز نہ کرنے کا عزم پنہاں ہے۔

انسانی تاریخ بھی عجیب ہے۔ اس کا سفر اکثر معمول کی بجائے غیر معمولی واقعات یا حادثات سے آگے بڑھتا ہے۔ انسانی تاریخ کے بہت سے واقعات نے کچھ شخصیات کی مہم جوئی سے جنم لیا جن کے نتائج ان کی سوچ سے بالکل الٹ نکلتے ہیں یا پھر کچھ انہونے واقعات کا اچانک ظہور پہلے سے موجود توازن کو درہم برہم کر کے نئے توازن کی بنیاد رکھ دیتا ہے۔ دوسری جنگِ عظیم شروع کرتے ہوئے جاپان نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ جنگ کا اختتام اس کی تمام نو آبادیوں کے چھن جانے اور ہیروشیما اور ناگا ساکی پر ایٹمی حملے پر ہوگا۔ جاپان کے مقبوضہ علاقے آزادی کے بعد حالات اور اپنی محنت کے بل بوتے پر معاشی اور سیاسی طور پر جاپان کے سامنے خم ٹھونک کر کھڑے ہو جائیں گے ، یعنی جنوبی کوریا، تائیوان، سنگا پور اور چین ۔ پہلی جنگ عظیم سے قبل کی تین ورلڈ سپر پاورز جنگ کی تباہ کاریوں میں ڈھیر ہو کر قصہ پارینہ بن گئیں۔ تاریخ  کے بطن میں ایسی کئی انہونیاں پل رہی ہوتی ہیں۔ کون جانے کہ نئی انہونی کب اور کس طرح وارد ہو ۔ لگی لپٹی رکھے بغیر ڈھائی کروڑ آبادی کے ایک پورے ملک کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے دھمکی البتہ اپنے اندر کچھ ایسی ہی تباہ کن صفت رکھتی ہے۔

دوسری جنگِ عظیم کے بعد دنیا دوانتہاؤں میں بٹ گئی۔ روس کا شیرازہ بکھرا تو امریکہ بطور واحد سوپر پاور بن کر ابھرا۔ گزشتہ پچیس سالوں میں دو انتہائی نمایاں رجحان دیکھنے میں آئے۔ چین، ویت نام سمیت بیشتر ایشیاء اور بالعموم یورپ کو کسی جنگ میں ہلکان نہیں ہونا پڑا، یہ امن کا وقفہ ان ممالک کی معیشتوں کو حد درجہ مستحکم کرگیا۔ اس کے برعکس امریکہ ایک کے بعد ایک محاذِ جنگ پر الجھتا گیا۔ مشرق وسطیٰ ہو یا افغانستان، مسلسل جنگوں نے اسکے ہاں کے اسلحہ سازوں کا تو بھلا کیا لیکن اس کی مجموعی معیشت کمزور ہوئی۔ تاریخ کا یک سبق یہ بھی ہے کہ جنگیں معیشت کمزور کر دیتی ہیں اور کمزور معیشت ملک کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔ اگلی چند دِہایاں ہمارے ماضی قریب سے بالکل مختلف ثابت ہونے کے آثار پیدا ہو رہے ہیں شاید ۔۔۔