یورپ: انتہا پسند پارٹیوں کی پیشرفت
آسٹریا میں کرائے گئے پارلیمانی انتخابات کے نتیجے میں ملک کی دائیں بازو کی دو انتہا پسند جماعتوں کی زبردست کامیابی نے جہاں ملک میں غیر ملکیوں اور بالخصوص مسلمانوں کے خلاف تعصب و نفرت کو مزید بڑھا دیا ہے وہاں یورپ بھر میں اعتدال پسند سیاسی و عوامی حلقوں میں بھی ہلچل مچا دی ہے۔ یورپ کے دوسرے ملکوں میں بھی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ اُن کے ہاں بھی اسی طرح کی انتہا پسندی عود نہ کرجائے ۔
آسٹریا کے پڑوسی ملک جرمنی میں تو یہ پہلے ہی ہو چکا ہے ۔ وہاں ستمبر میں کرائے گئے انتخابات میں انتہائی دائیں بازو کی پارٹی، دوسری جنگ عظیم کے بعد پہلی بار پارلیمنٹ میں داخل ہو چکی ہے۔ البتہ فرانس میں اسی طرح کی غیرملکیوں اور مسلمان مخالف پارٹی اس سلسلے میں کچھ کم پیشرفت کر رہی ہے ۔ اِس انتہا پسندی میں اضافہ کا اندازہ یورپی ممالک میں کٹر دائیں بازو کی پارٹیوں کے وجود سے لگایا جا سکتا ہے ۔ یہاں ان پارٹیوں کے متعلق اختصار کے ساتھ کچھ حقائق پیش کیے جا رہے ہیں :
آسٹریا : تارکین وطن مخالف اور بالخصوص مسلمانوں کو ملک میں ایک ممکنہ خطرہ قرار دینے والی فریڈم پارٹی، یورپ کی ایک بڑی منظم ومتحرک پارٹی بن چکی ہے اور حالیہ پارلیمانی انتخابات میں یہ پارٹی دوسری بڑی پارٹی کے طور پر ابھر سامنے آئی ہے۔ آسٹریا میں نئی حکومت، جو بھی ہو، اس کے بغیر نہیں چل سکے گی ۔ انتہائی دائیں بازو ہی کی کنزرویٹو پیپلز پارٹی کے اقتدار میں دوسرے درجہ پر رہتے ہوئے حکومتی امور میں براہ راست برابر کی شریک ہوگی ۔ یہ پارٹی سن 1956 میں سابق نازیوں نے قائم کی تھی اور سن 1999 میں کرائے گئے انتخابات میں اسے 27 فیصد ووٹ ملے تھے ۔ اس کے رہنما نوربرٹ ہوفر اپنے سیاسی نظریات کی وجہ سے یورپ بھر میں ’’ نئے نازیوں ‘‘ میں سر فہرست شمار کیے جاتے ہیں اور وہ نہ صرف آسٹریا بلکہ پورے یورپ میں تیسری دنیا کے تارکین وطن اور خاص کر مسلمان تارکین وطن کے شدید مخالف ہیں ۔ کنزرویٹوو پیپلز پارٹی بھی غیر ملکیوں اور مسلمانوں کے متعلق کم و بیش وہی نظریات اور سیاسی پالیسیاں رکھتی ہے جو ’’ فریڈم پارٹی‘‘ کا ایجنڈا ہیں ۔
جرمنی : تیسری دنیا کے ممالک سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن اور حالیہ سالوں میں پناہ کے لیے جرمنی آنے والے مہاجرین اور مسلمانوں کے خلاف سب سے زیادہ متحرک ’’ الٹرنیٹوو فار جرمنی ‘‘ یعنی ’’جرمنی کے متبادل‘‘، نامی پارٹی فی الوقت پارلیمنٹ میں تیسری بڑی پارٹی ہے ۔ ستمبر میں کرائے گئے انتخابات میں اس پارٹی کی کامیابی نے جرمن سیاست میں بھونچال پیدا کردیا تھا اور تیرہ فیصد ووٹ حاصل کرکے جرمن سیاسی میدان میں اپنے قدم مضبوط کر لیے تھے ۔ پارلیمنٹ میں اب اس کے پاس نوّے نشستیں ہیں ۔
