محاز آرائی پر مبنی سیاست کے نتائج
- تحریر سلمان عابد
- اتوار 15 / اکتوبر / 2017
- 5605
جب قومی سیاست اور ریاستی نظام اپنے ارد گرد موجود مسائل کا حل تلاش کرنے کی بجائے ایک دوسرے کے خلاف مقابلہ بازی اور محاز آرائی کا راستہ اختیا رکرلیں تو نتیجہ میں ملک عدم استحکام کا شکار ہوتا ہے۔ یہ عدم استحکام محض سیاست تک محدود نہیں ہوتا بلکہ اس کے اثرات معیشت اور قومی سلامتی یا سیکورٹی کے معاملات میں بھی دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ کیونکہ معاملات کو سیاسی تنہائی میں دیکھنے کی روش بہتر نہیں۔ معاملات کو ایک دوسرے فریقین یا اداروں کے درمیان جاری کشمکش کی صورت میں دیکھنے کی صلاحیت پیدا کرنی چاہیے ۔ پاکستان کا مسئلہ بھی موجودہ صورتحال میں ایک گھمبیر منظر کی نشاندہی کررہا ہے ۔ سیاسی ، انتظامی ، قانونی اور قومی سیکورٹی اداروں کے درمیان جاری بداعتمادی یا مقابلہ بازی کی فضا نے داخلی اور خارجی سیاست کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
اس محازآرائی اورکشمکش میں جاری سیاست اور اس میں ہونے والے فیصلوں کے تناظر میں فوج کے سربراہ جنرل قمر باوجوہ کو یہ کہنا پڑا کہ ہماری معیشت کی تسلسل کے ساتھ زوال پزیری ، قرضوں کے بوجھ سمیت دیگر مسائل کی وجہ سے ہم ایک بحرانی کیفیت سے دوچار ہیں ۔ وہ کراچی میں قومی معیشت، سلامتی اور سیکورٹی کے موضوع پر ہونے والی کانفرنس سے مخاطب تھے ۔ معاشی امور پر ان کی گفتگو کو بہت سے لوگوں نے حکومتی امور میں مداخلت سے جوڑا ہے ۔ لیکن یہ بات محض فوجی سربراہ تک محدود نہیں بلکہ ملک کے مختلف معاشی ماہرین بھی یہ کھل کر اعتراف کررہے ہیں کہ ہماری معاشی صورتحال بگاڑ کا شکار ہے ۔ پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف زرداری نے تو ایک قدم آگے بڑھ کر ملک میں معاشی ایمرجنسی کے نفاذ کا مطالبہ کردیا ہے ۔ بنیادی طور پر سیکورٹی اور سیاسی استحکام کا باہمی تعلق ہے ۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے ہم کہتے ہیں کہ دہشت گردی یا انتہا پسندی کے خاتمہ کے بغیر قومی سلامتی اور سیاسی استحکام ممکن نہیں ۔
فوج کے سربراہ جنرل قمر باجوہ نے حالیہ کانفرنس میں جو باتیں کی ہیں وہ واقعی توجہ طلب ہیں اور اپنے اندر داخلی بحران کے تناظر میں کافی وزن بھی رکھتی ہیں ۔ لیکن یہ جو بھی بحران ہے وہ کسی ایک فریق کا تو پیدا کردہ نہیں بلکہ ہمارا مجموعی ریاستی نظام مفاہمت کے ساتھ مل کر آگے بڑھنے کی بجائے محاز آرائی کا راستہ اختیار کیے ہوئے ہے ۔ ہماری حکومت مسلسل چار برسوں سے معیشت کی بہتری اور اس میں جادو کو پیدا کرکے روشن ترقی کے سیاسی نعرے لگاتی تھی ، وہ محض سیاسی دکھاوا تھا ۔ اصل حقائق معاشی تناظر میں کافی تلخ ہیں جس پر حکمران طبقہ وہ کچھ نہ کرسکا جو ہماری قومی ضرورت تھی ۔ اب حکمران طبقہ دلیل یہ دے رہا ہے کہ حالیہ معاشی بحران ہے کا براہ راست تعلق سابق وزیر اعظم نواز شریف کی نااہلی سے ہے ۔ اگر یہ منطق مان بھی لی جائے تواب بھی حکومت نواز شریف کی جماعت کی ہے اور فیصلوں میں بھی ان ہی کا کنٹرول بھی ہے ۔ اس لیے اگر معاشی حالات بگاڑ کا شکار ہیں تو اس کی ذمہ داری حکومت، موجودہ اور سابق وزیر اعظم اور بالخصوص وزیر خزانہ کو لینی چاہیے ۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس وقت حکومت یا حکمران جماعت میں مفاہمت اور مزاحمت کے درمیان ایک واضح تفریق نظر آتی ہے ۔ ایک طبقہ مفاہمت اور دوسرا مزاحمت کا راستہ اختیار کرنا چاہتا ہے ۔ یہ ہی وجہ ہے سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار نے حکومت، جماعت اور خود شریف خاندان کو مشورہ دیا ہے کہ وہ عدالتوں سے ٹکراؤ کی پالیسی سے گریز کریں ۔ ان کے بقول یہ محازآرائی ملک ، جماعت، حکومت اور خود نواز شریف کے حق میں نہیں ۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ محازآرائی محض عدلیہ تک محدود نہیں بلکہ اسٹیبلیشمنٹ اور فوج کو بھی براہ راست اس محاز آرائی یا کھیل میں فریق بنایا جارہا ہے کہ اس سارے کھیل میں پس پردہ قوتیں ہیں۔ اب حالیہ دنوں میں وزیر قانون زاہد حامد، نواز شریف کے داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر ، صوبائی وزیر قانون رانا ثنااللہ کے عمل نے احمدیوں کے سوال پر نہ صرف مذہبی مسئلہ پیدا کیا ، بلکہ اداروں میں بھی بدگمانی پیدا کرکے ٹکراؤ کا راستہ اختیار کیا ہے ۔
عمومی طور پر حزب اختلاف کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ حکمران طبقات کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھا کر اپنے آپ کو ایک متبادل قیادت کے طور پر پیش کرے ۔ اس میں وہ جائز اور ناجائز دونوں طرح کے حربے یا حکمت عملی اختیار کرتی ہیں ۔ اس لیے یہ کہنا کہ حزب اختلاف کا اپنا کردار بڑا شفاف ہے تو یہ بھی حقیقت پر مبنی نہیں ۔ یقینی طور پر جو عدم استحکا م معاشی یا سیاسی طور پر موجود ہے اس کی وجہ مجموعی طور پر حزب اختلاف کی سیاست بھی ہے ۔ بحران کی ایک اور وجہ ملک کے اہم سیاسی اور سیکورٹی معاملات پرمختلف فریقین میں مشاورت کا فقدان ہے ۔ پارلیمنٹ ، کابینہ اور اہم اسٹیڈنگ کمیٹیوں اور قومی سلامتی سے جڑی کمیٹیوں کے اجلاس اور فیصلہ سازی کے عمل کو کمزور کرنا بھی محاز آرائی کو پیدا کرنے کا سبب بنا ہے ۔ جب قانون کی حکمرانی ، آئین کی پاسداری اور بہتر شفاف حکمرانی کا نظام پیچھے رہ جائے تو مسائل کی شدت بڑھ جاتی ہے ۔
