پاکستان کے داخلی اور خارجی دشمن
- تحریر سلمان عابد
- جمعرات 05 / اکتوبر / 2017
- 5344
پاکستان اس وقت ایک مشکل صورتحال سے گزررہا ہے ۔ اس صورتحال کو پیدا کرنے میں جہاں خارجی عوامل کارفرما ہیں وہیں ہمارے داخلی مسائل بھی ہماری مشکلات میں رکاوٹ بننے کا سبب بن رہے ہیں ۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہم یعنی فیصلہ ساز سیاسی ، انتظامی ، قانونی اور عسکری اداروں کے درمیان مسائل کو سمجھنے میں اتفاق رائے کا فقدان ہے ۔ ایسے لگتا ہے کہ ہم مسئلہ کے حل کی بجائے مسئلہ کے بگاڑ میں اپنا حصہ ڈال کرخود اپنے آپ کو دنیا میں تماشہ بنارہے ہیں ۔ جب قومی مفاد چھوٹا اور ذاتی مفاد بڑا ہوجائے تو پھر بحران سے نمٹنے کے امکانات بھی محدود ہوجاتے ہیں ۔ اصولی طور پر تو ہمیں ایک پیچ پر ہوکر اپنے داخلی اور خارجی معاملات سے نمٹنے میں تمام فریقین کے ساتھ مل کر کام کرنے کی روش کو طاقت فراہم کرنا ہے مگر جو کچھ اتفاق رائے کے نام پر ہورہا ہے وہ بڑا لمحہ فکریہ ہے ۔
پچھلے دنوں آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے دو ٹوک انداز میں کہا ہے کہ جو لوگ بھی پاکستانی ہونے کا دعویٰ کرکے ملک سے باہر بیٹھ کر اس ملک کو کمزور کرنے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں ، وہ اس ملک کے مفاد کے برعکس کام کررہے ہیں ۔ ان کے بقول یہ مٹھی بھر افراد ملک سے باہر بیٹھ کر ملک کو توڑنے اور فوج کے خلاف باتیں کرکے عملی طور پر دشمن ممالک کو فائدہ پہنچانے کا سبب بن رہے ہیں ۔ اس لیے ان کے خلاف بھی قانونی گرفت ہوگی او ریہ لوگ بلاوجہ باہر بیٹھ کر فوج کو متنازعہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ فوج کے سربراہ کا یہ بیان اگرچہ فوری طور پر اقوام متحدہ جنیوا اجلاس میں بعض قوم پرست بلوچوں کی طرف سے پاکستان مخالف نعرے، بینر، جھنڈے اور پمفلٹ بانٹنے یا لگانے کے حوالے سے سامنے آیا ہے ۔ لیکن بنیادی طور پر یہ بات یہاں تک محدود نہیں بلکہ ان کا اشارہ مجموعی تناظر میں بھی ہے کہ یہاں بہت سے لوگ ایسی باتیں شدت سے کررہے ہیں جو ریاستی مفاد کے برعکس ہے۔
یہ سب کچھ یقینی طور پر سیاسی تنہائی میں نہیں ہوا ، بلکہ اس کے پیچھے وہ عوامل بھی ہیں جو دیگرممالک کی صورت میں پاکستان دشمنی کا بڑا ایجنڈا رکھتے ہیں اور ان کی سرپرستی کرتے ہیں جو ملکی مفاد کے برعکس کام کررہے ہیں ۔ ان عناصر کی کوشش یہ ہے کہ پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کیا جائے اور اس تاثر کو تقویت دی جائے کہ پاکستان خود صورتحال کا ذمہ دار ہے ۔ اس پر یقینی طور پر پاکستان میں کافی ردعمل ہوا ہے ۔ لیکن اس ردعمل کا نقصان خود بھارت کو بھی ہوا ہے ۔ کیونکہ ان کے منفی طرز کا نقصان خود بھارت کو لینے کے دینے پڑ گئے کی صورت میں دیکھنے کوملا۔ بھارت سے آزادی کی تحریکوں سے وابستہ افراد نے بھی جنیوا میں مختلف بسوں میں اپنے نعرے اور بھارت مخالف ایجنڈے کی تشہیر کردی ہے ۔ تری پور، منی پور، ناگا لینڈ اور کشمیر کی آزادی کے لیے تحریک کا منظر سوئٹزرلینڈ میں دیکھنے کو ملا ہے ۔ جو نعرے دیکھنے کو ملے ان میں جموں کشمیر، ناگا لینڈ کی آزادی ، تری پور کو خود مختاری کے نعرے درج تھے ۔ یہ نعرے خود بھارت کی بڑی جمہوری عمل کو بھی تماشہ بنانے کا سبب بنے ہیں۔
