نواز شریف کا شکوہ، جوابِ شکوہ
- تحریر حسین شہادت
- منگل 10 / اکتوبر / 2017
- 4492
انتخابی دھاندلیوں کے نعروں سے جنم لینے والا حکومت مخالف طوفان 120 دن کے دھرنے کے بعد بھی تھم نہ سکا۔ بلکہ اس میں تغیانی کی کیفیت رہی۔ جیسے زلزلے کے بعد بھی آفٹر شاکس آتے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ پاناما پیپر ز کے اجراء سے یوں لگا کہ حکومت کا سب کچھ جل کر خاکستر ہونے لگا۔ کوئی جائے پناہ دستیاب نہ ہوسکی ۔ اس آگ کے شعلے اس قدر بلند ہوئے کہ تیسری بار انتھک جدوجہد اور آئین میں ترمیم کے بعد میاں نوازشریف وزیراعظم منتخب ہونے کے باوجود نااہل ہوگئے ۔
یہ میاں نواز شریف کی بدقسمتی کے علاوہ کیا ہوسکتا ہے کہ ہر بار و ہ کسی نہ کسی طرح آئینی مدت پوری ہونے سے قبل ہی نشانہ بن جاتے ہیں ۔ پہلی بار 58-2b نے انہیں اقتدار سے الگ کیا ، اگلی بار وہ ایک فوجی جرنیل کا شکار بنے البتہ اس بار وہ اپنی ہی غلط پالیسیوں کے باعث عدالت کا لقمہ بن گئے۔ نواز شریف کے وزیراعظم بننے کے وقت2013 میں بازگشت تھی کہ وہ اگر اس عہدے سے نااہل ہوئے تو عدلیہ وجہ بنے گی۔ کیونکہ انہوں سبق حاصل کررکھا تھا کہ فوج یا کسی اور ادارے سے ٹکراؤ نہیں کرنا ۔ اس معاملے میں ان کے دوست سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار اور ان کے بھائی وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے یہ محاذ سنبھال رکھا تھا کہ یہاں کی اونچ نیچ یہ دیکھ لیں گے۔ 58-2b اب موثر نہیں۔ صدر مملکت بھی ان کا اپنا تھا۔ نواز شریف کا خیال تھا کہ عدلیہ آزادی تحریک میں ان کا کردار کافی معنی خیز رہا ہے لہٰذا عدلیہ ان کی احسان مند ہوگی اور ان کے خلاف اقدام اٹھانے کا نہیں سوچے گی۔ لیکن پاناما اسکینڈل میں انہوں جان بوجھ کر خود ہی عدلیہ کو دعوت دی کہ وہ اس کا فیصلہ کرے ۔
گمان تھا کہ بال ان کے کوٹ میں ہی رہے گی لیکن نواز شریف اپنی غلطیوں کی وجہ سے نااہل قرار پائے۔ کشتی کنارے کے قریب تھی کی ڈوب گئی ۔ ساحل پانے کی تمنا پھر سے ادھورے خواب کی مانند ثابت ہوئی۔ اخلاقی سطح پر ان کی آبرو ، عزت سب پامال ہوگئی ۔ انہیں تیسری بار اس کے کوچے سے بہت بے آبرو ہوکر نکلنا پڑا ۔ پہلی بار وہ قدرے کم بے آبرو ہوئے تھے، اگلی بار بہت برا ہوا ، ملک بدری تک سہنی پڑی البتہ اس بار تو عزت کا ہی جنازہ نکل گیا تھا۔ بہت بڑا سانحہ تھا، وہ سہہ نہیں پارہے تھے ، جس عدلیہ کیلئے وہ سڑکوں پر حمایت کی خاطر نکلے تھے اسی نے انہیں سڑک پر لاکھڑا کردیا تھا۔ انہوں نے بہت سوچا، ہر وزیر، مشیر ، دوست ، ساتھی ، ہمدرد سے استفسار کیا کہ ان کا کیا قصورتھا۔ کیوں نکالا گیا۔ جواب نہ ملا ۔ حالانکہ انہیں فیصلہ سناتے ہوئے منصفوں نے بتلا دیا تھا کہ آپ مسند اقتدار کے اعلیٰ ترین عہدے پر فائز تھے، قوم کے امین تھے ، سب سے زیادہ سچ بولنے والے ، اس پر عمل پیرا ہونے والے اور اسی سچ کو ابلاغ کرنے والے عہدے پر براجمان تھے۔ آپ نے امانتداری کی نہ دیانت داری نبھائی اور ہی سچ بات کہنے ، اس پر عمل کرنے کی کوشش کی اور نہ اس کے ابلاغ کیلئے مثال بنے۔ لہٰذا آپ اس عہدے کے قابل نہیں رہے۔ صادق و امین نہیں رہے۔ دیانت دار نہیں رہے اور آپ اس وجہ سے نکالے گئے۔
اگر آپ کسی شخص کے ساتھ ایک بار غلط انداز اختیار کریں ممکن ہے کہ وہ ناراض ہو لیکن کوئی خاص ردعمل نہ دے۔ دوسری بار بھی اسی جیسا سلوک ہوتو ردعمل آنا ضروری ہے۔ البتہ تیسری بار پر وہ اس کا متحمل نہیں ہوتا۔ لیکن پھر بھی وہی رویہ رکھا جائے تو یقینی طور شدید ردعمل آنا ناگزیر ہے، اس درمیان یہ بھی ممکن ہے کہ وہ انتہائی اقدام بھی اٹھائے۔ میاں صاحب کے سا تھ تیسری بار بھی ذلت آمیز سلوک ہوا حالانکہ یہ سب کچھ ان کا ہی مرہون ِ منت تھا ۔ میاں صاحب کو اس بار ذہنی صدمہ ہوا ہے کہ مجھے کیوں نکالا ، میرا کیا قصور تھا، جیسے الفاظ کا تواتر سے استعال کرنے لگے۔ یہاں تک کہ یہ الفاظ ان کی پارٹی سے تعلق رکھنے والا ہر فرد ہر فورم پر کہنے لگا۔ یہ ایک غم زدہ غزل بن گئی ہے۔ ایک راگ بن گیا جو ہر محفل میں آلاپا جانے لگا۔ نون لیگ کے حامی اسے پکا راگ بنا بیٹھے ہیں ۔
اسلام آباد سے لاہور واپسی پر براستہ جی ٹی روڈ اسی شعر نما فقرہ سے گفتگو کا آغاز ہوا اور انجام بھی اسی پر ہوا کہ مجھے کیوں نکالا گیا، قصور کیا تھا نہیں بتلایا گیا، کیوں نکالا گیا۔ کیوں نکالا گیا۔ ۔۔۔ 2 اکتوبر تک اسی شعر پر شریف خاندان ، مشیر اور وزیر رکے ہوئے تھے ۔ 2 اکتوبر کو احتساب عدالت میں سابق وزیر اعظم کی پیشی کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت ترین انظامات کئے گئے تھے، وزیروں مشیروں اور نون لیگی رہنماؤں سمیت کارکنوں کو داخلے کی اجازت نہیں تھی۔ کہا گیا کہ نواز شریف سے ہمدردی رکھنے والے آج زحمت نہ کریں ، ممکن ہے کہ روک لیا جائے جس سے بد مزگی ہوسکتی ہے۔ پاناما کیس کی سماعت اور جے آئی ٹی میں شریف فیملی کی پیشی کے موقع پر یہ سہولت دستیاب تھی۔ عدالت اور جوڈیشل اکیڈمی کے باہر اظہار خیا ل ہوتا بھی رہا، پابندی کا اطلاق نہیں تھا۔ البتہ یہاں صورتحال مختلف تھی سو ایسا کیا گیا۔ سوائے وفاقی وزیر داخلہ کے سب نے اس پر آمین کہا۔ احسن اقبال جن کا اقبال اس لئے بلند تھا کہ تمام داخلی معاملات کے سربراہ تھے وہ ضد کربیٹھے کہ وہ اپنے قائد کی نصرت کو لازم ہے کہ جائیں گے۔ لیکن انہیں بھی عدالت میں جانے کی اجازت نہ مل سکی تو احسن اقبال خوب برہم ہوئے۔ غصہ بھی بہت کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے میاں صاحب کی غزل میں اگلے شعر کا اضافہ کرڈالا گویا غزل کو آگے بڑھایا کہ:
