روحِ کربلا
- تحریر سید شاہد عباس
- جمعہ 29 / ستمبر / 2017
- 5469
چراغ گل ہیں۔۔۔ دل سے راضی ہونے کی یقین دہانی بھی کی گئی ہے۔۔۔ جنت کی بشارت اور شفاعت کا وعدہ بھی ہے۔۔۔ خود کو مصیبت سے نکال لینے پہ اصرا ر بھی ہے ۔۔۔ یہ منظر ہے اُس رات کا جس کی صبح نے سرزمین کرب و بلا میں برپا ایک ایسا معرکہ دیکھا کہ تا قیامت حق اور باطل کے درمیان پہچان واضح کر دی گئی ۔ ایک ایسی رات کہ جس نے رہتی دنیا تک یہ واضح کر دیا کہ حق کا راستہ کٹھن ہے مگر دائمی سکون لیے ہوئے ہے۔ باطل کا راستہ بظاہر مفادات، مال و دولت سے بھرا ہوا ہے مگر اس کا انجام سوائے جہنم کی آگ کے اور کچھ نہیں ہے۔
اس رات امام حسین اور ان کے ساتھی ایک ایسی آزمائش سے یوں سرخرو ہوئے کہ تاریخ میں ان کا نام امر ہوگیا۔ کون کہتا ہے آزمائش میں بڑھاپا رکاوٹ بن جاتا ہے۔ حبیبؓ ابن مظاہر جیسے بوڑھے کی راہ میں تو بڑھاپا رکاوٹ نہیں بنا۔ وہبؓ القلبی کی راہ میں تو نہ ماں رکاوٹ بن پائی نہ بیوی ۔ اور مسلمؓ ابن عوسجہ کے الفاظ تو تاریخ میں رقم ہو گئے۔ امام دوش نبوت ﷺ کے سوار ہیں مگر صبر کی انتہا دیکھئے۔ حج کو عمرے میں تبدیل کیا مگر جبینِ امامت پہ شکن نمودار نہ ہوئی۔ حضرت مسلم و فرزندان مسلم ؑ کوفہ کی گلیوں میں بے رحمانہ طریقے سے شہید کر دیئے گئے مگر امام حسین کا صبر و برداشت قائم رہی۔ ہر قدم پہ بتا رہے تھے کہ یہ ایک جنگ نہیں بلکہ معرکہ حق و باطل ہے جس کے ایک طرف انعامات ہیں تو دوسری تسلیم و رضا کا پیکر، ایک جاب دنیاوی مال و دولت ہے تو دوسری جانب جنت کی بشارت۔
ارضِ کربلا میں فرات کنارے خیمہ زن امام کے دشمنوں کے جانوروں تک کے لیے بھی پانی فراہم تھا اور اہل بیت پانی کی بوند بوند کو ترس رہے تھے لیکن نواسہ رسولﷺ کے صبر و استقامت میں لرزش آئی ہو۔ کربلا ایک جنگ ہوتی تو کسی جگہ تو جنگ کا قصد ہوتا۔ حبیبؓ سا صحابی کھویا، سعیدؓ سا دوست خاک و خون ہوتا دیکھا، قاسم سا نوجوان ٹکڑوں میں بٹتے دیکھا، اکبر سا جوان دینِ حق پہ قربان ہوتے دیکھا ۔ بے جرم و خطا لاشے دشت کربلا میں تڑپتے رہے مگر جگر گوشہ بتول سلام اللہ علہیا کے پایہ استقلال میں لغزش نہ آئی۔
بعد از روز عاشور صبر، رضا، استقامت، ہمت، تسلیم ، رضا کا ایک نیا سفر تاریخ نے لکھا۔ تطہیر کی آیتوں کو بے ردا سفرِ شام کرایا گیا۔ مگر قدرت خداوندی کو شاید اپنی تخلیق پہ ناز ہوگا کہ پورے سفر میں خدا کی وحدانیت، محمد صلی اللہ و علیہ و آلہ وسلم کی رسالت، دین اسلام کی سچائی اہلبیتؑ اطہار کے لبوں سے جاری رہی۔
اسوہ شبیری فقط خالق کی رضا کو اپنی رضا بنانا ہے۔ روح کربلا غمِ حسین کے ساتھ ساتھ عملی زندگی میں کربلا فلسفہ نافذ کرنا بھی ہے۔ بقائے اسلام کے لیے نواسہ رسول صلی اللہ وعلیہ و آلہ وسلم نے گھر بار لٹا دیا مگر آج ہم کیوں باہم دست و گریباں ہیں۔ مدینہ سے لے کر کربلا، کربلا سے لے کر شام تک، شام سے مدینہ واپسی تک کوئی ایک منزل نہیں ایسی جہاں اہلبیتؑ اطہار کے لبوں سے شکوہ بلند ہوا ہو۔ تو آج ہم کیوں کربلا کی روح کو بھلا کر ایک دوسرے کو برداشت کرنے کے روادار نہیں۔ آج ہم نہ جانے کیوں اپنے موقف کو شدت کے ساتھ منوانے پہ تلے رہتے ہیں۔ کیا کربلا کا پیغام صرف گریہ و آہ و بکا ہے۔ کیا کربلا کا پیغام فقط سوگ ہے۔ کیا ذکر حسین کسی فرقے یا گروہ کی جاگیر ہے۔ اگر نہیں تو پھر ہم کیوں اس کو کسی مخصوص فرقے سے منسوب کررہے ہیں۔ یہ تو انسانیت کی بقا ہے ، یہ تو دین اسلام کی بقا ہے۔