آ دیکھ ذرا کس میں کتنا ہے دم

پچھلے مہینے اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کا 72 ویں اجلاس حسبِ معمول نیو یارک کے ہیڈ کوارٹر میں منعقد ہوا ۔ جس میں دنیا کے زیادہ ترممالک کے سربراہ اور وزیر خارجہ نے شرکت کی اور اپنے ملکوں کی نمائندگی کرتے ہوئے زیادہ تر ممالک کے سربراہوں نے دنیا کی بھلائی اور امن کے حوالے سے اپنا موقف پیش کیا۔ لیکن امریکہ ، ہندوستان، پاکستان اور دیگر ممالک کے سربراہان نے اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کے پلیٹ فارم سے ایک دوسرے پر الزام لگاتے ہوئے نظر آئے۔ کچھ پل کے لئے ایسا لگا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی شاید سیاستدانوں کے لئے باکسنگ کا رِنگ ہوگیا ہے،  جس کے ذریعہ وہ اپنی طاقت کا زور دِکھا رہے ہیں۔ گویا مجھے وہ گانا یاد آگیا: آ دیکھ ذرا کس میں کتنا ہے دم۔

ایک دن دفتر میں لنچ کے دوران ایک تجربہ کار ڈاکٹر صاحب کی بات نے مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا۔ جب انہوں نے کہا کہ اگر کوئی مجھ سے کوئی پوچھے کہ اقوام متحدہ کا دنیا کی سیاست اور دو ملکوں کے تناؤ یا جھگڑے میں کیا رول ہے تو میں کہوں گا کہ اقوام متحدہ ایک بے بس اور وقت ضائع کرنے والا ادارہ ہے اور اس میں آج ہی رات ٹھیک بارہ بجے تالا لگا دینا چاہئے۔ ڈاکٹر صاحب کی بات سے کوئی بھی حیران اور پریشان نہ ہوا بلکہ ایسا محسوس ہوا کہ لنچ ٹیبل پر بیٹھے سبھی لوگ ڈاکٹر صاحب کی بات سے اتفاق کرتے تھے۔ میں بھی کچھ لمحے کے لئے سوچنے لگا کہ آخر ڈاکٹر صاحب نے برجستہ ایسا کیوں کہا اور لنچ ٹیبل پر بیٹھے لوگوں میں سے کسی نے ڈاکٹر صاحب کی بات پر نہ تو بحث کی اور نہ ہی کسی نے اقوامِ متحدہ کی حمایت میں کوئی بات کہی۔ میں نے تبھی طے کیا کہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی خبر کا جائزہ لیا جائے اور میں بھی اس نتیجے پر پہنچا کہ اقوامِ متحدہ واقعی میں ایک ناکارہ اور بے بس ادارہ بن کر رہ گیا ہے۔ جسے عام طور پر لوگ محض اس لئے جانتے ہیں کہ جب کسی ملک میں جنگ یا خانہ جنگی جیسی صورتِ حال ہوتی ہے تو وہاں کے لوگوں کو امداد پہنچانے یا ان کی جان بچانے میں اقوامِ متحدہ اہم رول نبھاتا ہے۔

اس کے علاوہ اگردیکھا جائے تو اقوام متحدہ یا تو کوئی کانفرنس کرا رہی ہے یا دیگر مسائل پر ایک رپورٹ شائع کرتی ہے جو کہ شاید کئی معنوں میں اہم ہیں۔ تو پھر کیوں ایک عام آدمی اقوام متحدہ سے ڈھیر ساری امیدیں لگانے کے باوجود اس پر اعتبار نہیں کرتاہے۔ کیوں لوگ اقوام متحدہ کو امریکہ کا کٹھ پُتلی سمجھتے ہیں۔ کیوں لوگوں میں اقوام متحدہ کی کارکردگی اور کارروائی پر یقین نہیں رہا۔ یہ ساری باتیں ایسی ہیں جس کا میں ان چند جملوں میں جواب نہیں دے سکتا ۔ لیکن  72 ویں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں جس طرح  لیڈر اپنے مخالف ممالک کے خلاف زہر اُگل ر ہے تھے اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ان بیوقوف اور سر پھرے سیاستدانوں نے اقوام متحدہ جیسی اعلیٰ اور کارآمد ادارے کو بھی اپنی نا اہلی اور بد زبانی سے بدنام اور ناکارہ کردیا ہے۔

