نواز شریف کی سیاسی مزاحمت

سابق وزیر اعظم نواز شریف کے پاس اب دو ہی راستے بچے ہیں ۔ اول وہ خاموشی سے سیاست سے الگ تھلگ ہوکر کنارہ کشی اختیار کرلیں ۔ دوئم وہ خاموشی اختیار کرنے کی بجائے ایک بھر پور سیاسی کردار ادا کریں۔ اس جدوجہد میں ان کو جس حد تک بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے اس سے گریز نہ کیا جائے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نواز شریف کو ان کے حامی اور مخالفین، دونوں طرز کے مشورے دیں گے کہ وہ کونسا راستہ اختیار کریں۔ حتمی فیصلہ یقینی طور پر نواز شریف کا اپنا ہوگا۔ اس میں ان کے قریبی رفقا  کے مشوروں کا بھی عمل دخل ہوگا ۔ نواز شریف عملی طور پر اب تک کے سیاسی کیریئر میں پہلی بار ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہیں اور اس سے باہر نکلنے کی مختلف حکمت عملیاں بھی ان کے ذہن میں موجود ہیں۔ مگر اس سارے عمل میں ان کو اپنی جماعت اور کچھ وفادار ساتھیوں کی جانب سے بھی کچھ مسائل کا سامنا ہے ۔

نواز شریف کی نااہلی کا مسئلہ ایک ایسے موقع پر سامنے آیا جب ان کے سامنے ایک بڑا چیلنج 2018 کے عام انتخابات اوراس میں  مطلوبہ نتائج کا حصول تھا ۔ ان کی نااہلی سے قبل کئی سیاسی پنڈتوں کے بقول نواز شریف اور ان کی جماعت کوعمران خان کی بڑی مخالفت کے باوجود مطلوبہ انتخابی نتائج کے حصول میں کسی بڑی رکاوٹ کا سامنا نہیں  تھا۔  لیکن نواز شریف کی نااہلی نے عملی طور پر ان کا اور ان کی جماعت کا بنا بنایا ہوا کھیل خراب کیا ہے ۔ نواز شریف کی مشکل یہ ہے کہ اگر وہ اس وقت اپنے اردگرد موجود مشکلات سے گھبرا کر پیچھے ہٹتے ہیں تو صورتحال ان کو اور زیادہ پیچھے لے جائے گی ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ وہ اور ان کی جماعت اس وقت ایک داخلی اور خارجی کشمکش میں مبتلا ہے اور ایک محفوظ راستہ کی تلاش میں ہیں جو ان کو سیاسی بقا فراہم کرسکے۔

