سی پیک ۔۔۔ نیا ہدف

  • تحریر
  • جمعہ 13 / اکتوبر / 2017
  • 4394

دیکھا ، میری دائیں آنکھ کئی روز سے پھڑک رہی تھی، میں سمجھ گیا تھا کہ کچھ نہ کچھ ہونے والا ہے۔ ہمارے ایک دیرینہ دوست ہر اہم واقع کے ظہور پر اپنی پیش بینی کی خدا داد صلاحیت جتلاتے ہوئے فخریہ اعلان کرتے۔ البتہ اتنی احتیاط ضرور کرتے کہ وہ سارا دارومدار ایک آنکھ پر نہ کرتے ، کبھی داہنی آنکھ کی پھڑک پر پیش بینی کا وزن ڈالتے اور کبھی بائیں پر۔ ہمیں وہ دیرینہ دوست یوں یاد آئے کہ اس بار ہمیں بھی کچھ کچھ اندازہ ہو گیا تھا کہ کچھ کچھ نہ ہوگا ضرور لیکن مروّتاٌ بھی دائیں یا بائیں آنکھ نے پھڑکنا گوارا نہ کیا۔ ورنہ ہم بھی دعویٰ کرتے کہ ہماری دائیں آنکھ تو کئی روز سے پھڑک پھڑک کر ہمیں خبردار کر رہی تھی۔

سی پیک کے آغاز سے ہی بھارت کو اس منصوبے پر اعتراض تھا۔ اصل اندرونی دکھ تو یہ تھا کہ پاکستان میں جہاں سال ہا سال سے ڈیڑھ دو ارب ڈالر سے زیادہ بیرونی سرمایہ کاری نہیں ہوتی وہاں ایک ہی پروگرام کے تحت چھیالیس ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کا منصوبہ لانچ ہو گیا۔ بلکہ اس میں بعد میں اضافہ ہو کر یہ ممکنہ سرمایہ کاری پچپن ارب ڈالر سے بھی تجاوز کر گئی۔ انرجی، انفراسٹرکچر، پورٹ، انڈسٹریل اسٹیٹس، ریلوے، پائپ لائینز اور فائبر آپٹک سمیت کئی اور شعبوں پر مبنی اس سرمایہ کاری کو پاکستان کی معیشت کے لئے گیم چینجر کہا گیا۔ یہ سرمایہ کاری پاکستان کے قریب ترین دوست ملک چین کے ذریعے ہو رہی ہے ۔ سی پیک منصوبے کے تحت مرکزی تجارتی شاہراہ گلگت بلتستان سے گزرے گی۔ بھارت کو سی پیک منصوبے پر دشمنی نبھانے کا اور کوئی سفارتی یا قانونی طریقہ نہ سوجھا تواس نکتے کو بنیاد بنا کر دنیا بھر میں اس منصوبے کی مخالفت شروع کر دی کہ یہ تجارتی شاہراہ گلگت بلتستان کے علاقے سے گذرتی ہے جو اس کی نظر میں متنازعہ ہے۔

دنیا کے ممالک اپنے اپنے مفادات کے مطابق پالیسیاں ترتیب دیتے ہیں۔ چین کی معاشی طاقت اورآنے والے وقت میں چین کے ساتھ تجارت اور تعلقات سے جڑے معاشی امکانات کی وجہ سے دنیا کے بیشتر ممالک نے چین کے بیلٹ روڈ منصوبے سے تعلق کو مناسب جانا ۔ ان ممالک میں یورپ کے وہ ممالک بھی شامل ہیں جو امریکہ اور نیٹو کے اتحادی بھی ہیں۔ گزشتہ سال چین میں بیلٹ روڈ منصوبے کے سلسلے میں سربراہ کانفرنس میں پنتالیس سے زائد سربراہ شامل ہوئے۔ جنوبی ایشیا میں سے بھارت واحد ملک تھا جس نے عین آخری لمحے شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ سی پیک کے حوالے سے بھارت کے موقف کو عالمی سطح پر سفارتی پذیرائی نہیں ہوئی لیکن بھارت نے ہر فورم پر اس منصوبے کی مخالفت کی۔

