سانحہ ماڈل ٹاؤن کا انصاف
- تحریر سلمان عابد
- ہفتہ 23 / ستمبر / 2017
- 4858
جو معاشرہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کی بجائے لاقانونیت کا شکار ہوجائے تو وہاں محض انصاف کا ہی قتل نہیں ہوتا بلکہ تشدد کا نظام تقویت پکڑتا ہے ۔ پاکستان ان ملکوں میں شامل ہے جہاں قانون کی حکمرانی کی بجائے افراد یا طاقت ور گروہوں کی حکمرانی کا نظام غالب ہے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ یہاں اداروں کی حکمرانی کا تصور بہت کمزور ہے اور یہ عمل عام آدمی کو زیادہ بے بسی اور لاچارگی کا شکار کرتا ہے ۔ ریاست، حکومت اور عوام کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کی بھی ایک بڑی وجہ عدم انصاف پر مبنی نظام ہوتا ہے ۔
کچھ حادثات، واقعات اور سانحات ایسے ہوتے ہیں جو بار بار آپ کو بربریت اور ظلم کی تصویر پیش کرتے ہیں۔ اگرچہ بعض واقعات بہت پرانے بھی ہوجاتے ہیں لیکن جب بھی ان کا زکر ہوتا ہے تو آنکھوں کے سامنے بربریت پر مبنی ایک پوری کہانی آجاتی ہے ۔ اس طرز کی کہانیاں ہمیں یہ تاثر دیتی ہیں کہ یہاں حکمرانی کا نظام بھی ظلم پر مبنی ہے اورمعاشرہ بھی اس طرح کی بربریت پر خاموش نظر رہ کر سمجھوتوں کی سیاست کا شکار ہوجاتا ہے ۔ جب یہ منطق دی جاتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں لوگ بہت زیادہ پر تشدد مزاج کے حامل اور قانون کی عدم پاسداری کا شکار ہیں تو اس کی وجہ ہمارے حکمرانی کے نظام میں عدم شفافیت ہے ۔
سانحہ ماڈل ٹاؤن بھی ایک ایسا ہی واقعہ ہے جو ہماری ریاست اور حکومت کے سامنے ایک بڑے سوالیہ نشان کے طور پر موجود ہے۔ دنیا میں پولیس یا حکومتی بربریت کے کئی واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں مگر یہ واقعہ پوری دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے ۔ جس بیہمانہ انداز میں14مرد اور خواتین کو بربریت کا نشانہ بنا کر ان کی معصوم زندگیوں کا خاتمہ کیا گیا ، وہ ریاست، حکومت اور قانون کی اخلاقی ، سیاسی اور قانونی ساکھ کے منہ پر بڑا طمانچہ ہے ۔ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ جس ڈھٹائی سے ہماری حکومت، پولیس یا قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس بربریت پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی ہے اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔
جو لوگ ڈاکٹر طاہر القادری یا ان کی عوامی تحریک پر اپنے تحفظات رکھتے ہیں وہ اپنی جگہ ، لیکن حکومتی سطح پر ریاستی اداروں کی مدد سے اس طرز کی بربریت پر خاموشی اختیار کرنا ، مختلف جواز پیش کرنا ، سمجھوتہ کرنا ، قانون پر عملدرآمد کی بجائے سیاسی جملے بازی کرنا جیسے امور معاشرے کی اخلاقی ساکھ کو بھی چیلنج کرتے ہیں۔ یہ کہنا کہ یہ واقعہ محض پولیس بربریت کا نتیجہ ہے ، مکمل سچ نہیں ۔ اس طرز کے واقعات ریاستی ، حکومتی مدد اور حکم کے بغیر ممکن نہیں ہوتے ۔ اس لیے اگر حکومت یہ موقف اختیار کرتی ہے کہ اس میں اس کا کوئی کردار نہیں تو پھر سوال یہ ہے کہ اس سارے معاملہ میں قانون کی حکمرانی اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے میں خود حکومت کیوں رکاوٹ بنی ہوئی ہے ۔
