ہم کریں تو دہشت گرد ، تم کرو تو بیمار!
- تحریر شیخ خالد زاہد
- بدھ 04 / اکتوبر / 2017
- 3800
دوہرا میعار استحکام سے دور لے جاتا ہے کیونکہ سچائی یا حقائق آج کل چھپائے نہیں چھپ رہے۔ دنیا کے کسی بھی کونے میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات ہم پاکستانیوں کی نیندیں اڑا دیتی ہیں جس کی وجہ ہونے والی دہشت گردی نہیں بلکہ اس دہشت گردی کا تانا بانا ہمارے ہی کسی بھائی سے جوڑے جانے کا اندیشہ یا خوف ہوتا ہے۔ 9 ستمبر 2001 سے لے کر آج تک ہم پاکستانی سکون کا سانس نہیں لے سکے۔ اس کے برعکس امریکی شہری کچھ دنوں کا سوگ مناکر اپنی خر مستیوں میں مصروف ہوگئے ۔
یہ بات دنیا سے ڈھکی چھپی نہیں کہ امریکہ اپنی بقا کی جنگ پاکستان کے ذریعے لڑ رہا ہے اور پاکستان بھی امریکہ کو کندھے پر بٹھا کر سمجھ رہا ہے کہ وہ بھی دنیا میں اہم مقام حاصل کئے ہوئے ہے۔ جبکہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ امریکہ شاید ہی ابھی تک کسی ملک پر اپنی چاہ کے مطابق اپنا باقاعدہ تسلط قائم کر سکا ہے۔ ایسا تسلط جس کا خواب نا معلوم کب سے امریکی تھنک ٹینک اپنی آنکھوں میں سجائے ہوئے ہیں۔ اس خواب کی تعبیر بنتے بنتے کتنے ہی ادوار گزر گئے ہیں مگر تعبیر کا کہیں دور دور تک کچھ پتہ نہیں ہے۔ یہ ضرور ہوا ہے کہ دنیا کا امن و سکون تباہ وبرباد ہو کر رہ گیا ہے۔ جس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں پاکستان سرِ فہرست ہے۔
گزشتہ دنوں امریکہ کی ریاست نویڈا کے شہر لاس ویگاس میں ایک انتہائی دل خراش واقع رونما ہوا جس میں تقریباً 60 زندگیاں موت کی آغوش میں چلی گئیں اور 500 کے قریب لوگ زخمی حالت میں ہسپتالوں میں منتقل کئے گئے ہیں۔ جن میں سے یقیناً کچھ کی حالت بھی تشویناک حد تک خراب ہوسکتی ہے۔ ایک مقامی فرد نے اپنی گن سیدھی کی اور اس مجمع پر گولیوں کی بارش کردی جس کی زد میں آکر اور بھگدڑ مچنے کی وجہ سے اموات کی ایک طویل فہرست مرتب ہوگئی۔ یہ واقعہ ایک میوزک فیسٹیول کے موقع پر ہؤا۔ وہاں موجود لوگوں کے بیانات کے مطابق ایسا لگا جیسے گولیوں کی بارش شروع ہورہی ہو۔ پھر ہرطرف چیخ و پکار اور بھگدڑمچ گئی۔ یہ ایک انتہائی افسردہ کرنے والی خبر تھی۔ اکثر پاکستانیوں کے ذہنوں میں خبر دیکھتے ہی جس خیال نے سر اٹھایا وہ وہی تھا کہ کسی طرح جلدی سے اس واقعہ کے ذمہ دار کا کم از کم نام پتہ چل جائے تاکہ آگے ہونے والے عملی اقدامات کا اندازہ لگایا جا سکے۔ جو نام نکلا وہ وہاں کہ ایک مقامی اور غیر مسلم فرد کا تھا۔ اس کا نام سٹیون پیڈک نامی شخص تھا جس کی عمر تقریبا 64 سال بتائی جارہی ہے جو کہ نہ تو فوجی تھا اور نہ ہی کسی عسکری کارروائی میں ملوث تھا۔
بین الاقوامی میڈیا پر شائع ہونے والی تصاویر کے مطابق جس ہوٹل (مینڈالا بے) میں یہ شخص ٹھہرا ہوا تھا وہاں تو جیسے اسلحہ کی دکان لگی تھی۔ سب سے پہلے تو یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ اتنا اسلحہ ہوٹل کے 32 ویں فلور تک پہنچا کیسے۔ یہ شخص دنیا کے طاقتور حفاظتی اداروں کی آنکھ سے زیادہ دیر نہیں محفوظ رہ سکتا تھا اور ایساہی ہوا اسے اس کے کمرے میں ہی موت کے گھاٹ اتار دیاگیا۔ مگر ابھی یہ معمہ حل ہونا چاہئے کہ ایک عام سا فرد کس محاذ پر کام کر رہا تھا اور کیوں اپنے ہی جیسے لوگوں کی جان لینے کے درپے ہوا۔ بہت جلد امریکہ کے چاک و چوبند تحقییقی ادارے اس راز پر سے پردہ ہٹادیں گے لیکن کیا دنیا کو بھی بتائیں گے۔
گزشتہ کئی ماہ کا جائزہ لیں تو امریکہ میں اس طرح کے کئی واقعات رونما ہوئے ہیں جن میں بعض افراد نے نامعلوم وجہ سے انسانی زندگیوں کو موت کے منہ میں دھکیل دیا۔ امریکہ میں اسلحہ رکھنے کی ممانعت نہیں ہے اس لئے ایسے واقعات کو عملی جامہ پہنانا بھی مشکل کام نہیں ۔ غور طلب بات یہ ہے کہ دنیا کے ترقی یافتہ ملک کے شہر میں جہاں یقیناً دنیا کی ہر آسائش میسر ہوگی اور اس شہر میں اتنی بڑی خونریزی کی واردات نہ صرف آمریکہ بلکہ دنیا کے ان تمام ممالک کیلئے آنکھیں کھولنے کیلئے ہے جو اپنے ملک کے باشندوں کو آسائشیں دے کر اپنی ذمہ داری سے خود کو بری الذمہ سمجھ رہے ہیں۔ اگر کسی ایسی یا اس سے ملتی جلتی واردات میں کوئی مقامی مسلمان نکل آتا ہے تو وہ دہشت گرد اور اس کی کی جانے والی کارروائی کو فوری طور پر دہشت گردی کہہ دیا جاتا ہے۔ جبکہ لاس ویگاس اور اس طرح کی دیگر کارروائیوں کو دہشت گردی کہنے تک سے گریز کیا جاتا ہے ۔
دینا کا یہی دوہرا معیار مشکلات کا سبب بن رہا ہے۔ آخر ایسی کون سی مصیبت آگئی ہے کہ نفسیاتی لوگ اپنے ہی لوگوں پر گولیاں برساتے پھر رہے ہیں ۔ ترقی یافتہ ممالک کے تھنک ٹینک بیٹھے پاکستان کے استحکام کو نقصان پہنچانے کیلئے سوچ بچار میں مصروف رہتے ہیں۔ ذرا یہ بھی تو سوچیں کہ آپ کی نسل کو نفسیاتی مریض کون بنا رہا ہے۔ کہیں اس کے ذمہ دار آپ لوگ ہی تو نہیں ہیں۔ آخر کب تک ہمیں دہشت گرد اور اپنے لوگوں کو بیمار کہہ کر جان چھڑاتے رہیں گے۔ ایک دن یہ سارے بیمار مل کر آپ کی پالیسیوں کے خلاف ہی بغاوت نہ کردیں۔