انجن چور سے جہاز چور تک

پاکستان پیپلز پارٹی انتخابات جیت چکی تھی مگر ابھی اقتدار میں نہیں آئی تھی ۔۔ ذولفقار علی بھٹو لائل پور تشریف لائے تو پیپلز کالونی میں صدیق الفا کی کوٹھی کے لان میں پیلز پارٹی کے کارکنوں سے خطاب کرنے آئے۔ این ایس ایف کے سٹوڈنٹس کوٹھی کی چھت پہ کھڑے تھے۔ ابھی بھٹو نے تقریر شروع نہیں کی تھی کہ این ایس ایف کے سٹوڈینٹس نے نعرہ لگانا شروع کر دیا:
ہو ہوشیار ہو ہوشیار چیئرمین ہو ہوشیار

بھٹو صاحب نے اسی نعرے کو بنیاد بنا کر اپنی تقریر شروع کر دی کہ ‘میں کب ہوشیار نہیں تھا ، میں تاشقند میں بھی ہو شیار تھا ، جب ہاری کو بے دخل کیا جا رہا تھا میں اس وقت بھی ہوشیار تھا۔ جب مزدور کو مل سے نکالا جا رہا تھا میں اس وقت بھی ہوشیار تھا ‘۔  اور تم لوگ دیکھو گے میں اپنے ایم پی اے ایم این پہ کڑی نظر رکھوں گا اور ہوشیار رہوں گا۔ اگر کسی نے کوئی غلط حرکت کی تو میں ان کی داڑھی بھی کھینچنا جانتا ہوں۔ اور ساتھ کھڑے ایم این اے میاں عطا اللہ کی داڑھی کھینچ دی۔ میاں عطا اللہ کھی کھی کرکے ہنستے رہے ۔

میاں عطا اللہ لائل پور کی کوہ نور ملز کے مالک رفیق سہیگل کا ہرا کر ایم این اے بنے تھے۔ ان کے ایک بھائی سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر تھے۔ انہوں نے سعودی حکمرانوں سے سفارش کرا کے اپنے بھائی میاں عطا اللہ کو وزیر بنوایا تھا۔ یہ وزیر ریلوے تھے۔ میاں عطا اللہ انتہائی نالائق وزیر تھے۔ ان کو اپنی وزارت کے بارے بھی علم نہیں ہوتا تھا اور اکثر اجلاسوں میں بھٹو سے ڈانٹ کھاتے رہتے تھے۔ اور آگے سے کھی کھی کر کے ہنستے رہتے تھے ۔ دوسرا لائل پور شہر کے پیپلز پارٹی کے کارکن بھی میاں عطا اللہ سے سخت نالاں تھے۔ وہ ان کو نہ تو عزت سے ملتا اور نہ ان کے کوئی کام کرتا تھا مگر اس کی سفارش سعودی حکمران تھے لہذا یہ آخری دم تک وزیر رہا ۔ مگر جب بھٹو کا تختہ الٹا گیا تھا تو یہ پیپلز پارٹی سے استفا دینے والوں میں سب سے پہلے نمبر پہ تھا۔

اس دور میں کرپشن کا اتنا رواج نہیں تھا مگر کارکن میاں عطا اللہ سے ناراض تھے لہذا انہوں نے مشہور کر دیا تھا کہ میاں ریلوے کا انجن چوری کرکے کھا گیا۔ لہذا یہ جب بھی لائل پور آتا یا کسی جلسے میں جاتا تو کارکن ‘انجن چور ، انجن چور‘  کےنعرے لگانا شروع کر دیتے ۔ اس میں کوئی حقیقت نہیں تھی بس کارکنوں کا ایک غصہ تھا ۔ مگر پاکستان اب خاصی ترقی کر گیا ہے۔ بات انجن چور سے جہاز چور تک پہنچ گئی ہے۔ وہ صرف افواہ تھی مگر جہاز چور ایک حقیقت ہے۔

اپ نے اکثر یہ سنا ہوگا کہ کوئی جہاز اڑا اور پھر غائب ہو گیا۔ پتہ  نہیں چل سکا کہ کدھر چلا گیا ۔  مگر یہ اعزاز پاکستان کو ہی حاصل ہے کہ پی آئی اے کا ایک افسر پی آئی اے کا جہاز لے کر گیا نہ خود واپس آیا نہ جہاز واپس آیا۔  پچھلے دنوں قومی اسمبلی کی پبلک اکاونٹس کمیٹی میں اس جہاز کے بارے  ایسے ایسے انکشافات ہوئے کہ آدمی خود کو فضا میں اڑتا محسوس کرتا ہے۔

یہ تو جہاز بیچنے اور جہاز گنوانے کی بات ہے اس کو کیا ہونا ہے۔  یہاں تو ملک ہارنے والا جب انڈیا کی قید سے رہا ہو کر واہگہ باڈر پہ آیا تو اس کو سلامی دے کر جھنڈے والی گاڑی میں بیٹھا کر لایا گیا تھا۔
مسعود قمر