72ویں جنرل اسمبلی میں تمام اہم باتوں کے علاوہ دہشت گردی سے کیسے نمٹا جائے، اس پر دنیا کے تمام لیڈروں نے اپنی رائے اور موقف کو پیش کیا۔ لیکن بات اس وقت مضحکہ خیز اور خطرناک محسوس ہونے لگی جب امریکہ کے ڈونالڈ ٹرمپ نے کھلے عام طور پر شمالی کوریا کو تباہ کر ڈالنے کی بات کہی۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ہم چاہیں تو شمالی کوریا کو بہت جلد ٹھکانے لگا دیں لیکن ہمارے اند ر طاقت کے ساتھ ساتھ
صبر بھی ہے ۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے اس بات کا بھی یقین دلایا کہ امریکہ فوجی کاروائی کے لئے تیا رہے لیکن انہیں دنیا کے دیگر ممالک سے امیدیں بھی وابستہ ہے کہ وہ شمالی کوریا کو ہتھیار استعمال نہ کرنے کے لئے مجبور کریں گے۔ تاہم جنرل اسمبلی میں موجود امریکی حمایتی لیڈروں اور ممبروں کو ڈونالڈ ٹرمپ کی جارحانہ تقریر سے کچھ حد تک راحت ضرور ملی۔ لیکن شمالی کوریا کے وزیر خارجہ ری ہونگ ہو نے فوراً ہی ڈونالڈ ٹرمپ کی تقریر کے جواب میں کہا کہ ٹرمپ یہ بھول رہے ہے کہ بقول ان کے ‘ راکٹ مین‘ ہمارے لیڈر نے اگر امریکہ پر راکٹ داغ دیئے تو اس کے ذمّہ دار خود ٹرمپ ہوں گے۔  شمالی کوریا کے لیڈر کِم جونگ ان نے کہا کہ ڈونالڈ ٹرمپ کو اس دھمکی کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔

ڈونالڈ ٹرمپ کی تقریر میں الزام تراشی کا سلسلہ شمالی کوریا تک ہی محدود نہیں تھا بلکہ انہوں نے ایران پر بھی الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ایران کے لوگ اپنی حکومت سے تنگ آچکے ہیں۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ دن دور نہیں جب ایرانی لوگوں کے پاس صرف دو ہی راستے ہوں گے۔ ایک غربت کا اور دوسرا خون خرابہ اور دہشت گردی کا۔ ٹرمپ نے سابق صدر اوباما اور ان کے ساتھ پانچ دیگر ممالک کے ایران معاہدہ کو ایک خطرناک ’نیو کلئیر ڈیل‘ کہا اور اسے ایک افسوس ناک معاہدہ قرار دیا۔  تاہم فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے اپنی تقریر میں کہا کہ ایران کے ساتھ نیو کلئیر ڈیل کو مسترد کرنے کا مطلب حالات ایران کے تئیں شمالی کوریا سے بھی بد تر ہو جائے گے۔ جس کے لئے ہم سب ذمّہ دار ہوں گے۔ توقع کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بینجامین نیتن یاہو نے امریکی صدر کی تقریر کو خوب سراہا۔ اورکہا کہ ان کی تمام باتیں قابلِ ستائش ہے۔

اس کے بعد الزام تراشی کا سلسلہ تھما نہیں اور ہندوستانی وزیر خارجہ ششما سوراج نے پاکستان پر دہشت گردی کا الزام لگاتے ہوئے پاکستان کو  (Terroristan) کہہ ڈالا۔ ششما سوراج کا یہ بیان پاکستانی وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی اس تقریر کے جواب میں تھا جس میں انہوں نے ہندوستان پر الزام لگایا تھا کہ ہندوستان کشمیر کے لوگوں پر  ظلم کر رہا ہے۔ جس کے لئے اقوام متحدہ کو ایک خصوصی سفیر مقرر کرنا چاہئے۔

اقوام متحدہ کی 72ویں جنرل اسمبلی کا اجلاس اسی طرح الزام تراشیوں اور ایک دوسرے ممالک کے خلاف غصّہ نکالتے ہوئے اختتام کو پہنچا۔ ان سر پھرے لیڈروں کی تقاریر کو سننے کے بعد ایسا محسوس ہوا کہ اس بار جنرل اسمبلی کا اجلاس کا اہم موضوع ’عام لوگ‘،’ امن کی کوشش ‘اور ’سب کے لئے خوشحال زندگی ‘ نہیں تھا بلکہ ’الزام تراشی‘ تھا ۔ اگر تھوڑی دیر کے لئے آپ روز مرّہ کی خبروں پر دھیان دیں تو آپ کو سوائے افراتفری اور جنگ کے آثار کے علاوہ اور کوئی خبر سننے کو نہیں مل رہی ہے ۔ جس کی وجہ شاید دنیا کے بیشتر ملکوں کے لیڈر یا تو نا اہل یا کٹّر ہیں جس سے ایسے ماحول کا بننا لازمی ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ پچھلے کئی مہینے سے اور خاص کر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جارحانہ باتوں اور پالیسی سے دنیا کے امن پسند لوگوں کا جینا دشوار ہو گیا ہے۔ آئے دن امریکی صدر یا تو جنگ کی دھمکیوں سے اپنی تقریر کا آغاز کرتے ہیں یا پھر اپنی متنازعہ بات سے لوگوں میں بے چینی پیدا کر تے ہیں۔ مجھے تو دنیا کی حالت بگڑتی ہوئی معلوم ہو رہی ہے۔ جس کے ذمّہ دار وہ لیڈر ہیں جنہیں اپنی طاقت پر غرور ہے اور وہ لاپرواہ ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں اقوامِ متحدہ اپنی روایت کو برقرار رکھ پائے گا یا امریکہ اور ان کے اتحادیوں کے دباؤ میں تماشائی بنا رہے گا۔