مافیا، گاڈفادر اور اس سے بھی آگے
- تحریر حسین شہادت
- جمعہ 06 / اکتوبر / 2017
- 4251
ہمارے ملک میں بہت سے مافیا بہت عرسے سے سرگرم ہیں اور عوام کے ساتھ انتہائی ظالمانہ نوعیت کا سلوک کیا جارہا ہے۔ ابلاغ عامہ میں اس کو تسلسل سے پیش بھی کیا جاتاہے لیکن اس کی پشت پناہی کرنے والے اس قدر مضبوط اور بااختیار ہیں کہ ان مافیا عناصر کو مسلسل توانائی فراہم کرتے رہتے ہیں ۔ عوام چاہے کتنا ہی واویلا کرلیں ، میڈیا کس قدر ہی ان کے پردے فاش کرلے مگر کوئی نہیں جو ان کی روک تھام کرسکے۔
سیاسی میدان میں بھی مافیا موجود ہیں جن کے ساامنے کسی کا بس نہیں چلتا ۔ پاکستان کے مرکزی اور صنعتی شہر میں بھی ایک مافیا کا ذکر ہوتا رہا، لوگوں نے اس کو بہت سہا ، ملک بھر میں اس کو محسوس کیاگیا اور عالمی سطح پر بھی اس کی کارروائیوں کی بازگشت سنی گئی۔ مگر کوئی اس کے سامنے آنے کو تیار تھا اور نہ رکاوٹ بننے کی کوشش کرسکتا تھا ۔ خیال تھا کہ یہی سب سے بڑا سیاسی مافیا گروپ ہے جو سرگرم ہے البتہ 2008 کے الیکشن میں ہم نے عوام کو ایک اور سیاسی مافیا گروپ سے نبرد آزما ہوتے دیکھا جسے ایک دوسری بڑی سیاسی جماعت کا سہارا اور تائید حاصل تھی۔ لیکن پاناماکیس کی سماعت کے دوارن ہم پر انکشاف ہوا کہ یہ اور بڑی جماعت بھی دراصل ایک مافیا ہی ہے جس نے کراچی کے مافیا کو بھی پیچھے چھوڑ رکھا ہے۔ عوام اس سے باخبر تھے تاہم لاشعوری طور پر اس کے حق میں تھے ۔ مافیا کا لفظ بتدائی طور پر حفظِ مراتب کے طور پر استعمال کیا گیا جبکہ فیصلہ آنے پر معلوم ہوا کہ اس ملک کے لوگوں کے سب سے امین ہونے کے دعویدار نہ تو سچے ہیں اور نہ ہی امانت دار بلکہ یہ تو اس مافیا کو چلانے والے گاڈ فادر ہیں۔ اور ملک کی باگ دوڑ سنبھالے اپنے گھر کو بھرے چلے جارہے ہیں ۔
کہا جاتا ہے کہ ملک کے سیاسی میدان میں مافیا کا تصور لانے والے آمر جنرل ضیاء الحق تھے۔ انہوں نے کراچی کی سیاست میں بھونچال لانے کیلئے معتصب جماعت مہاجر قومی موومنٹ کو اپنی آغوش میں پرورش کیا جبکہ ملکی سطح پر مافیا بنانے کیلئے سیاسی میدان میں اس گروہ کے سربراہ کو رموز سیاست سکھائے۔ انہوں نے تباہی مچائی کہ ان کی اپنی نسلیں بھی اس آگ کا ایندھن بنیں۔ 2008سے 2013 تک جمہوریت نے ایک بہترین انتقام بن کر عوام کے دل و دماغ یہاں تک کہ روح و جسم چھلنی کردیئے ۔ 2013 میں جنگل کا بادشاہ ملک کا ایک بار پھر سے بادشاہ قرار پایا، جس نے کراچی کے مافیا کے ساتھ مل کر اقتدار چلانے کی کوشش کی۔ میثاقِ جمہوریت کے تحت جمہوریت کے حسن کی بحالی کیلئے اقدامات کرنے کی سعی کی ۔2014 میں چند متوالوں نے اس حسن کی خرابی کا سامان کرنے کی کوشش کی لیکن دستیاب سازوسامان نے اس کا چہرہ مسخ ہونے سے بچالیا۔
کراچی کے مافیا چلانے والے گاڈ فادر خرابی صحت کے باعث اغیار میں جا بیٹھے لیکن کم ظرفی کی بدولت ڈان بن جانے کو ترجیح دی۔ پھر مخالف ہوا چلی تو اپنے ہی غیر ہوگئے۔ یہاں تک کہ اپنے ہی ساتھی اور حدی خواں اس سے منہ پھیر بیٹھے۔ ایسی قطع تعلقی کا مظاہرہ کیا کہ غدارِ قوم و وطن جیسے القابات سے یا د کیا جانے لگا۔ کراچی کے ڈان کی گرفت سے اندازہ ہوا کہ غالب درست کہہ گئے تھے کہ پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پہ ناحق ، حق پرستوں کے پروردہ کی یہ گرفت اس بات کا ازارہ ہے کہ ہر ایک پکڑ میں آسکتا ہے۔ کوئی جلد اور کوئی دیر سے۔ پکڑا جانا بہرکیف انجام ہوگا۔ مفاہمت کے شہنشاہ کی پارٹی کی حالت 2013 میں عوام کی شعوری یا بے شعوری کے باعث تاحال غیر ہے اور وہ کے NA-120 کے نتائج سے اور واضح ہوچکی ہے ۔ برسراقتدار جماعت کے حالات بھی اس حلقے نے کافی حد تک واضح کردیئے ہیں کہ اب یہاں بھی اور کوئی موجود ہے ۔
