سانحۂ کربلا اور شہادت امام حسین (2)
- تحریر مفتی محمد وقاص رفیعؔ
- جمعرات 28 / ستمبر / 2017
- 10649
تین شرطیں:
ملاقات میں امام حسین نے عمر بن سعد کے سامنے تین شرطیں رکھیں : ’’ایک یہ کہ میں جہاں سے آیا ہوں وہیں واپس چلا جاؤں۔ دوسری یہ کہ میں یزید کے پاس چلا جاؤں اور خود اس سے اپنا معاملہ طے کرلوں ۔ تیسری یہ کہ مجھے مسلمانوں کی کسی سرحد پر پہنچادو ، وہ لوگ جس حال میں ہوں گے میں بھی اسی حال میں رہ لوں گا۔‘‘ عمر بن سعد نے امام حسین کی یہ تینوں باتیں سن کر ابن زیاد کی طرف دوبارہ ایک خط لکھا کہ: ’’ اللہ تعالیٰ نے جنگ کی آگ بجھادی اور مسلمانوں کا کلمہ متفق کردیا ۔ مجھ سے امام حسین نے ان (مذکورہ) تین باتوں کا اختیار مانگا ہے جن سے آپ کا مقصد پورا ہوجاتا ہے اور امت کی اسی میں صلاح و فلاح ہے۔‘‘ ابن زیاد نے جب خط پڑھا تو وہ کافی متاثر ہوا اور کہا کہ یہ خط ایک ایسے شخص کا ہے جو امیر کی اطاعت بھی چاہتا ہے اور اپنی قوم کی عافیت کا بھی خواہش مند ہے ۔(عمرو بن سعد) ہم نے اس خط کو قبول کرلیا ہے ۔ لیکن شمر ذی الجوشن جو ابن زیاد کے پاس ہی ایک طرف بیٹھا ہوا تھا ،کہنے لگا کہ: ’’ کیا آپ امام حسین کو مہلت دینا چاہتے ہیں تاکہ وہ قوت حاصل کرکے دوبارہ تمہارے مقابلے کے لئے نکل کھڑے ہو ں۔ یاد رکھیں! اگر آج وہ تمہارے ہاتھ سے نکل گئے تو پھر کبھی تم ان پر قابو نہ پاسکو گے ۔ مجھے اس خط میں عمر بن سعد کی سازش معلوم ہوتی ہے ۔ کیوں کہ میں نے سنا ہے کہ وہ راتوں کو آپس میں باتیں کیا کرتے ہیں۔‘‘
ابن زیاد کا جواب:
ابن زیاد نے شمر کی رائے کو قبول کرتے ہوئے عمر وبن سعد کی طرف اسی مضمون کا ایک خط لکھا اور اسے شمر کے ہاتھ روانہ کیا اوراسے ہدایت کی کہ اگر عمرو بن سعد میرے اس حکم کی فوراً تعمیل نہ کرے تو تو اسے قتل کردینا اور اس کی جگہ لشکر کا امیر تو خود بن جانا۔ شمر جب ابن زیاد کا خط لے عمرو بن سعد کے پاس پہنچا تو وہ سمجھ گئے کہ شمر کے مشورہ سے یہ صورت عمل وجود میں آئی ہے اور میرا مشورہ ردّ کردیا گیا ہے ۔ اس لئے عمرو بن سعد نے شمر سے کہا کہ: ’’تونے بڑا ظلم کیا ہے کہ مسلمانوں کا کلمہ متفق ہورہا تھا اور تونے اس کو ختم کرکے قتل و قتال کا بازار گرم کردیا ہے ۔‘‘ بالآخر امام حسین کو یہ پیام پہنچایا گیا ، توآپ نے اس کے قبول کرنے سے صاف انکار کردیا اور فرمایا کہ : ’’ اس ذلت سے تو موت ہی بہتر ہے۔‘‘
خواب میں آنحضرت کی زیارت:
