سعودی عرب میں مزدورں کے ساتھ ظالمانہ رویہ

ایک مقبول حدیث کے مطابق مزدور کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اس کی مزدوری ادا کر دینی چائیے۔ نبی کریم نے کسی شخص سے مفت کام کروانے کے عمل کو سخت ناپسند فرمایا اور غلاموں کی آزادی کو صرف پسند نہیں کیا بلکہ ان کی کوششوں سے کئی غلام آزاد ہوئے۔ سب سے بڑی مثال مشہور صحابی حضرت بلال حبشی کی ہے جنہیں حضرت ابو بکر صدیق نے پیسے دے کر آزاد کروایا ۔ حضرت عثمان غنی نے بھی نبی کریم کی ہدایت پر متعدد غلاموں کو آزاد کروایا۔ لیکن سعودی حکمرانوں نے آج بھی اپنے ملک کے اندر غریب ممالک سے آنے والے مزدوروں کو غلام بنا کر رکھا ہوا ہے۔

سعودی عرب کے جب حالات ٹھیک تھے تب بھی مزدور کو مزدور نہیں بلکہ غلام تصور کیا جاتا تھا۔ وقت پر تنخواہ ملتی تھی نہ چھٹی۔ کفالت کے گندے اور غیر انسانی نظام کی وجہ سے مزدوروں کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک روا رکھا جاتا تھا لیکن جب سے یمن کے ساتھ سعودی عرب نے خود ایک غیر ضروری  جنگ شروع کی تب سے اکثر مزدوروں کو تنخواہیں نہیں مل رہیں مگر کام پورا لیا جا ر رہا ہے ۔ بعض مزدور تنگ آ کر اپنے بقایا جات چھوڑ کر بھی اپنے اپنے وطن واپس لوٹنا چاہتے ہیں لیکن کفیلوں کی اجازت کے بغیر وہ ملک بھی نہیں چھوڑ سکتے۔ اس طرح بے شمار مزدور زہنی بیماریوں کا شکار ہو چکے ہیں۔ چند ایک خود کشیوں کے واقعات بھی رونما ہو چکے ہیں لیکن کسی کے کان میں جوں تک نہیں رینگتی۔ ہر سال یکم مئی کو یوم مزدور منایا جاتا ہے لیکن مزدوروں کے ساتھ سعودی عرب کے غیر انسانی سلوک پر پاکستان کے اندر کہیں سے آواز بلند نہیں ہوتی۔

پاکستان کا الیکٹرانک میڈیا بھی مغرب کے میڈیا کی تقلید کرتے ہوئے صرف اسی مسئلہ کو غیر انسانی تصور کرتا ہے جس پر مغرب میں لب کشائی ہو ۔ ممالک میں جنگیں  ماضی میں بھی ہوتی رہی ہیں اور اب بھی ہیں۔ لیکن جنگ کو بہانہ بنا کر کسی ملک نے کبھی مزدوروں کی تنخواہ بند نہیں کی۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہوتا ہے کہ کام اگر کم ہو جائے تو مزدوروں کو ان کی اجرت دے کر نوکری سے فارغ کر دیا جاتا ہے مگر یہ کہیں نہیں سنا کہ کام تو کروا لو مگر روز مرہ کے اخراجات کا خرچہ تک بھی نہ دو۔ مزدوروں کے اقامے کی فیس دے کر ان کی تجدید بھی نہیں کروائی جاتی۔ اس طرح غیر ملکی مزدور ملک بھی نہیں چھوڑ سکتے اگر ایسا کریں تو انہیں ائر پورٹ پر گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ سعودی عرب میں تو ویسے ہی کسی غیر سعودی کی شکایت پر کسی سعودی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی اور یہ شکایت کسی مزدور کی طرف سے کسی کفیل کے خلاف ہو تو پھر تو سماعت کی توقع بھی ناممکن ہے۔ اس طرح اسلام سے قبل جو غلامانہ نظام عربوں نے قائم رکھا ہوا تھا،  وہ آج بھی جاری ہے۔

