پاک افغان تعلقات کا مسئلہ

پاکستان اور خطہ کی سیاست میں استحکام اور دو طرفہ تعلقات کی بہتری میں پاک افغان تعلقات میں بگاڑ دونوں ملکوں کے لیے  بنیادی نوعیت کا مسئلہ بن چکا ہے ۔ یہ بگاڑ چند دنوں میں یا مہینوں میں نہیں بلکہ کئی برسوں سے جاری بداعتمادی پرمبنی سیاست کا نتیجہ ہے۔ ہم بہتری  کی بجائے اپنے عمل سے زیادہ مسائل پیدا کرنے کا سبب بن رہے ہیں  ۔ اگرچہ دونوں اطراف ایسے لوگ اور ادارے موجود ہیں جو  تعلقات میں بہتری کے امکانات کو تقویت دینا چاہتے ہیں۔ لیکن دونوں اطراف اور کچھ دیگر ممالک جو پاک افغان بہتری کو اپنے ایجنڈے کے برعکس سمجھتے ہیں، وہ مسائل پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اس وقت بہتری پیدا کرنے کے عناصر کمزور اور بگاڑ پیدا کرنے والے زیادہ مضبوط نظر آتے ہیں ۔

افغانستان کی  داخلی پالیسی میں اس حد تک بگاڑ اور ابہام  ہے کہ اگر کوئی سنجیدہ فرد یا ادارہ خود ان کی داخلی اور پاکستان کے بارے میں پالیسی کو سمجھنے کو کوشش کرے تو سوائے تضادات یا کنفیوژن کے کچھ نہیں ملتا ۔ یہ ہی سوال جب پاکستان کے بارے میں کیا جاتا ہے کہ ہماری  افغان پالیسی کیا ہے تو اس میں بھی ایک متفقہ رائے کا فقدان دیکھنے کو ملتا ہے ۔ اس لیے ساری خرابی محض افغانستان میں ہی نہیں بلکہ ہمارے ہاں بھی پالیسی ساز کچھ کنفیوژن کا شکار ہیں ۔ حالت یہ ہے کہ دونوں اطرف ایک دوسرے کے مسائل کو سمجھنے کا فہم کم اور ایک دوسرے پر الزام تراشی کی حکمت عملی زیادہ ہے ۔  الزام تراشی پر مبنی سیاست پہلے سے موجود بداعتمادی کی فضا کو مضبوط کرکے فاصلے پیدا کرتی ہے۔ یہ عمل ہمیں حالات کی بہتری سے اور زیادہ دور لے جاتا ہے ۔

ایک مسئلہ یہ دیکھنے کو مل رہا ہے کہ دونوں اطراف کوئی مستقل سوچ، پالیسی یا فکر نہیں کہ ہمیں اس بحران سے کیسے نکلنا ہے  بلکہ عملی طور پر ایک ردعمل کی پالیسی غالب ہے ۔ ردعمل کی پالیسی سے مراد یہ ہے کہ ہم واقعات یا حادثات کو بنیاد بنا کر وقتی حکمت عملی اختیار کرتے ہیں  جبکہ مستقل اور لمبی مدت کی حکمت عملی وضع کرنے میں ناکام ہورہے ہیں ۔ یہ کام کوئی بھی ایک ملک یعنی افغانستان یا پاکستان نہیں کرسکے گا بلکہ اس کے لیے دو طرف تعاون اور مشترکہ حکمت عملی یا میکنزئم بنانے کی ضرورت ہے ۔ یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اعتماد سازی کا عمل بحال نہیں ہوگا۔ اس لیے پہلی اور بنیادی شرط برا ہ راست مزاکرات کا تسلسل ہے ۔ کیونکہ دونوں اطراف میں پائے جانے والے تحفظات کو دور کرنے کا واحد راستہ بھی مزاکرات سے ہی جڑا ہوا ہے ۔

