نئے عمرانی معاہدہ کی ضرورت
- تحریر سلمان عابد
- سوموار 09 / اکتوبر / 2017
- 10249
پاکستان کی ریاست اور معاشرہ ایک فکری انحطاط کا شکار ہیں ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہماری ریاست کو عوامی مفادات کے تناظر میں جس ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا ، اس کا فقدان ہے ۔ بنیادی طور پر ریاست اور شہریوں کے درمیان ایک باہمی رشتہ ہوتا ہے ۔ یہ رشتہ ایک دوسرے کے مفادات یعنی حقوق و فرائض کی فراہمی سے جڑا ہوتا ہے ۔ بدقسمتی سے پاکستان میں عمومی طور پر یہ دیکھنے کو مل رہا ہے کہ ریاست، حکومت اور شہریوں کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج نے بہت سے ایسے مسائل پیدا کردیئے ہیں جو ریاست کی اپنی ساکھ پر سوالیہ نشان ہے ۔ ریاست اور شہریوں کے درمیان معاہد ہ اگر محض کاغذ کی دستاویزات اور عدم عملدرآمد تک ہی محدود ہو تو لوگ ریاست کے ساتھ اپنے باہمی تعلق کو مضبوط نہیں کرسکتے۔
پاکستان کے سیاسی اور فکری محاذ پر کام کرنے والے اہل دانش بنیادی طور پر موجودہ بحران سے نکلنے کے لیے ایک نئے’’ عمرانی معاہدے کی تشکیل نو‘‘ کی بات کرتے ہیں ۔ ان کے بقول موجودہ عمرانی معاہدہ اپنی افادیت کھوچکا ہے اور ایک ایسے معاہدے کی تلاش میں ہے جو اس کو معاشرے میں بنیادی حقوق کی ضمانت دے سکے ۔ معروف مصنف، دانشور، استاد اور فکری محاذ پر سرگرم عمل ڈاکٹر خلیل احمد پاکستان کے علمی اور فکری حلقوں میں کسی تعارف کے محتاج نہیں ۔ انہوں نے ’’ الٹرنیٹ سالوشنزانسٹی ٹیوٹ‘‘ کی بنیاد رکھی جو پاکستان میں عملی طور پر شخصی آزادی ، بنیادی حقوق اور قانون کی حکمرانی کے تحت بازار معیشت کے اصول کے فروغ کے لیے کام کررہا ہے ۔ وہ کئی اردو اور انگریزی کتابوں کے مصنف ہیں ۔ ان کی ایک شہر آفاق کتاب ’’پاکستان میں ریاستی اشرافیہ کا عروج‘‘ مجھے پڑھنے کا موقع ملا، یہ ایک واقعی فکر انگیز کتاب ہے جو علمی دریچوں پر کئی سوالوں کے ساتھ دستک دیتی ہے ۔ اسی طرح ان کی دو اور کتابیں ’’ سیاسی پارٹیاں یا سیاسی بندوبست ‘‘ اور پاکستانی کشا کش: تحلیل اور تعدیل میں آگے بڑھنے کے لیے فکری راہنمائی کرتی ہے ۔
ان کی دو جلدوں پر مشتمل نئی کتاب ’’ عمرانی معاہدے کی تشکیل نو‘‘ انسانی معاشرے کی تنظیم کے اصول، برادرم علی سلمان کی معرفت ملی ہیں ۔ ان کی دونوں کتابیں پاکستان میں عملی طور پر ایک نئے عمرانی معاہدے کی تشکیل نو کی بحث کو آگے بڑھانے کی کوششوں کا حصہ ہے ۔ یہ کتابیں میری گولڈ بکس لاہور نے شائع کی ہیں ۔ مصنف کے بقول ’’ عمرانی معاہدے کا تصور، ریاست اور عوام کے درمیان ایک معاہدے کی حیثیت رکھتا ہے جس میں ریاست ایک ماورائی مرتبے کی حامل ہے اور وہ سیاست دان اس کے نمائندے ہیں۔ جبکہ عوام ایک ساکت و ساکن فریق ہیں، جو کوئی مدعا و منشا نہیں رکھتے اور ریاست ، سیاست دانوں کی راہنمائی میں ان پر عنایات خسروانہ کرنے والی ہستی قرار پاتی ہے ۔ ان کے بقول پاکستان کی گزشتہ دہائیوں کی سیاست کا جوہر اسی صداقت سے تیار ہوا ہے ، یہ ہی ماورائی ریاست کی سیاست ہے ، جس نے ریاستی اشرافیہ کو جنم دینے کے ساتھ ساتھ ایک اشرافی سیاست کو بھی جنم دیا ہے۔ باالفاظ دیگریہ کہ ریاستی اشرافیہ ، شہری جو دولت تخلیق کرتے ہیں اسی پر پل رہی ہے اور یوں ایک طفیلی گروہ قرار پاتی ہے ، جو معاشرے کو پھلنے پھولنے نہیں دے رہا۔‘‘
