گلگت بلتستان کے عوام میں احساس محرومی
غذر اور یاسین کے خوبصورت اور تاریخی علاقوں سے تیسرے دن رکن اسمبلی محمد نواز خان ناجی مجھے واپس گلگت لائے جہاں میں نے ان سے درخواست کی کہ وہ مجھے اکیلا چھوڑ دیں تاکہ میں گلگت سٹی کے عام لوگوں کے ساتھ کچھ وقت گزار سکوں۔ اور دیکھوں کہ وہاں لوگوں کا طرز زندگی اور ماحول کیسا ہے۔ بازار کافی صاف ستھرے اور کاروباری لوگ لین دین کے سلسلے میں زیادہ بحث نہیں کرتے تھے۔ ہوٹل بھی آزاد کشمیر کے نسبت بہتر ہیں۔ مہمانوں کے ساتھ بیروں کی گفتگو سے لگتا ہے کہ اس خطے میں آنے والے سیاحوں کی وجہ سے انہیں کام اور گفتگو کی تربیت دی جاتی ہے۔
کھانے پاکستان کی نسبت سستے اور پرہیزی ہیں۔ ٹریفک بھی اتنی بے ہنگم نہیں ہے۔ میں بازاروں میں ابھی لوگوں کی زندگی کا جائزہ لے رہا تھا کہ لبریشن فرنٹ کے ایک ساتھی محمد رضوان نے فون کیا کہ وہ مجھے ایک خاص شخصیت سے ملوانا چاہتے ہیں۔ بتایا گیا کہ وہ ریٹائرڈ اسسٹنٹ کمشنر مشتاق احمد ہیں جوتنظیم حقوق گلگت کے صدر ہیں۔ ہم ان کے دفتر پہنچے تو انہوں نے مجھے احتراما اپنی کرسی پر بٹھایا۔ دبلے پتلے مگر فولادی قوت کے مالک مشتاق احمد نے گفتگو کا آغاز کیا تو مجھے اندازہ ہو گیا کہ وہ معلومات کا بہت ذخیرہ رکھنے والی شخصیت ہیں۔ انہوں نے کہا وہ مملکت پاکستان کے خیر خواہ ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان مضبوط، خوشحال اور حقیقی معنوں میں سیاسی و اقتصادی آزادی حاصل کرکے دنیا میں خا ص کر مسلمانوں کے حقوق کے حوالے سے اہم کردار ادا کرنے کے قابل ہو۔ لیکن گلگت بلتستان کے حقوق کے حوالے سے ان کے کچھ سوالات ہیں۔
مشتاق احمد نے کہا ان کا پہلا سوال یہ ہے کہ گلگت بلتستان جموں کشمیر کا حصہ ہے لیکن ہمار سٹیٹ سبجیکٹ کیوں ختم کیا گیا۔ کوئی غیر ریاستی ایک مرلہ زمین خرید کر یہاں کا شہری بن سکتا ہے لیکن اس ریاست کے وارثوں کے حقوق محدود کیے جا رہے ہیں جس کا مقصد یہاں کی ڈیموگرافی تبدیل کرنا ہے۔ آخر کیوں۔ ایک طرف کہا جا رہا ہے کہ جموں کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق رائے شماری کے زریعے ہوگا۔ دوسری طرف سٹیٹ سبجیکٹ ختم کرکے ہمیں غیر کشمیری بنایا جا رہا ہے۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ عالمی قانون کے مطابق جس ملک سے سڑک گزرتی ہے اس کا ٹیکس وہاں کی مقامی انتظامیہ وصول کرتی ہے مگر عالمی سطع پر تسلیم شدہ متنازعہ ریاست جموں کشمیر کے ایک حصے سے سی پیک کے تحت جو سٹرک نکالی جا رہی ہے اس سے ہونے والی آمدنی سے ہمیں کیوں محروم رکھا گیا۔ انہوں نے کہا آزاد کشمیر میں منگلہ ڈیم بنایا گیا تو وہاں کی رائلٹی بھی آزاد کشمیر کو نہ ملی اور اب یہی صورت حال سی پیک کی ہے۔
اگر اسلام کے نام پر ہمارے رشتے قائم ہیں تو کیا اسلام بڑے بھائی کو چھوٹے بھائی کا یا کسی بھی آدمی کا استحصال کرنے کی اجازات دیتا ہے۔ یوں تو بہت سارے سولات ہیں لیکن وقت کا خیال رکھتے ہوئے تیسرا اور اخری سوال یہ ہے کہ کوئی گلگتی اور بلتی کسی ادارے کا سربراہ کیوں نہیں ہو سکتا۔ گلگت بلتستان میں چیف سیکرٹری اور عدلیہ کا سربراہ پاکستان سے امپورٹ کیا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہی ہوا کہ ہم پاکستانی ہو کر بھی پاکستانی نہیں ہیں۔ حکومتی آرڈر 2009 کے تحت پاکستانیوں کے لیے سکیل سترہ میں پچیس فی صد، سکیل اٹھارہ میں چالیس اور سکیل انیس میں ساٹھ فی صد کوٹہ مسلط کر دیا گیا ہے۔ اس طرح سرکاری ملازمتوں میں بھی مقامی لوگوں کے حقوق محدود کر دیئے گئے ہیں۔ مشتاق احمد نے بتایا کہ اختلاف رائے رکھنے والوں کے لیے انٹی ٹیرر اور پاکستان پروٹیکشن ایکٹ بھی نافذ کیے گئے ہیں۔ یہ تو صاف صاف ہندوستان کی تقلید ہے جس نے اصول پر مبنی کشمیری کی تحریک کو دبانے کے لیے اس طرح کے کئی ایکٹ قائم کر رکھے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی بے شمار پابندیا ں عائد ہیں۔ مشتاق احمد نے آزاد کشمیر اور جی بی کی حکومتوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن میں ہزاروں ووٹ لے کر کامیابی کا دعویٰ کرنے والے امیدوار عوام کی بات نہیں کرتے لیکن ہم ووٹ نہ لے کر بھی ووٹرکے حقوق کی بات کرتے ہیں۔
تاریخ سے گہری دلچسپی رکھنے والے اس سابق سرکاری افسر نے پاکستانی ائر مارشل اصغر خان کے والد بریگیڈیر رحمت اﷲ خان کی زندگی کا ایک تاریخی واقعہ سناتے ہوئے ان کو خراج عقیدت پیش کیا۔ مشتاق احمد نے بتایا کہ 1846 کے معاہدہ امرتسر کے مطابق صرف استور کا علاقہ انگریزوں نے جموں کشمیر میں شامل کرتے ہوئے ڈوگرہ گلاب سنگھ کو دیا تھا لیکن بعد میں گلگت بلتستان کی مقامی حکومتوں کے درمیان جنگ ہوئی تو مہاراجہ کشمیر سے کچھ مقامی حکمرانوں نے یاسین کے حکمران گوہر امان کی زیادیتوں کی شکایت کی۔ جس کے نتیجے میں مہاراجہ نے یاسین کے حکمران کے خلاف ائر مارشل اصغر خان کے والد رحمت اﷲ خان کی قیادت میں فوج بھیجی۔ جموں کے رہنے والے بریگیڈیر رحمت اﷲ خان نے گوہر امان کو شکست دے کر یاسین فتح کیا تو مردوں کی بھاری تعداد ماری گئی جبکہ ڈوگرہ فوج نے خواتین کو اپنی نگرانی میں لے کر بریگیڈیر رحمت اﷲ خان سے پوچھا کہ ان کے بارے کیا کیا جائے۔ اس دوران بریگیڈیر رحمت اﷲ نے عورتوں کی حفاظت کا خصوصی انتظام کیا تاکہ ان کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی نہ ہو۔ لیکن ایک خاتون ایسی تھی جسے بریگیڈیر رحمت اﷲ خان نے باعزت طریقے سے نکاح پڑھکر اپنی شریک حیات بنا لیا۔ جس کے بطن سے دنیا کے مایہ ناز پائلٹ ائر مارشل اصغر خان، پاک ارمی کے بریگیڈیر اسلم خان اور فلائٹ افسر آصف خان نے جنم لیا۔ آصف خان سن اڑتالیس میں گلگت کے مقام پر ایک ہوائی حادثہ میں شہید ہو گئے تھے جو اب بھی گلگت میں سیکرٹری ورکس آفس کے اندر ابدی نیند سو رہے ہیں۔
میں اپنا مزید باقی وقت مقامی لوگوں کے ساتھ گزارنا چاہتا تھا لیکن ایم ایل اے محمد نواز خان ناجی دوبارہ ملنے آئے۔ پہلے انہوں نے لیڈر آف دی اپوزیشن جناب حاجی شاہ بیگ اور وزیر حکومت حیدر خان سے ملاقات کروائی پھر وہ مجھے نگر اور ہنزہ لے گئے جہاں کی قدرتی خوبصورت وادیوں، نہروں اور بلند و بالا چوٹیوں کو الفاظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔ اس دوران میں نے دیکھا کہ محمد نواز خان ناجی صرف ایک حلقہ کے نہیں بلکہ گلگت بلتستان بھر میں ایک جیسی مقبولیت رکھتے ہیں۔ کیونکہ ہم جہاں کہیں رکے لوگ انہیں پہچان لیتے تھے۔ اس دوران نواز ناجی کے ساتھی محمد شبیر بلتی اور دیگر بھی ساتھ تھے ۔
متعدد طلبہ سے بھی ملاقاتیں ہوئیں۔ میرا ایک ہفتے کا دورہ گلگت بلتستان اختتام پزیر ہوا۔ اس دوران مجھے جو تاریخی معلومات ملیں اور جو خوبصورت علاقے دیکھنے کا موقع ملا وہ نواز ناجی کی رہنمائی و تعاون کے بغیر شاید میں وہاں چھ ماہ رہ کر لاکھوں روپے خرچ کرکے بھی نہ دیکھ پاتا ۔ نواز ناجی آزاد کشمیر میں کافی مقبول ہیں۔ وہ حقیقی معنوں میں آزاد کشمیر اورجی بی کے درمیان ایک پل اور سفیر کا کام کر رہے ہیں۔ ملنے والے وزراء اور ملاقاتیوں میں سے جس نے بھی پوچھا کہ وہ میرے لیے کیا کر سکتے ہیں تو میں نے ہر ایک سے درخواست کی کہ آزاد کشمیر اور جی بی عوام کو قریب لانے میں کردار ادا کریں۔ ہماری دعا ہے کہ اﷲ تعالی س بکی کاوشوں کو کامیاب کرے۔ آمین