سانحۂ کربلا اور شہادت امام حسین (4)

یزید کی زود و پشیمانی:
بعض روایات میں آتا ہے کہ شروع میں یزید امام حسین کے قتل پر راضی تھا ، اور جب ان کا سر مبارک لایا گیا اُس نے خوشی کا اظہار بھی کیا  لیکن اس کے بعد جب یزید کی بدنامی سارے عالم اسلام میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور تمام دُنیا کے مسلمان اسے اپنا مبغوض تریں شخص سمجھنے لگے تو وہ اپنے کیے پر بہت نادم ہوا، اور کہنے لگا کہ: ’’اے کاش! میں تکلیفیں اُٹھا لیتا اور امام حسین کو اپنے ساتھ اپنے گھر میں رکھتا اور ان کو اختیار دے دیتا کہ وہ جو چاہیں کریں، اگرچہ میرے اس اقتدار کو نقصان ہی کیوں نہ پہنچتا، اس لئے کہ رسول اللہ کا، ان کا اور ان کی قرابت کا یہی حق تھا۔ اللہ تعالیٰ ابن مرجانہ پر لعنت کرے! اُس نے ان کو مجبور کرکے قتل کردیا، حالاں کہ اُنہوں نے یہ کہا تھا کہ: ’’مجھے یزید کے پاس جانے دو، یا کسی سرحدی مقام پر پہنچادو!۔‘‘ مگر اِس نالائق نے قبول نہ کیا اور ان کو قتل کرکے ساری دُنیا کے مسلمانوں میں مجھے مبغوض کردیا، اِن کے دلوں میں میری عداوت کا بیج بودیا کہ ہر نیک و بد مجھ سے بغض رکھنے لگا، اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو ابن مرجانہ پر!۔‘‘

اہل بیت کی رخصتی:
اِس کے بعد یزید نے ارادہ کیا کہ اہل بیت کو مدینہ منورہ واپس بھیج دیا جائے  تو اُس نے نعمان بن بشیر کو حکم دیا کہ وہ ان کے لئے ان کی شان کے مناسب ضروریاتِ سفر مہیا کریں اور اِن کے ساتھ کسی امانت دار متقی و پرہیز گار آدمی کو بھیجیں ، نیز ان کے ساتھ ایک حفاظتی دستہ فوج کا بھی بھیج دیں جو اِن کو مدینہ منورہ تک حفاظت اور خیریت کے ساتھ پہنچا آئے۔ اورعلی اصغر کو رخصت کرنے کے لئے اپنے پاس بلایا اور کہا کہ: ’’اللہ تعالیٰ ابن مرجانہ پر لعنت کرے! اللہ کی قسم! اگر میں خود اس جگہ ہوتا تو امام حسین جو کچھ کہتے میں اُسے قبول کرلیتا اور جہاں تک ممکن ہوتا میں انہیں ہلاک ہونے سے بچاتا۔ اگرچہ مجھے اس کام کے لئے اپنی اولاد کو ہی کیوں نہ قربان کرنا پڑتا۔ لیکن جو کچھ مقدر تھا وہ ہوگیا۔ صاحب زادے! تمہیں جب کوئی ضرورت ہومجھے خط لکھنا اور میں نے تمہارے ساتھ جانے والوں کو بھی یہ ہدایت کردی ہے۔‘‘ یزید کی زود و پشیمانی اور بقیہ اہل بیت کے ساتھ بظاہر اکرام کا معاملہ محض اپنی بدنامی کا داغ مٹانے کے لئے تھا یا حقیقت میں کچھ اللہ تعالیٰ کا خوف اور آخرت کا خیال آگیا تھا۔ یہ تو علیم و خبیر ہی جانتاہے مگر یزید کے اس کے بعد کے بھی سب اعمال اور کارنامے سیاہ کاریوں اور بدکاریوں ہی سے لبریز تھے ۔ مرتے مرتے بھی اس نے مکہ مکرمہ پر چڑھائی کرنے کے لئے لشکر بھیجے اور بالآخر اسی حالت میں مرا۔

