مسلمان تبلیغ دین کا فریضہ بھی ادا نہیں کر سکا!
- تحریر مسعود مُنّور
- بدھ 11 / اکتوبر / 2017
- 3934
یورپ میں برقع کا مسئلہ ابھی طے نہیں ہوا کہ ایک اور مسئلے نے سر اٹھا لیا ہے۔ سوئٹزرلینڈ کی کثیر آبادی عیسائیوں پر مشتمل ہے جیسے پاکستان کی مسلمانوں پر، لیکن مسیحی اکثریت رکھنے والا یہ دیس پاکستان کے برعکس نہ صرف دنیا بھر میں امن کا گہوارہ مانا جاتا ہے بلکہ غیر جانبدار بھی کہلاتا ہے۔ اس دیس کی خوبصورتی نہ صرف قدرتی مناظر میں اپنا جواب نہیں رکھتی بلکہ اسے پھولوں کی وادی سے بھی جانا جاتا ہے مگر کچھ عرصہ سے اس سرزمین امن پر جلسے جلوسوں اور مظاہروں کا سایہ پڑ رہا ہے۔ یہ ناعاقبت اندیش اور کوتاہ نظر افراد اپنے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لاتے ہوئے اس خطہ ارض کی خوبصورتی کو دھندلانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
گزشتہ دنوں سوئٹزرلینڈ کی حکومت نے نئی تعمیر شدہ مسجد کے میناروں کی اونچائی پر پابندی لگا دی اس سے قبل میناروں پر پابندی لگائے جانے کیلئے ووٹنگ ہوئی اور سوئس ووٹروں نے اکثریت سے پابندی لگائے جانے کو قانونی حیثیت دے دی۔ سوئٹزرلینڈ میں اس وقت چار مسجدیں ہیں جو کہ آبادی کے لحاظ سے انتہائی مناسب ہیں لیکن ایک غیر سرکاری تنظیم او آئی پی کے صدر عبدالمجید الداعی کا کہنا ہے کہ یورپ کے لوگوں میں اسلام کے بارے میں جاننے کی زبردست خواہش ہے۔ ان میں کچھ تو اسلام کے بارے میں اس لئے جاننا چاہتے ہیں کہ آخر اسلام اور دہشت گردی کا آپس میں کیا تعلق ہے۔ اور کچھ سوئٹزرلینڈ کے ایک سیاستدان ڈینٹل اسٹریچ جیسے لوگوں کا۔ ڈینٹل پہلا شخص تھا جس نے سوئٹزرلینڈ میں مساجد پر تالے لگانے اور میناروں پر پابندی لگانے کی مہم شروع کی تھی۔ اس نے اپنی اس مسلم مخالف تحریک کو ملک گیر پیمانے پر فروغ دیا اور مساجد کے گنبد و میناروں کے خلاف رائے عامہ استوار کی لیکن آج وہ دائرہ اسلام میں داخل ہو چکا ہے اور اب مسلمانوں کی ترغیب پر سوئٹزرلینڈ میں یورپ کی سب سے بڑی اور خوبصورت مسجد کی بنیاد رکھنا چاہتا ہے۔
سوئٹزرلینڈ میں مسلمانوں کی آبادی پانچ فیصد بتائی جاتی ہے لیکن مساجد کی لمبائی چوڑائی اور اونچائی پر ضرورت سے زیادہ زور دے کر ہنگامہ آرائی کی جا رہی ہے۔ کچھ لوگوں کی خام خیالی ہے کہ مسجد کے میناروں نے لوگوں کو اسلام کی طرف راغب کیا ہے۔ اس کے برعکس روشن خیالی اور حقیقت پسندی کے مظہر مسلمانوں کا کہنا ہے کہ اسلام کی عظمت کیلئے میناروں اور گنبدوں کے سہارے کی قطعی ضرورت نہیں۔ ملک کا قانون میناروں پر بے شک پابندی لگا سکتا ہے دل و دماغ پر نہیں۔ لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ مقامی عام افراد کا خیال ہے کہ مسلمانوں نے مسجد کے میناروں کو فرائبل کی شکل دے دی ہے۔
