اسلام اصلاح معاشرہ کی تلقین کرتا ہے

اسلام نے فرد کی اصلاح ہی کی فکر نہیں کی بلکہ معاشرے کی تعمیر اور ریاست کی اسلامی خطوط پر تشکیل کی بات بھی کہی ہے۔ اس لحاظ سے امت مسلمہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی سرگرمیاں اِن تین نکات پر انفرادی واجتماعی ہر دو سطح پر جاری رکھیں۔ اِس سے قطع نظر کہ وہ کسی جماعت سے وابستہ ہیں یا نہیں۔ سب سے پہلے فرد خود اپنی ذات کے لیے فکرمندہو۔ اُس کے اندر یہ احساس جاگزیں ہونا چاہیے کہ وہ اسلامی تعلیمات و ہدایات کی روشنی میں اپنے شب و روز کے معاملات کو پروان چڑھائے گا۔

ساتھ ہی وہ جس مقام، علاقہ، محلہ، بستی ، قصبہ یا شہر میں سکونت پذیر ہو وہاں بھی اس کی کوشش ہونی چاہیے کہ وہ تبدیلی جو وہ خود اپنی ذات کے لیے پسند کرتا ہے، اہل خانہ سے لے کر تمام شناسا و غیر شناسا حضرات کے درمیان بھی دیکھنے کا خواہش مند ہے ۔ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ انسان جس قسم کی تبدیلی کی خواہش اپنے دل میں پالتا ہے کسی نہ کسی سطح پر اس کے قیام میں اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرنے کی خواہش بھی اس میں موجود ہوتی ہے۔ یعنی وہ اُن کاموں کے لیے نہ صرف انفرادی طور پر کچھ نہ کچھ وقت ، صلاحتیں اور وسائل استعمال کرتا ہے بلکہ اجتماعی سعی و جہد کا جذبہ اور خواہش بھی اس میں پروان چڑھتی ہے۔ ساتھ ہی خواہش کا ہجم طے کرتے وقت لازماً یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ سعی و جہد کس درجہ میں کی جائے۔ یہ سعی و جہد فرد واحد خود اپنی سطح پر انجام دے یا اُس میں مزید صلاحیتیں درکار ہیں۔ اگر کوئی تبدیلی وقتی ہے تو ممکن ہے فرد واحد کی ذاتی کوششیں نتیجہ خیز ثابت ہو جائیں ۔ برخلاف اس کے اگر تبدیلی مستقل بنیادوں پر مطلوب ہے تو فرد واحد کی صلاحیتیں ناکافی ہوں گی۔

ایسے موقع پر انفرادی سرگرمیاں اجتماعی سرگرمیوں میں منتقل ہو جانی چاہیں۔ اس موقع پر یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ چونکہ عموماً اجتماعیت کو کسی نہ کسی جماعت، سوسائٹی یا تنظیم کے درجہ بند ڈھانچہ میں سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ لہذا اُن تمام کوششوں کو نظر انداز کردیا جاتا ہے جو بنا تنظیمی ڈھانچہ کے  مختلف مقامات اور اوقات میں مختلف سطحوں پر انجام دی جارہی ہوتی ہیں۔ ہر وہ سرگرمی جس میں ایک گروہ اجتماعی اصولوں کا پاس و لحاظ رکھتے ہوئے اپنی پالیسی اورپروگرام کوروبہ عمل لاتا ہے، اجتماعی سرگرمی میں شمار کیاجانا چاہیے۔ یہ بات اس لیے بھی ضروری ہے کہ جب کبھی بھی کسی نظریہ یا مقاصد کو پیش نظر رکھتے ہوئے ریاست کی تشکیل ہوگی۔ اس وقت اس کے قیام میں ان تمام چھوٹی و بڑی سرگرمیاں ہی اس کی پشت پہ ہوں گی جن کی انتھک جدوجہد کا نتیجہ مجموعی سرگرمی و انجام کی شکل میں سامنے آئے گا۔ لہذا یہاں اُس خیال کی تردید بھی ضروری ہے کہ چند مخصوص جماعتیں یا اس سے وابستہ افراد ریاست کی تشکیل کا بڑا کام انجام دے لیں گے۔

