پھر بہا خون اور انگلی اٹھی اسلام پر

جب کسی انسان کی جان جاتی ہے یا اس کو مارا جاتا ہے تو دنیا کے ہر انسان کو اس بات پر شدید دُکھ پہنچتا ہے۔ دراصل موت ایک ایسی تلخ سچّائی ہے جسے ہم سب کو ایک دن چکھنا ہے۔ لیکن جب موت ایسی صورت میں ہو جب ایک انسان دوسرے انسان کو بنا کسی مقصد اور وجہ کے مار ڈالے تو اس وقت دنیا کا ہر امن پسند آدمی یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ آخر کیوں اس انسان کی جان لے لی گئی۔ شاید اس سوال کا جواب نہ تو ہمارے پاس ہوتا ہے اور نہ ہی مارنے والے کے پاس کیونکہ نہ مرنے والا اس وقت یہ جان پاتا ہے کہ کیوں اس کی جان لے لی گئی اور نہ ہی مارنے والا اپنی مقصد کی وضاحت کر پاتا ہے۔

لندن میں صبح کے کوئی چھ بج رہے تھے ۔ حسبِ معمول گھڑی کے الارم نے بستر سے اٹھنے پر مجبور کر دیا۔ روزانہ کی طرح موبائل کو آن کرکے بی بی سی کے ویب سائٹ پر جیسے ہی نظر پڑی تو منہ سے بے ساختہ ’ یا اللہ ‘ نکلا۔ خبر ہی ایسی تھی کہ کوئی بھی انسان پڑھ کر چونک جائے۔ دل میں ایک خوف سا ہونے لگا کیونکہ امریکہ سمیت دنیا کے کسی بھی ملک یا شہر میں اگر اس طرح کے حادثات ہوتے ہیں تو بکاؤ میڈیا بنا کسی تفتیش کے مسلمانوں پر الزام داغ دیتا ہے۔ دھیرے دھیرے جب خبروں کی تفصیلات سامنے آنے لگیں تو پتہ یہ چلا کہ گولی چلانے والا آدمی اسٹیفن پیڈوک ہے جو ایک گورا امریکی ہے۔ ابھی اسٹیفن پیڈوک کی تفصیلات معلوم ہی کی جارہی تھی کہ دنیا کے بعض ٹی وی چینل نے اس بات کو دکھانے لگے کہ اس حملے کی ذمّہ داری آئی ایس آئی (داعش) نے قبول کر لیا ہے۔ وہیں آئی ایس آئی نے یہ بھی کہا کہ اسٹیفن نے چند روز قبل ہی اسلام مذہب قبول کیا تھا ۔ لیکن آئی ایس آئی ان تمام باتوں کا ثبوت فراہم کرنے سے قاصر ہے۔ امریکہ کی ایجنسی ایف بی آئی نے اسے آئی ایس آئی کا محض ایک پروپگنڈہ بتا یا ہے کیونکہ اسٹیفن پیڈوک کا عالمی انتہا پسندی سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا۔

ذہن میں طرح طرح کی باتیں پیدا ہونے لگی اور میں سوچنے لگا کہ دفتر جا کر کس طرح انگریزوں سے نگاہیں ملا پاؤں گا۔ یوں تو انگریزوں میں اب بھی تہذیب اور رواداری کافی پائی جاتی ہے۔ لیکن حالات سے دوچار دنیا نے برطانیہ میں بھی کچھ حد تک انگریزوں کے اندر شک و شبہ ڈال دیا ہے اور آئے دن اس کے اثرات کبھی مساجد پرحملے یا کبھی حجاب پہنی خواتین کے ساتھ بدتمیزی یا کبھی داڑھی رکھے ہوئے لوگوں کے ساتھ بدسلوکی کی صورت میں دیکھنے کو ملتے ہیں۔  پہلی اکتوبر کو امریکہ کے معروف شہر لاس ویگاس میں موسیقی کی ایک تقریب میں ایک شخص نے منڈیلے بے ہوٹل کی بتیس منزلہ سے موسیقی سننے والوں کی بھیڑ پر گولی چلا کر 58 لوگوں کی جان لے لی اور لگ بھگ 500 سے زیادہ لوگوں کو زخمی کر دیا ۔ موسیقی کی اس تقریب میں 22,000 لوگ موجود تھے۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ پہلے انہیں ایسا محسوس ہوا کہ قریب ہی کسی تقریب میں پٹاخوں کا استعمال ہو رہا ہے ۔ لیکن جب لوگوں کو پتہ چلا کہ بھیڑ پر کوئی گولی چلا رہا ہے تو اس کے بعد بھگدڑ مچ گئی اور لوگ جان بچا نے کے لئے اِدھر اُدھر بھاگنے لگے۔

