پاکستان میں تصادم کی سیاست
- تحریر سید تاثیر مصطفیٰ
- ہفتہ 07 / اکتوبر / 2017
- 4619
20 ستمبر 1996 کو میر مرتضیٰ بھٹو کو کراچی میں ایک مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک کردیا گیا۔ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے بڑے صاحبزادے کے ساتھ جس وقت یہ واقعہ پیش آیا اُن کی حقیقی بہن بے نظیر بھٹو ملک کی وزیراعظم تھیں اور سندھ میں بھی ان کی پارٹی کی حکومت قائم تھی۔ بے نظیر کو بھائی کی ہلاکت کی خبر ملی تو اُن کا کہنا تھا کہ یہ کام اُن سے بالا بالا کیا گیا کہ انہیں اس بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔ اگر یہ بات درست تھی تو گویا ایک بڑی پارٹی کی سربراہ اور ملک کی وزیراعظم مکمل بے بس تھی۔ ایسے میں دوراندیش مبصرین کا کہنا تھا کہ حکومت کی رٹ ختم ہوچکی اور یہ حکومت زیادہ دن نہیں چل سکے گی۔ ذرائع کے مطابق بعض قریبی لوگوں نے وزیراعظم کو یہ مشورہ دیا کہ اب ان کے اقتدار میں رہنے کا کوئی جواز نہیں ہے، بہتر ہے کہ وہ خود اس بکھیڑے سے جان چھڑا لیں۔ لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ اس احتیاط کے باوجود صرف 45 دن بعد 5 نومبر 1996 کو ان کی حکومت ختم ہوگئی۔
مئی 1999 میں نوازشریف ملک کے وزیراعظم تھے جب کارگل کے مشکل محاذ پر پاکستان اور بھارت کے درمیان لڑائی شروع ہوگئی جو آہستہ آہستہ باقاعدہ جنگ میں تبدیل ہوگئی۔ نوازشریف نے بعد میں یہ بات کھل کر کہی بلکہ اُس وقت بھی اشارتاً یہ بات کہتے رہے کہ اس حملے کے بارے میں انہیں نہ تو بتایا گیا اور نہ ہی اُن سے اس کی اجازت لی گئی۔ یہ تنازع اب تک طے نہیں ہوسکا کیونکہ اُس وقت کے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ نوازشریف اس بارے میں پوری طرح باخبر تھے، انہیں معاملات سے آگاہ رکھا جارہا تھا۔ تاہم نوازشریف کا اب تک اصرار ہے کہ وہ اس معاملے سے بے خبر ہی تھے۔ اُس وقت بھی دُور کے معاملات پر نظر رکھنے والوں کا نوازشریف کو مشورہ تھا کہ آپ کی حکومت کی کوئی رٹ نہیں ہے، اگر حملہ آپ کی مرضی کے بغیر ہوا تو آپ کٹھ پتلی سے بھی نیچے درجے کے برائے نام وزیراعظم ہیں۔ بہتر ہے کہ آپ عسکری ادارے کی مکمل حمایت کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں۔ مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا، اس مصلحت اور احتیاط کے باوجود 12 اکتوبر 1999 کو ان کی حکومت ختم ہوگئی۔
اور اب 2 اکتوبر2017 کو ایک بار پھر اسی طرح کی صورت حال پیدا ہوئی ہے جب رینجرز نے اچانک احتساب عدالت کا محاصرہ کرلیا۔ اس عدالت میں سابق وزیراعظم نوازشریف تین نیب ریفرنسز میں پیشی کے لیے آئے تھے۔ اطلاعات کے مطابق رینجرز کے دستوں نے صبح آٹھ بج کر دس منٹ کے قریب عدالت اور اس کے اردگرد کے علاقے کا محاصرہ کیا اور وزرا سمیت کسی شخص کو اندر جانے کی اجازت نہیں دی۔ وزیر داخلہ احسن اقبال اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری موقع پرپہنچے۔ احسن اقبال نے سخت برہمی کے ساتھ وہاں موجود اسسٹنٹ کمشنر سے کہاکہ یہ کوئی بنانا ریپبلک نہیں ایک جمہوری ملک ہے، مجھے ابھی لکھ کر دیں کہ رینجرز نے کیسے ٹیک اوور کیا۔ انہوں نے رینجرز کمانڈر کو وہاں بلایا مگر وہ نہیں آئے۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ میرے ماتحت ادارے کسی اور سے حکم لیں۔ ایک ریاست کے اندر دو ریاستیں نہیں چل سکتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کٹھ پتلی بننے سے بہتر ہے کہ میں مستعفی ہوجاؤں۔ انہوں نے اس واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ اسی طرح کا ردعمل طلال چودھری اور پرویز رشید کا بھی تھا۔ اس معاملے پر سارا دن ٹی وی چینلز پر مسلم لیگی رہنماؤں کا احتجاجی ردعمل آتا رہا، جب کہ مسلم لیگ (ن) کی مجلسِ عاملہ کے اجلاس میں ملے جلے جذبات کا اظہار ہوا۔