سوئٹزرلینڈ میں مساجد کے میناروں پر پابندی کے حوالے سے ریفرنڈم کا پس منظر دو اہم ترین واقعات ہیں جن کو سوئس پیپلز پارٹی اور دیگر دائیں بازو کی جماعتوں نے بنیاد بنایا۔ ان لوگوں نے اپنے خیال میں مساجد کے میناروں کے خلاف مہم کی بنیاد اپنے ان نظریات پر رکھی کہ مساجد کے مینار دراصل مذہبی و سیاسی طاقت کے نشان ہیں۔ اور ترک وزیراعظم طیب اردغان کی 1997 کی ایک تقریر کا مسلسل حوالہ دیتے رہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ”مساجد ہماری بیرکس، ان کے گنبد ہمارے سروں کے ہیلمٹ، ان کے مینارے ہمارے فائیل، ان کی برجیاں ہماری سنگین اور نمازی ہمارے سپاہی ہیں“۔ اس پس منظر میں سوئس پیپلز پارٹی اور فیڈرل ڈیموکریٹک یونین مسلمانوں کے مستقبل کے ارادوں سے خوفزدہ ہوگئیں۔ لیکن صحیح معنوں میں مساجد کے میناروں پر تنازع کا باقاعدہ آغاز 2005 میں ہوا تھا جب ”ترک کلچرل ایسوسی ایشن“ نے شمالی سوئٹزرلینڈ میں اسلامی کمیونٹی سینٹر کی عمارت پر 16 میٹر بلند مینار تعمیر کرنے کی اجازت طلب کی جس پر گردونواح کے سوئز باشندوں نے اس کی شدید مخالفت کی۔
مقامی سرکاری اداروں نے لوگوں کے احتجاج کے پیش نظر مینار کی تعمیر کی اجازت کو موخر رکھا آخرکار لوگوں کے بڑھتے ہوئے احتجاج کی وجہ سے کیونل بلڈنگ اینڈ پلاننگ کمیشن نے یہ درخواست مسترد کر دی۔ جس پر مسلمانوں نے احتجاج کا سلسلہ شروع کر دیا اور اسلامی کمیونٹی سینٹر نے بلڈنگ اینڈ جسٹس ڈیپارٹمنٹ کو اپیل کی جو منظور کر لی گئی۔ تاہم مقامی باشندے یہ کیس مقامی انتظامی کورٹ میں لے گئے مگر وہاں بھی ناکام رہے اور بالآخر چار سال کی طویل عدالتی و قانونی جنگ جیتنے کے بعد اسلامی کمیونٹی سینٹر نے جولائی 2009 کو یہ ریفرنڈم کروانے کے فیصلے پر متفق ہو گئی۔ میناروں پر پابندی لگائے جانے کیلئے ووٹنگ ہوئی، سوئز باشندوں کو اس قدر مشتعل کر دیا گیا تھا کہ انہوں نے ریفرنڈم میں بھرپور حصہ لیا اور آخرکار ان کی جدوجہد رنگ لائی جس کے نتیجہ میں مسجد کے میناروں پر پابندی لگا دی گئی۔ یہی نہیں ادھر ہمارے سابق آقا برطانیہ نے بھی سوئٹزرلینڈ کے سُر میں سُر ملاتے ہوئے برطانیہ کی سنڈھرسٹ رائیل ملٹری اکیڈمی جہاں جنرل ایوب خان کے علاوہ پرنس ولیم اور پرنس ہیری نے بھی ٹریننگ حاصل کی ہے، کے قریب یا یوں کہئے اس کی بغل میں مسجد کی تعمیر پر مخالفت کا اظہار کیا ہے۔ اس سے قبل آرمی چیف اس عظیم الشان فوجی اکیڈمی کے قریب مسجد کھڑی کرنے پر ناراضی کا اظہار کر چکے ہیں۔ ان کے خیال میں مسجد کا بڑا گنبد اور سو فٹ سے بلند میناروں سے سیکورٹی کو خطرہ ہے یعنی مسجد کی تعمیر سیکورٹی رسک ہے کہ اونچے اونچے میناروں سے فوجی مرکز میں ہونے والی متعلقہ سرگرمیاں، ٹریننگ اور اندرونی تنصیبات پر نظر رکھی جا سکتی ہے۔ اس لئے فوج مسجد کی تعمیر کی مخالفت کر رہی ہے یہاں یہ بات بھی کہنا ضروری ہے کہ مقامی افراد بھی اس مسجد کی تعمیر کے یکسر مخالف ہیں۔
میں نے کہیں پڑھا ہے کہ مذہبی آدمی کی خواہشات اور مفادات اسے اور زیادہ مذہبی بنا دیتے ہیں اور جو شخص مذہبی تعلیم و علم حاصل کرنے کا خواہاں ہو وہ پہلے یہ طے کرے کہ تحصیل علم سے اس کے کیا مقاصد ہیں۔ اس تناظر میں میرا ایک شعر حاضر ہے۔
گھولتی کانوں میں ہے تلخی صدا اذان کی
ہے پریشانی بہت ان گنبد و مینار سے