اسی طرح جس جرات سے اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے جنرل اسمبلی سے خطاب میں بھارت کے چہرہ کو بری طرح بے نقاب کیا ہے ۔ ان کی تقریر کافی جاندار تھی جس سے بھارت کو دفاعی پوزیشن پر لاکھڑا کردیا ۔ ان کے بقول بھارت جنوبی ایشیا کے خطہ میں ’’ دہشت گردی کی ماں ‘‘ کا درجہ حاصل کرچکا ہے ۔ بھارتی وزیر خارجہ کی تقریر تعصب پر مبنی ہے او رہم یہ تعصب گذشتہ 70برس سے بھگت رہے ہیں ۔ جموں و کشمیر بھارت کا حصہ نہیں ، بلکہ ایک متنازعہ علاقہ ہے ، جموں و کشمیر پر بھارت کا قبضہ غیر قانونی ہے ۔ ان کے بقول سلامتی کو نسل کی متعلقہ قراردادوں پر عملدرآمد کے حوالے سے بھارت پر دباؤ بڑھانے کے لیے خصوصی ایلچی کی تقرری کا بھی مطالبہ کیا ۔ ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے اس نکتہ کو بھی اجاگر کیا کہ بھارت خود اس خطہ میں عدم استحکام پھیلانے کا ایجنڈا رکھتا ہے جو دونوں ملکوں میں بہتر تعلقات میں رکاوٹ ہے ۔
یہ بات تسلیم کرنی ہوگی کہ جو کچھ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی صورت میں کررہا ہے اس کا ایک سخت ردعمل خود ہمیں مقبوضہ کشمیر میں دیکھنے کو مل رہا ہے ۔ بالخصوص نوجوان نسل کا ردعمل کافی سخت ہے اور خود کئی بھارت کے اہل دانش اور سیکور ٹی امور کے سابق افسران نے تسلیم کیا ہے کہ بھارت کا مقبوضہ کشمیر میں مقدمہ انسانی حقوق کے حوالے سے کافی کمزور ہے اور ان کا یہ عمل خود بھارت کو بھی عالمی دنیا میں خراب کررہا ہے۔ اس لیے خود بھارت کو بھی اپنے داخلی مسائل کو سمجھ کر مثبت اقدام اٹھانے ہوں گے ۔ بھارت کی آئین کی دفعہ 35-A جموں و کشمیر کے قانون سازوں اسمبلی ممبران کو ریاست کے مستقل رہائشیوں کی تعریف کرنے ، ان کے خصوصی حقوق و استحقاق کو وضع کرنے کا اختیار دیتی ہے ۔ اس دفعہ کو ریاست جموں وکشمیر کے ساتھ بھارتی ریاست کے ایک معاہدے کے نتیجے میں 1954 میں جاری ہونے والے ایک صدارتی حکم نامہ کے زریعے بھارتی آئین میں شامل کیا گیا تھا۔
گزشتہ کچھ عرصہ سے جس انداز سے امریکہ اور بھارت گٹھ جوڑ نے پاکستان پر دباؤ ڈالا ہے اور جو امریکی صدر نے جنوبی ایشیا اور بالخصوص پاکستان، افغانستان اور بھارت کے حوالے سے جو پالیسی جاری کی ہے اس میں پاکستان بنیادی نکتہ ہے ۔ سارا دباؤ ، زور پاکستان پر ہے ، جبکہ بھارت اور افغانستان پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا گیا بلکہ ان کی کھل کر سرپرستی کی گئی ہے ۔ اس لحاظ سے پاکستان پر دباؤ بڑھانے کی پالیسی یک طرفہ ہے اور اس پر پاکستان کے شدید تحفظات ہیں ۔ ایک طرف عالمی اور علاقائی دباؤ ہے تو دوسری طرف اس دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے ہم داخلی محاذ پرسیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان تقسیم ہے ۔ کیونکہ ہمیں جو داخلی محاذ پر مسائل ہیں وہ خود ہمارے خارجی مسائل کو بگاڑنے کا سبب بن رہے ہیں ۔
