شفاف انتخابات اور الیکشن کمیشن کی ساکھ

جمہوریت کی  ایک خوبی شفافیت  ہے  ۔شفافیت پر  مبنی نظام  اداروں کی سیاسی ، قانونی ، انتظامی اور اخلاقی ساکھ کو بھی مضبوط بنانے کا سبب بنتا ہے۔ کیونکہ اگر نظام  یا  ریاستی ادارے  شفافیت پر مبنی نہ ہوں تو پھر نظام نہ تو اپنے اندر افادیت رکھتا ہے اور نہ ہی وہ لوگوں میں اپنی قبولیت کے تقاضوں کو پورا کرسکتا ہے۔ کیونکہ جمہوریت میں انتخابات کا تسلسل اورباقاعدگی سے ہونا اہم ہے ۔ انتخابات کا عمل بنیادی طور پر لوگ کو رائے دہی کا حق دیتا ہے کہ وہ بلا خوف و ججھک اپنی قیادت کا انتخاب کریں ۔ لیکن پاکستان میں شفافیت کے برعکس سیاسی ، انتخابی اور جمہوری نظام  قائم ہے ۔ اس لیے لوگ یہاں شفافیت پر مبنی حکمرانی کے نظام کے ثمرات سے مستفید نہیں ہوسکے ۔

یہ عجیب منطق ہے کہ ہم کئی دہائیوں سے اداروں کی بقا ، خود مختاری اورآزادی کی جنگ لڑرہے ہیں ۔ کوشش ہے کہ پاکستان میں حکمرانی کے نظام میں اداروں کو بالادستی حاصل ہو۔ کیونکہ جب معاشروں میں ادارے بالادست ہوتے ہیں وہاں  پر حکمرانی کا نظام جوابدہی کے اصول پر استوار ہوتا ہے۔ ان اداروں میں الیکشن کمیشن آف پاکستان بھی ہے ۔ دنیا میں تمام ممالک جدید نظام اور جدید ٹیکنالوجی کے تحت اپنے انتخابات کے شفاف اور منصفانہ انعقاد کے لیے نئی نئی حکمت عملی  اختیار کررہے ہیں ۔ جبکہ اس کے برعکس ہم یا تو فرسودہ نظام سے جڑے ہوئے ہیں یا جو نئے تجربات یا طور طریقے اختیار کرکے ہم آگے بڑھنا چاہتے ہیں ، اس میں سیاسی رکاوٹیں موجود ہیں ۔ جب بھی ہمارے ہاں انتخابات  ہوتے ہیں تو جیتنے والی جماعتیں  انتخابی عمل منصفانہ اور شفاف  کہتی ہیں اور  شکست کھانے والی انتخابی دھاندلی کا رونا روتی ہیں ۔ اس لیے یہاں انتخابات کی شفافیت محض جیت اور شکست کے درمیان کھڑی ہوتی ہے اوراسی کی بنیاد پر الیکشن کمیشن کی ساکھ پرسوالات اٹھائے جاتے ہیں ۔ 2013 کے انتخابات میں تحریک انصاف کے سربراہ کی جانب سے پہلی بار دھرنا سیاست کا عملی مظاہرہ دیکھنا پڑا ، اس کا نتیجہ عدالتی کمیشن کی تشکیل تک پہنچا ۔ عدالتی کمیشن نے 42کے قریب ایسی تجاویز دیں جن کا براہ راست تعلق انتخابی بے قاعدگیوں اور بدانتظامیوں سے  تھا ۔ یہ تسلیم کیا گیا کہ 2013 میں وسیع پیمانے پر انتخابی بے ضابطگیاں ہوئی ہیں ، کمیشن نے الیکشن کمیشن کو ان تمام نکات میں بہتری کا حکم دیا ۔

