خاندانی حاکمیت بمقابلہ جمہوری سیاست
- تحریر سلمان عابد
- بدھ 04 / اکتوبر / 2017
- 4054
سیاسی جماعتیں، ان کی قیادت اور کارکنان جب سیاسی جماعتوں کو ادارہ جاتی سطح پر مضبوط کرنے کی بجائے فرد واحد یا شخصیت پرستی کی بنیاد پر آگے بڑھتی ہیں تو ان جماعتوں کی داخلی جمہوریت کا سوال بہت پیچھے رہ جاتا ہے ۔ یہ مسئلہ محض کسی ایک سیاسی جماعت کا نہیں بلکہ ہم اس بحران کو تمام جماعتوں میں دیکھتے ہیں جو فرد واحد کے درمیان گھری نظر آتی ہے ۔
ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ یہاں سیاسی جماعتوں کو اسٹیبلیشمنٹ کی مداخلت کی وجہ مضبوط ہونے کا موقع نہیں مل سکا ۔ یقیناً اس میں صداقت بھی ہے مگر سیاسی جماعتوں کی قیادت اپنی جماعتوں کو اپنی ذاتی خواہش ، مفاد اور موقع پرستی کی بنیاد پر استعمال کرتی ہیں اس کا بھی برملا ماتم ہونا چاہیے ۔ یہ عجیب بات ہے کہ ہم اپنی ناکامیوں میں خارجی مسائل پر تو بہت وایلا کرتے ہیں ، مگر اپنی کوتاہیوں اور ناکامیوں پر پردہ ڈال کر خود کو جمہوریت کا بڑا علمبردار سمجھتے ہیں ، جو مکمل سچ نہیں ۔ نواز شریف سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت نااہل ہوئے تھے اور اس نااہلی کی بنیاد پر نہ تو وہ دوبارہ انتخاب لڑسکتے تھے اور نہ ہی ان کو اپنی جماعت کی سربراہی کا حق حاصل تھا ۔ اس عدالتی فیصلہ کو نواز شریف اور ان کے ساتھیوں نے چیلنج بھی کیا لیکن عدالت کا فیصلہ دوبارہ ان ہی کے خلاف آیا ۔ خیال تھا کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت کے فیصلے کے احترام میں نواز شریف اور ان کی جماعت کسی نئے فرد کو قیادت کی ذمہ داری دیتی۔ لیکن بادشاہت کی سیاست میں ایسا ممکن نہیں ہوتا۔ ایسی صورتحال میں جب قیادت کو کڑوی گولی ہضم کرنا پڑے تو فیصلہ خاندان تک ہی محدودرہتا ہے ۔ لیکن نواز شریف اول قیادت کی تبدیلی میں اپنے ہی بھائی شہباز شریف پر بھی اعتماد نہیں کرتے تھے ۔ دوئم ان کا خیال اپنی بیٹی مریم نواز پر تھا ، لیکن پارٹی میں ان کے خلاف موجود تحفظات نے یہ فیصلہ نہیں ہونے دیا ۔ نواز شریف اور مریم کا خیال تھا کہ اگر قیادت کا فیصلہ ان کے ذاتی خاندان سے باہر کیا گیا تو اس سے اسٹیبلیشمنٹ کا نئی قیادت کو کنٹرول کرلے گی۔
اس تناظر میں نواز شریف کی خواہش تھی کہ کسی طرح اپنے سیاسی مستقبل کے لیے پارٹی قیادت کو اپنی ذات تک ہی محدود رکھا جائے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے ۔ لیکن مسئلہ قانونی پیچیدگیوں کا تھا اور اس کو ختم کیے بغیر نواز شریف دوبارہ پارٹی قیادت کے اہل نہیں ہوسکتے تھے۔ اس قانونی پیچیدگی کو دور کرنے کے لیے نواز شریف اور ان کے قریبی ساتھیوں نے سیاسی حکمت عملی ترتیب دی۔ اس کے لیے حالیہ دنوں میں انتخابی اصلاحات کے بننے والے قانون کو اپنے حق میں بطور ’’ ہتھیار’’ استعمال کیا۔ یہ کام سینٹ میں دیگر سیاسی جماعتوں کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں تھا ۔ سینٹ سے قانونی منظوری کے بعد قومی اسمبلی سے منظوری کے لیے نواز شریف کے لیے کوئی خطرہ نہیں تھا۔ اصل مسئلہ سینٹ سے منظوری کا تھا ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سینٹ اور قومی اسمبلی دونوں نے اس مطلوبہ قانونی سہولت کے لیے نواز شریف کی حمایت میں راستہ ہموار کیا۔ یہ فیصلہ سیاست اور جمہوریت سے زیادہ فرد واحد کے لیے فیصلہ تھا ۔
انتخابی اصلاحاتی بل 2017 کا مقصد انتخابی اصلاحات سے زیادہ اس وقت مقصد نواز شریف کی قیادت کو تحفظ فراہم کرنا تھا ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اول نواز شریف کی نااہلی کی مدت پانچ برس اور دوئم پارٹی صدر پر برقرار رہنے کے لیے قانون کا سہارا لیا گیا ۔ یہ کام قانون اور پارٹی کے آئین دونوں میں ترمیم کی صورت میں ہی ممکن تھا۔ سینٹ سے اس قانون کی منظوری حکومت مخالف جماعتوں کی حکومت سے پس پردہ مفاہمت، سمجھوتے کی سیاست یا نااہلی کے بغیر ممکن نہ تھی ۔ اگر پوری حزب اختلاف سینٹ میں موجود ہوتی تو اس قانون کی منظوری ممکن نہ تھی ۔ مگر بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ارکان کی عدم شمولیت اور بائیکاٹ میں حکومتی حکمت عملی پوشیدہ تھی ۔ اب اس قانون کے تحت مسلم لیگ (ن) کے اپنے آئین میں ترمیم کی گئی ہے کہ کوئی بھی نااہل شخص پارٹی کا سربراہ بن سکتا ہے ۔
سیاست اورجمہوریت میں جب بادشاہت پر مبنی نظام اور طرز عمل کی بات کی جاتی ہے تو اس کی ایک مثال ہمیں پاکستان کی سیاسی جماعتو ں میں دیکھنے کو ملتی ہے ۔ اس کا عملی مظاہرہ نواز شریف اور ان کی جماعت نے دکھایا ہے ۔ نواز شریف کے بقول ’’ مجھے بار بار نکالا جاتا ہے لیکن عوام اور جماعت مجھے بار بار لے آتی ہے۔‘‘ اس سے مراد سیاسی حکمرانی ہے ، جبکہ قانون کی حکمرانی کا عمل بہت ہی پیچھے چلا جاتا ہے ۔ اگرچہ نواز شریف اور ان کے حامی اسے جمہوریت کی فتح قرار دیتے ہیں ، جبکہ سیاسی پنڈتوں کے بقول نواز شریف کا یہ عمل بدعنوانی پر مبنی سیاست اور شخصی قیادت کے زیر اثر پارٹی کی زور زبردستی ہے ۔ وزیر داخلہ احسن اقبال کے بقول ہم نواز شریف کی ذات سے نہیں بلکہ ان کی سوچ کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ نواز شریف کی سوچ محض ان کی ذات اور خاندان تک محدود ہے ، احسن اقبال سمیت کئی مسلم لیگی ایسے ہیں جو اس خاندانی سیاست کے شکنجے میں جکڑے ہوئے ہیں ۔
ایک طرف انتخابی اصلاحات کا بل منظور ہوا ہے تو دوسری طرف یہ ہی بل سپریم کورٹ میں حکومت مخالف قوتوں نے چیلنج بھی کردیا ہے۔ اس طرح سیاسی فیصلوں میں عدم اتفاق کی بنا پر یہ معاملہ پھر ایک دفعہ سپریم کورٹ کی کورٹ میں چلا گیا ہے ۔ اب دیکھنا ہوگا کہ سپریم کورٹ اس پر کیا فیصلہ سناتی ہے ۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب سیاسی جماعتیں خود عدم اتفاق کی پالیسی اختیار کریں گی تو معاملات کا کورٹ میں جانا فطری امر ہے۔ پھر عدلیہ پر تنقید کی جاتی ہے کہ وہ سیاسی معاملات میں مداخلت کررہی ہے یا اس نے سیاسی نظام میں اپنی بالادستی بنالی ہے۔ سوال یہ ہے کہ حکومتیں ایسا طرز عمل کیوں اختیار کرتی ہیں کہ معاملات جمہوری طریقے سے حل ہونے کی بجائے عدلیہ میں جائیں اور پھر اس پر سیاسی جنگ کا بازار سجایا جائے ۔ خود حکومت مخالف جماعتوں کے بقول ہم نے جو ترامیم پیش کی تھیں، اسے مسترد کردیا گیا ہے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ مجموعی طور پر حکومت مخالف جماعتوں نے اس بل کی منظوری کی مخالفت کی ہے ۔
بنیادی طور پر نواز شریف کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ سیاسی طور پر معاملات کو اپنے کنٹرول میں کرنا چاہتے ہیں ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ سیاسی جماعت پر ان کی قیادت کا کنٹرول ان کی سیاسی مجبوری تھی۔ پارٹی نے ان کی ضرورت کو پورا کیا ہے ۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ دنیا میں ہمیں کوئی ایسی مثال نہیں ملتی جس کی جھلک ہمیں حالیہ پارٹی انتخاب میں پاکستان کو دیکھنے کو ملی ہے ۔ اب حالیہ پارٹی انتخاب میں کامیابی کے بعد اب مسئلہ یہ ہے کہ اس سے سیاسی محاز آرائی کم نہیں ہوگی بلکہ اس میں اور زیادہ شدت بھی دیکھنے کو ملے گی ۔ اب یہ لڑائی محض سیاسی جماعتوں تک ہی محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کے کچھ مظاہرے ہمیں اداروں کی سطح پر بھی دیکھنے کو ملیں گے۔ نواز شریف کا یہ بیان آپ مجھے نکالتے رہیں اور عوام مجھے لاتی رہے گی ، واضح اشارہ ہے اسٹیبلیشمنٹ کی جانب کہ وہ ان کے خلاف سازشوں کا حصہ ہے ۔
اگرچہ سیاسی جماعتوں کے پاس یہ حق ہوتا ہے کہ وہ اپنی مرضی اور منشا کے مطابق اپنی قیادت کا انتخاب کریں لیکن اس میں کچھ سیاسی اصول، کچھ قوانین اور ضابطے بھی ہوتے ہیں ۔ اگر سیاسی جماعتیں اور ان کی قیادت ان کو پامال کرکے آگے بڑھتی ہیں تو اس سے جمہوری عمل مضبوط نہیں بلکہ کمزور ہوتا ہے ۔ یہ عمل ظاہر کرتا ہے کہ ہماری جماعتیں ادارہ جاتی سطح پر کم سوچتی ہیں اور ان کی سوچ کا محور ان کی قیادت کی ذات تک تابع ہوتا ہے ۔ یہ مسئلہ کسی ایک جماعت کی سیاسی قیادت کے انتخاب کا نہیں بلکہ ایک واضح سیاسی قیادت کے مائنڈ سیٹ کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔ ہم سیاست اور جمہوریت کے فریم ورک میں کہاں کھڑے ہیں اور اس کا عملی نقصان ہمیں مستقبل کی سیاست میں دیکھنے کو ملے گا۔
پاکستان میں جمہوریت اور سیاست کو مضبوط کرنے والے طبقہ کو اس مسئلہ پر خاموش رہنے کی بجائے ایک مضبوط آواز بن کر اس حالیہ فیصلہ پر مزاحمت کرنی چاہیے ۔ یہ پیغام سیاسی جماعتوں سمیت سیاسی کارکن ، میڈیا اور اہل دانش کی طرف سے جانا چاہیے کہ نواز شریف اور مسلم لیگ کا یہ فیصلہ جمہوری سیاست اور قانون کی حکمرانی کے برعکس ہے اور اس کا نقصان ہر سطح پر جمہوریت کو ہی ہوگا۔