اس غلط خیال ہی کی بنا پر بعض اوقات مخصوص جماعتوں سے وابستہ افراد اُن غیر منظم سرگرمیوں کو نظر انداز کرتے ہیں جو مختلف اوقات اور مختلف مقامات پر چھوٹے و بڑے گروہوں کی جانب سے انجام دی جا رہی ہوتی ہیں۔  ضروری ہے کہ ایک مخصوص دائرے میں انجام دی جانے والی تمام سرگرمیوں کو ایک بڑے دائرے میں منتقل، منظم اور باہم مربوط کیا جائے ۔ اس کے دوسرے معنی یہ ہیں کہ کسی بھی جماعت کے افراد صرف اپنی صلاحیتوں پر ہی بھروسہ کرکے نہ بیٹھ جائیں بلکہ ان تمام منظم و غیر منظم گروہوں کے درمیان اشتراک باہمی کا لائحہ عمل بھی تیار کریں جو اس میدان کار میں نمایاں سرگرمیاں انجام دے رہی ہیں۔ کیونکہ یہ دائرہ جس قدر وسیع اور باہم مربوط ہوگا اسی قدر اُس نظریہ کے فروغ کی راہیں وسیع سے وسیع تر ہوتی جائیں گی۔

ہندوستان کی ایک بڑی اسلامی جماعت نے اپنے دستور میں اس بات کو واضح کیا ہے کہ ہم اقامت دین کے علمبر دار ہیں۔ اقامت دین کے معنی ہیں کہ کسی بھی تفریق و تقسیم کے بغیر پورے دین کی مخلصانہ پیروی کی جائے اور ہر طرف سے یک سو ہوکر کی جائے ۔ نیز انسانی زندگی کے انفرادی و اجتماعی تمام گوشوں میں اسے اِس طرح جاری و نافذ کیا جائے کہ فرد کا ارتقاء ہو، معاشرے کی تعمیر اور ریاست کی تشکیل ہو اور یہ سب کچھ دین کے مطابق ہو۔ ہمارا خیال ہے کہ یہ اقامت دین کی تفہیم صرف اُسی ایک جماعت کی پالیسی اورپروگرام کی حد تک نہیں ہونی چاہیے بلکہ اُس سے وابستہ تمام ذیلی تنظیموں ، اداروں، انجمنوں اورسوسائٹیوں کے لیے بھی یہی تفہیم ہونی چاہیے ۔  یہ طریقہ کار جماعت اُن تمام تنظیموں ، اداروں، انجمنوں اورسوسائٹیوں کے لیے بھی ہونا چاہیے جو اقامت دین کی خاطر سرگرم عمل ہیں۔ سورۃ الشوریٰ میں اللہ تعالی فرماتا ہے : "اُس نے تمہارے لیے دین کا وہی طریقہ مقرر کیا ہے جس کا حکم اس نے نوح کو دیا تھا اور جسے(اے محمدؐ) اب تمہاری طرف ہم نے وحی کے ذریعہ بھیجا ہے اور جس کی ہدایت ہم ابراہیم ؑ اور موسیٰ ؑ اورعیسیٰ ؑ کو ددے چکے ہیں۔ اس تاکید کے ساتھ کہ قائم کرو اس دین کو اوراس میں متفرق نہ ہو جاؤ۔ یہی بات ان مشرکین کو سخت ناگوار ہوئی ہے جس کی طرف تم انہیں دعوت دے رہے ہو۔ اللہ جسے چاہتا ہے اپنا کر لیتا ہے اوروہ اپنی طرف آنے کا راستہ اسی کو دکھاتا ہے جو اس کی طرف رجوع کرے" (الشوریٰ:۱۳)۔

یہاں یہ بات اللہ تعالیٰ نے واضح کر دی ہے کہ دین کو قائم کرنے کی ہدایت کو قبول کرنے کی توفیق انہی انسانوں کو ملتی ہے جو صدق دل سے طالب ہدایت ہوں اور اللہ کی طرف رجوع کریں۔  افراد اور تنظیمیں ، انفرادی و اجتماعی سطح پر مختلف سرگرمیاں انجام دیتے ہوئے نظر تو آئیں گی۔ لیکن چونکہ وہ صدق دل سے اللہ کی ہدایات کی روشنی میں مسائل کے حل میں سرگرم عمل نہیں ہیں ، لہذا وہ نتائج بھی اخذ نہیں ہوپائیں گے جو حقیقتاً مطلوب ہیں۔