خیال تھا کہ الیکشن کمیشن عدالتی کمیشن میں دی گئی تجاویز پر عمل کرکے بہتری پیدا کرکے 2018 کے منصفانہ اور شفاف انتخاب کی طرف بڑھے گا ، مگر بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ہم ابھی بھی بہت پیچھے ہیں ۔ عدالتی کمیشن کی دی گئی تجاویز کے بعد جتنے بھی  ضمنی انتخاب ہوئے ہیں ان میں انتخابی شفافیت کے سوالات بھی اٹھے اور الیکشن کمیشن کی ساکھ کو بھی خاصی تنقید کا سامنا کرنا پڑا ۔ بظاہر بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں الیکشن کمیشن خود مختار نہیں اور جب وہ حکومتی دباؤ میں رہ یا ان کی مرضی کے فیصلوں کے تحت کام کرے گا تو پھر شفاف انتخابات کا عمل بہت پیچھے رہ جاتا ہے ۔ ہر انتخابی عمل میں الیکشن کمیشن یہ دعویٰ کرتا ہے کہ ماضی کے مقابلے میں  بہت زیادہ بہتری پیدا کی گئی ہے ، مگر نتائج ماضی سے مختلف نہیں ہوتے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہمارے یہاں انتخابات کی ساکھ ہمیشہ سے سوالیہ نشان  ہے جو بداعتمادی پیدا کرتی ہے ۔

ہمارے یہاں بہت سے فکری دانشور اور اہل علم سمیت سیاسی طبقہ 2108 کے انتخابات کی شفافیت پر بہت زیادہ زور دیتا ہے ۔ ان کو یقین ہے کہ 2018 کے انتخابات ماضی کے انتخابات سے مختلف ہوں گے اور ان کی ساکھ بھی لوگوں میں قبولیت حاصل کرے گی ۔ مگر اگر ہم ابھی 2017 میں لاہو رمیں ہونے والااین اے 120سمیت چند ضمنی انتخابات کا تجزیہ کریں تو لگتا ہے کہ 2018 کے انتخابات اوراس کے نتائج میں بھی شفافیت اور منصفانہ انتخابات کا عمل محض خواہش ہی ہوگا ۔ کیونکہ جو تلخ حقائق ہمیں ان ضمنی انتخابات کے تناظر میں دیکھنے کو مل رہے ہیں وہ کافی مایوس کن ہیں ۔ حالیہ ضمنی انتخابات میں جس وسیع پیمانے پر سیاسی جماعتوں اور حکمران طبقہ نے ریاستی و حکومتی اداروں کی مدد سے انتخابی قوانین کی دھجیاں آڑائی ہیں وہ قابل مذمت ہے ۔

یہ واقعی بدقسمتی ہے کہ  الیکشن کمیشن کا نظام ان  قانون شکنی کے معاملات میں بے بس اور لاچار نظر آتا ہے ۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ، انتظامی افسران ، انتخابی امیدوار اور سیاسی جماعتیں کوئی بھی ان کی دی گئی ہدایات کو سننے کے لیے تیار نہیں ۔ ایسا نہیں کہ  الیکشن کمیشن کے پاس اختیارات نہیں ، بلکہ اصل مسئلہ ان اختیارات کے استعمال کا ہے ۔ الیکشن کمیشن حکومت کے سامنے بے بس ہوکر کام کرتا ہے جو حزب اختلاف کے لوگوں کو بھی موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ خود بھی قانون شکنی کریں ۔ سوال یہ ہے کہ اگر الیکشن کمیشن کے بنائے گئے ضابطہ اخلاق اور قوانین کو کسی نے تسلیم نہیں کرنا تو پھر ان کی کیا اہمیت ہے ۔ انتخابی امیدواروں کی طرف سے طے شدہ اخراجات، ارکان اسمبلی ، وفاقی و صوبائی وزرا کی انتخابی مہم میں شمولیت ، ضابطہ اخلاق ، تشہیری مہم ، ووٹر فہرستوں کی درستگی ، انتخابی مواد کی فراہمی ، اسلحہ کی سرعام نمائش، ترقیاتی کاموں کا عمل ، بجٹ کی ترسیل ، پولنگ اسکیمیں جیسے مسائل پر جب عمل ہی نہیں ہونا ، تو پھر انتخابات میں شفافیت کیسے ہوگی ۔ حالیہ ضمنی انتخاب میں بھی جس برے انداز سے حکمران جماعت نے بلا خوف راتوں رات ترقیاتی کام کروائے ، پیسے خرچ کیے، اس پر الیکشن کمیشن کوئی بھی قانونی اقدام نہیں اٹھاسکا۔ جو وفاقی و صوبائی وزرا انتخابی مہم کا حصہ بنے ، اسلحہ لے کر پھرتے رہے جن کی ویڈیو فلمیں موجود ہیں ، وہ بھی الیکشن کمیشن کی نظروں سے اوجھل رہا ۔ 29000 ہزار ووٹوں کا معاملہ بھی امیدواروں کے درمیان شٹل کاک بنا رہا ۔ جن امیدوراوں نے ایک دوسرے کے خلاف شکایات درج کروائیں اس پر بھی کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ۔