اس تناظر میں ان کو چند بڑی مشکلات کا سامنا ہے ۔ اول کیا وہ اپنی پارٹی پر موجود گرفت کو برقرار رکھ سکیں گے ۔ سینٹ میں ہونے والی ترمیم کے تحت وہ پارٹی صدارت پر قائم رہتے ہیں اور نئے سربراہ کے چناؤ کے مسئلہ کو پس پشت ڈال کر آگے بڑھتے ہیں ۔ دوئم پارٹی میں جو اس وقت اسٹیبلیشمنٹ کی حمایت اور مخالفت میں گروہ موجود ہیں، ان سے وہ کیسے نمٹتے ہیں اور کس حد تک ایک متوازن پالیسی اختیار کرتے ہیں۔ سوئم کیا اگر وہ اپنی پارٹی کو لندن سے بیٹھ کر چلاتے ہیں تو یہ ممکن ہوگا یا ان کو یہ عمل پاکستان میں بیٹھ کر ہی کرنا ہوگا ۔ کیونکہ اگر وہ انتخابی مہم کا خود براہ راست حصہ نہیں بنتے تو ان کی جماعت کو زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ چہارم نیب میں چلنے والے مقدمات سے وہ کیسے نمٹتے ہیں اور کس حد تک ان کو یہاں سے ریلیف ملتا ہے۔  کیونکہ اگر وہ نیب کے عمل سے گزر کر سزا یافتہ ہوجاتے ہیں تو ان کی مشکلات اور زیادہ بڑھ جائیں گی ۔ پنجم اس وقت نواز شریف غصہ میں ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ان کی نااہلی میں عدالتوں سے زیادہ اسٹیبلیشمنٹ کا ہاتھ ہے۔ اس لیے ان کے اور مریم نواز کے لب ولہجہ میں اسٹیبلیشمنٹ کے خلاف غصہ زیادہ نظر آتا ہے ۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نواز شریف اس مشکل صورتحال سے کیونکر دوچار ہوئے ہیں ۔ اصل مسئلہ خود ان کی ذات اور ان کے قریب وہ سیاسی رفقا کاریا مشیر ہیں جو ان کو ایک بند گلی میں لے آئے ہیں ۔ اس کھیل میں نواز شریف کے لیے ایک بڑا بگاڑ ان کی بڑی بیٹی مریم نواز نے بھی پیدا کیا ہے جو حکومت اوراسٹیبلیشمنٹ کے درمیان بداعتمادی پیدا کرتی رہی ہیں ۔ پارٹی کے کئی سینئر راہنما ان کے طرز عمل سے نالاں نظر آتے ہیں۔ نواز شریف اور اسٹیبلیشمنٹ کا ٹکراؤ بھی خود نواز شریف کے لیے ایک کڑوی گولی ثابت ہوا ۔ اس میں کچھ غلطیاں اسٹیبلیشمنٹ سے بھی ہوئی ہوں گی ، مگر نواز شریف اور ان کے بعض ساتھیوں نے اس ٹکراؤ میں خوب حصہ ڈالا ہے جو فریقین میں زیادہ بداعتمادی کا بھی سبب بنا ہے ۔ اب بھی جولب ولہجہ اداروں کے بارے میں اختیار کیا جارہا ہے وہ کیسے معاملات میں ٹکراؤ کا سبب بنے گا۔ 

جہاں تک یہ دلیل دی جاتی ہے کہ نواز شریف اس ملک میں جمہوریت اور سویلین بالادستی کی جنگ لڑرہے ہیں اور چاہتے ہیں فوجی مداخلت کو مکمل طور پر ختم کرکے جمہوری عمل کو مضبوط کیا جائے ۔ یہ منطق نرالی ہے۔  کیونکہ اس وقت ملک میں جمہوریت یا سویلین بالادستی کی جنگ نہیں بلکہ طاقت کے کھیل کو تقویت دی جارہی ہے ۔ نواز شریف بھی جمہوری یا سویلین بالادستی کی جنگ سے زیادہ اپنی طاقت اور اختیارات کی جنگ جیتنا چاہتے ہیں ۔ نواز شریف کا سارا سیاسی کیرئیر اس بات کا گواہ ہے کہ وہ اپنی ذات سے باہر نکل کر نہیں سوچتے اور طاقت کا مرکز اپنی ذات اور خاندان تک ہی محدود رکھ کر ہی آگے بڑھنا چاہتے ہیں ۔ ان کی جمہوری سوچ کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ وہ پارلیمانی بالادستی ، کابینہ سمیت اداروں سے مشاورت توکجا اپنی کابینہ سے مشورہ بھی ضروری نہیں سمجھتے تھے ۔ اس لیے ان سے جمہوری بالادستی کی جنگ کی توقع محض خوش فہمی ہوگی ۔

