سیاسی بحران، لالچی میڈیا اور مفاد پرست سیاستدان

بندہ کس کس بات پر حیران ہو اور کس کس بات پر پریشان ہو، یہاں تو حیرانیوں اور پریشانیوں کی ایسی سیریل چل رہی ہے کہ ایک حادثے پر حیران ہو رہے ہوتے ہیں تو دوسرا سانحہ رونما ہو جاتا ہے۔ مجھے تو لگتا ہے کہ یہ سب ہمارے آزاد میڈیا کی سازش ہے جن کا کاروبار گلشن انہی سانحات کے سہارے چل رہا ہے۔ کیوں کہ میڈیا کے اندر کوئی پروفیشنل ازم نظر نہیں آتا، میڈیا پر سب مسخرے اور لفافے بیٹھے ہوئے ہیں (بیشک برا منائیں معذرت میں نے بھی نہیں کرنی اور سخت الفاظ کا استعمال کرنا ہے جیسا کرو گے ایسا بھروگے)

ہمارے میڈیا میں خال خال ہی کوئی نظر آتا ہے جو اپنے کام سے واقف ہو۔ باقی سب عیدالضحی کے قصائی ہیں۔ ایک زمانے میں چمار ہوتے تھے جو مرے ہوئے جانوروں کا چمڑا اتارنے کے انتظار میں رہتے تھے کیوں کہ یہی ان کا ذریعہ معاش ہوتا تھا۔ اور وہ جانوروں کے مرنے کی دعائیں کیا کرتے رہتے تھے تاکہ ان کی روزی روٹی چلتی رہے۔ کوئی اور کام تو ان کو آتا نہیں تھا۔ اسی طرح ہمارے میڈیا کے چمار بھی دعائیں کرتے رہتے ہیں اور کئی تو ایسے بھی ہیں جو خوراک میں زہر بھی ملانے سے نہیں چوکتے۔ عام طور پر ایک صحافی یا میڈیا پرسن کا کام تحقیق کرنا، معاشرتی برائیوں اور عوام کے حقیقی مسائل کی نشاندہی کرنا ہوتا ہے اور ایمانداری سے تجزیہ پیش کرنا ہوتا ہے۔ لیکن اس کام کے لیے تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ  بے انتہا تحقیق، سچے جذبے اور ایمانداری کی ضرورت ہوتی ہے جو ہمارے حرام خور میڈیا والوں میں نہیں ہے (برا نہیں منانا آج آپ مجھے حسن نثار سمجھ لیں)۔

مہذب دنیا میں میڈیا پرسنز سیاستدانوں کی بدعنوانیوں، معاشرتی برائیوں اور ملکی اداروں پر نظر رکھتے ہیں اور ان کی نشاندہی کرتے ہیں جن کی بنا پر ذمہ دار ادارے حرکت میں آتے ہیں اور میڈیا رپورٹس پر باقاعدہ مقدمات بنتے اور بدعنوان لوگوں کو سزائیں ملتی ہیں۔ ان میڈیا پرسنز کی تحقیقات میں جانبداری کا ذرا بھر شائبہ تک نہیں ہوتا اور ان کا مقصد معاشرے کی بہتری کے سوا اور اپنے میڈیا ہاؤس کی شہرت کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ اب آپ ذرا غیر جانبدار ہو کر سوچیں اور ایمانداری سے خود کو جواب دیں کہ کیا ہمارے میڈیا والے بھی یہی کچھ کرتے ہیں۔ کیا ہمارے میڈیا میں کوئی ایسا پرسن مل سکتا ہے جو مکمل غیر جانبدار ہو اور اس کا مقصد صرف ملک کی بہتری ہو یا عوام کے مسائل میں کمی لانا ہو۔ تو کیا پھر میرا شک درست نہیں کے یہ جو سب الٹ پلٹ ہو رہا ہے اس کے پیچھے انہی چماروں کی سازش نہ ہو۔

