پرائیویٹ سکول مافیا
یہ کسی خاص سکول کی کہانی نہیں آج پاکستان میں ہر پرائیویٹ سکول کو عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کی کھلی چھٹی ہے۔ زیر نظر تصویر نرسری کلاس کے بچے کے سکول داخلہ کا فیس چلان ہے جو کہ مبلغ ڈیڑھ لاکھ روپے ہے۔ داخلہ فیس کے علاؤہ جنریٹر چارجز، سیکورٹی چارجز، رجسڑیشن چارجز، ریسورس چارجز اور دیگر غیر ضروری چارجز اس چلان کا حصہ ہیں۔
ہر سال سکول انتظامیہ دس سے پندرہ فیصد فیسوں میں اضافہ کر دیتی ہے۔ اس ساری صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ آخر پرائیوٹ سکولوں کی اجارہ داری کیوں قائم ہے۔ اس کی یہ وجہ سامنے آتی ہے کہ سرکاری تعلیمی ادارے مفلوج کردیئے گئے ہیں۔ سرکار کا اس سکول مافیا سے گٹھ جوڑ ہے۔ عالمی مافیا بھی اس گھناؤنے کھیل کا حصہ ہے۔ ہمارے دوست رؤف کلاسرا نے متعدد خبریں فائل کیں کہ کیسے اس پرائیوٹ سکول مافیا کو فارن آفس نے اسلام آباد کے قیمتی سیکٹر میں کروڑوں روپے مالیت کی قیمتی اراضی دے دی۔ اسی طرح جنرل مشرف دور میں بیکن ہاؤس سکول کو ریلوے کی اراضی کوڑیوں کے دام دی تھی۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر پرائیوٹ سکول مافیا کے نزدیک تعلیم کاروبار ہتو پھر انہیں اونے پونے داموں زمین دینے کی کیا ضرورت ہے۔ انہیں مارکیٹ ریٹ پر زمین کیوں نہیں دی جاتی۔ حد تو یہ ہے کہ اسلام آباد میں غریبوں کے لئے وقف رفاہی سیکٹر ایچ ایٹ میں تعلیمی اداروں اور ہسپتالوں کے لئے مختص اراضی کو بھی اس مافیا کے سپرد کردیا گیا۔ آج اسلام آباد کے مشہور شفا ہسپتال میں غریب مریض کا علاج لاکھوں روپے جمع کروائے بغیر ممکن نہیں۔ کوئی پرائیوٹ سکول اپنی ویب سائٹ پر سکول مالکان کی تعلیمی قابلیت اور تجربہ ظاہر نہیں کرتا، نہ ہی اسکول میں پڑھانے والے اساتذہ کا تعلیمی پس منظر اور تجربہ بتایا جاتا ہے۔ زیادہ تر سکولوں کے اساتذہ اور سکول کے باہر کھڑے سیکورٹی گارڈز کی تنخواہوں میں تھوڑا ہی فرق ہوتا ہے۔
سکول مالکان اسحلہ بردار گارڈز کے ساتھ کئی گاڑیوں کے جھرمٹ میں نمودار ہوتے ہیں۔ پاکستان میں سرکاری ٹیکسٹ بک بورڈ کی کتابیں برائے نام ہوا کرتی تھیں لیکن ان تعلیمی اداروں نے آکسفورڈ اور کیمبرج کا نصاب متعارف کروایا۔ آج ایک کلاس کے نصاب کی کتابوں کی قیمت آٹھ سے دس ہزار روپے ہے۔ اے اور او لیول کے امتحانات کی فیس فارن کرنسی کے ذریعے بیرون ملک بھیجنی پڑتی ہے۔ اس کے بعد سکول بیرونی یونیورسٹیوں سے کمیشن طے کرکے طلبہ کو بیرون ملک تعلیم کے لئے راغب کرتا ہے۔ اس طرح غیر ملکی طاقتوں کا مفاد بھی ان سکولوں کی اجارہ داری میں ہے۔
میں ذاتی طور پر پاکستان کے سرکاری تعلیمی شعبے کی بحالی کے حق میں ہوں اور میری رائے میں ریاست کو ان تمام پرائیویٹ سکولوں کو قومیانہ چاہئے کیونکہ ارسطو کے نزدیک ریاست کے قیام کی اہم ترین وجہ شہریوں کو تعلیم دینا ہے۔ اور ارسطو کے نزدیک برا اور طبقاتی نظام تعلیم ، سیاسی تنزلی، کرپشن اور معاشرے میں انتشار کا باعث بنتا ہے۔