گلگت کی تحریک آزادی اور مجبوری
18 ستمبر 2017 کو بعد دوپہر فاتح گلگت کرنل مرزا حسن جرال ، کپتان جابر خان، شاہ خان اور صوبیدار صفی اﷲ کی قبروں پر حاضری کے بعد رکن اسمبلی نواز خان ناجی نے مجھے وہ جگہ دکھائی جہاں سے مہاراجہ کے آخری گورنر گھنسارا سنگھ کو گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ تمام قبریں اسمبلی سیکرٹریٹ کے احاطے میں ہیں جس کے ارد گرد اب سرکاری تعمیر جاری ہے۔ گورنرگھنسارا سنگھ کی رہائش اب موجودہ چیف سیکرٹری کی رہائش گاہ ہے۔
31 اکتوبر اور یکم نومبر 1947 کی درمیانی رات گھنسارا سنگھ گرفتار کیا گیا اور یکم نومبر کی صبح کو ایک عبوری حکومت کا اعلان کر دیا گیا جس کا پہلا صدر شاہ رئیس خان اور کمانڈر انچیف کرنل حسن کو بنایا گیا۔ کرنل حسن خان ریاست جموں کشمیرکے باقی ماندہ حصوں کو مہاراجہ کی شخصی غلامی سے آزاد کرانے کے لیے کامیابی سے پیش قدمی کر رہے تھے کہ ان کی عدم موجودگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے محلاتی ساز شوں کے نتیجے میں محمد عالم پاکستان کے پولیٹیکل ایجنٹ کی حیثیت سے گلگت آ کر ایجنسی ہاؤس میں بیٹھ گیا ۔ کمزور صدر شاہ رئیس خان کو علم ہوا تو انہوں نے از خود کنارہ کشی اختیارکرلی ۔ عالم عبوری حکومت ختم کرکے اس خطے کے سیاہ و سفید کا مالک بن گیا۔ اس نے ایف سی آر جسے کالا قانون کہا جاتا ہے وہ نافذ کر دیا جس کے خلاف کرنل حسن نے آواز بلند کی۔ مگر انہیں پس منظر میں دھکیل دیا گیا اور گلگت کو آزاد کرانے کا سہرا برطانوی میجر براؤن کے سر باندھنے کی سازش کی جانے لگی جو بیدار مغز مقامی لوگوں کے نزدیک برطانوی مفادات کے لیے کام کر رہا تھا۔
جموں کشمیر میں بھارت کے لیے زمینی راستے قائم کرنے کے لیے ایک سازش کے تحت پٹھان کوٹ کی تحصیل بھارت کو دی گئی تھی اور اب براؤن کے زریعے گلگت پاکستان کے حوالے کرنا ایک اور مثال ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ برطانیہ نے کس طرح جموں کشمیر کو تقسیم کرنے کی گھناؤنی سازش کی۔ جبکہ آج وہ کہتا ہے کہ یہ مسئلہ حل کرنا ہندوستان اور پاکستان کا کام ہے۔ کرنل حسن نے اس خطے کو آزاد کشمیر کے ساتھ جوڑ کر بھارت کے زیر قبضہ جموں کشمیر کو آزاد کرانے کی کوشش کرتے ہوئے گلگت لیگ کے نام سے ایک جماعت بنائی۔ مگر انہیں جنرل اکبر کے ساتھ راولپندی سازش کیس میں قید کر دیا گیا۔ عام لوگ آج بھی فاتح گلگت اور ان کے ساتھیوں کو بڑے عزت و احترام سے دیکتھے ہیں۔ لیکن کسی بھی سرکاری ادارے میں فاتح گلگت کی تصویر نہیں دیکھی جاسکتی۔ فاتح گلگت کے دو بیٹے کرنل وجاہت حسن خان اور کرنل نادر حسن خان پاکستانی فوج میں سروس کر چکے ہیں لیکن وہاں سے فارغ ہونے کے بعد انہوں نے گلگت بلتستان کے حقوق کے لیے جد و جہد شروع کی۔ کرنل وجاہت اب کسی ملک میں سیاسی پناہ گزین ہیں جبکہ کرنل نادر حال ہی میں جیل سے رہا ہونے کے بعد غائب ہیں۔
