بچوں کی تربیت کیسے کی جائے

کسی بھی معاشرے میں بچے اور بچیاں مستقبل کا اہم سرمایہ ہوتے ہیں ۔ جو ریاست، حکومت، ادارے اور والدین  بچوں اور بچیوں کے ساتھ ان کی بہتر زندگی کے لیے بڑی سرمایہ کاری کرتے ہیں ، وہی معاشرے کامیاب بھی ہوتے ہیں ۔ یہاں سرمایہ کاری سے مراد محض مالی سرمایہ کاری نہیں بلکہ ان کی تعلیم و تربیت سمیت بہت سے ایسے امور ہوتے ہیں جہاں مختلف فریقین ایک ذمہ دار فرد یا ادارے کے طور پر اپنا کردار ادا کرتے ہیں ۔

بنیادی طور پرچھ عوامل ہوتے ہیں جو بچوں اور بچیوں کی تربیت کے لئے اہم ہیں۔  اول اخلاقی تربیت کا عمل ، دوئم ان کی علمی ، فکری نشورنما ، سوئم ان کی صحت مندانہ عمل ، چہارم کھیل اور تفریح کا عمل، پنجم کھانے پینے کے معاملات اور ششم میل جول اور سماجی تعلقات کا عمل شامل ہیں ۔ لیکن مجموعی طور پر ہم بچوں اور بچیوں کے ساتھ محض بچہ اوربچی سمجھ کر ہی نمٹنا چاہتے ہیں  ۔ یعنی ہم سمجھتے ہیں کہ بس ہم ہی ان کے بارے میں فیصلہ کریں گے اور جو ہم طے کریں گے وہی بچوں اور بچیوں کوکرنا ہوگا۔ یہ ہی وہ رویہ ہے جو ہمارے گھر سے شروع ہوکر پورے ریاستی نظام تک پھیلا ہؤا ہے۔ یہ طریقہ بچوں کو اپنے معاملات سے لاتعلقی کی جانب لے جاتا ہے ۔ ان کو محسوس ہوتا ہے کہ ہم جو سوچتے اور محسوس کرتے ہیں اس کی کوئی اہمیت نہیں اورہمارا کام محض بڑوں کی ایسی تابعداری کرنا ہے جس میں قائل کرنا ، دلیل دینا کم اور ڈکٹیشن کا عمل زیادہ ہوتا ہے۔ عمومی طور پر کہا جاتا ہے کہ بچوں کی تربیت کی پہلی درس گاہ گھر اور گھر کے سربراہ یعنی والدین یا بزرگ ہوتے ہیں ۔ لیکن اب ہمارے گھروں کاجو ماحول تبدیل ہوا ہے اور والدین سمیت بزرگ بچوں کی تعلیم پر تو بہت توجہ دیتے ہیں ، لیکن تربیت کے معاملات میں بہت لاپرواہی کا عمل دیکھنے کو ملتا ہے ۔ وہ تعلیم کو ہی تربیت سمجھتے ہیں ، حالانکہ تعلیم میں سے اگر تربیت کا عمل نکال دیا جائے تو تعلیم کا مقصد فوت اور ایک بہتر شہری بننے کا عمل دور ہوجاتا ہے ۔

اصل میں بچہ اور بچی  کی تعلیم و تربیت کو محض  ایک نکتہ کی بنیاد پر  نہیں دیکھنا چاہیے ۔ اس کی ترقی اور خوشحالی میں تعلیم ، صحت، تربیت، کھیل ، تفریح، نیند، عادات و اطوار ، میل جول ، تعلقات ، محسوس کرنا، ردعمل دینا ، مطالعہ، سوال کرنا جیسے دیگر امور شامل ہوتے ہیں ۔ لیکن اب دیکھنے کو مل رہا ہے کہ والدین بچوں اور بچیوں کے معاملات میں  جن چند نکات کو اہم سمجھتے ہیں، انہیں  بنیاد بنا کر آگے بڑھتے ہیں۔ یہ عمل بچوں اور بچیوں کی مکمل تربیت کے عمل کو کمزور کرنے کا سبب بنتا ہے ۔ مثال کے طور پر جسمانی طور پر صحت مند رہنے کے لیے بچوں اوربچیوں کے لیے عملی کھیل ضروری ہوتے ہیں ۔ لیکن تعلیم کے نام پر بہت سے والدین  بچوں کو کھیل سے دور رکھتے ہیں ۔ اسکول ، ہوم ورک، ٹیوشنز ، نصابی کتابوں میں الجھا کر ہم نے عملا بچوں کو نفسیاتی مریض بنا دیا ہے جو ان کی شخصیت کو خراب کرتے ہیں۔

