پاکستانی سیاست کے نشیب و فراز
- تحریر سید تاثیر مصطفیٰ
- سوموار 02 / اکتوبر / 2017
- 4451
ماہِ ستمبر کے ہنگامہ خیز دن جیسے تیسے گزرگئے، اکتوبر کے فیصلہ کن دن سر پر چڑھے آرہے ہیں۔ اکتوبر ہی وہ مہینہ ہے جب پاکستان میں جنرل ایوب خان نے پہلا مارشل لا لگایا تھا اور اکتوبر کا ہی مہینہ تھا جب جنرل پرویزمشرف نے نوازشریف کو اقتدار سے علیحدہ کرکے جیل بھیجا تھا۔ اور اب 2017 کا اکتوبر آگیا ہے جس میں بہت کچھ اسکرپٹ کے مطابق اور بہت کچھ توقع کے خلاف ہوسکتا ہے۔
جو توقع کے مطابق ہے اُس کا ذکر بے کار ہے، جو اسکرپٹ کے مطابق ہے وہ ہونا ہی ہے اور اُس کے نتائج معلوم ہیں۔ مگر جو توقع کے مطابق نہیں ہوگا اُس پر سب کو تشویش بھی ہے اور فکرمندی بھی۔ وزیرخزانہ پر فردِ جرم عائد ہوچکی اب اُن پر وزارت سے استعفے کے لیے دباؤ بڑھے گا۔ ممکن ہے کہ یہ دباؤ اتنا بڑھے یا وہ خود اپنے اعصاب کے اتنے دباؤ میں آجائیں اور ان کی پارٹی مسلم لیگ (ن) نئے نئے محاذ کھولنے سے گریز کرتے ہوئے اُن سے استعفیٰ کے لیے کہہ دے۔ ایسا ہوتا ہے تو اپوزیشن کے حوصلے بڑھ جائیں گے جو حلقہ این اے 120 میں شکست سے دباؤ میں آئی ہے۔ اکتوبر کے آغاز ہی میں سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے صدر ہوتے ہوئے بھی اس کا اظہار یا اعلان نہ کرنے پر مجبور میاں نوازشریف پر بھی فردِ جرم عائد ہونے والی ہے ۔ اکتوبر کے شروع میں یہ فیصلہ بھی ہوچکا ہوگا کہ نوازشریف فیملی کے خلاف ایون فیلڈ پراپرٹیز، العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انوسٹمنٹ ریفرنسز میں شریک ملزمان حسن نواز، حسین نواز، مریم نواز اور کیپٹن صفدر کا کیا مستقبل ہے جن کے فی الحال عدالت نے 10لاکھ روپے کے مچلکے پر قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں اور انہیں 2اکتوبر کو پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ تاہم اُس وقت تک یہ واضح ہوچکا ہوگا کہ انہیں پیشی سے استثنا ملتا ہے یا نہیں۔
اکتوبر کے نیم گرم مہینے میں سب سے اہم بات یہ ہوگی کہ امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق اپنے اعلان کے مطابق نیب دفاتر کے باہر دھرنا دیں گے۔ کیونکہ 11ستمبر کی احتساب ریلی پر اُن کا اعلان تھا کہ پاناما کیس کے کُل 436 کرداروں کے خلاف کارروائی کی جائے اور نیب ملزمان کے خلاف تیزی سے کارروائی کرے، جو اُس وقت تک نہیں کررہا تھا۔ اگرچہ اکتوبر میں پاناما کے باقی کرداروں کے خلاف تو شاید کارروائی شروع نہ ہوسکے لیکن اگر نوازشریف خاندان کے خلاف قابلِ اطمینان انداز میں کارروائی آگے بڑھتی ہے، حدیبیہ ملز اور سانحۂ ماڈل ٹاؤن کی انصاف پر مبنی کارروائی ہوتی ہے تو شاید سراج الحق مطمئن ہوجائیں اور دھرنا ملتوی کردیں۔ لیکن اگر وہ مطمئن نہیں ہوتے تو کیا ہوگا۔ کیونکہ ایک حلقہ یہ کہہ رہا ہے کہ نوازشریف کی وطن واپسی اور نیب عدالت میں پیشی کسی درپردہ مفاہمت کا ہی نتیجہ ہے۔ ان حلقوں کاکہنا ہے کہ نوازشریف حقیقتاً اسی سوچ کے ساتھ ملک سے باہر گئے تھے کہ وہ نیب عدالتوں میں پیش نہیں ہوں گے۔ اُن کی دلیل یہ تھی کہ انہیں سپریم کورٹ سے انصاف نہیں ملا تو نیب سے کیسے ملے گا۔ انہیں انتقامی کارروائیوں اور ناانصافی کا خدشہ تھا اس لیے وہ لندن میں بیٹھ کر گولہ باری کرنا چاہتے تھے جہاں اب اُن کے خاندان کے تقریباً تمام لوگ پہنچ چکے ہیں۔