اہل بیت کی مدینہ کو واپسی:
اہل بیت ان لوگوں کی حفاظت میں مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوگئے۔ ان لوگوں نے راستہ میں اہل بیت کی بڑی ہم دردی سے خدمت کی، رات کو اُن کی سواریاں اپنے سامنے رکھتے  اور جب کسی منزل پر اُترتے تو اِن سے علیحدہ ہوجاتے اور اپنے چاروں طرف پہرہ دیتے۔  ہر وقت اُن کی ضروریات کو دریافت کرکے پورا کرنے کا اہتمام کرتے ۔ یہاں تک یہ سب حضرات خیر و عافیت کے ساتھ مدینہ منورہ پہنچ گئے۔ اپنے وطن مدینہ منورہ پہنچ کر امام حسین کی صاحب زادی حضرت فاطمہؓ نے اپنے بہن حضرت زینب سے کہا کہ اِس شخص نے ہم پر احسان کیا ہے کہ سفر میں ہمیں راحت و آرام پہنچایا ، اس لئے ہمیں ضرور اس کو اس کا کچھ نہ کچھ صلہ دینا چاہیے ۔‘‘ حضرت زینبؓ نے فرمایاکہ: ’’اب ہمارے پاس اپنے زیورات کے علاوہ تو اور کچھ بھی دینے کے لئے نہیں ہے، چلیں زیورات ہی میں سے کچھ نہ کچھ دے دیتی ہیں۔ چنانچہ دونوں نے اپنے اپنے زیورات میں سے دو کنگن اور دو بازو بند (چوڑیاں) سونے کی نکالیں ا ور اُن کے سامنے پیش کردیئے اور اپنی بے مائیگی کا عذر پیش کیا۔ اُس شخص نے زیورات واپس کردیئے اور کہا: اللہ کی قسم! اگر میں نے یہ کام دُنیا کے لئے کیا ہوتا تو میرے لئے یہ انعام بھی کم نہ تھا لیکن میں نے تو اپنا فرض ادا کیا ہے جو کہ رسول اللہ کی قرابت کی وجہ سے مجھ پر عائد ہوتا ہے۔

امام حسین کی خوش دامن کا غم اور وصال:
امام حسین کی خوش دامن اور آپ کی زوجۂ محترمہ رباب بنت امرء القیسؓ بھی آپ کے ساتھ اسی سفر میں تھیں اور شام بھیجی گئیں تھیں، پھر سب کے ساتھ مدینہ منورہ پہنچیں  تو باقی عمر اسی طرح گزار دی کہ کبھی مکان کے سایہ میں نہ رہتی تھیں۔ کوئی کہتا کہ: ’’ دوسری شادی کرلو!‘‘ تو جواب دیتیں کہ: ’’میں رسول اللہ کے بعد اور کسی کو اپنا خسر بنانے کے لئے تیار نہیں۔‘‘ بالآخر ایک سال بعد آپ انتقال فرماگئیں۔ امام حسین اور اُن کے اصحاب کی شہادت کی خبریں جب مدینہ منورہ میں پہنچیں تو پورے مدینے میں کہرام مچ گیا اور مدینہ منورہ کے در و دیوار بھی رونے لگ گئے۔  جب خاندانِ اہل بیت کے یہ بقیہ نفوس مدینہ منورہ پہنچے تو مدینہ والوں کے زخم از سر نو تازہ ہوگئے۔ جس وقت عبد اللہ بن جعفر کو یہ خبر پہنچی کہ اُن کے دو بیٹے بھی امام حسین کے ساتھ شہید ہوگئے ہیں تو بہت سارے لوگ اُن کی تعزیت کو آئے ۔ ایک شخص کی زبان سے نکل گیا کہ: ’’ہم پر یہ مصیبت امام حسین کی وجہ سے آئی ہے۔‘‘ حضرت عبد اللہ بن جعفر کو غصہ آگیا۔ اور اُس کو جوتا اُٹھا کر پھینک مارا کہ کم بخت یہ تو کیا کہہ رہا ہے۔ اللہ کی قسم! اگر میں وہاں ہوتا تو میں بھی اُن کے ساتھ قتل کیا جاتا، اللہ کی قسم! آج میرے بیٹوں کا قتل ہی میری تسلی کے لئے کافی ہے کہ اگر میں امام حسین کی کوئی مدد نہ کرسکا تو میری اولاد نے یہ کام کردیا ہے۔‘‘