نواز شریف کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اگر مزاحمت یا ٹکراؤ کی سیاست کی طرف آگے بڑھتے ہیں تو ان کی جماعت میں اس مسئلہ پر ایک واضح تقسیم ہے ۔ اس لیے اگر نواز شریف اس مسئلہ پر بضد رہتے ہیں تو داخلی محاذ پر بھی ٹکراؤ یا تقسیم ہوگی ۔ کیونکہ مسلم لیگ (ن) کا مجموعی کیڈر مزاحمت سے زیادہ اسٹیبلیشمنٹ سے مفاہمت کے ساتھ آگے بڑھنے کا حامی ہے ۔ اس میں شہباز شریف اور چوہدری نثار نمایاں ہیں اور بہت سے ارکان اسمبلی بھی سمجھتے ہیں کہ عام انتخابات سے قبل ٹکراؤ کی پالیسی ان کے  اورجماعت کے  مفاد میں نہیں ۔ لیکن پارٹی میں جو لوگ نواز شریف کو ڈٹ جانے کا مشورہ دے رہے ہیں وہی اصل میں ان کے لیے مشکلات بھی پیدا کریں گے اور جب صورتحال بہت زیادہ بگڑے گی تو پھر یہ ہی طبقہ اس صورتحال کی ذمہ داری خود لینے کی بجائے نواز شریف اور مریم پر ڈالے گا۔

یہ اچھی بات ہے کہ نواز شریف نیب کی عدالت میں پیش ہوئے ہیں اور امید کی جانی چاہیے کہ وہ اور ان کے خاندان کے باقی افراد بھی  عدالتوں میں باقاعدگی سے پیش ہوں گے ۔ اگر وہ واقعی بے گناہ ہیں تو ان کو اپنی بے گناہی ثابت کرنی چاہیے ۔ لیکن یہ کہنا کہ وہ مستقل طور پر پاکستان آگئے ہیں ، بظاہر ممکن نظر نہیں آتا ۔ اگر وہ کچھ دنوں کے بعد پھر لندن یاترا کے لیے لمبی مدت کے لیے جاتے ہیں تو اس سے قومی سیاست میں ان کی گرفت کمزور ہوگی ۔ پارٹی کا ووٹر اور کارکن چاہتا ہے کہ وہ پاکستان میں بیٹھ کر صورتحال کا مقابلہ کریں، لیکن نواز شریف اور ان کے خاندا ن کے لیے یہ اتنا آسان نہیں ہوگا۔  اب اگر حدیبیہ اور سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مقدمات بھی سامنے آتے ہیں تو شریف فیملی کے لیے  مشکلات بڑھیں گی ۔ ایک بحران ان کے خاندان کا داخلی بھی ہے جو نواز شریف اور شہباز شریف سے نکل کر ان کے بچوں کے درمیان بداعتمادی کی صورت میں پیدا ہوچکا ہے ۔ اس کے کئی عملی مظاہرے لاہور کی سیاست میں بھی دیکھنے کو مل رہے ہیں ۔ یہ نواز شریف ہی ہیں جو اس کے حل میں کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں  لیکن اس کے لیے ان کو محض اپنی بیٹی کے حصار سے بھی باہر نکلنا ہوگا۔

یہ تاثر مسلم لیگ (ن) کی سیاست اوراس کے مستقبل کے لیے بھی خطرناک ہے کہ خود نواز شریف اداروں سے ٹکراؤ کی صورت میں سیاسی شہید بننا چاہتے ہیں ۔ وہ خود اداروں کو اس نہج پر لانا چاہتے ہیں جہاں اس نظام کے خلاف مداخلت ہو اوروہ  دنیا میں اس  کو بنیاد بنا کر اپنا مقدمہ لڑیں کہ اسٹیبلیشمنٹ پہلے سے  ایک سیاسی ایجنڈا رکھتی تھی ۔ یہ تاثر بھی عام ہے کہ وہ اپنی ذات سے باہر نکل کر کسی اور مسلم لیگی قیادت کی صورت میں سیاسی نظام کو لمبی مدت کے لیے چلانا چاہتے ہیں ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ان کے بعض دوست ان کو مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ خود ہی قبل ازوقت انتخابات کا راستہ اختیار کرکے موجودہ جماعت اور سیاست میں اپنی گرفت کو مضبوط رکھیں۔  وگرنہ دوسری صورت میں ان کو نقصان ہوگا ۔ نواز شریف کے سامنے سارے راستے  کھلے ہیں اور وہ  آئیندہ چند ہفتوں میں واضح ہو جائے گا کہ وہ کیا راستہ اختیار کرتے ہیں۔