سپریم کورٹ نے نواز شیف کی نااہلی کا فیصلہ سنایا جس سے وہ پارٹی کے صدر ہونے سے بھی نااہل ہوئے ۔ اچھے بھلے آدمی کی عزت کا جب جنازہ نکلتا ہے وہ سماجی سطح پر اپنے وقار کی بحالی کیلئے نئی راہوں کا سوچتا ہے ، نئی منصوبہ بندی کرتا ہے تاکہ اخلاقی بدحالی کا سد باب ہوسکے۔ لیکن مافیا تو مافیا کی طرح سوچتا ہے ، گاڈفادر تو ون مین شو ہوتا ہے ۔ اسلام آباد سے جی ٹی روڈکا سفر یاد کیا جائے تو لاعلمی کا وہ مظاہر ہ کیا گیا کہ دنیا ہنس رہی ہے ۔ انصاف فراہم کرنے والوں کی تضحیک سے قوم درست رائے قائم کرنے سے قاصر ہے ۔ الجھنیں پیدا کردی گئیں۔ یہی کمال فن ، یہی جادو گری ہے جو مافیا کا کام ہے۔ لوگ الجھے رہے اور ہم جام بھرتے رہے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ بنی اسرائیل میں اللہ نے سب سے زیادہ نبی و، پیغمبر اور رسول بھیجے تاکہ ان کی اصلاح ہوسکے لیکن وہ ان نعمتوں ، رہنمائی اور ہدایت کو ماننے کو تیار نہ تھے۔ ان کی تباہی کا موجب بھی یہی تھا کہ وہ سب سے زیادہ نافرمان اور انصاف کے اصولوں سے متصادم اقدام پر مصر تھے۔ ان کے یہاں اشرافیہ کیلئے الگ اور عام آدمی بالخصوص غریب کیلئے الگ قانون ، الگ طرح کے انصاف کے پیمانے تھے۔ میاں صاحب جب اقتدار سے نااہل ہوئے تو پارٹی صدارت سے بھی نااہل ہونا ان کا مقدر ٹھہرا ۔ نون لیگ کے 2013 کے انتخابی منشور کے مطابق بھی جو شخص اسمبلی کے ممبر ہونے کی اہلیت نہیں رکھتا ہو، وہ پارٹی کی صدارت کا اہل بھی نہیں ہوسکتا۔ میاں صاحب تو عالم پناہ ہیں ، بادشاہ سلامت ہیں ، گاڈفادر ہیں ، وہ اس منصب کے بنا کیسے رہ سکتے ہیں ۔ انہوں نے بھی اپنی تباہی کا اولین سامان کرنے کیلئے ملک کا قانون ہی بدلوالیا۔ نئی ترمیم نے انہیں گاڈفادر سے ڈان بنادیا ہے۔ وہ اب نظریاتی ہوچکے ہیں ، گاڈ فادر سے بڑا رتبہ پالیا ہے ۔ ایک شخص کی خاطر ملک کے آئین میں تبدیلی سے واضح ہوگیا ہے کہ پالیمنٹ کی کوئی عزت کوئی توقیر نہیں رہی۔ جنگل کا بادشاہ اب ہر جگہ کا بادشاہ ہے ۔
پاناما کیس کی سماعت کے دوران بالخصوص جے آئی ٹی کی کارروائی کے موقع پر کہا جارہا تھا کہ ملک میں جمہوریت کو خطرہ ہے۔ نااہلی کے فیصلے کے بعد بھی یہی راگ الاپا گیا ۔ میاں صاحب کے پارٹی صدر بن جانے کے بعد سے یقینی طور پر طے ہوگیا کہ ملک میں جمہوریت تو ہے ہی نہیں۔ مورثی سیاست بامِ عروج پر ہے۔ بادشاہی نظام چل رہا ہے ۔ نو منتخب وزیراعظم پہلے معزول وزیراعظم سے پوجھتے ہیں پھر بولتے ہیں۔ یعنی وزیراعظم بادشاہ سے احکامات لے کر زبان کھولنے کی جسارت کرتے ہیں۔ جمہوریت کہاں ہے ۔
آج ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ سمجھ سے بالاتر ہے ۔ کراچی کے ڈان کی تباہی سے سیکھنے کی ضرورت ہے ۔ کوئی ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے۔ آج ڈھیل دی جارہی ہے کل اس رسی میں تناؤ بھی آسکتا ہے ۔ ہر عروج کو زوال ہے ۔ زوال کی وجہ ہمیشہ درباری ہی بنتے ہیں ۔ آج جودرباری میاں صاحب کو حصار میں لئے ہوئے ہیں کل یہی محصور کردینے کا سبب بنیں گے۔ ڈان کو سوچنا چاہئے کہ جو بلندی دیتاہے وہ انتہائی پستی میں بھی دکھیل سکتاہے ۔ کیونکہ:
ہر جابر وقت سمجھتاہے تند تھی اس کی تدبیر بہت
پھر وقت اسے سمجھتا ہے کند تھی تیری شمشیر بہت