پاکستان کا سیاسی بحران

پاکستانی سیاست ہر گزرتے دن کے ساتھ گنجلک ہوتی جا رہی ہے ۔ پیچیدگیاں بڑھ رہی ہیں اور بظاہر معاملات حل ہوتے نظر نہیں آ رہے۔ ڈان لیکس کے افشا کے بعد سے پورا ملک ایک بے یقینی کی صورتِ حال سے دوچار ہے اور ہر روز یا ہر ہفتے ایسی بے یقینی کی صورتِ حال پیدا ہو جاتی ہے کہ عام آدمی کو لگتا ہے کہ ہم اس صورتِ حال سے نہیں نکل سکیں گے۔ ابھی یہ صورتِ حال بہتر نہیں  ہوتی، محض اس کی شدت کم ہوتی ہے کہ کوئی نیا مسئلہ سر اٹھا لیتا ہے۔ یہ سارے مسائل ایک تو ملکی حالات اور سیا ست میں ہلچل پیدا کیے رکھتے ہیں۔ دوسرے سیاست دان اور میڈیا انہیں اس انداز میں پیش کرتے ہیں کہ اُن کی سنگینی سے انکار ممکن نہیں ہوتا اور پورا سسٹم اُس سے متاثر ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔ اصل صورتِ حال کیا ہوتی ہے یہ اللہ ہی جانتا ہے۔

یہاں عام طور پر ایک سوال کیا جاتا ہے کہ یہ ہلچل پیدا کرنے والے مسائل کیا اتفاقاً آ جاتے ہیں یا انہیں باقاعدہ گھڑا جاتا ہے یا تلاش کیا جاتا ہے اور پھر منصوبہ بندی کے تحت انہیں پاکستانیوں کے اعصاب پر سوار کر دیا جاتا ہے۔ یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ ایسی صورتِ حال پیدا کرنے والے کون لوگ ہیں اور اُن کے کیا مقاصد ہیں اور اس سے بھی اہم سوال یہ سر اٹھاتا ہے جو جاننے سمجھنے والے حلقے ہیں، جو اصل معاملے کو سمجھتے ہیں کہ اُن کی معلومات درست اورتجزیہ پیشہ وارانہ ہوتا ہے وہ اصل صورتِ حال اوراس کے محرکین کے بارے میں قوم کو آگاہ کیوں نہیں کرتے۔ اورکیا وہ ایسا کر نہیں سکتے یا انہیں اس سے روکا جاتا ہے۔ ان سوالات پر ہم سب کو غور کرنا چاہیے اور اِن کے جوابات تلاش کرنے چاہییں کہ یہ ہماری قومی زندگی کی بقا کا سوال ہے۔ ان تمام سوالوں کے جوابات جو بھی ہیں، ایک بات طے ہے کہ اس ساری صورتِ حال سے بے یقینی اور کنفیوژن جنم لیتی ہے۔ اس کا فائدہ کسے ہے، اس پر غور کرنے کی ضرورت نہیں کہ کنفیوژن اور بے یقینی سے دشمن فائدہ اٹھاتا ہے جبکہ خیرخواہ فکرمند اور کنفیوژ ہوتے ہیں۔

اس وقت بھی ایسی صورتِ حال ہے۔ پانامہ کیس میں نااہلی کے بعد نوازشریف معزول ہو چکے ہیں۔ لاہور بذریعہ جی ٹی روڈ آمد کے موقع پربھی انہیں عوام کی معقول تعداد نے پذیرائی دی۔ اگرچہ یہ تعداد فیصلہ کن نہیں تھی، لیکن اتنی کم بھی نہیں تھی کہ اسے نظرانداز کردیا جائے۔ نوازشریف، اُن کی بیٹی مریم اور مسلم لیگ نون کے مشتعل رہنما عدالتی فیصلے کو عوامی سطح پر چیلنج کر رہے ہیں۔ وفاق، پنجاب، بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں مسلم لیگ نون کی حکومتیں قائم ہیں جس کے سربراہ کو نااہل قرار دے کر گھر بھیجا جا چکا ہے۔ سردست یہ وفاقی اور چار صوبائی حکومتیں نوازشریف کے ساتھ ہیں، اُن کو اپنا رہنما تسلیم کرتی ہیں بلکہ یہ تاثر دیتی ہیں کہ وہ اُن ہی کی ہدایت اور رہنمائی میں کام کر رہی ہیں۔ قومی اسمبلی میں وہ بل منظور ہو چکا ہے جس کے تحت نااہل شخص پارٹی سربراہ رہ سکتا ہے۔ یہ بل یقیناً سپریم کورٹ میں چیلنج ہوگا اور اس طرح ایک سیاسی جماعت اور عدلیہ کے درمیان جو لڑائی چل رہی تھی، وہ پارلیمنٹ اور عدلیہ کی لڑائی میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ یہ بل دانستہ یا نادانستہ طور پر پیپلزپارٹی اورتحریک انصاف کی باقاعدہ حکمت عملی کے تحت ہی منظور ہو سکا۔

