شیر کی ایک دن کی زندگی!
- تحریر شیخ خالد زاہد
- ہفتہ 30 / ستمبر / 2017
- 4325
میسور کے نام سے تقریباً قارئین واقف ہی ہوں گے یہ ہندوستان کی ایک ریاست کا نام تھا جواب ایک جدید شہر مین بدل چکا ہے ۔ دنیا اس شہر کے نام سے بہت اچھی طرح واقف ہے جس کی ایک اہم ترین وجہ وہاں کہ سلطان حیدر علی کے صاحبزادے فتح علی ہیں۔ دنیا انہیں ٹیپو سلطان کے نام سے جانتی ہے۔ ٹیپو سلطان کو ہم ایک سپاہ سالار یا ایک سپاہی کی حیثیت سے یاد کرتے ہیں جبکہ وہ ایک اسکالر اور شاعر بھی تھے۔
انگریزوں کے مقابلے میں ٹیپو سلطان جب محاصرے میں آگئے تو فرنگی جرنیلوں نے انہیں بھاگ جانے کی پیشکش کی۔ جس پر انہوں نے وہ تاریخی الفاظ کہے جو آج تک زندہ ہیں۔ وہ الفاظ یہ تھے کہ ‘شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سوسالہ زندگی سے کہیں بہترہے‘۔ ٹیپو سلطان اس محاصرے کے دوران شہید ہوئے مگر راہ فرار اختیار نہ کی اور اپنے تاریخی جملے کو عملی جامہ پہنایا۔ یہ وہ الفاظ ہیں جو تاریخ کے اوراق میں ہیروں کی مانند جگمگا رہے ہیں اور جو رہتی دینا تک جھلملاتے رہیں گے ۔
شیر جنگل کا بادشاہ ، صدر ، وزیراعظم، سپاہ سالار اورتو اور منصف بھی خود ہی ہوتا ہے۔ یہ اقتدار شیر کووراثت میں ملا اور اس کے پاس شاید نامعلوم وقت سے ہے ۔ ان ساری خصوصیات کہ ساتھ جنگل پر شیر کاراج چل آرہا ہے۔ شائد اب ترقی کرتی دنیا نے جنگل پر بھی اپنا حق جتانے کیلئے اقدامات کئے ہیں۔ کچھ سال پہلے ہالی وڈ نے ایک فلم مڈگاسکر کے نام سے بنائی۔ یہ فلم بہت مقبول ہوئی جس کی وجہ سے اس کا دوسرا پارٹ بھی بنایا گیا۔ اس فلم ک اتذکرہ یہاں اس لئے کیا جارہا ہے کہ اس فلم کا مرکزی کردار بھی شیر تھا ۔ اس فلم میں شیر کوبطور ڈکٹیٹر مخالف پیش کیا گیا ہے اور جمہوری روایات کا پاسدار دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ ایک ایسا شیر جس کا شوق جنگل میں رہنے اور جانوروں پرحکومت کرنے کی بجائے انسانوں کے دلوں پر حکومت کرنا ہے۔ وہ دوسرے جانوروں کو بھی ایسی ہی زندگی کیلئے قائل کرنے کی کوشش کرتا دکھائی دیتا ہے۔
اس کے برعکس دنیا کے بہت سے انسان ایسے ہیں جو ذاتی مفادات اور ان کے حصول کے لئے گیدڑ کی زندگی گزارنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے۔ ہمارے حکمرانوں کی مثال لے لیجئے ذرا کچھ ہو، فوراً ملک سے رفو چکرہو جاتے ہیں۔ عوام کو تو جب خبر ہوتی ہے جب وہ دوسرے ملک پہنچ کر وہاں سے کوئی خیریت کا بیان دیتے ہیں۔ عوام ووٹ ڈالتے ہوئے یہ سب بھول جاتے ہیں۔ دنیا کی آنکھوں سے ایسی حرکتوں کو پوشیدہ رکھا جا سکتا ہے لیکن ضمیر کی عدالت بھی کوئی چیز ہے۔ اس سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔
اکیسویں صدی میں ایک دن کی زندگی سے پیار کرنے والے شیروں کی افزائشِ نسل پر پابندی لگادی ہے۔ یہ پابندی اسائشوں کی مرہون منت ہوگئی۔ جنگل کے شیروں کو سرکس میں بھرتی کرلیا گیا یا چڑیا گھر میں بچوں کو خوش کرنے کیلئے قید کردیا گیا۔ رہی سہی کثر انتخابی نشانوں نے پوری کردی۔ ہم عرصہ دراز سے اپنے اسلاف کی طرز پر لڑنے مرنے والے شیروں کا انتظار کر رہے ہیں جبکہ دنیا کی بدلتی ہوئی روایات نے شیروں کو بھی سمجھا دیا کہ گیدڑ کی سوسالہ زندگی شیر کی ایک دن کی زندگی سے بہت بہتر ہے ۔