ہم نے مسائل کے حل کا کردار ادا کرنے کی بجائے اس میں بگاڑ اور رکاوٹیں پیدا کرنے کی حکمت عملی اختیار کی ہوئی ہے ۔ ایسی حکمت عملی میں ہم کیسے محاز آرائی کی سیاست سے باہر نکل سکیں گے ، ممکن نظر نہیں آتا۔ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ اس وقت شاہد خاقان عباسی کی حکومت کی نظریں بھی لندن میں بیٹھے ہوئے نواز شریف کی طرف ہی ہیں اور وہ برملا کہتے ہیں کہ اب بھی وزیر اعظم نواز شریف ہی ہیں ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ فیصلہ سازی میں اب بھی کلیدی حیثیت نواز شریف اور مریم نواز کو ہی حاصل ہے ۔ مریم نواز پر حکمران جماعت کے بڑے رہنما تحفظات بھی رکھتے ہیں ۔ ایسے میں حکومت کیونکر اس محاز آرائی سے باہر نکل سکے گی ، بڑا سوالیہ نشان ہے ۔ ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ حالیہ محازآرائی خود نواز شریف کے حق میں جاتی ہے ، کیونکہ وہ اپنے آٖ پ کو اس سیاسی نظام یا حکمرانی کے عمل میں عقل کل سمجھتے ہیں ۔ اس لیے ان کا خیال ہے کہ اس محاز آرائی کو بنیاد بنا کر وہ ملکی اور عالمی سطح پر اپنا مقدمہ مظلومیت کی بنیاد پر پیش کرکے سیاسی شہید بن سکتے ہیں، اس کا فائدہ مستقبل سمیت نئے انتخابات میں بھی ہوگا ۔
ہمارا المیہ یہ ہے کہ اس وقت ہماری قیادت کو ملکی ، علاقائی اور عالمی سیاست کی مشکلات کی سنگینی کا احساس نہیں ۔ ہم بہت چھوٹے چھوٹے مفادات جو ذاتی نوعیت کے بھی ہیں اس میں زیادہ الجھے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ہم یہ بھول رہے ہیں کہ علاقائی سطح پر ہمارے لیے کس نوعیت کی مشکلات پیدا کی جارہی ہیں ۔ خود بھارت کے وزیر اعظم سی پیک کے منصوبے پر نہ صرف اپنے تحفظات پیش کرچکے ہیں بلکہ ان کے بقول ہم اس منصوبے کو کسی بھی صورت قبول نہیں کریں گے ۔ ایسی صورت میں ہمیں قومی سطح پرباہمی اتفاق رائے پر مبنی سیاست اور فیصلوں کی ضرورت ہے ۔ جبکہ اس کے برعکس ہم آپس میں دست و گریبان ہو کر یا الزام تراشیوں پر مبنی سیاست کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرکے اپنے اپنے مفادات پر مبنی سیاست کو طاقت فراہم کررہے ہیں ۔ ایسے میں قومی سلامتی ، داخلی خو د مختاری اور قومی مفاد پر مبنی فیصلے اور سیاست بہت پیچھے چلی گئی ہے ۔
ممکن ہے کہ محاز آرائی پر مبنی یہ سیاست کسی بھی فریق کو وقت طور پر فائدہ بھی دے سکے لیکن یہ واقعی وقتی اور ذاتی مفاد پر مبنی سیاست ہوگی ۔ اس کا نقصان قومی سیاست کو عدم استحکام کی صورت میں مزید دیکھنے کو ملے گا۔ ہم مجموعی طور پر یہ محسوس کرنے سے انکارکرتے ہیں کہ ہم مشکل صورتحال سے دورچار ہیں اور باہمی لڑائی مسئلہ کا حل نہیں ۔ یہ محاذ آرائی محض ان بڑے طاقت کے مراکز تک محدود نہیں بلکہ اب درمیانے اور نچلی سطح کے فریقین ، سیاسی مجالس، میڈیا اور سیاسی کارکنوں سمیت اہل دانش میں بھی یہ تقسیم غالب نظر آتی ہے ۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم مسئلہ کی نزاکت اورحساسیت کو سمجھیں ، وگرنہ جو کھیل ہم نے اپنے مفادات کو سامنے رکھ کر اختیار کیا ہوا ہے، اس کا نقصان ہر سطح پر ہمیں ہی اٹھانا ہوگا۔