جب الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابی اخراجات کی حد مقرر ہوتی ہے تو اس کی نگرانی کا کوئی شفاف نظام موجود نہیں کروڑوں روپے خرچ کرکے انتخابی نظام کو دولت کا کھیل بنانے والوں کی کیسے سرکوبی کی جاسکے ، الیکشن کمیشن کے پاس کوئی حل نہیں ۔ کیونکہ وہ قانون پر عملدرآمد کی بجائے افراد کے تابع بن کر کام کرنے کا عادی ہوچکا ہے ۔ الیکشن کمیشن کے سربراہ کا تقرر قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف کی مدد سے ہوتا ہے ۔ لیکن یہ تجربہ ناکام ہوگیا ہے اور دونوں بڑی جماعتوں کی سمجھوتے اور مفادات پر مبنی سیاست نے الیکشن کمیشن کی خود مختاری کو عملا مذاق بنادیا ہے ۔ ابھی ہماری پارلیمانی جماعتوں نے انتخابی اصلاحات کے حوالے سے بہت سی نئی تجاویز دی ہیں ، لیکن سوال یہ ہے کہ جب آپ کے پاس ایک مضبوط، خود مختاراور شفاف انتخابی نظام کے انعقاد کے لیے ادارہ ہی نہیں ہوگا تو  اصلاحات کا عمل بھی بہتری کا سبب نہیں بنے گا ۔

یہ سوال اپنی جگہ اہمیت کا حامل ہے کہ پاکستان میں کیسے الیکشن کمیشن ایک خود مختار، فعال ، شفاف اور غیر جانبدار انداز میں کام کرکے اپنی ساکھ بناسکے گا۔ یقینی طور پر یہ کام تن تنہا حکمران طبقہ نہیں کرسکتا ۔ وجہ یہ نہیں کہ وہ نہیں کرسکتا ، بلکہ اصل مسئلہ  ترجیحات کا ہے۔ جو لوگ اداروں کو تابع کرکے اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے کے خواہش مند ہوتے ہیں ان کے سامنے اصلاحات کا عمل بھی ان کی اپنی ذات اور مفادات سے جڑا ہوتا ہے ۔ الیکشن کمیشن کی خود مختاری اور شفافیت ایک بڑے دباؤ کی سیاست کے بغیر ممکن نہیں ۔ بڑے دباؤ سے مراد کوئی لڑائی جھگڑے کی سیاست نہیں بلکہ عملی اور فکری بنیادوں پر لوگوں سمیت مختلف فریقین کو متحرک کرنا ہوگا کہ وہ ملک میں شفاف انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن کی خود مختاری کی جنگ لڑیں ۔

ہمیں حکمران طبقات اور ان کی حکمرانی کے نظام سمیت اداروں پر قابض ہونے کی سوچ اور فکر کو چیلنج کرنا ہوگا ۔ لوگوں کو یہ باور کروانا ہوگا کہ ہم ابھی بھی ملک میں شفاف انتخابات کے عمل سے بہت پیچھے ہیں۔ مسئلہ محض الیکشن کمیشن کا نہیں بلکہ وہ تمام داخلی و خارجی قوتیں بھی ہیں جو الیکشن کمیشن کو کمزور کرکے اپنی مرضی کے نتائج چاہتی ہیں۔  ان کے خلاف سب کو متحد ہونا ہوگا اور ایک بڑی  جد و جہد سے ہی  ہم شفاف انتخابات کی طرف بڑھ سکتے ہیں ۔