ہماری کوئی آنکھ تو پیش بینی کے اظہار میں نہیں پھڑکی لیکن ماضی کے تجربے اور حالات کے جائزے کی بنا پر یہ خدشہ ہمیشہ ذہن میں رہا کہ دیر یا سویر امریکہ اس معاملے میں اپنا وزن بھارت کے پلڑے میں ضرور ڈالے گا۔ سو بالآخر وہ ہو ہی گیا۔ امریکہ کے وزیرِ دفاع جنرل میٹیز نے کانگرس کی ایک کمیٹی کے سامنے بیلٹ روڈ منصوبے کی اس بنا پر مخالفت کی کہ کسی ایک ملک کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ دوسرے ممالک پر یوں اپنی مرضی ٹھونسے۔ سی پیک پر موصوف نے خاص طور پر کہا کہ اس کا گزر ایک متنازعہ علاقے سے ہو رہا ہے ۔ اس لئے اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اشارہ ان کا گلگت بلتستان کی طرف تھا جسے بھارت متنازعہ علاقہ قرار دیتا ہے۔ امریکہ بہادر کی سی پیک منصوبے کے حوالے سے بھارت کی یہ سفارتی ہم نوائی اچھا شگون نہیں ہے۔

اس ہم خیالی سے امریکہ نے اپنی نئی افغان پالیسی میں بھارت کے مجوزہ کردار کو مزید مستحکم کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے اور ساتھ ہی چین کو بھی پیغام دیا ہے کہ سی پیک اور ون بیلٹ روڈ منصوبے کی راہ میں اب امریکہ رکاوٹیں کھڑی کرنے کو تیار ہے۔ امریکہ عرصے سے چین کو گھیرے رکھنے اور محدود رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے مگرچین نے کمال مہارت سے عالمی سطح پر اپنے آپ کو ہر طرح کے قضئیے سے بچائے رکھا ۔ اپنی معیشت کے پھیلاؤ اور  استحکام پر توجہ مرکوز رکھی لیکن اب ون بیلٹ روڈ منصوبے کے کثیر ملکی اور بین الاعظم پھیلاؤ پر امریکہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے۔  امریکہ کی ورلڈ آرڈر لیڈرشپ کو مسلسل نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔ صدر ٹرمپ  نے پہلے امریکہ کے نعرے اور پالیسی کے ساتھ اقتدار سنبھالا تو عالمی بساط پر امریکہ کے قائدانہ رول اور پالیسیوں میں تبدیلی نظر آنا شروع ہو گئی۔ اپنے قریب ترین اتحادی یورپی یونین کے ساتھ ان کا نیٹو کی فنڈنگ کے حوالے سے اختلاف نمایاں رہا ۔ جرمن چانسلر اینگلا مرکل کے ساتھ ان کی پہلی باضابطہ ملاقات بھی اعصابی دباؤ کے  ماحول میں ہوئی۔ اپنے پہلے دورے کے دوران یورپی سربراہوں کے ساتھ ملاقات میں بھی وہ کھچے کھچے اور تنہا تنہا رہے۔

چین کے ساتھ ان کے گزشتہ انتخابی بیانات کے پیشِ نظر ٹریڈ وار کا خدشہ تھا لیکن چین اور بعد ازاں وائٹ ہاؤس میں مدبرانہ عناصر صدر ٹرمپ کو اس تجارتی جنگ کا نفع نقصان سمجھانے میں کامیاب ہو گئے۔ لیکن امریکہ اپنی دور رس علاقائی اور عالمی پالیسیوں کے تسلسل میں چین کی ابھرتی ہوئی معاشی اور سیاسی طاقت سے خائف ہے۔ اس پس منظر میں جنرل میٹیز کی جانب سے ون بیلٹ روڈ منصوبے پر یہ بیان اس امر کی چغلی کھا رہا ہے کہ چین اور امریکہ کے تعلقات میں چین کو بدستور گھیرے رکھنے اور محدود کرنے کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