مجھ میں تھی طاقت ، جرات ایک کوروکنے کی
میں روک سکتا سب کو، مجھے کیوں روکا گیا
احسن اقبال کو شاید نہ روکا جاتا اگر صرف پولیس تعینات ہوتی ۔ یہاں تو رینجرز اہلکار غیر معمولی طور پر ڈیوٹی دے رہے تھے جو سوائے کمانڈ کے کسی کی نہیں سنتے۔ انہوں نے ملک کے وزیر داخلہ کو داخلے سے روک کر جرات کا مظاہرہ کیا ۔ احسن اقبال کا اقبال سطحِ زمین پر تھا اور ان کا حسن سلوک سب نے دیکھ لیا۔ اب وہ احسن رہے اور نہ ہی ان کااقبال بلند رہا ۔ یکایک انہیں دو باتیں سوجھیں ۔ اول وہ بنانا ڈیموکریٹک اسٹیٹ میں نہیں ہیں ، دوسری قائد کی غزل مکمل کرنے کا خیال آیا۔ انہوں نے دونوں کا اظہار کرکے ثابت کردیا کہ اسلامی جمہوری پاکستان کے وزیر ہیں اور ہر پابندی کے باوجود اپنے قائد کے کھینچے خط ہی پر چلتے رہیں گے۔ وفاقی وزیر صاحب نے 72گھنٹوں میں رینجرز کی تعیناتی کی تفصیلات طلب کرلیں ، ان کے علاوہ بھی کسی کا اقبال اس قد بلند ہے کہ وہ انہیں بھی روک سکتا ہے جس کی انہیں خبر تک نہیں ۔
5 اکتوبر کو ڈی جی آئی ایس پی آر نے کئی باتوں سمیت اس گلے شکوے کا جواب بھی دے دیا کہ انہیں کیوں روکا گیا۔ کہا ضروری نہیں کہ ہر حکم تحریری ہو ، سیکیورٹی خدشات پر رینجرز کو تعینات کیا گیا۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے ریاست کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں ۔ احتساب عدالت کے باہر پیش آنے والا ناخوشگوار واقعہ غلط فہمی کا نتیجہ تھا۔ قوانین کے مطابق اسپیشل کارڈ کے بغیر آری چیف کو بھی ایک سپاہی جانے سے روک سکتا ہے ۔ اگر رینجرز کے جوان نے کسی کو روکا تو اسے سراہا جانا چاہئے کیونکہ آئندہ بھی اسے ڈیوٹی کرنی ہے ۔ مقامی طور پر غلط فہمی ہوئی۔ ہوسکتا ہے کہ جن لوگوں کو پاس جاری ہوئے ان کی اطلاع وہاں تعینات سپاہیوں تک نہ پہنچ سکی ہو ۔ یہ کیوں روکے کا جواب تھا۔ یعنی شکوہ کا جواب شکوہ ۔
شکوہ جواب شکوہ گو کہ علامہ محمد اقبال سے وابستہ شاعری کا اعلیٰ نمونہ ہے لیکن نون لیگ کی جانب سے بھی فی زمانہ ترتیب دیا جانے والا سیاسی شعری مجموعہ بن رہا ہے ، یہ ابھی ابتداء ہے۔ ابھی کئی منزلیں اس میں آیا چاہتی ہیں ۔ ابھی تو فقط کیوں نکالا گیا، کیوں روکا گیا کا شکوہ اور جواب شکوہ آیا ہے۔ ابھی کیس احتساب عدالت میں چل رہا ہے ۔ کیوں ٹوکا گیا، کیوں پکڑا گیا، کیوں بھیجا گیا، کہاں بھیجا گیا، اس طرح کی کئی منازل آنا باقی ہیں ۔امید ہے کہ 2018 تک عام انتخابات سے قبل یا پھر انتخابات کے نتائج کے بعد تک لازم ہے کہ یہ شکوہ جواب شکوہ مکمل شعری مجموعہ بن جائے گا ۔ انتظار کیجئے ، ہم بھی یہی کام کررہے ہیں ۔