یہ بات بھی سب جانتے ہیں کہ سانحہ ماڈل ٹاون کی ایف آئی آر بھی محض اس لیے کاٹی گئی کیونکہ اس میں براہ راست اس وقت کے آرمی چیف کو مداخلت کرنا پڑی ۔ اس کے بعد جو جے آئی ٹی بنائی گئی اس میں حکومت کی مداخلت کے باعث اپنے حق میں نتائج حاصل کیے گئے۔ اس کے بعد سانحہ ماڈل ٹاؤن کی باقاعدہ عدالتی انکوائری کمیٹی بنائی گئی جس کی سربراہی جسٹس باقر نجفی نے کی ۔ اس رپورٹ کو پبلک کرنے میں بھی وفاقی اور پنجاب حکومت رکاوٹ بن گئی ۔ ایک خبر کے مطابق اس رپورٹ کو جاری نہ کرنے وجہ عدالتی کمیشن کی طرف سے صوبائی سربراہ ، وزیر قانون اور دیگر اہم انتظامی افسران کو واقعہ کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا ۔
حکمرانوں کا خیال تھا کہ وہ حکومت میں ہیں اور ریاستی و حکومتی اداروں کی مدد سے اس سانحہ کو پس پشت ہی رکھا جائے گا ۔ مگر اب صورتحال کافی بدل گئی ہے ۔ لاہورہائی کورٹ کے جسٹس سید مظاہر علی نقوی نے ماڈل ٹاؤن سانحہ کے متاثرین کی درخواست پر اس جوڈیشل انکوائری رپورٹ کو پبلک کرنے کا حکم جاری کردیا ہے ۔ عدالت نے ہوم سیکرٹری پنجاب کو عدالتی فیصلے پر فوری طور پر عمل کرنے اور جسٹس باقر نجفی رپورٹ کی کاپیاں جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کے ورثا کو دینے کا حکم دیا ہے ۔ عدالت کے بقول جوڈیشل انکوائری رپورٹ ایک عوامی دستاویز ہے اور جمہوری نظام میں ایسے وحشیانہ واقعہ کے اصل حقائق عوام کے سامنے لانے چاہیے ۔ عدالت کے بقول کسی بھی متاثرہ شخص کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے عدالت سے رجوع کرے، عدالتیں عوام کے بنیادی حقوق کی ضامن ہیں اور اگر عدالت ایسا نہیں کرتیں تو اس سے عدالتی ساکھ متاثر ہوتی ہے ۔
عمومی طور پر جوڈیشل انکوائری عوامی مفاد کے اصول کے تحت کی جاتی ہے تاکہ حقائق کو سب کے سامنے لایاجائے ۔ لیکن اگر حکومت خود اس جوڈیشل رپورٹ کو جاری کرنے میں رکاوٹ بن جائے تو حکومت کی بدنیتی سمجھ آتی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کو ڈر اور خوف ہوتا ہے کہ اگر اس رپورٹ کو پبلک کیا گیا تو اس سے حکومتی ساکھ متاثر ہوگی اور حکومت کے ذمہ داران کو بھی قانون کی گرفت میں لایا جاسکتا ہے ۔ حکومت نے فوری طور پر عدالتی فیصلہ قبول کرنے کی بجائے اس فیصلہ کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان کے بقول اس رپورٹ میں بعض پہلو ایسے ہیں جو ملکی مفاد کو متاثر کرسکتے ہیں۔ حالانکہ لوگوں کو یاد ہوگا کہ وزیر اعلی پنجاب نے برملا کہا تھا کہ اگر عدالتی انکوائری رپورٹ ان کے خلاف ہوئی تو وہ ہر سزا بھگتنے کے لیے تیار ہوں گے لیکن اب خود وزیر اعلی پنجاب بھی اس معاملے میں وہی کچھ کررہے ہیں جو قانون شکن حکمران کرتے ہیں ۔