نواز شریف کی اہلیہ کی بیماری خاصی پریشان کن ہے لیکن خاندان پر مقدمات اور پیشیوں کا دباؤ اس سے بھی زیادہ ہے۔ نوازشریف کا خیال تھا کہ عوام میں ان کی مقبولیت میں کمی نہیں آئی۔ عمومی طور پر عام آدمی اسٹیبلشمنٹ کے مقابلے میں سیاست دانوں اور سیاسی جماعتوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ ان کی پارٹی کے جیالے بھی متحرک ہوکر مزاحمت کی سیاست کریں گے۔ مگر وہ اس نکتے کو نظرانداز کررہے تھے کہ ان کی پارٹی کے تقریباً تمام پارلیمنٹیرین (سوائے دو چار کے) مزاحمت کے لیے تیار نہیں۔ بیشتر کے اسٹیبلشمنٹ سے رابطے ہیں۔ انہیں پورا پورا ادراک ہے کہ ان کی کامیابی اور پارٹی کی مقبولیت میں اسٹیبلشمنٹ کا پورا پورا ہاتھ ہے۔ اور اگر اسٹیبلشمنٹ نے یہ ہاتھ اٹھالیا تو ان کا اور ان کی پارٹی کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔ چنانچہ گردش کرنے والی افواہوں کے مطابق اِس بار بھی پارٹی کے متعدد اہم لوگوں نے اسٹیبلشمنٹ سے نہ صرف رابطہ کیا بلکہ اپنے لیے رہنمائی اور گائیڈلائن طلب کی۔
دوسری جانب وفاق، پنجاب، بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں مسلم لیگی حکومتیں بھی اس کمزوری کو سمجھ رہی تھیں اور اسٹیبلشمنٹ سے کسی ٹکراؤ کے لیے آمادہ نہیں تھیں۔ بلکہ اس کی مدد کی طلب گار تھیں۔ چودھری نثار نے اس دوران کھل کر اپنی رائے کا اظہار کردیا کہ وہ پہلے دن سے مفاہمت اور اداروں کو ساتھ لے کر چلنے کا مشورہ دیتے رہے ہیں۔ شہبازشریف اس معاملے میں زیادہ حساس تھے۔ چنانچہ پانی سر سے گزر جانے کے باوجود انہوں نے اشتعال نہیں دکھایا۔ وہ مفاہمت کے لیے کوشاں رہے۔ ان کا خیال تھا کہ ٹکراؤ سے نہ صرف شریف خاندان کو شدید نقصان ہوگا کہ بہت سے معاملات قابلِ گرفت ہیں۔ دوسرے، اس ٹکراؤ کے لیے لیگی کارکن نہ تو تیار ہیں نہ یہ کام اُن کے مزاج کے مطابق ہے۔ وہ بہت جلد تھک ہارکر مایوس ہوجائیں گے۔ تیسرے، اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ لڑائی کی صورت میں مسلم لیگ (ن) کی وفاق، پنجاب، بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی حکومتیں نہ صرف شدید دباؤ میں رہیں گی بلکہ ان میں توڑپھوڑ کا آغاز ہوجائے گا جو بند مٹھی میں ریت کی طرح ہوگا کہ ذرا سی مٹھی کھلنے کے بعد ساری کی ساری ریت باہر نکل سکتی ہے۔ ان کا یہ بھی خیال تھا کہ ارکانِ اسمبلی اور بلدیات کے منتخب ارکان کو بھی مزاحمت کی صورت میں اکٹھا رکھنا مشکل ہوگا کہ یہ تمام کے تمام دوسری جماعتوں پر مشکل وقت آنے پر مسلم لیگ (ن) کی چھتری تلے اکٹھے ہوئے تھے۔ یہاں برا وقت آیا تو یہ واپس محفوظ پناہ گاہوں کی طرف نکل جائیں گے۔