شہادت امام حسین کا فضائے آسمانی پر اثر:
عام مؤرخین ابن اثیر وغیرہ نے لکھا ہے کہ: ’’امام حسین کی شہادت کے بعد تقریباً دو تین مہینوں تک آسمانی فضاء کی یہ کیفیت رہی کہ جب سورج طلوع ہوتا اور دھوپ در و دیوار پر پڑتی تو اتنی سرخ ہوتی تھی جیسے دیواروں کو خون سے رنگا گیا ہو۔‘‘(الکامل لابن اثیر) امام زہریؒ فرماتے ہیں کہ: ’’جو لوگ قتل حسین میں شریک تھے، اُن میں سے ایک بھی ایسا نہ تھا کہ جسے آخرت سے پہلے دُنیا ہی میں اِس کی سزا نہ ملی ہو۔ کوئی قتل کیا گیا، کسی کا چہرہ سخت سیاہ یا مسخ ہوگیا، یا چند ہی دنوں میں ملک و سلطنت چھن گئی۔ ظاہر ہے کہ یہ اُن کے اِن اعمالِ بد کی سزا نہیں بلکہ آخرت میں ملنے والی دردناک سزا کا ایک معمولی سا نمونہ تھا جس کی ایک ادنیٰ سی جھلک لوگوں کی عبرت کے لئے دُنیا ہی میں دکھادی گئی تھی ۔ سبط ابن جوزیؒ نے روایت کیا ہے کہ: ’’ایک بوڑھا آدمی امام حسین کے قتل میں شریک تھا، وہ دفعتاً نابینا ہوگیا، لوگوں نے اُس سے اس طرح اچانک نابینا ہونے کی وجہ پوچھی تو اُس نے کہا کہ: ’’میں نے رسول اللہ کو خواب میں دیکھا کہ آستین مبارک چڑھائے ہوئے ہیں، ہاتھ میں تلوار ہے، اور آپ  کے سامنے چمڑے کا وہ فرش ہے جس پر کسی کو قتل کیا جاتا ہے۔ اور اِس پر قاتلانِ حسین میں سے دس (۱۰) آدمیوں کی لاشیں ذبح کی ہوئی پڑی ہیں۔ اِس کے بعد آپ  نے مجھے ڈانٹا اور خونِ حسین کی ایک سلائی میری آنکھوں میں لگادی، چنانچہ صبح جب میں اُٹھا تو اندھا ہوچکا تھا۔“  (اسعاف)

امام حسین کے قاتل کا منہ کالا ہوگیا:
امام ابن جوزیؒ نے نقل کیا ہے کہ: ’’جس شخص نے امام حسین کے سر مبارک کو اپنے گھوڑے کی گردن میں لٹکایا تھا، اِس کے بعد اُسے دیکھا گیا کہ اُس کا منہ تارکول کی طرح سیاہ ہوگیا۔  لوگوں نے اُس سے دریافت کیا کہ: ’’تو تو سارے عرب میں خوش رو آدمی تھا تجھے کیا ہوگیا؟ اُس نے کہا کہ: ’’جس روز سے میں نے امام حسین کا سر اپنے گھوڑے کی گردن میں لٹکایا ہے ، جب ذرا سوتا ہوں تو دو آدمی میرے بازو پکڑتے ہیں اور مجھے ایک دہکتی ہوئی آگ میں لے جاکر ڈال دیتے ہیں اور وہ مجھے جھلس دیتی ہے۔‘‘ چند دن بعد وہ بھی اسی حالت میں مرگیا۔ امام ابن جوزیؒ نے سدی سے نقل کیا ہے کہ: ’’اُنہوں نے ایک شخص کی دعوت کی، مجلس میں یہ ذکر چھڑ پڑا کہ امام حسین کے قتل میں جو بھی شریک ہوا اس کو دُنیا میں بھی بہت جلد سزا مل گئی ۔  اُس شخص نے کہا کہ: ’’یہ بالکل غلط ہے، میں خود اُن کے قتل میں شریک تھا، میرا کچھ بھی نہیں بگڑا۔‘‘ یہ شخص مجلس سے اُٹھ کر گھر گیا، اور گھر جاکر جب چراغ کی بتی درست کرنے لگا تو اُس کے کپڑوں میں آگ لگ گئی اور وہ وہیں جل بھن کر راکھ ہو گیا۔ سدی کہتے ہیں کہ: ’’میں نے خود صبح اس کو دیکھا کہ وہ جل بھن کر کوئلہ بن چکا تھا۔‘‘

