سانحۂ کربلا اور شہادت امام حسین (3)

دشمن کی فوج سے تن تنہا مقابلہ:
اب امام حسین تقریباً تن تنہا اور بے یار و مددگار رہ گئے تھے، لیکن ان کی طرف بڑھنے کی کسی کو ہمت نہیں ہورہی تھی ، کافی دیر تک یہی کیفت رہی کہ جو شخص بھی آپ کی طرف بڑھتا اسی طرح واپس لوٹ جاتا اور کوئی بھی آپ کے قتل کا گناہ اپنے سر لینا نہیں چاہتا تھا ، یہاں تک کہ قبیلہ کندہ کا ایک شقی القلب شخص مالک بن نسیر آگے بڑھا اور اس نے امام حسین کے سر مبارک پر حملہ کردیا ، جس سے آپ شدید زخمی ہوگئے ۔ اس وقت آپ نے اپنے چھوٹے صاحب زادے عبد اللہ بن حسین کو اپنے پاس بلایا اور ابھی اپنی گود میں بٹھایا ہی تھاکہ بنو اسد کے ایک بد نصیب شخص نے ان پر ایک تیر چلایا جس سے وہ بھی شہید ہوگئے، امام حسین نے اپنے معصوم بچے کا خون دونوں ہاتھوں میں لے کر زمین پر بکھیر دیا اور اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی کہ : ’’اے اللہ! تو ہی ان بدبخت اور ظالموں سے ہمارا انتقام لینا۔‘‘ اس وقت امام حسین کی پیاس حد کو پہنچ چکی تھی ، آپ پانی پینے کے لئے دریائے فرات کے قریب تشریف لے گئے ، مگر حصین بن نمیر ایک ظالم شخص نے آپ کی طرف ایک تیر پھینکا جو آپ کے منہ پر جاکر لگا جس سے آپ کے دہن مبارک سے خون پھوٹنے لگا۔

امام حسین کی شہادت:
اس کے بعد شمر ذی الجوشن دس آدمی اپنے ساتھ لے کر امام حسین کی طرف آگے بڑھا ، آپ اس وقت پیاس کی شدت اور زخموں سے چور ہوچکے تھے، لیکن اس کے باوجود ان کا دلیرانہ مقابلہ کرتے رہے اور جس طرف سے آپ آگے بڑھتے یہ سب کے سب وہاں سے بھاگتے نظر آتے تھے ۔ شمر نے جب یہ دیکھا امام حسین کو قتل کرنے میں ہر شخص لیت و لعل سے کام لے رہا ہے تو آواز لگائی کہ :’’ سب یک بارگی ان پر حملہ کردو ۔‘‘ اس پر بہت سے بدنصیب آگے بڑھے اور نیزوں اور تلواروں سے یک بارگی امام حسین پر حملہ کردیا اور اس طرح ان ظالموں کا دلیرانہ مقابلہ کرتے کرتے آخر کار آپ نے جا م شہادت نوش فرمالیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ شمر ذی الجوشن نے خولی بن یزید سے کہا کہ ان کا سر بدن سے جدا کردو ، مگر آگے بڑھتے ہی اس کے ہاتھ کانپ کر رہ گئے ، پھر ایک اور بدبخت سنان بن انس آگے بڑھا اور اس نے یہ کارنامہ سرانجام دیا ۔ بعد میں جب آپ کی لاش کو دیکھا گیا تو آپ کے بدن مبارک پر تینتیس ( ۳۳) زخم نیزوں کے ، چونتیس (۳۴) زخم تلوار کے اور متعدد زخم تیروں کے بھی تھے۔ رضی اللہ عنہم وارضاہ ورزقنا حبہ وحب من والاہ۔ امام حسین  اور عام اہل بیت کے قتل سے فارغ ہوکر یہ ظالم علی اصغر حضرت امام زین العابدین کی طرف متوجہ ہوئے، شمر نے ان کو بھی قتل کرنا چاہا، مگر حمید بن مسلم نے کہا: ’’سبحان اللہ! تم بچہ کو قتل کرتے ہو، حالاں کہ وہ بیمار بھی ہے۔ ‘‘ شمر نے چھوڑ دیا، عمرو بن سعد آگے آئے اور کہا کہ: ’’اِن عورتوں کے خیمہ کے پاس کوئی نہ جائے، اور اس بیمار بچے کے درپے کوئی نہ ہو!۔ (شہید کربلا: ص۹۰)