بچوں ، بچیوں اور والدین یا استادوں کے درمیان اظہار کرنے کا خلا تیزی سے بڑھتا جارہا ہے ۔ والدین اور استاد کے پاس بچوں اور بچیوں کی ذاتی ذندگی اوران کے مسائل کو سمجھنے ، پرکھنے اور جانچنے میں اول تو کوئی دلچسپی نہیں اور اگر ہے تو ان کی بہت سی دیگر مصروفیات ان کے اس عمل میں رکاوٹ بنتی ہیں ۔ اکثر بچوں اوربچیوں کو اپنے والدین سے براہ راست بات کرنے کا اول تو موقع نہیں ملتا یا وہ ڈر اور خو ف کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ ڈر اور خو ف بھی والدین کا اپنا پیدا کردہ ہوتا ہے جو وہ بچوں پر مسلط کرتے ہیں ۔ایسے میں بچے اور بچیاں اپنے دل کی بات کیسے والدین یا استادوں سے کرسکیں گے ۔ پھر ہمیں ایسے والدین اور استاد بھی دیکھنے کو ملتے ہیں جو  بچوں اور بچیوں کے روزمرہ کے معاملات سے لاتعلق یا بے خبر ہوتے ہیں ۔ ان کو اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ ان کا بچہ یا بچی گھر میں بھی اور گھر سے باہر بھی کس طرح کے عمل میں شریک ہیں ، کون ان کے دوست ہیں اوران کی کیا سرگرمیاں ہیں جو ان پر مثبت یا منفی اثر ڈالتی ہیں ۔ موبائل کے استعمال پر بھی والدین کی کوئی نظر نہیں ہوتی ۔

یہ بات ٹھیک ہے کہ ہر کام یا عمل کی نگرانی ممکن نہیں  ۔ لیکن اصل مسئلہ بچے اور بچی کے درمیان اچھے اور برے کی تمیز پیدا کرنا اور ان کا آگاہ کرنا کہ کونسا عمل درست ہے اورکونسا غلط ۔ یہ بات دلیل اور فہم سے سمجھا ئی جائے تو اثر دکھاتی ہے لیکن اگر محض ڈنڈے کے زور پر لاگو کی جائے تو اس کا منفی اثر پڑتا ہے ۔ والدین بچوں کو نصابی کتابوں تک محدود رکھتے ہیں تاکہ بچے اور بچیاں زیادہ سے زیادہ نمبر لے سکیں  لیکن ان کو غیر نصابی کتب کے مطالعہ سے روکا جاتا ہے ۔ اول تو جب خود والدین بچوں کے سامنے اپنے آپ کو مطالعہ میں شریک نہیں کریں گے تو بچہ یا بچی کے اندر بھی مطالعہ کا رجحان پیدا نہیں ہوتا۔ والدین کھانوں اور تفریح پر تو بہت پیسہ خرچ کرتے ہیں  لیکن جب کتاب خریدنے کی بات آتی ہے تو اس پرمہنگی ہونے کا الزام لگا کر خریدنے سے گریز کیا جاتا ہے ۔

