پانی رے پانی
- تحریر
- جمعہ 06 / اکتوبر / 2017
- 5158
سنا ہے لاہور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے نئے ماسٹر پلان کی وضاحت کے لئے کل ایک اوپن اجلاس ہو رہا ہے ۔ آپ اس میں شرکت کریں۔ اس میں انڈسٹریل زوننگ بھی زیر بحث آئے گی۔۔ ہمارے لئے جاننا ضروری ہے کہ اگلے پندرہ سالوں کے دوران ایل ڈی اے کی کیا پالیسیاں ہوں گی۔ ہمارے ایک سینئیر ساتھی نے فون پر ہمیں اطلاع دی۔ اگلے روز ساڑھے گیارہ بجے وقت مقررہ پر نیو مسلم ٹاون میں ایل ڈی اے کے آڈیٹوریم میں پہنچ گئے ۔ حیرت ہوئی کہ جمعہ کا دن ہونے کے باوجود ساڑھے گیارہ بجے کا وقت کیوں رکھا گیا کہ ڈیڑھ بجے تو جمعہ نماز کا وقت ہو جاتا ہے۔ بعد میں اندازہ ہوا کہ ایل ڈی اے نے سوچ سمجھ کر تنگی وقت کا اہتمام کیا تاکہ کارروائی طول نہ پکڑ جائے۔ ہال میں اکثر پراپرٹی بزنس سے منسلک لوگ تھے۔ کچھ ہی دیر میں لاہور چیمبر کے بہت سے ممبرز بھی ایک جتھے کی صورت وارد ہوئے۔ ان کے ایک سرکردہ صاحب سے جان پہچان تھی، ملتے ہی انہوں نے ہمیں ہوشیار کیا، ذرا چڑھ کے رہنا ہے، ایل ڈی اے والے بڑی زیادتی کر رہے ہیں۔ ہم نے مروتاٌ اثبات میں سر ہلایا اور اپنی نشست پر بیٹھ گئے۔
اجلاس نصف گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوا۔ کارروائی کے مطابق ایک ماہرِ ارضیات نے ماسٹر پلان میں شامل علاقوں کے بارے میں تفصیلی رپورٹ پیش کی۔ موصوف کے اعدادو شمار میں حاضرین کی جو عدم دلچسپی تھی انہوں نے اپنی بے کیف ڈلیوری سے اسے دو آتشہ کر دیا ۔ پراپرٹی بزنس سے منسلک حضرات اور لاہور چیمبرز کے ممبرز بے زاری سے پہلو بدلتے رہے البتہ ان کے چند اعداد و شمار نے ہمیں چونکا دیا ۔ لاہور شہر اور قرب و جوار کے علاقوں میں زیرِ زمین پانی کی سطح میں ہر سال اوسطاٌ اڑھائی سے تین فٹ سالانہ کمی ہو رہی ہے۔ یہ ایک خطرناک رجحان کی نشاندہی تھی۔ اسی رپورٹ کے مطابق لاہور بھر سے ناصاف اور صنعتی نکاسیِ آب چودہ بڑے نالوں اور ڈرین کے صورت راوی میں جا گرتا ہے۔ مرحوم راوی دریا اب راوی گندہ نالہ بنتا جا رہا ہے۔ اس پر ستم یہ کہ یہ تمام ناصاف اور مہلک صنعتی ڈرین بغیر مصنوعی صفائی یعنی Treatment راوی میں پھینکا جا رہا ہے۔
اس کے بعد ما حولیات کے ماہر نے اپنی ایک طولانی رپورٹ پیش کرنا شروع کر دی جس میں لاہور میں پائے جانے والے چرندوں اور پرندوں کی قسمیں اور ان کے تیزی سے نایاب ہونے کی ہوش ربا تفصیلات تھیں۔ طوالت کے ساتھ ساتھ بے کیف ڈلیوری ان کا بھی طرہ امتیاز تھی۔ پہلو بدلتے چیمبر ممبران کے ضبط کے بندھن ٹوٹ گئے۔ ان کے ایک لیڈر نے کھڑے ہو کر احتجاج کیا ، بند کرو یہ رپورٹا رپورٹی، ہم جس کام سے آئے ہیں وہ بات کرو۔ انڈسٹریل زونوں کی بات آپ کر نہیں رہے۔ کاہنہ کے علاقے میں قائم اندسٹری کو آپ نے اس ماسٹر پلان کے بہانے سے نوٹس بھیج دئے ہیں کہ انڈسٹری کسی اور جگہ منتقل کر لیں۔ یہ ظلم ہے، یہ اندھیر نگری نہیں ہے، ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ آپ سیدھی سیدھی بات کیوں نہیں کرتے ، ہمیں ایک گھنٹے سے ز یرِ زمین پانی کی گہرائی اور پرندوں کی قسمیں بتا کر وقت ضائع کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ان کے باقی ساتھی بھی کھڑے ہوگئے۔ ہلڑ بازی شروع ہو گئی اور انہوں نے اسٹیج کا گھیراؤ کر لیا۔ اس شور شرابے کی وجہ سے صدارتی تقریر کی نوبت آئی نہ سوال و جواب کے دور کی۔ اس دوران میں جمعہ نماز کی اذان ہوئی اور ایل ڈی اے کی اسیکم کے مطابق حاضرین ادھر ادھر بکھرنے لگے۔ یوں اس شور شرابے میں لاہور کے اگلے پندرہ سال کے ماسٹر پلان کے پبلک شنوائی کی رسمی کاروائی مکمل ہوئی۔ اللہ اللہ خیر صلّا۔
اس اجلاس سے ہمیں ایک بار پھر یہ تجربہ ہوا کہ اختلافی مسائل اور ذاتی مفاد کے علاوہ دور رس معاملات کے بارے میں کوئی خال خال ہی سیریس ہوتا ہے۔ سرکاری محکمے اپنی رسمی کارروائی کی حد تک دلچسپی لیتے ہیں اور سول سوسائٹی یا نجی شعبے کے لوگ اپنے اپنے مفادات کی ناک سے آگے دیکھنے کا تردد نہیں کرتے۔ دنیا بھر میں مشاہدہ یہی کیا کہ انسانی معیارِ زندگی یعنی کوالٹی آف لائف کا تعلق جی ڈی پی کی شرح نمو اور مالیاتی استحکام کے علاوہ بہت سے ایسے عوامل پر ہوتا ہے جنہیں ہم عام زندگی میں غیر دلچسپ یا بور سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ہمارا یہ مشاہدہ بھی اب یقین کو پہنچ چکا ہے کہ سیاست دان، میڈیا اور عوام کی عمومی دلچسپی سیاست یا اس سے جڑی گرما گرم خبروں اور چسکے دار تجزیوں میں زیادہ اور ایسے سنجیدہ موضوعات میں نہ ہونے کے برابر ہے۔
اس حقیقت سے سب آشنا ہیں کہ پانی سے زندگی ہے۔ اس حقیقت سے بھی سب آگاہ ہیں کہ پاکستان کے عوام اور زراعت کو پانی کی کمی کا سامنا ہے۔ اس کے باوجود ہر سال کروڑوں کیوسک پانی سمندر میں گر جاتا ہے لیکن پانی کے ذخیرے کے منصوبے سیاست کی گرد میں گم ہو چکے جبکہ پانی کے استعمال میں بچت قومی سوچ میں ابھی جگہ ہی نہیں بنا سکی۔ زرعی اور صنعتی مقاصد کے لئے پانی کی جو کمی ہے سو ہے۔ انسانی ضرورت کا حال یہ ہے کہ Water Aid Pakistan کی ایک رپورٹ کے مطابق کم از کم سولہ ملین لوگوں کی محفوظ یا قابل اعتماد پانی تک رسائی نہیں۔ ملک کی 68% آبادی کو انسانی فضلے و استعمال شدہ پانی کے نکاس کی سہولت حاصل نہیں۔ اس کا سب سے بڑا نقصان بچوں کو پہنچ رہا ہے۔ یونیسیف کی ایک رپورٹ کے مطابق پانی اور پانی سے منسلک بیماریوں یعنی ڈائریا سے روزانہ 110 بچوں کو زندگی سے محروم ہونا پڑتا ہے۔