لاش کو روندا گیا:
ابن زیاد شقی کی طرف سے عمر بن سعد کو حکم تھا کہ قتل کے بعد امام حسین  کی لاش کو گھوڑوں کے ٹاپوں سے رُوندا جائے، اب اس کا وقت آیا، اُس نے پکار کر کہا: ’’اِس کام کے لئے کون تیار ہے؟۔‘‘ دس (۱۰) آدمی تیار ہوئے ، اور گھوڑے دوڑا کر جسم مبارک کو روندا گیا۔ جنگ کے خاتمے پر مقتولین اور شہداء کی تعداد شمار کی گئی تو امام حسین کے اصحاب میں بہتر (۷۲) حضرات شہید ہوئے اور عمرو بن سعد کے لشکر کے اٹھاسی (۸۸) سپاہی مارے گئے۔ امام حسین  اور اُن کے رفقاء کو اہل غاضریہ نے ایک روز بعد دفن کردیا تھا۔(ابن جریر طبری: ج ۶ ص ۲۶۱، کامل یعقوبی)

اہل بیت کے سر ابن زیاد کے دربار میں:
خولیٰ بن یزیداور حمید بن مسلم حضرات اہل بیت کے سروں کو لے کر کوفہ روانہ ہوئے اور ابن زیاد کے سامنے پیش کیے ، ابن زیاد نے لوگوں کو جمع کرکے سب سروں کو سامنے رکھا، اور ایک چھڑی سے امام حسین  کے دہن مبارک کو چھونے لگا ، حضرت زید بن ارقم سے رہا نہ گیا، وہ فوراً چلا اُٹھے اوربولے: ’’ (اُوئے بدبخت!) اِن مبارک ہونٹوں سے اپنی چھڑی ہٹا ! قسم ہے اُس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں میں نے رسول اللہ ا کو ان ہونٹوں کا بوسہ لیتے دیکھا ہے ۔‘‘ یہ کہہ کر زار و قطار رونے لگے، ابن زیاد نے کہا کہ اگر تم سن رسیدہ بوڑھے نہ ہوتے تو میں تمہاری گردن بھی اُڑا دیتا۔ حضرت زید بن ارقم  یہ کہتے ہوئے مجلس سے اُٹھ کر باہر آگئے کہ: ’’اے عرب کی قوم! آج کے بعد تم غلام ہو! تم نے سیدۃ النساء حضرت فاطمۃ الزہراء کے لخت جگر کو قتل کردیا ہے اور مرجانہ کے بیٹے (ابن زیاد) کو اپنا امیر بنا لیا ہے، وہ تمہارے اچھے لوگوں کو قتل کرے گا اور شریر لوگوں کو اپنا غلام بنائے گا ، تمہیں کیا ہوا کہ تم اس ذلت پر راضی ہوگئے؟۔