بچہ او ربچی اگر اپنی تعلیم وتربیت میں سوچنا ، سوال کرنا ، معاملات کو چیلنج کرنا اور روائتی بات سے ہٹ کر کوئی نئی بات کرنا یا کوئی متبادل علم یا سوچ دینے کا عمل سیکھ جائے تو اس کا مطلب واقعی تعلیم یا علم ہوتا ہے ۔ تعلیم محض نمبر حاصل کرنے یا ڈگری کے حصول کی ڈور کا نام نہیں ہوتا۔ والدین اوراستاد کو چاہیے کہ وہ بچوں اوربچیوں کو محض نصابی کتابوں تک محدود نہ کریں بلکہ ان کو غیر نصابی کتاب جس میں سماجی علوم ، جدید علوم او رلٹریچر کی تعلیم پر مبنی علم کی طرف راغب کیا جائے ۔ اصل میں والدین اور استاد کا کام ہر بات بچے اوربچی کو سکھانا نہیں ہوتا۔ یہ کام خود بچے اور بچیاں کرتی ہیں ۔ استاد اور والدین کا اصل کام بچوں اور بچیوں میں شوق کی شدت یا جستجو پیدا کرنا ہوتا ہے اور بلاوجہ اپنی خواہشات کو ٹھونسنے سے گریز کیا جانا چاہیے ۔

ایک مسئلہ بچوں اور بچیوں کے کھانے کا ہے جہاں بہت زیادہ لاپرواہی دیکھنے کو ملتی ہے ۔ اب بچے اور بچیاں اسکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹی میں فاسٹ فوڈ اور کولڈ ڈرنکس اور غیر ضروری غیرصحت مندانہ چیزیں کھا کر اپنی صحت کی بربادی کا سامان پیدا کررہے ہیں ۔ والدین بھی اپنے بچوں کو اس عمل سے نہیں روکتے ۔ اب بچے اور بچیاں پانی کی جگہ کوڈ ڈرنکس پیتے ہیں اور گھریلو کھانوں سے گریز کرتے ہیں ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اب ماضی کے مقابلے میں بچوں کی جسمانی صحت کے مسائل بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں ۔ جو والدین اور استاد بچوں اوربچیوں کو ڈر، خوف اور تشدد  سے تربیت دیتے ہیں ہے وہ بچوں پر منفی اثر سمیت بغاوت ، انتہا پسندی یا پر تشدد مزاج کو فروغ دیتے ہیں ۔

ایک طرف ہم گلہ کرتے ہیں کہ بچے او ربچیوں کا لب و لہجہ خراب ہوگیا ہے ۔ لیکن خود والدین اور استاد کے مزاج میں جوغصہ ، مایوسی ، نفرت، انتہا پسندی ، گالم گلوچ ، جھوٹ ، مکاری پیدا ہوگئی ہے وہ ہی بچوں اور بچیوں میں بھی دیکھنے کو مل رہی ہے ۔ اس لیے خود والدین اور استاد کی سطح پر خود احتسابی کا نظام ہونا چاہیے کہ وہ کس بگاڑ کا شکار ہوگئے ہیں ۔ والدین کو حقیقی معنوں میں خود کو اپنے بچوں اور بچیوں کے سامنے ایک رول ماڈل کے طور پر پیش کرنا چاہیے ، وگرنہ ان کے تضادات کا اثر خود بچوں کی زندگیوں پر بھی پڑتا ہے ۔

اسی طرح ہم بچوں او ر بچیوں کی غلطیوں پر تو بہت ڈانٹ یا مار پیٹ کرتے ہیں لیکن بچوں کی حوصلہ افزائی کے معاملات میں بہت کنجوسی کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔ بچوں اور بچیوں کو دوست بنانے کی بجائے ان پر اپنے بڑے ہونے کا زیادہ رعب جماتے ہیں ۔ اسی طرح بچوں کی تربیت میں فلاحی کاموں کی ترغیب ، کمزور کی مدد کرنا ، عاجزی، انکساری ، شفقت، بغض، لالچ، حسد جیسے معاملات میں بھی ان کے سماجی شعور بڑھانا چاہیے۔  یاد رکھیں بچوں اور بچیوں کے معاملات میں لاپرواہی یا خود کو عقل کل سمجھ کر ان پر زبردستی چیزوں کو ٹھونسنا بچوں اور بچیوں کی ترقی کے عمل کو بہت پیچھے چھوڑ جاتاہے اور والدین کے پاس سوائے ندامت کے اورکچھ نہیں بچتا۔