دوسری جانب تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان پر نااہلی کیس میں مشکل وقت آ پڑا ہے۔ جمعرات کے دن ہونے والی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے جج صاحبان کے سوالات اور ریمارکس سے موڈ کا اندازہ ہو سکتا ہے، ساتھ ہی قائد حزبِ اختلاف کو تبدیل کرنے کی تحریک بھی ہے اور یہ بلاوجہ نہیں ہے۔ پیپلزپارٹی کے آصف زرداری کی نیب ریفرنس میں بریت کے بعد نیب نے اس فیصلے کے خلاف انتہائی سخت اپیل دائر کی ہوئی ہے جبکہ شریف خاندان اور اسحاق ڈار پہلے ہی نیب ریفرنسز میں مشکلات کا شکار ہیں۔ اسی عرصے میں آئی بی کے سربراہ کی لندن میں نوازشریف سے ملاقات کے بعد عمران خان اُن سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ آئی بی کے موجودہ سربراہ کو نیب کا چیئرمین بنانے کی خبریں بھی گرم ہیں۔

امیر جماعت اسلامی  سراج الحق پانامہ کے تمام کرداروں کے خلاف کارروائی کے لیے زور دے رہے ہیں اور اطلاعات کے مطابق آئی بی اور فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے درمیان بھی تعلقات کشیدہ ہیں۔ اس طرح ایک عجیب قسم کی کشمکش موجود ہے۔ سیاسی جماعتوں کے درمیان محاذ آرائی معمول کی بات ہوتی ہے۔ پارلیمنٹ کے اندر بھی لڑائی چلتی رہتی ہے لیکن ادارے ایک دوسرے کے سامنے آتے ہیں تو حالات کی سنگینی کا احساس بڑھ جاتا ہے۔ اسے کوئی بھی ذی ہوش نارمل حالات نہیں کہتا۔ مارچ میں سینیٹ کے انتخابات ہونے والے ہیں اور اس عرصے کے دوران مسلم لیگی حکومتوں پر اسٹیبلشمنٹ کا دباؤ بڑھ سکتا ہے (اگر نوازشریف مزاحمت کی پالیسی جاری رکھتے ہیں) جبکہ اسٹیبلشمنٹ اور نوازشریف کے درمیان مفاہمت (جس کے لیے کوششیں جاری ہیں) کی صورت میں حالات نیا رخ اختیار کرسکتے ہیں۔ ایسے میں لڑائی زیادہ شدید لیکن اس کا رخ تبدیل ہو سکتا ہے۔

یہ ساری مشکلات یہ سوال کر رہی ہیں کہ کیا یہ نوازشریف اور ملکی اسٹیبلشمنٹ کی لڑائی ہے یا اس کے پیچھے کوئی غیر ملکی ایجنڈا بھی کام کر رہا ہے اور کیا اس صورتِ حال میں جب اداروں کے درمیان ٹکراؤ، اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ لڑائی اور عوام کو کنفیوژ کرنے کا کام جاری ہے، کیا 2018 میں عام انتخابات ہوسکیں گے۔ اس وقت یہ سوال سب سے اہم ہے جس پر بہت سے حلقے خدشات کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔ اس کی وضاحت بھی ہونی چاہیے اور اس کنفیوژن کو دور بھی ہونا چاہیے۔