کوفہ میں اہل بیت کا ابن زیاد سے مکالمہ:
عمرو بن سعد دو روز کے بعد بقیہ اہل بیت امام حسین کی بیٹیوں، بہنوں اور بچوں کو ساتھ لے کر کوفہ کے لئے نکلا تو امام حسین  اور اُن کے اصحاب کی لاشیں پڑی ہوئی تھیں ، عورتوں اور بچوں نے جب یہ منظر دیکھا تو کہرام مچ گیا، گویا آسمان و زمین رونے لگ گئے، عمرو بن سعد نے جب ان اہل بیت کو ابن زیاد کے سامنے پیش کیا تو اُس وقت امام حسین  کی ہمشیرہ حضرت زینب رضی اللہ عنہانے بہت میلے اور خراب کپڑے پہن رکھے تھے اور اُن کی باندیاں اُن کے ارد گرد تھیں، وہ ایک طرف جاکر خاموش ہوکر بیٹھ گئیں۔ ابن زیاد نے پوچھا: ’’یہ ایک طرف جاکر علیحدہ بیٹھنے والی کون ہے؟۔‘‘حضرت زینبؓ نے کوئی جواب نہ دیا، ابن زیاد نے تین مرتبہ اسی طرح دریافت کیا، مگر حضرت زینبؓ اسی طرح خاموش رہیں، جب کسی باندی نے کہا کہ : ’’ یہ زینب بنت فاطمہؓ ہیں، تو ابن زیاد بولا : ’’شکر ہے اللہ کا جس نے تمہیں رُسوا کیا اور قتل کیا اور تمہاری بات کو جھوٹا کیا۔‘‘ اِس پر حضرت زینبؓ کڑک کر بولیں: ’’شکر ہے اُس اللہ کا جس نے ہمیں محمد مصطفی کے نسب سے شرف بخشا اور قرآنِ مجید میں ہمارے پاک ہونے کو بیان کیا، رُسوا وہ ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے۔‘‘ یہ سن کر ابن زیاد غصہ سے بھڑک اُٹھا اور کہنے لگا کہ: اللہ تعالیٰ نے مجھے تمہارے غیض سے شفا دی اور تمہارے سرکش کو ہلاک کیا۔‘‘ حضرت زینبؓ کا دل بھر آیا وہ اپنے تئیں سنبھال نہ سکیں اس لئے بے اختیاررونے لگیں اور فرمانے لگیں: ’’اگر یہی تیری شفا ہے تو تو اسی کو اپنی شفا سمجھے رکھ!۔‘‘

ابن زیاد اور امام زین العابدین :
اس کے بعد ابن زیاد علی اصغر کی طرف متوجہ ہوا، اور آپ کا نام پوچھا، علی اصغر نے بتایا کہ میرا نام علی ہے، ابن زیاد نے کہا : ’’علی تو قتل کردیا گیا، علی اصغر نے بتایا کہ: ’’ وہ میرے بڑے بھائی تھے، اِن کا نام بھی علی تھا (علی اکبر)‘‘ ابن زیاد نے جب علی اصغر کو بھی قتل کرنے کا ارادہ کیا تو علی اصغر نے کہاکہ: ’’میرے بعد ان عورتوں کا کفیل کون ہوگا؟ اُدھر حضرت زینبؓ اِن کی پھوپھی اِن کو لپٹ گئیں اور کہنے لگیں: ’’اے ابن زیاد! کیا ابھی تک ہمارے خون سے تیری پیاس نہیں بجھی؟ میں تجھے اللہ کی قسم دیتی ہوں کہ اگر تو اِن کو قتل کرنا چاہتا ہے تو پھر اِن کے ساتھ ہم سب کو بھی قتل کردے!۔‘‘ علی اصغر نے کہا کہ: ’’اے ابن زیاد! اگر تیرے اور اِن عورتوں کے درمیان کوئی قرابت ہے تو تو اِن کے ساتھ کسی متقی ، پرہیز گار اور صالح مسلمان شخص کو بھیجنا جو اسلامی تعلیمات کے مطابق اِن کی رفاقت کرے ۔‘‘ یہ سن کر ابن زیاد نے کہاکہ: ’’اچھا! اس لڑکے کو چھوڑدو کہ خود اِن عورتوں کے ساتھ جائے۔‘‘

یزید کا خطبہ اور ابن عفیف  کے قتل کا منصوبہ:
اس کے بعد ابن زیاد نے جامع مسجد میں شہر والوں کو جمع کیا، نماز پڑھی اور اُس کے بعد ایک خطبہ دیا، جس میں کہا کہ : ’’ تعریف اُس اللہ کے لئے ہے کہ جس نے حق کو ظاہر کیا، حق والوں کو فتح یاب کیا، امیر المؤمنین یزید بن معاویہ اور اُن کی جماعت کو غالب کیا اور کذاب حسین بن علی اور اُس کے ساتھیوں کو ہلاک کر ڈالا۔‘‘ اُس وقت مجمع میں مشہورصحابی حضرت عبد اللہ بن عفیف ازدی  بھی موجود تھے، جو(جنگ جمل و صفین میں حضرت علی کی طرف سے شریک ہوکر اپنی دونوں آنکھیں کھو چکے تھے ) ہمہ وقت مسجد میں پڑے رہتے، اُٹھ کھڑے ہوگئے اور چلاکر بولے: ’’اللہ کی قسم! اے ابن زیاد کذاب ابن کذاب تو تو ہے نہ کہ حسین بن علی ! تم لوگ انبیاء کی اولاد کو قتل کرتے ہو اور صدیقین کی سی باتیں بناتے ہو۔‘‘ ابن زیاد نے اِن کو گرفتار کرنا چاہا، لیکن ان کے قبیلے کے لوگ چھڑانے کے لئے کھڑے ہوگئے، اس لئے ان کو چھوڑ دیا گیا۔