اب آئیے نت نئے واقعات کی طرف۔ سمجھ نہیں آرہی کہ اس ملک پاکستان کو چلا کون رہا ہے۔ حکومت کس کی ہے اور حکم کس کا چلتا ہے۔ کبھی کبھی ہم ایسے عام اور بے بس لوگوں کا جب کوئی عام اور جائز کام نہیں ہوتا، کہیں شنوائی نہیں ہوتی تو ہمیں غصہ آتا ہے کہ ہم عوام کیوں ہیں،  ہم کوئی سیاستدان، ایم این اے یا وزیر کیوں نہیں۔ ہم بیوروکریسی میں کیوں نہیں۔  لیکن جب پھر اگلے لحمے خیال آتا ہے کہ اس ملک کا چیف ایگزیکٹو یعنی وزیراعظم دھکے کھاتے ہوئے سوال کرتا نظر آتا ہے کہ میں کہاں ہوں، مجھے کدھر جانا ہے، مجھے کیوں نکالا اور وزرا پوچھ رہے ہوتے ہیں کہ ہمیں کیوں روکا۔ تو پھر ہمیں بھی کچھ تسکین ملتی ہے کہ اس ملک کے قانون کی نظر میں ہم سب برابر ہیں۔ کل اسلام آباد کے کنونشن ہال میں وزیراعظم (شاید سابق) کی عجیب و غریب تقریر سن کر میرے ذہن میں سوالوں کا ایک انبار سا اٹھا ہے اور اگر نوازشریف کو سوالوں کے جوابات مل گئے تو پھر میں بھی امید رکھتا ہوں کہ مجھے بھی جواب مل جائیں گے۔ کیوں کہ پاکستان میں اب مساوات کا دور دورہ ہے اور ہم سب ایک ہی صف کھڑے ہیں۔

میرا پہلا سوال میاں نواز شریف سے ہے۔ 2007 میں لندن کی Dukk street میں میاں نواز شریف  سے میری ملاقات ہوئی تھی اور میں نے میاں نواز شریف سے ایک سوال پوچھا تھا کہ اگر آپ دوبارہ وزیراعظم بن گئے تو پاکستان کا بھلے کوئی مسئلہ حل نہ کرنا لیکن کیا آپ اداروں کو مضبوط کریں گے اور کوئی ایسی قانون سازی کریں گے جس کے بعد کسی دو تہائی اکثریت والے وزیراعظم کو نکالا نہ جاسکے۔ آج 10 سال کے بعد میاں نواز شریف  جو سوال جی ٹی روڈ پر اور مختلف فورمز پر کر رہے ہیں، اپنے سوال کا جواب لینے سے پہلے کیا وہ میرے سوال کا جواب دینا پسند کریں گے۔ اب جو ملک میں ہو رہا ہے یا ہونے والا ہے، اس کا سوچ کر ہر پاکستانی پریشان ہے۔ لیکن جن ہاتھوں میں کمان ہے ان کو کوئی فکر نہیں ہے۔ وہ سب اپنی اپنی انا کی تسکین کے لئے کام کر رہے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ میاں نواز شریف اپنی کل کی تقریر میں جرات سے کام لیتے ہوئے پاکستان پیپلزپارٹی سے، ذوالفقار علی بھٹو کی روح سے اور بےنظیر بھٹو کی روح سے واشگاف الفاظ میں معافی مانگتے۔ اور اپنی 16 سالہ غلطیوں کا کھل کر اعتراف کرتے۔  پوری قوم سے معافی مانگ کر عمران خان کو بھی سمجھاتے کہ یہ وقت مل جل کر ملکی مسائل حل کرنے کا ہے۔ اب میاں صاحب چھوٹے بھولے بچوں کی طرح رٹ لگائے ہوئے ہیں کہ مجھے کیوں نکالا۔ مجھے اقامہ اور بیٹے سے  تنخواہ نہ لینے پر نکالا۔ لیکن وہ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ان کے خلاف 3 ریفرنس احتساب عدالت میں داخل بھی ہو چکے ہیں اور آپ پر بدعنوانی کے الزامات عائد ہوئے ہیں اور بہت جلد فرد جرم بھی لگنے والی ہے۔