فرانس: مارینے لی پن کی ’’ نیشنل فرنٹ‘‘ پارٹی کی بنیاد اُن کے والد جین مارے نے سن 1972 میں رکھی تھی۔ یہ پارٹی بھی دائیں بازو کی دیگر یورپی پارٹیوں کی طرح ملک میں افریقی اور تیسری دنیا کے دیگر ممالک کے تارکین وطن کی سخت مخالف ہے اور مسلمانوں کے بارے میں اس کا رویہ انتہائی معاندانہ و متعصبانہ ہے ۔ یہ پارٹی ملک میں تارکین وطن کی آمد کے کھلم کھلا خلاف ہے۔ یورپی مشترکہ کرنسی ’’ یورو ‘‘ کو ختم کر دینا چاہتی ہے اور برسلز کی بجائے فرانس پر پیرس کی حکمرانی چاہتی ہے اور اپنی قومی خود مختاری کو ترجیح دیتی اور تارکین وطن کی آمد کو روکنے کے لیے اپنی قومی سرحدیں یکسر بند کر دینا چاہتی ہے ۔ اور اپنی امیگریشن پالیسیوں کو سخت ترین کر دینا چاہتی ہے ۔ فی الوقت 577 نشستوں والی پارلیمنٹ میں اس کی پارٹی کی صرف آٹھ نشستیں ہیں ۔
نیدر لینڈ ( ہالینڈ ): گیرٹ ویلڈرس جیسے متعصب اور کینہ پرور سیاستدان کی اسلام دشمن اور مسلمان تارکین وطن مخالف ’’ فریڈم پارٹی ‘‘ یورپ بھر میں مسلمانوں کے خلاف آواز اٹھانے والوں میں سر فہرست شمار ہوتی ہے۔ یہ پارٹی ملک میں موجود مساجد کے مینار و گنبدوں کو مسمار کر دینا چاہتی ہے اور قرآن پر پانبدی لگا دینے کا مطالبہ کرتی ہے ۔ فی الوقت ملک کے ایک سو پچاس نشستوں والے پارلیمان میں اس کی بیس نشستیں ہیں اور یہ ملک کی دوسری بڑی پارٹی بن چکی ہے ۔
ہنگری : ملک کی بہتری و خوشحالی کے نام پر جاری تحریک جوبک Jobbik کے نام سے جانی جاتی ہے۔ ایک شدت پسند انتہائی قومیت پرست پارٹی ہے اور پارلیمنٹ میں دوسری بڑی پارٹی ہے لیکن وزیر اعظم وکٹر اُربان کی اپنی سخت گیر پارٹی کی مقبولیت کے مقابلے میں بہت پیچھے ہے ۔ وزیر اعظم کی پارٹی ملک میں مہاجرین کے سخت خلاف ہے اور قومی امیگریشن پالیسیوں کو سخت ترین کرنے کے لیے آئے دن ایسے اقدامات سے بھی گریز نہیں کرتی جو یورپی یونین کے مسلّمہ اصول و ضوابط کے متوازی ہوتے ہیں ۔
اٹلی: یہاں بحیثیت مجموعی تارکین وطن اور خاص کر افریقی و مشرق وسطیٰ کے ممالک کے تارکین وطن کے خلاف نفرت پائی جاتی ہے اور سیاسی پارٹیاں انہیں نشانہ بناتی ہیں۔ ایک علاقائی پارٹی، ’’ نارتھرن لیگ ‘‘ اپنی تارکین وطن مخالف پالیسیوں کی نبیاد پر سب سے آگے ہے ۔ سن 2013 کے انتخابات میں اس پارٹی نے پارلیمانی انتخابات میں اٹھارہ نشستیں حاصل کیں اور سیاسی پنڈتوں کا قیاس ہے کہ سن 2018 کے انتخابات میں ناتھرن لیگ پارٹی اس سے بھی زیادہ نشستیں حاصل کر سکتی ہے کیونکہ اٹلی میں حالیہ برسوں میں سمندری راستوں سے آنے والے مہاجرین کے متعلق اس کی سخت گیر پالیسیاں اِس کی مقبولیت میں دن بدن اضافہ کر رہی ہیں ۔ یہ پارٹی ملکی سرحدیں بند کردینے اور پہلے سے موجود مہاجرین کو یورپی یونین کے ممالک میں برابر تقسیم کرنے یا پھر انہیں ملک بدر کرنے کے لیے زور لگا رہی ہے ۔