امام حسین کا سر کوفہ کے بازاروں میں:
ابن زیاد کی شقاوت نے اسی پر بس نہیں کیا، بلکہ حکم دیا کہ: ’’امام حسین کے سر کو ایک لکڑی پر رکھ کر کوفہ کے بازاروں اور گلی کوچوں میں سر عام گھمایا اور پھرایا جائے تاکہ سب لوگ دیکھ سکیں۔‘‘ چنانچہ یہ سب کچھ ہوا اور پھر اِس کے بعد ابن زیاد نے امام حسین اور آپ کے دیگر اصحاب کے سروں کو یزید کے پاس ملک شام بھیج دیا اور انہیں کے ساتھ اہل بیت کی عورتوں اور بچوں کو بھی روانہ کردیا، جب یہ لوگ شام پہنچے تو انعام کے شوق میں حر بن قیس جو اِن کو لے کر گیا تھا فوراً یزید کے پاس پہنچا، یزید نے پوچھا : ’’کیا خبر ہے؟‘‘ حر بن قیس نے میدانِ کربلا کے معرکہ کی ساری تفصیل بتائی اور آخر میں کہنے لگا کہ: ’’امیر المؤمنین کو بشارت ہوکہ مکمل فتح حاصل ہوئی ہے، اہل بیت سارے کے سارے مارے گئے اور ان کی ساری عورتیں اور بچے قیدی بن کر حاضر ہیں۔‘‘ یزید پلید نے جب یہ سنا تو اُس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اوروہ حر بن قیس سے کہنے لگا کہ: ’’میں فقط تم سے اتنی ہی اطاعت چاہتا تھا کہ اہل بیت کو قتل کیے بغیر صرف گرفتار کرلیتے ، اللہ تعالیٰ ابن سمیہ (ابن زیاد) پر لعنت کرے کہ اُس نے ان ( عورتوں اور بچوں کے مردوں ) کو قتل کروادیا ، اللہ کی قسم! اگر میں وہاں ہوتا تو انہیں معاف کردیتا، اللہ تعالیٰ امام حسین پر رحم فرمائے۔‘‘ یہ کہا اور حر بن قیس کو کوئی انعام نہیں دیا۔ (ابن جریر طبری: ج ۶ ص ۶۴۲، تاریخ اسلام للذہبی)

امام حسین کا سر مبارک جب یزید کے سامنے رکھا گیا تو اُس وقت اُس کے بھی ہاتھ میں ایک چھڑی تھی ، جو وہ امام حسین کے موتیوں جیسے دانتوں پر لگا کر حصین بن ہمام کے اشعار پڑھ رہا تھا، جن کا ترجمہ یہ ہے: ’’ جب ہماری قوم نے ہمارے ساتھ انصاف نہ کیا تو پھر ہماری خونچکاں تلواروں نے خود ہی انصاف کیا ، جنہوں نے مردوں کے سر پھاڑ دیئے جو ہم پر سخت تھے اور تعلقات قطع کرنے والے ظالم تھے۔‘‘ اتفاقاً وہاں حضرت ابوبرزہ اسلمی بھی موجود تھے، اُنہوں نے جب یہ دیکھا تو فرمانے لگے: ’’اے یزید! تو اپنی چھڑی امام حسین کے دانتوں پر لگاتا ہے، حالاں کہ میں نے رسول اللہ ا کو ان ہونٹوں کا بوسہ لیتے ہوئے دیکھا ہے، اے یزید! قیامت کے دن جب تو آئے گا تو تیری شفاعت ابن زیاد ہی کرے گا، اور امام حسین آئیں گے تو اُن کی شفاعت حضورِ نبی پاک ا کریں گے ۔‘‘ یہ کہہ کر حضرت ابو برزہ اسلمی  مجلس سے نکل گئے۔ جب یزید کی بیوی ہند بنت عبد اللہ نے یہ خبر سنی کہ امام حسین شہید کردیئے گئے اور اُن کا سر یزید کے دربار میں لایا گیا ہے تو کپڑا اُوڑھ کر باہر نکل آئیں اور کہنے لگیں کہ: ’’اے امیر المؤمنین! کیا رسول اللہ ا کے لخت جگر کے ساتھ یہ معاملہ کیا گیا ہے۔ اُس نے کہا کہ: ’’ہاں! اللہ تعالیٰ ابن زیاد کو ہلاک کرے! اُس نے قتل کرنے میں بڑی جلد بازی کا مظاہرہ کیا۔‘‘ ہند بنت عبد اللہ یہ سن کر بے اختیار رو پڑیں۔