ان تاریخی مقامات کی زیارت کے بعد رکن اسمبلی نواز خان ناجی ہمیں دریا غذر کے کنارے ایک ریسٹورنٹ میں لے گئے جہاں دوران لنچ انہوں نے دریاؤں اور دیگر قدرتی وسائل کی تفصیل بتائی۔ تاثر ہمیشہ یہ دیا جاتا ہے کہ جموں کشمیر ہندوستان اور پاکستان میں سے کسی ایک کے ساتھ رہے بنا زندہ نہیں رہ سکتا لیکن حقیقت یہ ہے کہ جموں کشمیر کے قدرتی وسائل اور اس کی جغرافیائی و دفاعی حیثیت صرف ہمارے دو بڑے پڑوسیوں کے درمیان ہی جھگڑے کا باعث نہیں بلکہ امریکہ روس اور چین جیسی بڑی قوتیں بھی جموں کشمیر اور خاص کر گلگت بلتستان میں خصوصی دلچسپی رکھتی ہیں۔ جس کی اب تازہ اور واضع مثال سی پیک ہے جس کی وجہ سے امریکہ اور چین کے درمیان سخت سیاسی تناؤ پایا جاتا ہے۔ یہاں کے لوگوں کو خطرہ ہے کہ سی پیک کو روکنے کے لیے امریکہ جنگ بھی کر سکتا ہے۔ جبکہ بعض سیاسی و تحقیقی ماہرین کا خیال ہے کہ یہاں پراکسی وار بھی شروع کروائی جا سکتی ہے۔ ہر دو صورتوں میں جموں کشمیر کے عوام کے لئے خطرات موجود ہیں اور بالغ نظر لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر اس خطے میں امن قائم کرکے یہاں ترقی و خوشحالی لانی ہے تو پھر جموں کشمیر کی وحدت کی بحالی ناگزیر ہے۔ ورنہ یہاں بھی دوسرے اسلامی ممالک کی طرح خون خرابہ شروع ہو جائے گا۔
لنچ کے بعد محمد نواز خان ناجی اپنے باڈی گارڈ کو ساتھ رکھ کر مجھے گلگت سے چترال تک کی سیر کرانے لے گئے۔ یہ ایک طویل سفر تھا۔ راستے میں ہم نے کھلتی جھیل اور اس کے ساتھ ویلی کا نظارہ لیا۔ دریا غذر اور یاسین کے سنگھم پر کھڑے ہو کر ہم قدرت کی کرشمہ سازی پر خاموش سوچوں گم رہے۔ میری زندگی کا یہ ایسا سفر تھا جہاں میں نے دیکھا کہ پہاڑ کاٹ کر تعمیر کی جانے والی میلوں لمبی سڑک کے ایک طرف مسلسل پہاڑ اور دوسری طرف دریا غذر ہے۔ اگر کوئی حادثہ پیش آ جائے تو گاڑی سیدھی دریا میں جا سکتی ہے۔ لیکن لوگ بڑے اعتماد کے ساتھ گاڑیاں چلا رہے ہیں۔ دریا غذر کے کنارے اکا دکا آبادیاں بھی ہیں جہاں سیاحوں کے لیے سہولیات موجود ہیں۔ راستے میں گوہرآباد ایک چھوٹی سے بستی آتی ہے جہاں ہم نے چائے پی۔ وہاں سے ہم انگریزوں کے تعمیر کردہ گوپس قلعہ گئے جو برطانیہ نے سوویت یونین کی پیش قدمی کے خطرہ کو روکنے کی خاطر تعمیر کیا تھا۔ یہ ایک وسیع و عریض رقبہ پر قائم ہے جہاں اب پاکستان کی فوج ہوتی ہے لیکن اس تاریخی قلعہ کی خستہ حالی پر بھی حیرت ہوتی ہے۔
قلعہ کے اندر میں نے جیل کے وہ سیل بھی دیکھے جہاں قیدیوں کو رکھا جاتا تھا۔ ان سیلوں کے اند ر روشن دان تک نہیں۔ چارپائی رکھنے کی بھی جگہ نہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قیدیوں کو فرش پر لیٹنا پڑتا تھا۔ رات کو مجھے گاہکوچ ریسٹ ہاؤس میں ٹھہرایا گیا جہاں لیاقت آزاد اور دیگر چند نوجوانوں نے میرے ساتھ ملاقاتیں کیں۔ گاہکوچ ایک صاف ستھرا علاقہ ہے جہاں کے ڈی سی اور ایس پی کے دفاتر آزاد کشمیر کے صدر و وزیر اعظم کے دفاتر سے بھی بڑے ہیں اور رہائش گائیں بھی وسیع و عریض علاقہ پر قائم ہیں۔ شاید اس کی ایک وجہ یہاں کی دفاعی صورت حال اور دوسری وجہ یہ ہے کہ یہاں آزاد کشمیر کے نسبت آبادی کم اور علاقہ زیادہ ہے۔
گلگت سے گوپس تک کئے جانے والے تین دن کے دورے کے بعد رکن اسمبلی محمد نواز خان ناجی مجھے 20 ستمبر کو واپس گلگت لائے جبکہ ان کے جماعتی ساتھی نذیر احمد اور رحمت اﷲ کاہکوچ ہی ٹھہر گئے۔ راستے میں نواز ناجی نے مجھے بلند و بالا پہاڑوں میں معدنی زخائر کا زکر کرتے ہوئے بتایا کہ ایک تحقیق کے مطابق یہاں آئرن، گرینائٹ اور پوٹیشیم کے وسیع زخائر پائے جاتے ہیں لیکن اس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ (جاری)