پاکستان نجی ملکیت نہیں ہے
- تحریر شیخ خالد زاہد
- منگل 10 / اکتوبر / 2017
- 4049
پاکستان منجدھار میں پھنسی ہچکولے کھاتی کسی کشتی کی طرح گزشتہ کئی سالوں سے ایک جگہ کھڑا ہے اور وہ جگہ ہے قانون اور لاقانونیت کے درمیان کی۔ قانون اپنی گرفت نرم کرتا ہے تو لاقانونیت جو بہت زیادہ طاقتور اور چوکنی ہے فوری طور پر حرکت میں آجاتی ہے۔ اس کے برعکس قانون کی گرفت سخت بھی ہوجائے تو لاقانونیت نے ایسے بہت سارے راستے بنا رکھے ہیں کہ وہ انتہائی صفائی سے نکل جاتی ہے ۔ دراصل اس کی اہم ترین وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں برس ہا برس سے لاقانونیت کا راج ہے اور قانون ہمیشہ سے ہی بہت کمزور رہا ہے (جس کی ایک وجہ بار بار آئین کی معطلی بھی ہے) ۔
اب جبکہ قانون کو طاقتور بنانے کی کوشش کی جارہی ہے تو قانون کو شاید یقین ہی نہیں آرہا کہ اسے طاقتور دیکھنے کیلئے پاکستان کے عوام کس بے چین ہیں۔ بد قسمتی سے حکمران خاندان (شریف فیملی) ایسے وقت میں حکومت میں ہے جب قانون اپنے زور و شور سے اطلاق کی جانب گامزن ہوا ہے، جس کی وجہ سے شاید ابھی تک یہ لوگ سب مذاق سمجھ رہے ہیں تو دوسری طرف انہیں پریشانی بھی لاحق ہے۔ قانون کی زد میں آنے والے پاکستان کے طاقتور ترین لوگ یہ سمجھ رہے ہیں بلکہ سمجھتے ہیں کہ یہ ہمارا ہی تو بنایا ہوا قانون ہے اور ویسے بھی پاکستان میں قانون ساز اپنے آپ کو قانون سے بالاتر سمجھتے آئے ہیں۔ یہ بھی قانون کی ہی بدقسمتی رہی ہے۔ جیسا کہ ابھی کچھ دنوں پہلے جو قانون کے ساتھ ہوا ہے وہ ہم سب پاکستانیوں کیلئے انتہائی شرمندگی اور ندامت کا باعث بنا ۔ بروقت فیصلے پر نظر ثانی کرلی گئی ورنہ ایسا کام کرنے والوں کے ساتھ جو ہونا تھا وہ پھر ساری دنیا تو دیکھتی مگر تماشہ پاکستان کا ہی بننا تھا۔
پاکستان کو اندرونی خلفشار میں الجھائے رکھنے میں یقیناً بیرونی طاقتوں کا ہاتھ ہے تاکہ وہ اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل میں کامیاب ہوسکیں۔ جیساکہ بھارت کا کنٹرول لائن پر آئے دن فائرنگ کرکے مقامی لوگوں کو ہراساں کرنا اور ان کی زندگیوں کے لئے خطرہ بننا ہے۔ دوسری طرف افغانستان بھی بھارت کے نقش قدم پر چل رہا ہے اور اب تو امریکی صدر بھی بھارت کی زبان میں پاکستان سے بات کرتے ہیں۔ ان سارے معاملات کا برا اثر پاکستان کی معیشت پر پڑ رہا ہے۔ اس کے علاوہ ہماری پروان چڑھتی نسل بھی اس ہچکولے کھاتی کشتی کی سواری سے نالاں دیکھائی دے رہی ہے۔ اس سارے ماحول میں صرف چین ہی خاموشی سے اپنے کام پر دھیان دیئے ہوئے ہے۔ اللہ پاکستان کو آستین کے سانپوں سے بچائے ۔ پاکستان میں آئین اور قانون کی بالادستی کسی معمہ سے کم نہیں ہے کیوں پاکستان میں قانون کی گرفت میں کمزور ہے۔ اس میں قانون کا بھی کوئی قصور نہیں ہے کیونکہ قانون عدالت کی چار دیواری سے تو باہر نکلتا ہی نہیں۔ ہمارے ملک کے ذمہ دار اپنی اپنی سیاست چمکانے میں سرگرم عمل ہیں ۔ موجودہ ماحول کا بغور جائزہ لیا جائے تو بہت واضح نظر آتا ہے کہ ساری سیاسی جماعتیں اگلے انتخابات کو ذہن میں رکھ کر دھیمے دھیمے لہجے میں ایک دوسرے کی مخالفت یا ساتھ دیتی دکھائی دیتی ہیں۔
پاکستان کبھی پاکستان بنا ہی نہیں۔ یہ تو مختلف خاندانوں یا پھر مخصوص اداروں کے تابع رہا ہے جس کی وجہ سے نظریہ پاکستان پیدائش کے ساتھ ہی مفلوج ہوگیا اور پھر ہوتے ہوتے زندہ لاش بن گیا ۔ اس زندہ لاش کے نام پر ہر بار انتخابات کرائے جاتے ہیں اور انتخابات میں کامیاب ہوکر اس لاش کو اسی جگہ چھوڑ کر اپنی اپنی جیبیں گرم کی جاتی ہیں۔ پاکستان سے محبت کرنے والوں کی محبت کا حال ہم سب کے سامنے ہے کہ علاج کروانا ہے تو پاکستان میں نہیں ہوسکتا ، سیروتفریح سے لے کر جتنے بھی نجی کام ہیں سب کے سب وطن عزیز سے باہر اور وہ بھی قومی خزانے سے۔ یہاں تک کے حج اور عمرے بھی سعودی عرب کے سرکاری دوروں کے دوران کئے جاتے ہیں یا پھر دورے ہی ان کاموں کی ادائیگی کیلئے رکھے جاتے ہیں۔
پاکستان میں جمہوریت کی قلت کے باعث ڈکٹیٹرشپ پروان چڑھتی رہی جو کہنے کی حد تک جمہوریت کے علمبردار تھے۔ پاکستان کو بغیر وردی کی ڈکٹیٹرشپ سے ہی واسطہ رہا ہے۔ کوئی بھی اس بات سے انکار نہیں کرے گا کہ پاکستان کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں مخصوص افراد کی بدولت سیاست کر رہی ہیں۔ شاید ہی کوئی ایک سیاسی یا مذہبی جماعت ملے جو اپنے عملی کارناموں اور عوام کی خدمت کے بل بوتے پر سیاسی منظرنامے پر موجود ہو۔ حالات کی بہتری کی کوئی صورت نہیں دکھائی دے رہی کیونکہ کوئی بھی کچھ ماننے کیلئے تیار نہیں ہے۔ دوسری طرف پاکستان کی ہچکولے کھاتی کشتی اسی طرح سے ڈگمگاتی رہے گی۔ کشتی کے ڈگمگانے کا فائدہ بھی ان سیاست دانوں کو ہی پہنچے گا۔ حکمران اس کشتی کو اور زور زور سے ہلانے میں مصروف ہیں۔ پاکستان کو منزل کی طرف گامزن کرنے کے لئے ضروری ہے کہ پاکستان کابھٹکنا ختم ہو اور وہ سب لوگ بھٹکنا شروع کریں جو پاکستان کے آئین سے تضاد رکھتے ہیں۔ اور اپنی بالادستی پر آئین کی بالادستی کو پسند ہی نہیں کرتے۔
اسی لئے پاکستان کو نجی ملکیت تصور کرلیا گیا ہے۔ دنیا کے ممالک اپنے شہریوں کو ہر ممکن سہولیات دینے میں اپنی توانائیاں صرف کر رہے ہیں۔ لیکن تو پاکستان اور اس کے عوام ماضہی ہی طرح پریشان کھڑے ہیں۔