بعض افغان اور کچھ پاکستانی دوست یہ سمجھتے ہیں کہ ہماری اسٹیبلیشمنٹ ان تعلقات کی بہتری میں رکاوٹ ہے۔ اس کی منطق یہ دی جاتی ہے کہ ہم کابل میں ایک ایسی حکومت کے خواہش مند ہیں جو پاکستان کے مفادات کے تابع ہو۔ حالانکہ ہمارا مسئلہ کابل میں پاکستان کی تابع حکومت نہیں بلکہ ایک ایسی حکومت ہے جو افغان مفادات کے ساتھ ساتھ پاکستان کے ساتھ دوستی ، تعلقات کی بہتری ، اعتماد سازی سمیت ہمارے مفادات کو بھی سمجھ کر اپنی پالیسی مرتب کرے ۔ ایسا سوچنا پاکستان کا حق ہے  کیونکہ اس وقت خود بھارت بھی جس طرح افغانستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط بنارہا ہے جو اس کا حق ہے ، مگریہ خدشہ موجود ہے کہ اس کی بنیاد پاکستان دشمنی یا پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے سے جڑی ہے ۔ اس لیے یہ دلیل دی جاتی ہے کہ بھارت کی پالیسی پر بھی غور کرنا چاہیے جو کابل میں اپنی مرضی اور مفاد پر مبنی حکومت لاکر ہمیں خود داخلی محاذ پر دباؤ میں لانا چاہتا ہے ۔

خطہ کی سیاست میں اہم مسئلہ سیکورٹی کا ہے ۔ افغانستان سمجھتا ہے کہ ان کی عدم سیکورٹی کی وجہ پاکستان سے مداخلت ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے یہاں جو سیکورٹی کا بڑا بحران ہے اس کی ایک وجہ افغانستان سے ہونے والی مداخلت ہے ۔ بھارت اور افغان انٹیلی جنس اداروں کا باہمی گٹھ جوڑ نے بھی ہماری سیکورٹی کے مسئلہ کو گھمبیر بنایا ہوا ہے ۔ ہماری سیاسی اور عسکری قیادت میں یہ اتفاق رائے موجود ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے بیشتر واقعات میں خود بھارت اور افغا ن مداخلت موجود ہے ۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ امریکی صدر نے جو حالیہ جنوبی ایشیا اور بالخصوص پاکستان ، افغانستان اور بھارت کے تناظر میں جو پالیسی دی ہے ، وہ یک طرفہ ہے ۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کو دباؤ میں لانا اور بھارت اور افغانستان سے نرمی کرنا ہے ۔

یہ ہی وجہ ہے کہ امریکی صدر کی پالیسی پر پاکستان میں بھی فکر مندی موجود ہے اور سمجھا جاتا ہے کہ یہ یک طرفہ پالیسی مسئلہ کے حل کی بجائے اور زیادہ بداعتمادی کے ماحول کو طاقت فراہم کرے گی ، جو بہتر حکمت عملی نہیں۔ اگر پاکستان ، افغانستان کے حالات تبدیل ہونے ہیں تو یہ عمل اور کسی سیاسی تنہائی میں ممکن نہیں ہوگا۔ دونوں ملکوں کو مشترکہ طور پر آگے بڑھنا ہوگا۔ اب پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کی بہتری میں ایک بڑا فریق بھارت بھی ہے ۔ اس کو بھی شامل کیے بغیر بات آگے نہیں بڑھ سکے گی ۔ اس کے لیے خود پاکستان اور بھارت کے درمیان اعتماد سازی کی بحالی اور بہتر تعلقات اولین شرط ہے ۔ کیونکہ جتنا پاکستان اور بھارت دور ہوں گے تواسی بنیاد پر بھارت افغانستان کو ہمارے خلاف بطور ہتھیار استعمال کرے گا، جو پاکستان کے مفاد میں نہیں ۔ ایک مسئلہ یہ ہے کہ افغانستان کا رویہ پاکستان کے بارے میں کافی جارحانہ اور سخت گیر  ہے ۔ جس طرح سے افغان حکومت، انٹیلی جنس کے ادارے اور دیگر فریقین اشتعال انگیز بیانات دیتے ہیں وہ ہمارے پالیسی ساز ی میں تلخی کے پہلو سمیت سخت ردعمل کو بھی جنم دیتے ہیں ۔

