احمدی اور فوج

پاکستانی فوج کی جانب سے آج بیان آیا ہے اور ترجمان کے مطابق ’وردی پہننے والا کسی بھی مذہب کا ہو، وہ پاکستانی سپاہی ہوتا ہے‘۔ میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ کوئی بھی جب فوج میں آتا ہے اور وردی پہنتا ہے تو وہ صرف پاکستان کا سپاہی ہوتا ہے، اس سے قطع نظر کے اس کا تعلق کس مذہب اور کس صوبے سے ہے۔ فوج کی جانب سے کم ہی ایسا کوئی بیان آیا ہوگا جس سے فوج کی جمہوریت پسندی اور عوام دوستی کی علامات ظاہر ہوتی ہوں۔ اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ خدانخواستہ فوج کی وطن پرستی پر کسی شبہ کی گنجائش ہے۔

اس بیان کے پیش نظر میں تو یہ کہتا ہوں کہ ہمیشہ کی طرح فوج ایک بار پھر بازی جیت گئی ہے۔ اس بیان کا پس منظر یقینا  دو ایک دن قبل  فوج میں موجود احمدیوں کی اسکرینگ کی جو بات میڈیا پر گردش کر رہی تھی اسے فوج کی طرف سے رد کرنا ہی ہے۔ یہ بیان ان سیاست دانوں کے منہ پر ایک طمانچہ ہے جو عصبیت پسندی کو ہوا دے کر قوم کو مذہبی اور دیگر گروہوں میں بانٹ کر رکھ دینا چاہتے ہیں۔  فوج کا یہ برابری اور مذہب و زبان سے بالا تر تمام فوجیوں کے ساتھ یکساں سلوک دراصل ایک بہت اہم قابل تقلید طرز عمل ہے۔ اور سیاست دانوں کو چاہئے کہ وہ احمدی برادری کے ساتھ مخاصمانہ اور مذہبی عصبیت پسندانہ رویہ چھوڑ کر فوج ہی کی طرح یہ بیان دیں کہ مملکت خداداد میں رہنے والے تمام پاکستانی شہری برابر کے حقوق رکھتے ہیں۔ اور کسی پاکستانی کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک جائز نہیں۔

فوج ہمارے ملک کا ایک انتہائی ڈسپلنڈ ادارہ ہے۔ اور اس کی جانب سے جاری ہونے والا یہ بیان  احمدی برادری کی موجودہ مشکل صورتحال  میں  امید کی ایک کرن ہے۔ فوج کا ہمارے معاشرے پر بہت اثر بھی ہے۔ اور فوج کے اس بیان سےنہ صرف مذہبی عصبیت کے فروغ کی حوصلہ شکنی ہوگی بلکہ دوسرے ادارے جن میں عدلیہ بھی شامل ہے اپنے رویے پر ازسرنو غور کریں گے۔  کہ انصاف کے تقاضے پورے کر نے میں کہیں وہ احمدی برادری کے ایسے حقوق جو ہر عام و خاص پاکستانی شہری کو حاصل ہیں، ان حقوق کے بہم پہنچانے میں کہیں کمی تو نہیں کر رہی ہے۔

اگرچہ ماضی کے فوجی ادوار میں ایک عوامی دور حکومت کے نافذ کردہ قانون کی ہمیشہ توثیق ہی ہوتی رہی ہے مگر اب شاید یہ رویہ ماضی کی طرح تبدیل ہو رہا ہے۔