امام حسین کا قاتل تڑپ تڑپ کر مرگیا:
جس شخص نے امام حسین کے تیر مارا تھا اور پانی نہیں پینے دیا تھا، اس پر اللہ تعالیٰ نے پیاس کا ایسا عذاب مسلط کیا کہ اُس کی پیاس کسی بھی طرح بجھتی نہ تھی، پانی کتنا ہی پی لیتا، لیکن پھر بھی پیاس سے تڑپتا رہتا۔ یہاں تک کہ اُس کا پیٹ پھٹ گیا اور وہ بھی مرگیا۔ (شہید کربلا: ص۱۱۰، ۱۱)۔ شہادتِ امام حسین کے بعد یزید کو ایک دن بھی چین کا نصیب نہ ہوا۔ اور تمام اسلامی ممالک میں شہدائے اہل بیت کے خون نے شدید مطالبہ پکڑا اور بغاوتیں ہونا شروع ہوگئیں۔ شہادتِ امام حسین کے بعد یزید کی زندگی تقریباً دو سال، آٹھ ماہ اور ایک روایت کے مطابق تین سال اور آٹھ ماہ رہی ۔ دُنیا ہی میں اللہ تعالیٰ نے اِس کو ذلیل و رُسوا کیا اور اسی ذلت و خواری کی حالت میں وہ ہلاک ہوگیا۔ (شہید کربلا: ص ۱۱)

کوفہ پر مختار کا تسلط:
الغرض قاتلانِ حسین پر طرح طرح کی آفاتِ ارضی وسماوی کا ایک سلسلہ تو تھا ہی لیکن واقعہ شہادت سے پانچ ہی سال بعد ۶۶ ؁ھ میں جب مختار نے قاتلانِ حسین سے قصاص لینے کا ارادہ ظاہر کیا تو عام مسلمان اس کے ساتھ ہوگئے اور تھوڑے ہی عرصہ میں اس کو یہ تقویت ہوگئی کہ کوفہ اور عراق پر اس کا تسلط ہوگیا۔ اُس نے اعلانِ عام کردیا کہ: ’’قاتلانِ حسین کے سوا سب کو امن دیا جاتا ہے۔‘‘ اور قاتلانِ حسین کی تفتیش و تلاش پر اُس نے اپنی ساری قوت و طاقت خرچ کردی۔ اور ایک ایک کو گرفتار کرکے سب کو قتل کردیا، حتیٰ کہ ایک روز میں دو سو اڑتالیس (۲۴۸) آدمی اِس جرم میں قتل کیے گئے کہ وہ قتل حسین میں شریک تھے۔ اِس کے بعد خاص لوگوں کی تلاش اور گرفتاری شروع ہوئی۔

عمرو بن حجاج زبیدی پیاس اور گرمی میں بھاگا، پیاس کی وجہ بے ہوش ہوکر گر پڑا، اور اسی حالت میں ذبح کردیا گیا۔ شمر ذی الجوشن جو امام حسین کے بارے میں سب سے زیادہ شقی اور سخت تھا اس کو قتل کرکے اِس کی لاش کتوں کے آگے ڈالی گئی۔ عبد اللہ بن اسید جہنی، مالک بن بشیر بدی اور حمل بن مالک کا محاصرہ کرلیا گیا۔  اُنہوں نے رحم کی اپیل کی، مختار نے کہا: ’’ظالمو! تم نے جگر گوشۂ رسول پر رحم نہ کھایا، تم پر کیسے رحم کھایا جائے۔ چنانچہ سب کو قتل کردیا گیا۔ مالک بن بشیر جس نے امام حسین کی کلاہِ مبارک اُٹھا رکھی تھی اُس کے دونوں ہاتھ اور دونوں پیر کاٹ کر میدان میں ڈال دیا گیا اور وہیں تڑپ تڑپ کر مرگیا۔ عثمان بن خالد اور بشیر بن شمیط کہ جنہوں نے امام حسین کے چچا زاد بھائی حضرت مسلم بن عقیل کے قتل میں یزیدی فوج کی مدد کی تھی ، اِن کو قتل کرکے جلا دیا گیا۔ عمرو بن سعد جو امام حسین کے مقابلہ پر لشکر کی کمان کر رہا تھا، اس کو قتل کرکے اس کا سر مختار کے سامنے لایا گیا اور مختار نے اس کے لڑکے حفص کو پہلے ہی سے اپنے دربار میں بٹھا رکھا تھا، جب یہ سر مجلس میں آیا تو مختار نے حفص سے کہا کہ: ’’تو جانتا ہے کہ یہ سر کس کا ہے؟۔‘‘ اُس نے کہاکہ: ’’ہاں! اور اِس کے بعد مجھے بھی اپنی زندگی پسند نہیں۔‘‘ مختار نے حکم دیا کہ: ’’ اِس کا بھی سر قلم کردیا جائے۔‘‘ چنانچہ اِس کو قتل کردیا گیا ۔ اِس کے بعد مختار نے کہاکہ: ’’عمرو بن سعد کا قتل تو امام حسین کے قتل کے بدلے میں ہے اور حفص کا قتل علی بن حسین کے بدلے میں ہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ پھر بھی برابری نہیں ہوئی۔ اگر میں تین چوتھائی قریش کو بھی بدلہ میں قتل کردوں تب بھی امام حسین کی ایک اُنگلی کا بھی بدلہ نہیں ہوسکتا۔‘‘