یہ عجیب بات ہے کہ کابل کی حکومت اپنے داخلی بحران اور ناکامیوں کو قبول کرنے کی بجائے سارا ملبہ پاکستان پر ڈال کر ہمیں مشکل صورتحال سے دوچار کرنا چاہتی ہے ۔ حالانکہ کابل حکومت کا داخلی بحران صدر ، چیف ایگزیکٹو اور انٹیلی جنس اداروں کے باہمی تضادات سے جڑا ہوا ہے مگر اس پر داخلی محاذ پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی ۔ پاکستان کی تو کوشش ہے کہ ہم افغان امن کے مسئلہ میں کوئی کلیدی کردار ادا کریں کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ اس امن کا تعلق محض افغانستان تک محدود نہیں بلکہ پاکستان کا اپنا مفاد بھی یہ ہی ہے ۔

پاکستان کا ایک مسئلہ سفارت کاری کا ہے ۔ ہم واقعی سفارت کاری کے محاذ پر چاہے وہ سیاسی ہو یا عسکری  دنیا کو افغانستان اور بھارت کے کردار اور خطہ کی سیاست کے محرکات کو باور نہیں کرواسکے ۔ ہمارے مقابلے میں بھارت ڈپلومیسی کے محاذ پر آگے ہے اور وہ اپنے مفاد کو بنیاد بنا کر ہمیں سوالیہ نشان بنارہا ہے ۔ لیکن اس کی ایک وجہ خود ہمارے داخلی محاذ پر سول ملٹری کشمش ہے ۔ یہ اسی کشمکش کا نتیجہ ہے کہ ہمارے وزیر خارجہ خواجہ آصف بھی وہی لب ولہجہ اختیار کررہے ہیں جو ہمارے خلاف بھارت اور افغانستان کا ہے ۔ مسئلہ یہ ہے کہ اگر ہمارے کچھ داخلی مسائل ہیں تو کیا ہم خود اندر بیٹھ کر اس کا سدباب کریں یا خود اپنے آپ کو دنیا کے سامنے تماشہ بنائیں ۔ سیاسی قیادت کا یہ کہنا کہ افغان پالیسی پر صرف ایک ادارے کا کنٹرول ہے ، ایسا کہنے سے خود ہماری پوزیشن بھی سوالیہ نشان بنتی ہے ۔ لیکن اس کے برعکس المیہ یہ ہے کہ ہماری سیاسی قیادت کو جس انداز میں معاملات میں لیڈ لینی چاہیے ، اس کا بھی فقدان نظر آتا ہے ۔

پاکستان پر ایک دباؤ یہ بھی ہے کہ وہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مصالحت کار کا کردار ادا کرے ۔ ماضی میں پاکستان کو باہر نکال کر مسئلہ حل کرنے کی جو بھی کوشش ہوئی ، وہ ناکام ہوئی ۔ اب پاکستان پر انحصار کیا جاتا ہے ۔ لیکن غلطی یہ ہے سمجھا جاتا ہے کہ افغان طالبان ہماری کٹھ پتلیاں ہیں ، جو درست نہیں ۔ اب افغان طالبان کے بھی اپنے مفادات ہیں ۔ ہم نے اس مسئلہ پر جب بھی کوئی بڑا قدم اٹھایا جیسے مری مزاکرات کا عمل تھا تو اسے خود بھارت اور افغانستان کی جانب سے کمزور کیا گیا۔ خود افغان طالبان اور کابل میں بڑی بداعتمادی ہے۔ ایسے میں پاکستان کیسے افغان طالبان کو راضی کرسکے گا ، خود بڑا چیلنج ہے ۔

بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اس وقت پاکستان اور افغانستان کے تناظر میں ان ملکوں سمیت  خطہ کی سیاست خطرات کی جانب بڑھ رہی ہے ۔ اس کی وجہ محض پاکستان نہیں بلکہ وہ تمام ممالک ہیں جو اپنی ہٹ ڈھرمی اور طاقت کی بنیاد پر اپنی پالیسی ٹھونسنا چاہتے ہیں۔  یہ صورت حال پاکستان کے لیے  بھی بڑا خطرہ ہے اور اس پالیسی پر بھارت اور افغانستان کو بھی نظرثانی کرنی ہوگی ۔