شمر ذی الجوشن محرم کی نویں تاریخ کو اس محاذ پر پہنچا تھا ۔ امام حسین اس وقت اپنے خیمے کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی حالت میں آپ پر کچھ غنودگی سی طاری ہوگئی اور آنکھ لگ گئی ، لیکن پھر اچانک ہی ایک آواز کے ساتھ آپ بیدار ہوگئے ۔ آپ کی ہمشیرہ زینب نے جب یہ آواز سنی تو دوڑتی ہوئی آئیں اورپوچھا کہ یہ آواز کیسی تھی؟ ۔ آپ نے فرمایا کہ : ’’ابھی ابھی خواب میں مجھے رسول اللہا کی زیارت ہوئی ، آپ فرمارہے تھے کہ: ’’ اب تم ہمارے پاس آنے والے ہو۔‘ ‘ حضرت زینب یہ سن کر روپڑیں لیکن امام حسین نے انہیں چپ کرایا اور تسلی دی ۔ اتنے میں شمر کا لشکر سامنے آگیا ، آپ کے بھائی حضرت عباس آگے بڑھے اور اپنے مدمقابل حریف سے گفتگو شروع کی ، لیکن اس نے بلا مہلت قتال کا اعلان کردیا ۔ حضرت عباس نے جب جنگ کا اعلان سنا تو انہوں نے جاکر امام حسین کو اس کی اطلاع دے دی۔ امام حسین نے فرمایا : ’’کہ ان سے کہوکہ آج کی رات قتال ملتوی کردیں تاکہ آج کی رات میں وصیت اور نماز و دعاء اور استغفار میں گزار لوں ۔‘‘ حضرت عباس نے امام حسین کا پیغام جاکر شمر تک پہنچادیا۔ شمر ذی الجوشن ور عمر وبن سعد نے لوگوں سے مشورہ کیا اور آپ کو اس رات عبادت کرنے کی مہلت دے دی اور واپس چل دیئے۔
عاشورہ کی رات اہل بیت کے سامنے تقریر:
امام حسین نے رات کو اپنے اہل بیت اور اصحاب کو جمع کرکے ایک خطبہ دیا جس کا لب لباب یہ تھا: ’’میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں ٗ راحت میں بھی اور مصیبت میں بھی ۔ اے اللہ! میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں کہ تونے ہمیں شرافت نبوت اسے نوازا ، ہمیں کان اور آنکھیں اور دل دیئے ، جن سے ہم آپ کی آیات سمجھیں اور ہمیں آپ نے قرآن پاک سکھلایا اور دین کی سمجھ عطا فرمائی ، ہمیں آپ اپنے شکر گزار بندوں میں داخل فرمالیجئے۔‘‘ اس کے بعد ارشاد فرمایا: ’’ میرے علم میں آج تک کسی شخص کے ساتھی ایسے وفا شعار اور نیکو کار نہیں ہیں جیسے میرے ساتھی ہیں اور نہ ہی کسی کے اہل بیت میرے اہل بیت سے زیادہ ثابت قدم نظر آتے ہیں ۔ آپ لوگوں کو اللہ تعالیٰ میری طرف سے بہت بہت جزائے خیر عطا فرمائے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ کل ہمارا آخری دن ہے ، میں آپ سب کو خوشی سے اجازت دیتا ہوں کہ سب اس رات کی تاریکی میں متفرق ہوجاؤ اور جہاں پناہ ملے وہاں چلے جاؤ ، اور میرے اہل بیت میں سے ایک ایک کا ہاتھ پکڑلو ، اور مختلف علاقوں میں پھیل جاؤ ، کیوں کہ دشمن میرا طلب گار ہے ، وہ مجھے پائے گا تو دوسروں کی طرف التفات نہ کرے گا۔‘‘ یہ تقریر سن کر آپ کے بھائی ، آپ کی اولاد ، آپ کے بھتیجے اور حضرت عبد اللہ بن جعفر کے صاحب زادے یک زبان ہوکر بولے : ’’ واللہ! ہم ہرگز ایسا نہیں کریں گے ، ہمیں اللہ تعالیٰ آپ کے بعد باقی نہ رکھے۔‘‘
عاشورہ کی رات بنو عقیل کے سامنے تقریر:
اس کے بعد امام حسین نے بنو عقیل کو مخاطب کرکے فرمایا : ’’تمہارے ایک بزرگ مسلم بن عقیل شہید ہوچکے ہیں ٗتمہاری طرف سے وہی ایک کافی ہیں ٗ تم سب واپس چلے جاؤ ، میں تمہیں خوشی سے اجازت دیتا ہوں ۔‘‘ انہوں نے کہا کہ : ’’ہم لوگوں کو کیا منہ دکھائیں گے کہ اپنے بزرگوں اور بڑوں کو موت کے سامنے چھوڑ کر اپنی جان بچا لائے ، بلکہ اللہ کی قسم! ہم تو آپ پر اپنی جانیں اور اولاد و اموال سب کچھ نچھاور کردیں گے۔‘‘ آپ کے ہمشیرہ حضرت زینب بے قرار ہوکر رونے لگیں تو آپ نے انہیں تسلی دی اور یہ وصیت فرمائی : ’’میری بہن! میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ میری شہادت پر نہ تم اپنے کپڑے پھاڑنا اور نہ ہی سینہ کوبی کرنا ، نیز چیخ اور چلا کر رونے سے بھی گریز کرنا ۔‘‘ ہمشیرہ کو یہ وصیت فرماکر امام حسینص باہر آگئے اور اپنے اصحاب کو جمع کرکے تمام شب تہجد اور دعاء و استغفار میں مشغول رہے ۔ یہ عاشورہ کی رات تھی اور صبح کوعاشورہ (۱۰ محرم) کا دن تھا ۔( تاریخ یعقوبی و ابن جریر : ج ۶ ص ۲۴۰)
یوم عاشورہ کی صبح:
دسویں محرم جمعہ یا ہفتہ کے دن فجر کی نماز سے فارغ ہوتے ہی عمرو بن سعد لشکر لے کر امام حسینص کے سامنے آگیا ۔ اس وقت امام حسینص کے ساتھ کل بہتر (۷۲) اصحاب تھے ، جن میں سے بتیس (۳۲) گھڑ سوار اور چالیس (۴۰) پیادہ پا تھے ۔چنانچہ آپ نے بھی اس کے مقابلہ کے لئے اپنے اصحاب کی صف بندی فرمالی۔ عمرو بن سعد نے اپنے لشکر کو چارحصوں میں تقسیم کرکے ہر ایک حصہ کا ایک امیر بنالیا تھا ۔ ان میں سے ایک حصہ کا امیر حر بن یزید تھا ، جو سب سے پہلے ایک ہزار کا لشکر لے کر امام حسین صکے مقابلہ کے لئے بھیجا گیا تھا اور امام حسین صکے ساتھ ساتھ چل رہا تھا ، اس کے دل میں اہل بیت اطہار کی محبت کا جذبہ بیدار ہوچکا تھا ۔ وہ اس وقت اپنی سابقہ کار روائی پر نادم ہوکر امام حسین کے قریب ہوتے ہوتے یک بارگی گھوڑا دوڑا کر امام حسین کے لشکر میں آملا اور عرض کیا کہ میری ابتدائی غفلت اور آپ کو واپسی کے لئے راستہ نہ دینے کا نتیجہ اس صورت میں ظاہر ہوا جو ہم دیکھ رہے ہیں ۔ واللہ! مجھے یہ اندازہ نہ تھا کہ یہ لوگ آپ کے خلاف اس حد تک پہنچ جائیں گے ، اور آپ کی کوئی بات نہ مانیں گے ۔ اگر میں یہ جانتا تو ہر گز آپ کا راستہ نہ روکتا ۔ اب میں آپ کے پاس توبہ تائب ہوکر آیا ہوں ، اس لئے اب میری توبہ اور سزا یہی ہے کہ میں بھی آپ کے ساتھ قتال کرتا ہوا جان دے دوں ٗ چنانچہ بالآخر ایسا ہی ہوا ۔
اہل کوفہ سے بدظنی:
اس کے بعد امام حسین نے رؤسائے کوفہ کا نام لے لے کر پکارا : ’’اے شیث بن ربعی ، اے حجاز بن ابحر ، اے قیس بن اشعث ، اے زید بن حارث ! کیا تم لوگوں نے کوفہ بلانے کے لئے مجھے خطوط نہیں لکھے تھے ؟‘‘ لیکن یہ سب لوگ مکر گئے ۔امام حسین نے فرمایا کہ: ’’ میرے پاس تمہارے تمام خطوط موجود ہیں۔‘‘ اس کے بعد فرمایا : ’’اے لوگو! اگر تم میرا آنا پسند نہیں کرتے تو مجھے چھوڑ دو میں ایسی زمین میں چلا جاؤں جہاں مجھے امن ملے۔‘‘ قیس بن اشعث نے کہاکہ: ’’آپ اپنے چچا زاد بھائی ابن زیاد کے حکم پر کیوں نہیں اتر آتے ؟ وہ پھر آپ کا بھائی ہے ، آپ کے ساتھ برا سلوک نہیں کرے گا ۔‘‘ لیکن امام حسین نے فرمایا کہ : ’’مسلم بن عقیل کے قتل کے بعد بھی اگر تمہاری رائے یہ ہے تو اللہ کی قسم! میں کبھی بھی اس کو قبول نہ کروں گا ۔‘‘ یہ فرماکر آپ گھوڑے سے نیچے اتر آئے۔ اس کے بعد حضرت زہیر بن القین کھڑے ہوئے اور ان لوگوں کونصیحت کی کہ : ’’تم آل رسول اکے خون سے باز آجاؤ ، اگر تم اس سے باز نہ آئے تو خوب سمجھ لو کہ تم کو ابن زیاد سے کوئی فلاح نہ پہنچے گی ،بلکہ بعد میں وہ تم پر بھی قتل و غارت کرے گا۔‘‘ ان لوگوں نے زہیر بن القین کو خوب برا بھلا کہا اور ابن زیاد کی خوب تعریف کی اور کہا کہ: ’’ ہم تم سب کو قتل کرکے ابن زیاد کے پاس بھیجیں گے۔‘‘
لڑائی کا آغاز:
جب گفتگو طویل ہونے لگی تو شمر ذی الجوشن نے اپنا پہلا تیر ان پر چلا دیا ، اس کے بعد حر بن یزید جو توبہ تائب ہوکر امام حسین کے لشکر میں شامل ہوگئے تھے ٗ آگے بڑھے اور لوگوں کو مخاطب کرکے کہا: ’’ اے اہل کوفہ! تم ہلاک و برباد ہوجاؤ ! کیا تم نے ان کو اس لئے بلایا تھا کہ جب یہ آجائیں تو تم ان کو قتل کردو ؟ تم نے تو کہا تھا کہ: ’’ ہم اپنا تن، من ،دھن سبھی کچھ ان پر قربان کردیں گے۔‘‘ اور اب تم ہی ان کے قتل کے درپے ہوگئے ہو ، ان کو تم نے قیدیوں کی مثل بنا رکھا ہے اور دریائے فرات کا جاری پانی ان پر بند کردیا ہے ٗ جسے یہودی ، نصرانی اور مجوسی سبھی پیتے ہیں اور علاقے کے خنزیر اس میں لوٹتے ہیں ، امام حسین اور ان کے اہل بیت پیاس سے مرے جارہے ہیں ، اگر تم نے اپنی اس حرکت سے توبہ نہ کی اور اس سے باز نہ آئے تو یاد رکھنا ! کل قیامت کے دن میدانِ حشر میں اللہ تعالیٰ تمہارا پانی بند کرے گا۔‘‘
لشکر حسین کی شجاعت و بہادری:
اب حر بن یزید پر بھی تیر پھینکے گئے، وہ واپس آگئے اور امام حسین صکے آگے کھڑے ہوگئے ، اس کے بعد تیر اندازی کا سلسلہ شروع ہوگیا ، پھر گھمسان کی جنگ ہوئی ، فریق مخالف کے بھی کافی آدمی مارے گئے ، امام حسین صکے بعض رفقاء بھی شہید ہوئے ۔ حر بن یزید نے امام حسینص کے ساتھ ہوکر شدید قتال کیا اور بہت سے دشمنوں کو قتل کیا ۔ اس کے بعد شمر ذی الجوشن نے چاروں طرف سے امام حسینص اور ان کے رفقاء پر ہلہ بول دیا ، جس کا امام حسینص اور ان کے رفقاء نے بڑی بہادری کے ساتھ مقابلہ کیا ، وہ کوفہ کے لشکر پر جس طرف سے حملہ کرتے ٗ میدان صاف ہوجاتا ۔ اُدھر دوسری طرف عمرو بن سعد نے جو کمک اور تازہ دم پانچ سو گھڑ سوار بھیجے وہ مقابلہ پر آکر ڈٹ گئے ، لیکن امام حسینص کے رفقاء نے ان کا بھی نہایت جرأت اور بہادری کے ساتھ مقابلہ کیا اور گھوڑے چھوڑ کر میدان میں پیادہ پا آگئے۔اس وقت بھی حر بن یزید نے دشمنوں سے سخت قتال کیا ،اور اب دشمنوں نے خیموں میں آگ لگانا شروع کردی۔
گھمسان کی جنگ میں ظہر کی نماز کا رنگ:
امام حسین صکے اکثر و بیشتر ساتھی شہید ہوچکے تھے اور دشمن کے دستے آپ کے قریب پہنچ چکے تھے ۔ حضرت ابو شمامہ صائدی ص نے امام حسین صسے عرض کیا کہ : ’’میری جان آپ پر قربان ہو ، میں چاہتا ہوں کہ آپ کے سامنے قتل کیا جاؤں ، لیکن دل یہ چاہتا ہے کہ ظہر کی نماز کا وقت ہوچکا ہے ، لہٰذا یہ نماز ادا کرکے اپنے پروردگار کے پاس جاؤں ۔‘‘ امام حسین نے بآوازِ بلند اعلان کیا کہ : ’’جنگ ملتوی کردی جائے ،یہاں تک کہ ہم ظہر کی نماز ادا کرلیں۔‘‘گھمسان کی جنگ میں نمازِ ظہر کا رنگ کس کو نظر آتا تھا ؟ طرفین کی طرف سے قتل و قتال برابر جاری رہا یہاں تک کہ ابو شمامہ صائدی ص نماز کی حسرت دل ہی دل میں لیے شہید ہوگئے ۔ اس کے بعد امام حسین نے اپنے چند اصحاب کے ساتھ نمازِ ظہر صلوٰۃ الخوف کے مطابق ادا فرمائی۔
نماز ادا کرلینے کے بعد امام حسین نے پھر قتال شروع کردیا، اب یہ لوگ آپ تک پہنچ چکے تھے ، حنفی آپ کے سامنے آکر کھڑے ہوگئے اور سب تیر اپنے بدن پر کھاتے رہے ، یہاں تک کہ زخموں سے چور ہوکر گرگئے ، زہیر بن القین صنے آپ کی مدافعت میں سخت قتال کیا، یہاں تک کہ وہ بھی شہید ہوگئے ۔ اس وقت امام حسین کے پاس بجز اپنے چند گنے چنے رفقاء کے اور کوئی نہ رہا تھا اور بچے کھچے رفقاء بھی خوب اچھی طرح سمجھ گئے کہ اب ہم نہ امام حسین کی جان بچا سکتے ہیں اور نہ ہی اپنی جان ، اس لئے ہر شخص کی خواہش یہ ہوئی کہ میں امام حسین کے سامنے سب سے پہلے شہید کیا جاؤں ، اس لئے ہر شخص نہایت شجاعت و بہادری کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کر تا رہا ، اسی میں امام حسین کے بڑے صاحب زادے (بلکہ بڑے شہزادے) علی اکبریہ شعر پڑھتے ہوئے دشمن کی طرف بڑھے جس کا ترجمہ ہے : ’’ میں حسین بن علی کا بیٹا ہوں ، رب کعبہ کی قسم! ہم اللہ کے رسول ا کے بہت قریب ہیں۔‘‘ اتنے میں مرہ بن منقذ آگے بڑھا اور ان کو نیزہ مار کر زمین پر گرادیا ، پھر کچھ اور بدبخت آگے بڑھے اور لاش مبارک کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے ۔
امام حسین لاش کے قریب تشریف لائے اور کہا : ’’اللہ تعالیٰ اس قوم کو برباد کرے جس نے تجھ کو قتل کیا ہے ، یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں کیسے بے وقوف ہیں ، تیرے بعد اب زندگی پر خاک ہے۔‘‘اس کے بعد ان کی لاش اٹھا کر خیمہ کے پاس لائی گئی ۔ عمرو بن سعد نے حضرت حسن کے بیٹے قاسم بن حسن کے سر پر تلوار ماری جس سے وہ زمین پر گر پڑے اور ان کے منہ سے نکلا : ’’ہائے میرے چچاحسین‘‘۔ امام حسین نے بھاگ کر ان کو سنبھالا اور عمرو بن سعد پر تلوار سے جوابی وار کیا جس سے کہنی سے اس کا ہاتھ کٹ گیا ۔ اس کے بعد امام حسین اپنے بھتیجے قاسم بن حسن کی لاش اپنے کندھے پر اٹھا کر لائے اور اپنے بیٹے اور دوسرے اہل بیت کی لاشوں کے قریب لاکر رکھ دی۔ (جاری)