میاں صاحب کو اصل میں جو سوال کرنا چائیے وہ یہ ہے کہ کرپشن تو ہم نے  80 اور 90 کی دہائی میں زیادہ کی لیکن اس وقت تو آپ میرا ساتھ دیتے رہے اب مجھے کیوں نکالا۔ جواب دو کہ مجھے کرپشن پر نکالا یا کسی گستاخی پر نکالا یے۔ اب آگے کیا ہوگا۔ یہ سوال صرف میرا نہیں بلکہ ہر پاکستانی کا ہے۔ عجیب افراتفری کی صورتحال ہے۔ میاں صاحب محاذآرائی کے موڈ میں لگ رہے ہیں۔ چھوٹے میاں صاحب صلح کی دہائی دیتے نظر آتے ہیں۔ وزراء اپنے اداروں کے کارندوں کے سامنے بے بس سوال کر رہے ہیں کہ آپ کو یہاں کس نے بھیجا ہے۔ اوپر سے سات گھنٹے کی ہنگامی کور کمانڈرز کانفرنس سے دھڑکا لگا ہوا ہے ۔ ادھر امریکن چڑیل بال کھولے پاکستان کو بری نظر سے دیکھ رہی ہے۔ امریکہ بار بار پاکستان پر دہشت گردوں کی معاونت کا الزام لگا رہا ہے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دے رہا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم 37 سال سے امریکہ کے لیے لڑ رہے ہیں اور بہت سستے داموں لڑ رہے ہیں۔ امریکہ پھر بھی مطمئن نہ ہمارا دوست۔ ایسا کیوں ہے، ہمارے بڑوں کو کچھ سوچنا چاہیے۔

میرے پاس کوئی اندر کی خبر ہے نہ معلومات۔ لیکن میں پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ قصور سارا امریکہ کا بھی نہیں۔ ہماری ناکام خارجہ پالیسی کی وجہ سے بھی ہم بہت خوار ہوئے ہیں ۔ اب دیکھیں نا 3 میں سے ایک بات سچ ہے 1۔ امریکہ اور مغربی ممالک سچے ہیں ہم ان کے ساتھ بھی ہوتے ہیں اور دھوکا بھی کرتے ہیں۔ اس لیے وہ ہم پر اعتماد نہیں کرتے۔  2۔ ہم نے غلط دوستوں کا انتخاب کیا جو کسی بھی حال میں ہمارے دوست نہیں بن سکتے بلکہ جہاں جہاں موقع ملے گا ہم سے دشمنی کریں گے ۔  3 ۔ ہم نے دوست بھی صحیح چنے اور ہم بھی ان سے بہت مخلص اور ان کی خاطر اپنا ملک داؤ پر لگایا لیکن ہم ان کو اپنا اخلاص اور اپنی ایمانداری ثابت کرنے میں ناکام یعنی ستے پتر دا منہ چمدے رے ( سوئے ہوئے بچے کا منہ چومتے رہے) ۔ اب ان 3 باتوں میں سے کوئی تو سچ ہے نا۔

ایک اور بات جب اپنے گھر میں ہی اتفاق نہ ہو۔ ایک امریکہ کو صفائی دے اور دوسرا اپنے گھر کی صفائی کی دہائی دے۔ تو پھر کوئی کیسے یقین کرے ۔ اب ملک پر جو مشکل وقت ہے اور ملک میں افہام و تفہیم کی اشد ضرورت ہے لیکن ہم باہم دست و گریباں ہیں۔ سب اپنی اپنی انا کی تسکین کے لئے کام کر رہے ہیں۔ چھوٹے بچوں کی طرح لڑ رہے ہیں اور ساس بہو کی طرح ناراضگی کو طول دے رہے ہیں۔ یہ کہاں کی عقلمندی یا حب الوطنی۔ ہم کب سمجھیں گے۔ کیا ہمارے سیاسی راہنما اپنے وطن کی فلاح اور بقا کے لیے اپنے جھگڑے ختم کر کے اکٹھے مل کر بیٹھنے کو تیار نہیں۔ کیا ہماری افواج اور دوسرے ادارے ہمارے اپنے نہیں۔ کیا یہ ملک سب کا گھر نہیں ہے۔ تو پھر مسئلہ کہاں ہے۔

اپنے فائدے کے لئے تو کل کے دشمن آج  کے دوست بنتے نظر آتے ہیں۔ لیکن ملکی مفاد میں ایک لحمے کے لیے بھی اکٹھے نہیں ہوتے ۔