افغانستان اور بھارت کے حوالے سے جو ہمیں سیاسی طور پر ایک بڑا تفاق رائے پیدا کرکے او رفریقین میں باہمی مشاورت کے ساتھ موقف کو اختیار کرنا چاہیے، اس میں ہم ناکام ہورہے ہیں ۔ وجہ صاف ہے کہ ہمارے یہاں سیاسی اور انتظامی اداروں میں مقابلہ بازی کا جو ہمیں رجحان دیکھنے کو مل رہا ہے وہ تشویش کا پہلو ہے۔ ہماری سیاسی قیادت کو داخلی اور خارجی مسائل پر ایک بڑی لیڈ لے کر ان تمام مشکلات سے نمٹنا ہوتا ہے جو ہمیں درپیش ہیں ۔ لیکن اگر پاکستان کے اندر سے بھی وہی آوازیں بلند ہوں جو ہمارے مخالفین عالمی دنیا میں ہمارے خلاف استعمال کرتے ہیں، ہم اسی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں ۔ یہ عمل ہمیں عالمی دنیا میں بھی تنہائی میں مبتلا کرتا ہے ۔ ہماری سیاسی اور عسکری قیادت کو سمجھنا ہوگا کہ ہمیں مل کر ایک ایسی فضا قائم کرنی ہے جس میں ایک دوسرے کے تعاون کے امکانات کو زیادہ سے زیادہ بڑھانا ہے ۔ مقصد یہ نہیں کہ ہمارے اپنے اندر خامیاں نہیں ، لیکن ان خامیوں پر بات کرنا اور اس پر حکمت عملی بنانا کوئی ٹی وی ٹاک شوز یا پریس کانفرنس کا کھیل نہیں ۔ قومی سیکورٹی اور داخلی سلامتی کے معاملات کا فورم سیاسی ، عسکری اور انتظامی ادارے ہوتے ہیں جہاں ہم کھل کر اپنے اندر داخلی مسائل کی بنیا دپر بحث کرتے ہیں ، تنقید کرتے ہیں اور آگے سے نمٹنے کا راستہ تلاش کرتے ہیں ۔
لیکن یہ جو ہم نے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کرنا شروع کردیا ہے وہ داخلی اور خارجی دونوں محاذ پر ہمارے لیے مسائل کو جنم دے رہا ہے ۔ یہ عمل ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان میں موجود مختلف فریقین یا تو مسائل کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں یا جانتے ہیں مگر سیاست ان کے آڑے آتی ہے۔ مسئلہ سیاسی اور فوجی قیادت کو سوالیہ نشان بنانا نہیں بلکہ اصل مسئلہ مسائل کا ایسا حل ہوتا ہے جو ہمیں داخلی اور خارجی دونوں محاذوں پر اپنی ساکھ کو بہتر بنانے میں مدد فراہم کرے ۔ یہ تصور کہ قو می سیکورٹی محض فوج کا مسئلہ ہے ، مناسب عمل نہیں ہمیں اس قومی سیکورٹی کو قومی مسئلہ کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ تاکہ جو فریقین میں خلیج ہے وہ کم ہوسکے ۔
ہمیں اپنے داخلی اور خارجی دشمنوں کا مقابلہ کرنا ہے تو سب سے پہلے ہمیں ہر محاذ اور فریقین کی سطح پر باہمی تضادات اور مسائل کو اتفا ق رائے سے حل کرکے مشترکہ حکمت عملی کے تحت ہی آگے بڑھنا ہوگا۔