یونان : یہاں پر مشرق وسطیٰ اور ایشیائی ممالک سے پہنچنے والے مہاجرین نے کئی ایک سیاسی پارٹیوں کو ’’ انٹی امیگرنٹس پالیسیاں ‘‘ اختیار کرنے کی طرف مائل کر دیا ہے ۔ اس وقت ملک میں نئے نازیوں کی ’’ گولڈن ڈان ‘‘ نے تارکین وطن مخالف تحریک شروع کر رکھی ہے جس کی وجہ سے اس کی مقبولیت میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ سن 2015 کے انتخابات میں ’’ گولڈن ڈان ‘‘ نے اٹھارہ نشستیں حاصل کرکے ملک کی چوتھی بڑی پارٹی ہونے کا درجہ حاصل کر لیا تھا اور قیاس غالب ہے کہ اگلے انتخابات تک یہ ملک کی دوسری بڑی پارٹی کے طور پر ابھر سکتی ہے ۔
سویڈن : نئے نازیوں کی تحریک سے جنم لینے والی ’’ سویڈن ڈیموکریٹس پارٹی ‘‘ نسلی تعصب اور غیر ملکیوں مخالف اپنے سیاسی روّیوں کی وجہ سے کافی پیشرفت کر چکی ہے ۔ اور سن 2014 میں کرائے گئے پارلیمانی انتخابات میں اس پارٹی نے 349 نشستوں میں سے 48 نشستیں حاصل کیں اور یوں یہ ملک کی تیسری بڑی پارٹی بن کر ابھری ۔
بلغرایہ : غیر ملکیوں مخالف انتہائی سخت روّیہ رکھنے والا قومیت پرستوں کا اتحاد ’’United Patriots‘‘ فی الوقت اپنی مقبولیت میں اضافہ کر رہا ہے ۔ یہ حکومتی اتحاد میں شامل ہے اور یوں اسے غیر ملکیوں کے متعلق سخت پالیسیوں بنوانے اور نافذ کرانے کے لیے کافی اثر و رسوخ حاصل ہے جسے یہ استعمال بھی کرتی ہے ۔ پھلے انتخابات میں اگرچہ اسے پہلی بار حکومت میں شامل ہونے کا موقع ملا تھا لیکن کہا جا رہا ہے کہ اگلے انتخابات میں یہ ملک کی دوسری یا تیسری پارٹی کے طور پر کامیابی حاصل کر سکتی ہے ۔
سلواکیہ : مارچ 2016 میں یورپ میں مہاجرین کے بحران نے یہاں کی پیپلز پارٹی کو اپنی مقبولیت بڑھانے کے لیے بڑا فائدہ پہنچایا ۔ یہ پارٹی ملک میں مہاجرین کے داخلے کے بالکل خلاف ہے اور اس سلسلے میں یورپی یونین کے قواعد و ضوابط کو بھی خاطر میں نہیں لاتی ۔ مہاجرین، تارکین وطن اور مسلمانوں کی مخالف اپنی پالیسیوں کو انتخابی پروگرام سر فہرست رکھتے ہوئے اس پارٹی نے انتخابات میں حصہ لیا۔ اور ایک سو پچاس نشستوں میں سے چودہ نشستیں حاصل کرکے پہلی بار پارلیمنٹ میں داخل ہوگئی ۔ اس کے بارے میں بھی سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگلے انتخابات میں یہ پارٹی پہلے سے کہیں زیادہ نشستیں حاصل کر سکتی ہے ۔