حکیم بن طفیل کہ جس نے امام حسین کے تیر مارا تھا اِس کا بدن تیروں سے چھلنی کردیا گیا یہاں تک کہ وہ بھی تڑپ تڑپ کر ہلاک ہوگیا۔ زید بن رفاد نے امام حسین کے بھتیجے اور مسلم بن عقیلص کے صاحب زادے عبد اللہص کے تیر مارا، اُس نے ہاتھ سے اپنی پیشانی چھپائی، تیر پیشانی پر جا لگااور ہاتھ پیشانی کے ساتھ بندھ گیا، اِس کو گرفتار کرکے اوّل اِس پر تیر اور پتھر برسائے گئے پھر زندہ جلادیا گیا۔ سنان بن انس کہ جس نے امام حسین کا سر مبارک تن سے جدا کیا تھا کوفہ بھاگ گیا اِس کا گھر منہدم کردیا گیا۔ (شہید کربلا: ۱۱۴)

منحوس گھر:
عبد الملک بن عمیر کوفی کا بیان ہے کہ جس وقت حضرت مصعب بن زبیر کا سر لاکر عبد الملک بن مروان کے سامنے رکھا گیا تو اس وقت میں عبد الملک کے پاس کوفہ کے مشہور محل ’’دار الامارہ ‘‘ میں موجود تھا۔ عبد الملک نے مجھے لرزہ اندام دیکھ کر کہا : ’’ تجھے کیا ہوا ؟ ‘‘ میں نے کہا :’’ اے امیر المؤمنین ! اللہ تعالیٰ آپ کی حفاظت کرے ، ایک مرتبہ میں اسی محل میں اسی جگہ عبید اللہ بن زیاد کے ساتھ موجود تھا  تو میں نے اس جگہ امام حسین کا سر مبارک عبید اللہ بن زیاد کے سامنے رکھا دیکھا ۔ پھر ایک مرتبہ اسی محل میں اسی جگہ مختار بن ابی عبید ثقفی کے ساتھ تھا  تو عبد اللہ بن زیاد کا سر مختار کے سامنے رکھا دیکھا۔  اس کے بعد ایک مرتبہ اسی محل میں اسی جگہ میں حضرت مصعب بن زبیر  کے ساتھ تھا  تو مختار بن ابی عبید کا سر مصعب  کے سامنے رکھا دیکھا۔ اب کی بار میں آپ کے ساتھ مصعب بن زبیر کا سر آپ کے سامنے رکھا ہوا دیکھ رہاہوں۔ عبد الملک کا بیان ہے کہ: ’’ یہ سنتے ہی عبد الملک بن مروان اُس جگہ سے اُٹھ کھڑا ہوا اور جس محراب میں ہم بیٹھے ہوئے تھے ، اِس کو ڈھا دینے کا حکم نافذ کردیا ۔ چنانچہ اِ س کے بعد اِس گھر کو گرا دیا گیا ۔‘‘( وفیات الاعیان : ج ۱ ص ۴۰۵ )