لاس ویگاس میں سہ روزہ موسیقی فیسٹیول کا آخری دن تھا اور لوگ تقریب کے آخری دن کا بھرپور لطف لے رہے تھے۔ پولیس نے بتا یا کہ گولی چلانے والے اسٹیفن پیڈوک نے تقریب سے قریب ہی منڈیلے بے ہوٹل میں دو کمرے  چار روز پہلے بُک کروائے تھے۔ پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسٹیفن اپنے ساتھ  دس سوٹ کیس لایا تھا جو بندوقوں اور اسلحہ سے بھرے ہوئے تھے۔  اسٹیفن نے ہوٹل کے بتیسویں منزل کے کمرے کی کھڑکی کو توڑ کر لوگوں پر گولیاں چلائی تھیں۔ اسٹیفن پیڈوک ایک ریٹائرڈ اکاؤنٹنٹ تھا اور وہ دولت مند بھی تھا۔ 64سالہ اسٹیفن پیڈوک نیوادا کا رہنے والا تھا۔ اسٹیفن کے پاس ہوائی جہاز کے پائیلٹ اور شکاری کے بھی لائسنس موجود تھے لیکن اسٹیفن پر مجرم ہونے کے کوئی بھی الزام نہیں تھا۔ تاہم اسٹیفن کے ایک پڑوسی کا کہنا ہے کہ اسٹیفن ایک پیشہ ور جواری تھا۔

اسٹیفن پیڈوک کے بھائی ایرِک پیڈوک نے فوراً میڈیا پر اپنا انٹرویو دیتے ہوئے حیرانی جتائی کہ اس کے بھائی نے ایسا شرمناک جرم کیا ہے ۔ اس نے مرنے والوں کے لئے تعزیت بھی کی۔ اس نے یہ بھی کہا کہ ان کو اوران کے گھر والوں کو اسٹیفن کی اس حرکت کا کچھ بھی علم نہیں تھا۔ تاہم ایرِک نے اس بات کا انکشاف کیا کہ ان کے والد بینک کے لٹیرے تھے اور کبھی ایف بی آئی کی سب سے زیادہ مطلوب فہرست میں ان کا نام شامل تھا۔
اسٹیفن کی گرل فرینڈ اور دوست ماریلو ڈینلی جو ایک فلپائنی ہیں، ان کو تلاش کرنے کے لئے وارننگ جاری کئے گئے تھے۔ ماریلو اس وقت امریکہ میں موجود نہیں تھیں۔ حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ اس حادثے سے قبل اسٹیفن کے ساتھ دیکھی گئی تھی۔ لیکن بعد میں پولیس نے انہیں اس کیس سے بری کر دیا ہے۔

امریکہ میں بڑے پیمانے پر شوٹنگ سے ہلاکت  کوئی نئی بات نہیں ہے۔ صدر اوباما کے دور میں اس معاملے پر کافی بحث ہوئی تھی کہ کیا بندوق لائیسنس پر پابندی لگا دی جائے۔ لیکن آج بھی امریکہ کے زیادہ تر لوگ اس بات پر اتفاق نہیں کر پائے ہیں۔ جس کی وجہ سے آئے دن کوئی سر پھرا معصوم لوگوں کی جان لے رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب سے ڈونالڈ ٹرمپ امریکہ کے صدر منتخب ہوئے ہیں تب سے زیادہ تر گن شوٹنگ کرنے والے’ گورے لوگ‘ ہی  ہیں۔ (Think tank New America) تھنک ٹینک نیو امیرکہ کے مطابق 2001سے لے کر 2015 تک زیادہ تر امریکیوں کو مارنے والوں میں امریکہ کے دائیں بازو کے انتہا پسندی کے ماننے والے ملوث ہیں۔ جب کہ (Gun Violence Archives) گن وائیلنس ارکائیو کے مطابق جب سے صدر ٹرمپ نے امریکی صدر کا عہدہ سنبھالا ہے تب سے 323 لوگوں کو بڑے پیمانے پر شوٹنگ کرکے مارا گیا ہے اور 1249لوگوں کو بری طرح زخمی کیا گیا ہے۔

بات گھوم پھیر کر وہیں آجاتی ہیں کہ دنیا میں انتہا پسندی یا کسی حادثے کو اسلام  سے کیوں جوڑ دیا جاتا ہے۔ کیوں بنا تفتیش یا ثبوت کے میڈیا  اسلام  پر کیچڑ اچھالتا  ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ دنیا بھر میں اسلام دشمنوں نے ٹھان لیا ہے کہ کسی طرح غلط پروپگنڈہ کر کے اسلام  کے ماننے والوں کو بدنام کیا جائے۔ جس کا شاید آپ سب کو علم ہوگا۔ لیکن مذہبِ اسلام کے ماننے والوں نے بھی اپنی دیانتداری ، رواداری، وقار، آزمائش ، سالمیت اور صبر سے اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ اسلام امن پسندوں کا مذہب ہے ، جس کو بدنام کرنے کی سازش نہ کبھی کامیاب ہوئی تھی اور نہ ہوگی۔