ڈاکٹر خلیل احمد کا یہ بنیادی نکتہ کافی اہمیت کا حامل ہے جس میں وہ زور دیتے ہیں کہ ’’ یہ ہی وہ ماورائی ریاست کا بندوبست جسے جمہوری کی بجائے ، اشرافی عمرانی معاہدے کے تحت وجود میں لایا گیا جبکہ ہمارا آئین جس پاکستان کی ریاست کا داعی ہے ، وہ ایک پارلیمانی جمہوریت ہے ۔ یعنی پاکستانی ریاست عملا ایک اشرافی ریاست بنی ہوئی ہے ۔‘‘ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہم ایک سیاسی اور جمہوری ریاست سمیت عوامی مفادات پر مبنی عمرانی معاہدے سے کافی دور چلے گئے ہیں ۔ یہاں عوام کی حکمرانی اور ان کے حقوق کے تحفظ کی کہانی کمزور اور ایک مخصوص طاقت ور یا بالادست طبقات کو زیادہ مراعات یا فوقیت دی گئی ہے ۔ بالادست طبقات کو فوقیت حاصل ہے۔ وہ بنیادی طور پر ریاست، حکومت اور بالادست طبقات سمیت دیگر طاقت ور عناصر کے باہمی گٹھ جوڑ کا حصہ ہے۔ جس میں عوامی مفادات کو پس پشت ڈال کر طاقت ور طبقہ اپنے ذاتی اور خاندانی مفادات کو تقویت دیتا ہے ۔ یہ ہی وہ ٹکراؤ ہے جو اس وقت ریاست اور عوام کے درمیان جاری ہے اور اسی ٹکراؤ میں ہمیں فکری محاذ پر نئے عمرانی معاہدے کی بحث سننے کو ملتی ہے ۔
ڈاکٹر خلیل احمد کا کمال یہ ہے کہ معاملات سمجھنے یا سمجھانے کے لیے جذباتی انداز استعمال نہیں کرتے ۔ وہ دلیل کے ساتھ اپنا مقدمہ پیش کرتے ہیں اور جو مقدمہ پیش کیا ہے اس میں دلیل اور شواہد کے درمیان توازن بھی قائم کیا گیا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کی ریاست پر ایک مخصوص طبقہ کا قبضہ ہوگیا ہے ، یہ لوگ یا ادارے مختلف نظریات اور فکرکو بنیاد بنا کر عوام کا استحصال کرتے ہیں۔ یہ عوامی یا فلاحی ریاست کم اور اب سیکورٹی ریاست زیادہ بنتی جارہی ہے ۔ سیکورٹی ریاست کا بننے میں بھی غیروں سے زیادہ ہمارا اپنا قصور ہے جو ہماری داخلی اور خارجی پالیسیوں کا نتیجہ ہے ۔ جب آپ عمرانی معاہدے کو بنیاد بنا کر ایک طبقاتی معاشرہ تشکیل کرتے ہیں جس میں سب برابر نہیں تو پھر ریاست کا تصور کمزور ہوگا۔ ڈاکٹر خلیل احمد کی دو جلدوں پر مشتمل اس کتاب میں عمرانی معاہدے کی ضرورت اور جواز، تہمیدی نکات، اہم مباحث، عمرانی معاہدے کی تشکیل نو، نیا عمرانی معاہدہ پر تفصیلی گفتگو شامل ہے ۔ نئے عمرانی معاہدے کا خاکہ بھی موجود ہے ۔
لیکن سوال یہ ہے کہ عوامی اور جمہوری مفادات پر مبنی نیا عمرانی معاہدہ کیسے اس معاشرے میں طاقت حاصل کرسکے گا۔ کیونکہ اب جمہوریت کے نام پر بھی جو کچھ یہاں اہل سیاست کررہے ہیں اس پر صرف ماتم ہی کیا جاسکتا ہے ۔ ملک میں سیاسی جماعتیں، قیادت ، اہل دانش اور فکری محاذ پر کام کرنے والے اداروں سمیت میڈیا میں تعاون ضروری ہے۔ یہ تمام فریقین باہمی تعاون سے ریاستی اداروں پر دباؤ بڑھاتے ہیں ۔ یہ دباؤ عوامی مفادات کے لیے ہوتا ہے لیکن یہاں عوام بہت پیچھے چلے گئے ہیں ۔ سیاسی جماعتوں کے منظم و جمہوری ہونے اور شفافیت پر مبنی جوابدہی کے نظام کے بغیر فریقین ایک ذمہ دار ریاست کے لیے نئے عمرانی معاہدے کی تشکیل نو میں خود رکاوٹ بن گئے ہیں ۔
میں عمومی طور پر اس نکتہ پر زور دیتا ہوں کہ ہمیں ریاستی ، حکومتی اور ادارہ جاتی امور کو ذمہ دارانہ ریاست کے طور پر چلانے کے لیے نئے حکمرانی کے نظام کو Re define and Re Structuring کرنا ہوگآ۔ لیکن یہ کام مافیا ز پر مبنی فریقین کے گٹھ جوڑ کو توڑے بغیر ممکن نہیں ۔ اس لیے ہمیں اگر ایک نئے عمرانی معاہدے کی طرف بڑھنا ہے۔ اس کے لیے عوامی تعاون اور فکری احیا ضروری ہے۔