ان ہی خدشات اور بہت سی ٹھوس اطلاعات کی بنا پر نوازشریف کے لندن جانے کے بعد شہبازشریف نے چودھری نثار سے ملاقات کی اور اُن کی شکایات پر معافی تلافی کے علاوہ مستقبل میں ازالے کی یقین دہانی کرائی۔ ممکن ہے اس موقع پر انہوں نے نوازشریف اور چودھری نثار کی بات بھی کرائی ہو۔ وہ چودھری نثار کو اس موقع پر ساتھ چلنے پر راضی کرنے میں کامیاب رہے، کیونکہ چودھری نثار کا پارٹیاں بدلنے کا تجربہ نہیں ہے اور ان کے پاس کوئی دوسرا بہتر آپشن بھی نہیں ہے۔ پھر چودھری نثار جو اسٹیبلشمنٹ کے نمائندے سمجھے جاتے ہیں اور جن کے بارے میں خورشید شاہ بار بار کہتے ہیں کہ وہ کسی اور کے بندے ہیں، وہ اس موقع پر اسٹیبلشمنٹ سے ٹکراؤ کے متحمل نہیں ہوسکتے تھے۔ وہ کسی بھی موقع پر اس طرح کی پالیسی کے حامی نہیں رہے۔ زبانی گولہ باری کے دنوں میں بھی اہم جگہوں پر رابطے میں تھے۔ چنانچہ شہبازشریف اور چودھری نثار نے اطلاعات کے مطابق آرمی چیف سے بھی ملاقات کی جس کے بعد شہبازشریف ایک ہفتے میں دوسری بارلندن گئے۔ بڑے بھائی کو پگھلتی برف کے بارے میں بتایا اور پاکستان آنے اور نیب عدالتوں میں پیش ہونے پر راضی کیا۔ ان کا خیال تھا کہ اس طرح آہستہ آہستہ برف پگھل جائے گی۔ ایسی صورت میں نیب کو بھی مینیج کرنے کی چوائس موجود ہے۔
وفاق اور چار صوبوں کی حکومتیں اس میں اپنا کردار بھی ادا کرسکتی ہیں اور بگڑے تعلقات کو معمول پر بھی لاسکتی ہیں۔ دوسری صورت میں آئندہ انتخابات سے قبل ہی بڑی تعداد میں سیاسی پنچھی اڑ جائیں گے اور 2018 کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) انتخابی میدان میں کوئی قابلِ ذکر کامیابی حاصل نہیں کرسکے گی۔ یہی وہ معاملات تھے جن کے بعد نوازشریف نے وطن واپسی کا فیصلہ کیا اور ڈرے ہوئے اسحاق ڈار کو بھی ساتھ ہی طیارے میں بٹھالیا۔ دوسری جانب اس کارروائی کا مثبت پہلو فوراً سامنے آگیا۔ اسحاق ڈار اور شریف فیملی جن کی پیشی کے لیے نیب عدالتوں نے ان کے گھروں پر وارنٹ چسپاں کردیئے تھے اور جن کی جائدادیں قرق کرنے کے حکم جاری ہورہے تھے، وہاں پیشی کے فوری بعد نہ صرف اسحاق ڈار کی ضمانت ہوئی بلکہ نوازشریف کو صرف حاضری لگانے پر جانے کی اجازت بھی دے دی گئی۔
اس ساری صورتِ حال کو بہت سے حلقے شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ کسی نہ کسی سطح پر معاملات کو ٹالنے یا وقت دینے کا عمل شروع ہوچکا ہے۔ ایسی ہی کسی فضا میں مریم، حسن، حسین اور صفدر بھی پیش ہوسکتے ہیں۔ ان کو وقت ملتا جائے گا۔ نیب پاناما کیس کے دوسرے کرداروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرسکے گا کہ وہ متذکرہ بالا کیسوں میں زیادہ مصروف ہوگا۔ شاید ان ہی خدشات کے پیش نظر عمران خان نے فوری انتخابات کرانے (مڈٹرم الیکشن) کا مطالبہ کردیا ہے، جس کی کسی بڑی سیاسی جماعت نے تاحال تائید نہیں کی۔ دوسری جانب بعض حلقوں کا خیال ہے کہ کرپشن اور لوٹ مار کی دولت پر ہر صورت ہاتھ ڈالا جائے گا، کیونکہ یہ پیسہ دہشت گردی میں استعمال ہورہا ہے۔
آصف زرداری کی بریت کے خلاف نیب کی زیادہ سخت اپیل اس کا ثبوت ہے۔ مالی کرپشن پر ہونے والی گرفت سے نہ شریف خاندان بچے گا اور نہ کوئی اور۔ اسحاق ڈار حدیبیہ کیس میں اور شہبازشریف ماڈل ٹاؤن سانحہ میں رگڑا کھائیں گے اور اگلے مرحلے میں پاناما کے دوسرے کرداروں پر بھی ہاتھ ڈالا جائے گا۔ اس ماحول میں سراج الحق کا دھرنا ہوسکے گا یا نہیں، اس بارے میں سرِدست کچھ کہنا مشکل ہے۔