رائٹس ٹو انفارمیشن ایکٹ2013کی شق19-Aکے تحت یہ ہر شہری کا حق ہے کہ اس کو حساس وسیکورٹی کے علاوہ جو بھی معلومات درکار ہیں وہ مہیا کی جائے ۔ اب یہ دیکھنا یہ ہوگا کہ حکومت اس رپورٹ کو کب تک منظر عام پر لاتی ہے ۔ اگر اس کے برعکس حکومت مزید تاخیری حربے اختیار کرتی ہے تو وہ عملی طور پر توہین عدالت کی بھی مرتکب ہوسکتی ہے ۔ یہاں اس رپورٹ کو پبلک کرنے کا جو فیصلہ سامنے آیا ہے اس سے یقینی طور پر عدالتی ساکھ کو مثبت انداز میں دیکھا جائے گا ۔ لیکن ڈاکٹر طاہر القادری ، عوامی تحریک اوران کے دیگر راہنماؤں کے علاوہ سانحہ کے متاثرین خاندان ، میڈیا ، وکلا تنظیمیں اور حزب اختلاف کی بعض جماعتوں میں موجود افراد کو بھی داد دینی ہوگی کہ انہوں نے تمام تر حکومتی منفی حربوں ، ہتکھنڈوں کے باوجود سانحہ ماڈل ٹاون کے مسئلہ کو ذندہ رکھا اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ حکومت کی جانب سے سانحہ کے متاثرین کو بہت سی مراعات بھی دینے کی کوشش کی گئی تاکہ ان کی زبان بندی کی جاسکے مگر وہ انصاف کے حصول کے لیے ڈٹ گئے اور ان کو پوری امید ہے کہ ایک دن اس مقدمہ کا فیصلہ بھی ہوگا اور مجرم بھی سزا سے نہیں بچ سکیں گے ۔
ڈاکٹر طاہر القادری نے سانحہ ماڈل ٹاون کو قانونی ، سیاسی اور بین الااقوامی فورمز پر بھی خوب لڑا۔ اگرچہ ان کے مخالفین نے ان کا خوب مذاق بھی اڑایا ، مگر وہ ڈٹے رہے اور حکمرانوں کو چیلنج کرتے رہے کہ وہ اس سانحہ پر خاموش نہیں رہیں گے ۔ ہمیں سیاسی مفادات سے بالاتر ہوکر اس نکتہ پر زور دینا چاہیے اور یہ ہماری ترجیحات کا بھی حصہ ہونا چاہیے کہ سانحہ ماڈل ٹاون کا انصاف بھی ہو اور نظر بھی آئے ۔ مسئلہ یہ ہے کہ اگر حکومتیں انصاف کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتیں اور ریاستی ادارے حکومتی مفاد کے تحت مجرموں کی سرپرستی کرتے رہیں گے تو پھر لوگوں کا واحد راستہ عدالتیں ہی ہوتی ہیں کہ وہ ان کو انصاف دے سکیں ۔
وزیر اعلی پنجاب سیاسی بڑھکوں کے قائل ہیں اور سانحہ ماڈل ٹاون پر بھی ان کے دعوے اور بڑھکیں موجود ہیں۔ مگر المیہ یہ ہے کہ وہ خود انصاف کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں ۔ اس سانحہ کی ویڈیو فلمیں اور میڈیا پر براہ راست دکھائے گئے مناظر کے بعد انصاف کو پس پشت ڈالنا اور مجرموں کو کیفر کردار تک نہ پہنچانا واقعی ظلم ہے ۔ یہ سانحہ کا انصاف اس ریاست اوراس کے اداروں پر بڑا قرض ہے ۔ اگر اب بھی اس سانحہ پر سمجھوتہ یا خاموشی اختیا ر کی گئی تویہ عمل اس ملک میں انصاف کے قتل کامترادف ہوگا۔