اس کے بعد اہل بیت کی قیدی عورتیں اور بچے یزید کے سامنے لائے گئے ، اورسر مبارک مجلس میں رکھا ہوا تھا، امام حسین کی دونوں شہزادیاں فاطمہؓ اور سکینہؓ پنجوں کے بل کھڑے ہوکر اپنے والد ماجد کا سر مبارک دیکھنا چاہتی تھیں ، جب کہ یزید اُن کے سامنے کھڑا ہوکر چاہتا تھا کہ وہ یہ سر نہ دیکھ سکیں، لیکن جب اُن کی نظر اپنے والد ماجد کے سر مبارک پر پڑہی گئی تو وہ دونوں بے ساختہ روپڑیں، حتیٰ کہ اُن کے رونے کی آواز سن کر یزید کے گھر کی عورتیں بھی چلا اُٹھیں اور یزید کے محل میں ایک ماتم کا سماں بندھ گیا۔

حضرت زینبؓ کی دلیرانہ گفتگو:
حضرت فاطمہؓ بنت علی سے مروی ہے کہ: ’’ جب ہم لوگ یزید کے سامنے پیش کیے گئے تو اُس نے ہم پر ترس ظاہر کیا، ہمیں کچھ دینے کا حکم کیا اورہمارے ساتھ بڑی مہربانی سے پیش آنے لگا، اسی اثناء میں ایک سرخ رنگ کا شامی لڑکا کھڑا ہوا اور کہنے لگا: ’’اے امیر المؤمنین! یہ لڑکی مجھے عنایت کردیجئے! اور میری طرف اشارہ کیا، میں اُس وقت کم سن اور خوب صورت تھی، اس لئے خوف سے کانپنے لگی اور میں نے اپنی بہن حضرت زینب کی چادر پکڑ لی، وہ مجھ سے بڑی تھی اور زیادہ سمجھ دار تھیں اور جانتی تھیں کہ یہ بات نہیں ہوسکتی، انہوں نے نہایت سختی سے چلا کر کہا کہ: ’’تو کمینہ ہے! نہ تجھے اس کا اختیار ہے اور نہ ہی یزید کو اِس کا حق ہے۔‘‘ حضرت زینب کی اِس جرأت پر یزید کو غصہ آگیا اور وہ برہم ہوکر کہنے لگا کہ: ’’تو جھوٹ بکتی ہے ، اللہ کی قسم! مجھے یہ اختیار حاصل ہے اگر چاہوں تو ابھی کرسکتا ہوں۔‘‘ حضرت زینبؓ نے فرمایا: ’ ’ ہرگز نہیں! اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہ حق ہرگز نہیں دیا، یہ دوسری بات ہے کہ تم ہماری ملت و مذہب سے نکل جاؤ اور ہمارا دین چھوڑ کر دوسرا دین اختیار کرلو!۔‘‘ اِس پر یزید اور زیادہ برہم ہوا اور کہنے لگا: ’’دین سے تیرا باپ اور بھائی دونوں نکل چکے ہیں۔‘‘ حضرت زینبؓ نے بلا تامل دوٹوک جواب دیا ،کہ: ’’اللہ کے دین سے، میرے باپ کے دین سے، میرے بھائی کے دین سے، میرے نانا کے دین سے، تونے، تیرے باپ نے، اور تیرے دادا نے ہدایت پائی ہے۔‘‘ یزید چلایا کہ: اے دُشمن خدا! تو جھوٹی ہے ۔‘‘ حضرت زینبؓ بولیں: ’’تو زبردستی حاکم بن بیٹھا ہے، ظلم سے گالیاں دیتا ہے اور اپنی قوت سے مخلوق کو دباتا ہے۔‘‘ حضرت فاطمہؓ بنت علی کہتی ہیں کہ: ’’یہ گفتگو سن کر شاید یزید شرمندہ ہوگیا، کیوں کہ پھر کچھ نہ بول سکا ، مگر وہ شامی لڑکا پھر کھڑا ہوا اور پھر اُس نے وہی بات کہی، اِس پر یزید نے اُسے غضب ناک آواز میں ڈانٹ پلائی اور کہاکہ: ’’اوئے کم بخت! دفع دُور ہو، اللہ تیرا بیڑا غرق کرے!۔‘‘

