نوید صبح نو
آپ کہتے ہیں پاکستان کے حالات بہت بلکہ بہت زیادہ خراب ہیں۔ میں کہتا ہوں، پاکستان کے حالات بہتری کی جانب گامزن ہیں۔ آپ کہتے ہیں یہاں کوئی سچ بولنے کو تیار نہیں۔ میں کہتا ہوں، اب سچ اپنا راستہ بنا کرخود ہی سامنے آ رہا ہے۔ آپ کہتے ہیں مہنگائی کو روکنے والا کوئی نہیں۔ میں کہتا ہوں، اب ہر کوئی حسب توفیق آواز اٹھا رہا ہے اور اس کے اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ فرق صرف مسائل اور ان کے حل کے بارے میں دوسرے انداز سے سوچنے کا ہے۔
ملکی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو 1947 میں ہم صفر پر کھڑے تھے۔ اس وقت کے سیاسی رہنماؤں نے اپنی بصیرت کے مطابق اقدامات شروع کئے۔ تھوڑے عرصے میں پاکستان کے حالات بدلنے لگے۔ 1965 تک حالات کافی حد تک بدل گئے پھر سیاسی عدم استحکام کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا۔ ایوب خان دور میں سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے جو احتجاجی سلسلے شروع کئے، وہ پھر کبھی ختم نہیں ہو سکے۔ جنرل یحییٰ عرف جنرل رانی نے مملکت خداداد کو دولخت کرایا، پھر ذوالفقار بھٹو آئے۔ انہوں نے ملک کو پہلا متفقہ آئین دیا مگر ساتھ ہی سیاست میں کرپشن کی لعنت متعارف کرا دی۔ ان کے دور میں سیاسی مخالفین کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ بھی عروج پر پہنچا اور بالآخر وہ خود بھی اسی آگ میں جل گئے۔ جنرل ضیاالحق کے اقدامات کا خمیازہ آج تک ہم بھگت رہے ہیں۔ بعد ازاں بے نظیر اور نواز شریف نے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے جتنے گندے کھیل کھیلے، یہ بھی تاریخ کا حصہ ہیں۔ سیاسی مخالفت کی آڑ میں مخالفین کا قتل، ملکی سیکیورٹی اور معیشت کو نقصان پہنچانا عام سی بات بن گئی تھی۔
نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کرنے والے ’’بہادر جرنیل‘‘ پرویز مشرف (کمر درد کی وجہ سے آج کل ان کی بہادری صرف رقص تک محدود ہے) نے ملکی سیکیورٹی کے معاملات عملاً امریکا کے حوالے کر دئیے۔ ان کے دور میں لال مسجد آپریشن، ڈیرہ بگٹی میں نواب اکبر بگٹی کا قتل، کراچی میں ایم کیو ایم کو قتل عام کی کھلی چھوٹ، عدلیہ پر چڑھائی، ایمرجنسی کا نفاذ جیسے لاتعداد ’’کارنامے‘‘ دیکھنے کو ملے۔ بعد ازاں بھٹو صاحب کے داماد آئے، ان کے دور میں کرپشن نے باقاعدہ صنعت کی حیثیت اختیار کی۔ وہ اس حوالے سے مختلف سیاستدان ثابت ہوئے کہ پہلے آنکھیں دکھاؤ، مدمقابل ڈر جائے تو ٹھیک ورنہ ایوان صدر بلا کر اس کی حیثیت کے عین مطابق قیمت لگا دو۔ موجودہ دور حکومت میں نواز شریف نے بھی زرداری صاحب سے دو قدم آگے بڑھتے ہوئے کرپشن کی صنعت کو جدید سائنسی خطوط پر استوار کر دیا۔ اس کی ایک چھوٹی سی مثال یوں دی جا سکتی ہے کہ چین میں حسن، حسین نواز اور حمزہ شہباز نے فرضی کمپنیاں رجسٹرڈ کروائیں، نواز شریف اور شہباز شریف چین میں انہی کمپنیوں سے معاہدے کرتے ہیں، انہیں ٹھیکے دیتے ہیں۔ اس طرح سب کچھ گھوم پھِر کے اپنے ہی گھر آجاتا ہے۔ روپے کی سرکولیشن کو دیکھ کر چین بھی اس پر خوش ہو جاتا ہے اور شریف خاندان اپنی جیبیں بھی بھر لیتا ہے۔
یہ تو تھی ہمارے ملک کی 67 سالہ تاریخ ، اب آتا ہوں اصل موضوع کی طرف۔ پہلی بات تو یہ کہ ایک ہجوم کو قوم بننے میں کچھ دہائیاں نہیں بلکہ صدیاں لگ جاتی ہیں۔ 1947 میں بننے والے پاکستان میں سن 2000 تک سیاست دان، اسٹیبلشمنٹ یا مقتدر حلقوں تک عوام کی آواز پہنچنا ہی مشکل عمل تھا۔ ہر کسی کی اپنی اجارہ داری یا جاگیرداری تھی۔ اس کے بعد 2007 میں شروع ہونے والی عدلیہ بحالی تحریک نے عوام کو زبان دی۔ عوام بولنے لگے۔ آغاز میں نقارہ خانے میں طوطی کی آواز سنی ان سنی کی گئی۔ مگر عوام تواتر کے ساتھ آواز اٹھاتے رہے۔ زرداری دور میں اسی طرح کی صورتحال رہی۔ دوسری جانب میڈیا پہلے تو عوام کے حق کی بات کرتا رہا مگر پھر اپنے مفادات کو بالاتر رکھنے لگا تو سوشل میڈیا کی الگ دنیا نے الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا کو نیا چیلنج دے دیا۔ اب جو سچ مین اسٹریم میڈیا چھپاتا ہے وہ سوشل میڈیا کے ذریعے باہر آ جاتا ہے۔ اب عوام کی آواز اقتدار کے ایوانوں سے مقتدر حلقوں کے کانوں تک پہنچنا شروع ہو گئی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ سمت مخالف سے ردعمل بھی آنے لگا ہے۔
یہی وہ عمل ہے جسے میں نوید صبح نو کہہ رہا ہوں۔ اب مقدس گائے کا تصور بھی ٹوٹ رہا ہے۔ عام شہری بھی اپنے جذبات کا اظہار اپنے اندازمیں کرتا ہے۔ ایک آواز کو دبانے کی کوشش بھی کی جائے تو 10 اور آوازیں اٹھ کھڑی ہوتی ہیں۔ کل تک ملک میں فرعون بنے بیٹھے حکمران آج عدالتوں کے چکر کاٹنے پر مجبور ہیں۔ وقت کا وزیراعظم گریڈ 21 کے افسران کے سامنے پیش ہوا۔ تین بار وزیراعظم بننے والا شخص ایک نچلی عدالت میں دو بار حاضری دے چکا ہے اور عدم حاضری کے بارے میں سوچنے سے بھی ڈر رہا ہے۔ اب صوبے کا وزیراعلیٰ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو اور ٹوئٹ پر ردعمل دینے پر مجبور ہوتا ہے۔ یہی وہ تبدیلیاں ہیں جس سے فوری طور پر نہ سہی مگر اگلی چند دہائیوں میں واضح فرق نظر آئے گا۔ نوجوانوں کو مایوس نہیں ہونا چاہیئے بلکہ اپنے حصے کی آواز اور کردار ضرور اداکرنا چاہیے۔ اسی سے بہتری آئے گی۔ اسی سے ہم اپنے مستقبل کو بہتر بنا سکیں گے۔