مشرف، زرداری اور رحمان ملک کو سکاٹ لینڈ یارڈ کے حوالے کیا جائے

‘دبنگ کمانڈو‘ نے بے مثال بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بالآخر بے نظیر بھٹو کے قاتل کو بے نقاب کر ڈالا۔ بے نظیر قتل میں مفرور ملزم کمانڈو مشرف کی دبنگ دلیری نے اس وقت کروٹ لی جب پیپلز پارٹی نے ہائی کورٹ اپیل میں مشرف کو سزائے موت دینے کی استدعا کر ڈالی۔ مشرف کے منطق کے کیا کہنے کہ آصف زرداری نے اسے سزائے موت دلانے کی اپیل دائر کی ہے، اس لئے میں اعلان کرتا ہوں کہ زردای ہی بے نظیر کا اصلی قاتل ہے۔ کمانڈو کی یادداشت کا بھی جواب نیہں کہ اسے سال ہا سال اقتدار میں رہنے کے بعد اب یہ بھی یاد آگیا کہ مرتضیٰ بھٹو کا قاتل بھی زرداری ہی ہے۔

کسی سے نہ ڈرنے ورنے والا  ‘جی دار‘  کمانڈو کمر درد کا بہانہ بنا کر طاقتور حلقوں کی مدد اور آشیر باد سے ملک سے فرار ہوا۔ اور اب امریکہ، یورپ اور دبئی کی محفوظ فضاؤں میں  مولا جٹ  بن کر بڑھکیں مار رہا ہے۔ دراصل  ‘دبنگ کمانڈو‘  کی بہادری کے غبارے سے ہوا خارج ہوچکی ہے اور اسے سات سمندر پار محفوظ پناہگاہوں میں بھی جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ ایسا لگتا ہے اسے اپنی پشت پناہی کرنے والے ہاتھوں پر بھی بھروسہ نیہں رہا۔ نفسیاتی زبان میں اسے ‘پیرانایئڈ‘ کی کیفیت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ بہادری کے دعویدار کو اٹھتے بیٹھتے ارد گرد پھانسی کا پھندہ لہراتا نظر آرہا ہے۔

بے نظیر بھٹو کے قتل سے پہلے الیٹ سیکورٹی کس کے حکم سے ہٹائی گئی اور قتل کے بعد دو گھنٹے کے اندر مقام قتل کو پانی سے دھو کر قتل کے ثبوت کس کے حکم پر مٹائے گئے۔ سکاٹ لینڈ یارڈ اور یو این او کی تحقیقات بھی یہ تسلیم کر چکی ہیں کہ حکومت وقت نے بے نظیر بھٹو کی سیکورٹی سے صرف نظر کیا۔ اگر حکومت وقت مناسب سیکورٹی فراہم کرتی تو بے نظیر بھٹو پر قاتلانہ حملے کو ناکام بنا کر انہیں موت کے منہ سے بچانا ممکن تھا۔ کمانڈو نے نہ جانے کس گھمنڈ میں سیاسی پارٹی بنانے کا اعلان کر ڈالا۔ نو سالہ طویل اقتدار کے نشے کا ہینگ اوور  بھی کافی دیر تک سر پر سوار رہتا ہے۔ مگر اب ہینگ اوور اترتا نظر آ رہا ہے۔ عرب بادشاہوں کی عطا کردہ دولت کب تک ساتھ دے گی جبکہ مغربی ممالک میں نام نہاد  لیکچروں  کے ذریعے  ڈالروں کے نذرانوں کی بارش اب ختم ہو چکی ہے۔

کمانڈو کو اپنی گرتی لوٹتی ساکھ کا اندازہ اس وقت ہو چکا ہوگا جب گزشتہ ماہ وہ یورپ کے ایک چھوٹے سے ملک ناروے کی وزیر اعظم کے سامنے جا کھڑے ہوئے۔ وزیر اعظم نے مشرف کو دیکھ کر منہ دوسری جانب موڑ لیا۔ وزیر اعظم کی سیکورٹی نے  ‘دبنگ کمانڈو‘ کو یہ کہہ کر وہاں سے چلتا کیا کہ وزیر اعظم آپ سے ملنا نیہں چاہتیں۔ یہ واقعہ سینکڑوں پاکستانی اور نارویجین لوگوں کی موجودگی میں پیش آیا۔ جہاں مشرف بن بلائے وادر ہوئے تھے۔ بے نظیر بھٹو قتل کے پیچھے کس کس کے خفیہ ہاتھ ہیں۔ اس قتل کے پیچھے مشرف چھپا ہے یا زرداری یا کوئی اور۔ ان خفیہ سازشی ہاتھوں کو بے نقاب ہونا چاہئے۔

سکاٹ لینڈ یارڈ اور یو این او کی تحقیقات بے نظیر بھٹو کو مناسب سیکورٹی نہ فراہم کرنے کی حکومتی ذمہ داری کا تعین کر چکی ہے۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت سے دو حکومتی افسران کو سزا نے بھی سیکورٹی اور قتل کی تحقیقات میں جان بوجھ کرکوتاہی برتنے کا الزام ثابت کر دیا ہے۔ یہ سارے اشارے اس وقت کی حکوت کی طرف جاتے دکھائی دیتے ہیں۔ جس کا سربراہ جنرل پرویز مشرف تھا۔ پھر بھی مشرف کے ساتھ زرداری اور رحمان ملک کو یو این او کی زیر نگرانی سکاٹ لینڈ یارڈ کے سپرد کر دیا جائے تو بے نظیر بھٹو کے قاتلوں تک پہنچنا ممکن ہو سکتا ہے۔