پاکستان آبادی کے اعتبار سے دنیا کا اب غالباٌ پانچواں سب سے بڑا ملک ہے جس کی نصف آبادی شہری علاقوں میں رہائش پذیر ہے۔ صاف پانی تک رسائی، استعمال شدہ ناصاف پانی و فضلے کی نکاسی انسانی آبادی کے لئے اہم مسئلہ ہیں۔ چھ سے زائد کے اوسط گھرانے کا سائز ہونے کے باوجود 38% آبادی ایک کمرے کے مکان میں رہائش پر مجبور ہے۔ بنیادی سہولتوں کی قلت کا یہ عالم ہے کہ صرف چھیالیس فی صد آبادی کے ہاں گھروں میں ہاتھ دھونے کے لئے جگہ مخصوص اور انتظام موجود ہے۔ یونیسیف کی اسی رپورٹ کے مطابق صرف 23% آبادی کے ہاں گھروں میں کچرے کے لئے جگہ مخصوص ہے۔ گھر میں مخصوص جگہ نہ ہونے کے سبب گھریلو کچرے کے لئے محلے ، پبلک پارکس اور سڑکوں کا بے دریغ استعمال بے وجہ تو نہیں۔
دنیا بھر میں پانی، نکاسی آب اور صفائی ستھرائی حکومتوں، سیاست دانوں، میڈیا اور عوام کے اہم موضوعات ہیں جنہیں عرف عام میں واش کا نام دیا جاتا ہے یعنی Water, sanitaion and hygiene - WASH ۔ ان سہولتوں کو بنیادی انسانی سہولتیں گردانتے ہوئے عوامی نمائندوں، سول سوسائٹی اور مقامی حکومتوں کی کارکردگی جانچنے کا ایک اہم معیار ہے کہ انہوں نے ان سہولتوں کی فراہمی، انہیں چالو حالت میں رکھنے اور بہتر کرنے میں کتنا کردار ادا کیا۔ پاکستان میں آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑے صوبے پنجاب نے اس مقصد کے لئے چند اقدامات ضرور سوچے اور کچھ اقدامات اٹھائے بھی لیکن یہ تمام کوششیں ابتدائی نوعیت کی ہیں۔ پنجاب میں پینے کے صاف پانی کی پالیسی 2011 میں کابینہ سے منظور ہوئی ۔ جس کے نتیجے میں پنجاب ڈرنکنگ واٹر ایکٹ 2016 تیار ہے لیکن عمل درآمد کی نوبت ابھی نہیں آئی۔ پنجاب صاف پانی کمپنی کا قیام بھی اسی سوچ کے تحت لایا گیا لیکن اس میں کرپشن اور بد انتظامی کی وجہ سے وہ نتائج حاصل نہ ہوسکے جو متوقع تھے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اس شعبے میں حکومت، سیاست دان اور سول سوسائٹی اپنی اپنی ذمہ داری پہچانیں۔ صاف پانی کی فراہمی کا تمام آبادی کے لئے جنگی بنیادوں پر انتظام ہو نا چاہئے۔ پانی میں زہریلی آمیزش کی روک تھام ضروری ہے۔ ناصاف اور صنعت کے آلائشی پانی کی باقاعدہ ٹریٹمنٹ کے بعد نکاسی کی جائے ۔ تمام آبادی کے لئے رفع حاجت کے لئے ٹوائلٹ کی سہولت کی فراہمی بھی عمومی صحت و صفائی کے لئے انتہائی اہم ہیں۔ قومی آبادی کے نئے سروے سے آبادی میں توقع سے زیادہ اضافے کی صورت میں قوم اور ملک کو ایک جھٹکا لگا ہے۔ گرمیِ بازارِ سیاست اب تک بھی خوب چلی آئی ہے اور آئندہ بھی جاری رہنے کی توقع ہے لیکن لگے ہاتھوں ان موضوعات پر بھی کچھ توجہ ہو جائے تو کیا مضائقہ ہے۔ گھر میں صاف پانی، مناسب نکاسی بندو بست اور ہاتھ دھونے جیسے بنیادی انتظامات اگر موجود ہوں تو چسکے دار خبروں اور تجزیوں کا مزہ بھی زیادہ بھلا لگے شاید !