سعودی حکومت اورکفیلوں کا یہ ظالمانہ رویہ وہاں تمام مزدوروں کے ساتھ  یکساں نہیں ہے۔ سعودی عرب میں بے شمار انگریز اور امریکی کمپنیاں اور ان کے مزدور ہیں۔ چونکہ یہ بااثر ممالک ہیں جو اپنے کسی بھی شہری کے ساتھ معمولی سے معمولی زیادتی بھی برداشت نہیں کرتے، اس لیے سعودی عرب کی یہ نام نہاد اسلامی حکومت اور اس کے کفیلوں کو کسی برٹش اور امریکی شہری کی تنخواہ بند کرنے کی جرات نہیں ہوتی۔ وہ ایسا صرف غریب ممالک خاص کرمسلمان ممالک سے آنے والے مزدوروں کے ساتھ کر رہے ہیں اور جب مسلمانوں کے درمیان انہیں امتیاز کرنا ہو تو سب سے زیادہ استحصال پاکستانیوں کا ہوتا ہے۔ کیونکہ انہیں علم ہے کہ پاکستانی حکومت اپنے شہریوں کے حقوق کی پامالی کی کوئی پرواہ نہیں کرتی۔ ایک پاکستانی فیملی نے سعودی عرب میں کفیل کی طرف سے اپنے بیٹے کو وطن واپسی کی اجازت نہ ملنے پر اسلام آباد میں سعودی سفیر کے نام مجھ سے خط لکھوایا۔ پھر اس خط کی کاپی اور اپنا بیان میڈیا کو دیا مگر دو دن بعد جواب ملا کہ اسے پتہ نہیں کہ پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ کتنے اچھے برادرانہ تعلقات ہیں، سعودی عرب کے خلاف اس طرح کی شکایت شائح نہیں کی جا سکتی۔ اگر واقعی پاک، سعودی تعلقات اتنے برادرانہ ہیں تو پھر سعودی عرب میں سب سے زیادہ پا کستانیوں کو کیوں زلیل و خوار کیا جاتا ہے۔

 تعلقات خواہ کیسے بھی ہوں اگر کسی اپنے شہری کے انسانی حقوق پامال ہو رہے ہوں تو کیا انہیں نظر انداز کرنا مناسب ہے۔ حقیقت میں پاکستانی شہری بیرون ملک صرف اس لیے عزت و احترام سے نہیں دیکھے جاتے کہ پاکستان کے سفارت خانوں کا کبھی بھی اپنے شہریوں کے ساتھ رویہ ٹھیک نہیں رہا۔ دنیا میں امریکہ اور برطانیہ کے تعلقات مثالی تصور کیے جاتے ہیں لیکن ایک دفعہ برطانیہ، امریکہ میں اپنی ایک آیا کی سزا کے حوالے سے امریکہ کے ساتھ الجھ پڑا تھا اور اپنی شہری کی رہائی تک پورا ملک سراپا احتجاج بنا رہا۔ او آئی سی کے اندر اگر کوئی مسلم ملک سعودی عرب کے غیر انسانی اور غیر جمہوری رویوں کا زکر کر دے تو وہ اسے اسلام پر حملہ اور مغرب کی حاشیہ برداری کا الزام لگانا شروع کر دتیا ہے۔ حالانکہ مغرب نوازی میں سعودی عرب سب سے آگے ہے۔

سعودی کفیلوں کا کہنا ہے کہ سعودی حکومت اس وقت مالی بحران کا شکار ہے جس کی وجہ سے کمپنیوں کو حکومت بل ادا نہیں کر رہی لیکن دوسری طرف وہی کفیل یورپ میں اپنی عیاشیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ کے حالیہ دورہ سعودی عرب کے دوران سعودی حکومت نے جو قیمتی تحفے دیئے ان کی تشہیر دنیا بھر میں ہوئی۔ کیا ایک ایسا ملک جو غیر ملکی شخصیات کو اتنے قیمتی تحٖفے دے سکتا ہے، اسے مالی بحران کے نام پر مزدوروں کی تنخوائیں روکنا زیب دیتا ہے۔ اور اس سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا سعودی عرب میں پاکستانی مزدوروں کے ساتھ اتنا ناروا سلوک رکھنے والی سعودی حکومت کے ظلم پر پاکستان کے برادرانہ تعلقات اسے خاموش رہنے پر مجبور کرتے ہیں یا برادرانہ تعلقات کی بنا پر اپنے مزدوروں کے حقوق دلواکر ان کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کی کوشش کرنی چائیے۔ اگر تعلقات برادرانہ ہیں تو پھر ظلم پر خاموشی کیوں۔