ہر ٹی وی چینل، ہر اخبار اور تجزیہ نگار اس حوالے سے یہ کہتے ہوئے پایا گیا کہ اگر واقعی وزیر داخلہ (جو دراصل وفاقی حکومت ہی ہے) کے علم میں لائے بغیر ہی رینجرز نے عدالت اور اس کے قریبی علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا تھا اور اس معاملے میں اس حد تک سختی کی گئی کہ وفاقی وزرا کو بھی اندر جانے نہیں دیا گیا، اور اگر واقعتا یہ سب کچھ حکومت سے بالا بالا ہی ہوا ہے تو یہ واضح پیغام ہے کہ حکومت کی رٹ مکمل طور پر ختم ہوچکی ہے۔ اگرچہ یہ رٹ پہلے بھی بہت کمزور تھی۔ ایسی صورت میں کم از کم وفاقی حکومت کو ازخود مستعفی ہوجانا چاہیے اور اس کی تائید میں صوبائی مسلم لیگی حکومتیں بھی استعفے دے دیں۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ 1974 میں ذوالفقار علی بھٹو نے بلوچستان کی منتخب حکومت کو توڑا تو احتجاجاً صوبہ سرحد میں این اے پی اور جے یو آئی کی مخلوط حکومت نے ازخود استعفیٰ دے دیا تھا۔ مبصرین یہ بھی کہتے ہیں کہ عدالت سے وزیراعظم نوازشریف کی نااہلی، جسے خود نوازشریف ماضی کے وزرائے اعظم کی رخصتیوں سے جوڑ رہے ہیں، اگر وہ معلومات کی بنیاد پر یہ جانتے ہیں کہ انہیں رخصت کرانے والے کوئی اور ہیں تو اس فیصلے کے بعد فوری طور پر مسلم لیگ (ن) کو وفاق میں حکومت بنانے کے بجائے مستعفی ہوجانا چاہیے تھا۔ جس کے بعد صدرِ مملکت کسی دوسری جماعت کو حکومت بنانے کی دعوت دیتے۔ اور پھر اس کی پیروی میں صوبائی لیگی حکومتیں بھی استعفی دے دیتیں تو اسٹیبلشمنٹ پر واقعی دباؤ پڑتا۔ لیکن یہ آپشن استعمال نہیں کیا گیا، اس لیے کہ نوازشریف اور دوسری پارٹی قیادت کو علم تھا کہ اگر انہوں نے اقتدار سے علیحدگی کا راستہ اپنایا تو اس پارٹی کے بہت سے لیڈر اور ارکانِ اسمبلی اس کی حمایت نہیں کرسکیں گے۔ بلکہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ جا بیٹھیں گے، ایسے میں احتجاج غیر مؤثر اور پارٹی مفلوج ہوجاتی۔ چنانچہ نوازشریف نے وفاقی اور صوبائی حکومتیں ہاتھ میں رکھتے ہوئے مزاحمت کا راستہ اپنایا ہے۔ اس طرح ان کے ناقابلِ اعتبار سیاسی پنچھی بھی ساتھ رہیں گے اور مزاحمت بھی چلتی رہے گی۔ لیکن اب ان کی مزاحمت اسٹیبلشمنٹ کے لیے پریشانی کا باعث بنتی جارہی ہے جس کا ردعمل بھی آنا شروع ہوگیا ہے۔
نوازشریف کی اس مزاحمتی سیاست کے نتیجے میں نہ صرف ٹکراؤ کے امکانات بڑھ رہے ہیں بلکہ ادارے بھی آمنے سامنے آتے جارہے ہیں۔ پہلے مسلم لیگ (ن) عدلیہ کے سامنے کھڑی ہوئی تھی، پھر اُس کی اتحادی جماعتیں بھی ساتھ آکھڑی ہوئیں۔ اور اب عملاً پارلیمنٹ اور عدلیہ آمنے سامنے ہیں۔ انتخابی اصلاحات بل 2017 کی سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد یہ لڑائی واضح ہوگئی ہے۔ اب اس بل کو شیخ رشید اور بعض دوسرے ارکان نے عدالت میں چیلنج کردیا ہے۔ اس بارے میں عدالت کا فیصلہ جو بھی ہو یہ ایک نیا تنازع ضرور ہوگا۔ اور اب احتساب عدالت پر رینجرز کی تعیناتی نے رینجرز اور سول حکومت کو آمنے سامنے لاکھڑا کیا ہے۔ یہ صورت حال کسی طرح بھی پسندیدہ نہیں۔
دردمند حلقے اس صورتِ حال سے پریشان ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی مجلسِ عاملہ کے بعد جنرل کونسل سے نااہل شخص کو پارٹی سربراہ بنانے کی توثیق اور نوازشریف کا بطور سربراہِ پارٹی انتخاب ملک کے سب سے بڑے آئینی ادارے (عدلیہ) کی تضحیک ہے جو پورے سسٹم کو متاثر کرے گی۔ پیر کے روز احسن اقبال کے ردعمل کو خواجہ سعد رفیق نے بھی پسند نہیں کیا، اور مسلم لیگ (ن) کی سینٹرل ایگزیکٹو کونسل کے اجلاس میں بھی بیشتر شرکاء نے نرم روی سے معاملات چلانے کی بات کی ہے لیکن فیصلہ وہی ہوگا جو نوازشریف چاہیں گے۔ اُن کے تمام جمہوری دعوؤں کے باوجود پوری پارٹی اُن سے اختلاف کی جرأت نہیں کرسکتی۔
ایسے میں بعض لوگ یہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ نوازشریف کی ضد یہ ہے کہ اگر وہ نہیں تو کوئی بھی نہیں۔۔۔ مسلم لیگ (ن) بھی نہیں۔ جبکہ اُن کے حامی اور وفادار کہتے ہیں کہ وہ سویلین بالادستی کی لڑائی لڑرہے ہیں، اس جدوجہد کے نتیجے میں سول حکومتیں با اختیار ہوں گی۔ اﷲ کرے ایسا ہی ہو، لیکن اس راستے میں مشکلات بہت ہیں جو شاید اس وقت نوازشریف کے سامنے نہیں ہیں۔