اہل بیت کی عورتیں یزید کی عورتوں کے پاس:
اِس کے بعد یزید نے اہل بیت کی عورتوں کو اپنی عورتوں کے پاس بھیج دیا، یزید کی عورتوں میں سے کوئی عورت ایسی نہ رہی کہ جس نے ان کے پاس آکر آہ و بکا اور گریہ و زاری نہ کی ہو، اور جو زیورات وغیرہ ان سے لے لئے گئے تھے اُن سے کہیں زیادہ یزید کی عورتوں نے ان کی خدمت میں پیش کیے۔ اِس کے بعد علی اصغر ہتھکڑیوں اور بیڑیوں میں یزید کے سامنے لائے گئے، اُنہوں نے یزید کے سامنے آکر کہا کہ: ’’اگر رسول اللہ ا ہمیں اس طرح قید میں دیکھتے تو ہمیں قید سے رہا فرمادیتے۔‘‘ یزید نے کہاکہ: سچ ہے۔‘‘اور قید سے رہا کردینے کا حکم دے دیا۔ علی اصغر نے کہا رسول اللہ ہمیں اس طرح مجلس میں بیٹھا ہوا دیکھتے تو اپنے قریب بلا لیتے۔‘‘ یزید نے ان کو اپنے قریب بلالیا، اور کہا کہ: ’’اے علی بن حسین! تمہارے والد ہی نے مجھ سے قطع رحمی کی اور میرے حق کو نہ پہچانا اور میری سلطنت کے خلاف بغاوت کی، اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ معاملہ کیا جو تم نے دیکھا۔ علی اصغر نے قرآنِ مجید کی یہ آیت پڑھی، جس کا ترجمہ ہے: ’’جو کوئی مصیبت بھی تمہیں پہنچتی ہے زمین میں یا تمہاری جانوں پر سو وہ کتابِ تقدیر میں لکھی ہوئی ہے، زمین کے پیدا کرنے سے قبل اور یہ کام اللہ تعالیٰ کے لئے آسان ہے( اور تمام کاموں کا تابع تقدیر ہونا) اس لئے بیان کیا گیا کہ جو چیز تم سے فوت ہوجائے اس پر زیادہ غم نہ کرو! اور جو چیز مل جائے اس پر زیادہ خوش نہ ہو، اللہ تعالیٰ فخر کرنے والے متکبر کو پسند نہیں کرتا۔‘‘ (سورۃ الحدید: ۲۲،۲۳)

یزید یہ سن کر خاموش ہوگیا، پھر حکم دیا کہ: ’’ان کو اور ان کی عورتوں کو ایک مستقل مکان میں رکھا جائے اور یزید کوئی ناشتہ اور کھانا نہ کھاتا تھا کہ جس میں علی بن حسین کو نہ بلاتا ہو، ایک دن ان کو بلایا تو اُن کے ساتھ اُن کے چھوٹے بھائی عمرو بن الحسین بھی آگئے، یزید نے (اپنے لڑکے خالد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) عمرو بن الحسین سے بطورِ مزاح کے کہا کہ: ’’تم اس سے کشتی کرسکتے ہو؟۔‘‘ عمرو بن الحسین نے کہا کہ: ’’جی ہاں! کرسکتاہوں، بشرطیکہ آپ ایک چھری اُس کو دیں اور ایک چھری مجھے دیں۔‘‘ یزید نے کہا:’’ آخر سانپ کا بچہ سانپ ہی ہوتا ہے۔‘‘ (جاری)