امریکہ اس سے قبل پاکستان ایران گیس منصوبے کو روند چکا ہے۔ پاکستان میں گیس کے وسائل اس کی ضروریات سے کہیں کم ہیں ۔ ہمارے پالیسی سازوں کی کوتاہ بینی تھی کہ انہوں نے چند ہی سالوں میں گیس کے محدود وسائل کو کھاد، ٹرانسپورٹ اور بجلی کی پیداوار میں کھلے دل سے استعمال کرتے ہوئے ملک کو گیس کی قلت سے ہمکنار کر دیا۔ ایران سے گیس کی درآمد ایک قدرتی متبادل تھا لیکن یہ متبادل امریکہ اور ایران کی دشمنی کی بھینٹ چڑھ گیا۔ ایران کی جانب سے پائپ لائن کی پاکستان سرحد تک تعمیر کے باوجود پاکستان امریکہ اور سلامتی کونسل کی طرف سے عائد اقتصادی پابندیوں کے دباؤ کی وجہ سے اس منصوبے پر عمل نہ کر سکا۔ حالانکہ یورپ کے بیشتر ممالک اپنی انرجی ضروریات کے لئے گیس روس سے درآمد کرتے ہیں۔ روس سے تمام تر مخاصمت کے باوجود امریکہ نے کبھی یورپی اتحادی ممالک کو اس بات پر مجبور نہ کیا کہ وہ روس سے گیس نہ لیں لیکن پاکستان اپنے مخصوص سیاسی، علاقائی اور سیکیورٹی مجبوریوں کے ہاتھوں ایسا مجبور ہوا کہ پاک ایران منصوبے پر آزادانہ موقف اختیار کرنے سے گریزاں رہا ۔ امریکہ کی نئی افغان پالیسی پر عمل درآمد کے آثار نمایاں ہونا شروع ہونا ہو گئے ہیں۔ میڈیا میں یہ خبریں بہت دنوں سے گردش میں ہیں کہ پاکستان کو ایک سخت پیغام دیئے جانے کی تیاری ہے۔ پاکستان کی پارلیمنٹ اور قومی سلامتی کمیٹی نے بجا طور پر ایک دلیرانہ اور مظبوط موقف اختیار کیا ہے۔ پاکستان کا موقف اپنی جگہ مگر امریکہ اپنے دور رس سیکیورٹی مفادات کے لئے روایتی اقدامات سے شاید ہی باز رہ سکے۔

پاکستان گزشتہ چار سال سے مسلسل سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے۔ پانامہ کے ہنگامے سے جنم لینے والی سیاسی سر پھٹول اب اگلے اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ تقسیم ، تعصب اور منافرت نے عوام اور میڈیا کے درمیان بھی لکیریں کھینچ دی ہیں۔ معیشت اور سیاست کا گہرا تال میل ہے۔ معیشت کے حالات اتنے برے بھی نہیں کہ صفِ ماتم بچھا دی جائے اور اتنے اچھے بھی نہیں کہ شادیانے بجا بجا کر آسمان سر پر اٹھا لیا جائے۔ گزشتہ چند دنوں سے میڈیا پر یکایک تجزیہ کار اور اینکرز معیشت کی طرف متوجہ ہو گئے ہیں۔ بیشتر کا اصرار ہے کہ اب بیٹھی کہ اب بیٹھی ! دوسری طرف یہ عالم ہے کہ ملک کے سب سے بڑے سرمایہ کاری منصوبے پر وار کی تیاریاں ہیں ۔ ایسے میں معیشت پر سیاست نہ کی جائے تو بہتر ہے۔ توازن اور ہوش کا دامن نہ چھوڑا جائے تو بعد ازاں بہت سے ممکنہ پچھتاووں سے بچا جا سکتا ہے۔

معیشت کی دراڑوں کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ میں اتنا نہ اچھالا جائے کہ عوام بھی بے حوصلہ ہوں اور دشمنوں کا حوصلہ وار کرنے کے لئے بلند ہو۔ امریکہ کی نئی افغان پالیسی اور سی پیک کو امریکی پالیسی میں نئے ہدف کے طور پر لئے جانے کے عمل کو سنجیدگی سے لینے کی ضروت ہے۔ ایک دوسرے سیاسی مخالف کو رگیدنے میں ایک احتیاط ملحوظ رہے کہ بقول راحت اندوروی:
لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں
یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے