تضادات اور منافقت کا شکار تحریک آزادی کشمیر

تقسیم ہند سے قبل جموں کشمیر کی عوامی تحریک اور جنوبی افریقہ میں سیاہ فام عوام کی تحریک میں کافی مماثلت پائی جاتی تھی۔ جموں کشمیر کے عوام کی اکثریت مسلمانوں کی تھی لیکن حکمران خاندان غیر مسلم تھا جس نے بیس فی صد غیر مسلموں کواسی فی صد مسلمانوں پر مسلط کر رکھا تھا۔ لہذا مہاراجہ کی شخصی حکومت کے خلاف مسلمان اکثریت کی اپنے بنیادی انسانی و جمہوری حقوق کے لیے جد و جہد سو فی صد جائز تھی۔

یہ جد و جہد باالکل پر امن اور جمہوری و سیاسی اصولوں کے عین مطابق تھی ۔ تشدد اگر ہوا تو وہ صرف مطلق العنان مہاراجہ کی شخصی حکومت کی طرف سے ہوا۔ مسلمانوں نے رد عمل کے طور پر بھی تشدد کا جواب تشدد سے نہیں بلکہ پر امن احتجاج  سے دیا۔  جنوبی افریقہ میں بھی سفید فام اقلیت سیاہ فام اکثریت پر مسلط تھی۔ آغاز میں سیاہ فام باشندوں کی تحریک بھی پر امن تھی لیکن نیلسن منڈیلا اور ان کے ساتھی اولیور ٹامبو نے عسکری جد و جہد کا اعلان کرکے بم دھماکے شروع کر دیئے جس کے رد عمل میں نیلسن منڈیلا کو گرفتار کر کے ستائیس سال تک قید رکھا گیا۔ اس دوران مغرب کی حمایت یافتہ جنوبی افریقہ کی سفید فام اقلیتی حکومت نے نیلسن منڈیلا کو تنہا کرنے کے لیے اس کے ساتھیوں کو خریدنے کی کوشش کی مگر اولیور ٹامبو اور افریقن نیشنل کانگرس کے دیگر لیڈرز چٹان کی طرح نیلسن مندیلا کے ساتھ کھڑے رہے۔ برطانیہ نے پہلے پس پردہ افریقن نیشنل کانگرس کے خلاف سیاہ فام باشندوں پر مشتمل جماعت کھڑی کرنے کی کوشش کی مگر ناکامی کی صورت میں اس نے واویلا شروع کر دیا کہ جب تک نیلسن مندیلا تشدد کی مذمت نہیں کریں گے تب تک ان سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔ یہاں تک کہ برطانیہ نے یہ اعلان بھی کیا کہ نیلسن منڈیلا کی اہلیہ ونی منڈیلا قابل قبول اور نیلسن منڈیلا قابل قبول نہیں ہیں۔ اس کا مقصد میاں بیوی کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کی کوشش تھی۔

نیلسن مندیلا کے ساتھیوں کی وفاداری کے نتیجے میں فرانس، جرمنی، ہالینڈ اور بیلجم آہستہ آہستہ جنوبی افریقہ کی سفید فام اقلیتی حکومت کے خلاف ہوگئے۔ انہوں نے سفید فام حکومت جسے سیاسی زبان میں اب اپارتھائیڈ کہا جاتا تھا کو سمجھانے لگے کہ نیلسن منڈیلا اور اس کی افریقن نیشنل کانگرس ایک سیاسی حقیقت ہیں۔ سیاسی تبدیلی کو روکنا اب ناممکن ہے۔ لہذا اپارتھائیڈ حکومت کو چائیے کہ وہ افہام و تفہیم کا راستہ اختیار کرتے ہوئے اپنے مستقبل کو محفوظ بنائے ورنہ اگر سیاہ فام اکثریت نے زبردستی حکومت چھینی تو اقلیت کی ملک بدری کا خطرہ ہے۔ مغرب نے نیلسن منڈیلا کے ساتھ ٹکراؤ کی پالیسی اپنانے کے بجائے سفید فام اقلیت کے تحفظ کے لیے گفت و شنید شروع کر دی جس کے جواب میں نیلسن منڈیلا نے کہا کہ وہ ایک ایسا سیاسی معاشرے کا قیام چاہتے ہیں جس کے اندر کسی کے ساتھ زیادتی نہ ہو۔ لیکن برطانیہ کی اس وقت کی وزیر اعظم مارگریٹ تھیچر پھر بھی اڑی رہی جس کے نتیجے مین نیلسن منڈیلا بری ہو کر برطانیہ سے گزر کر آئرلینڈ کا شکریہ ادا کرنے کے لیے گئے تو برطانوی وزیر اعظم نے منڈیلا کے اس اقدام کو اپنے لیے توئین آمیز قرار دیا۔ اور کہا کہ نیلسن منڈیلا اگر سٹیٹ مین بننا چاہتے ہیں تو بری ہونے کے بعد لیبیا کے کرنل قذافی ، یاسر عرفات اور آئرلینڈ جیسے لیڈروں کی صف سے بائر نکلنا ہوگا۔ مگر عظیم نیلسن منڈیلا نے جواب دیا کہ تھیچر اپنے مشورے اپنے پاس رکھیں۔ وہ سب سے پہلے ان لوگوں سے ملیں گے جو مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑے رہے اور برطانوی وزیر اعظم وہ وقت یاد کریں جب کامن ویلتھ میں نیلسن منڈیلا کی جماعت کی وہ واحد مخالف رہ گئی تھیں۔

نیلسن منڈیلا کے عظیم ساتھی اولیور ٹامبو جو منڈیلا کی عدم موجودگی میں ستائیس سال تک جماعت کی قیادت کرتے رہے انہوں نے جماعت کے الیکشن کروا کر جماعت کی صدارت منڈیلا کے حوالے کر دی ۔ اس طرح جب قومی الیکشن ہوئے تو منڈیلا پہلے سیاہ فام صدر منتخب ہو گئے۔ اس کے برعکس ہر کشمیری لیڈر اپنے ساتھی کو ڈھوکہ دینے کی تاک میں رہا۔ جب تک مسلمان اکثریت اقتدار سے باہر تھی تب تک ان کے درمیان اتحاد رہا مگر سن پنتیس میں محدود سیاسی نمائندگی ملنے کے ساتھ ہی اتحاد میں دراڑیں پڑنا شروع ہو گئیں۔ تقسیم ہند کے بعد نیشنل کانفرنس اور مسلم کانفرنس نے تو مکمل طور پر اپنے اپنے راستے بدل لئے جس کے نتیجے میں مہاراجہ بھارت کی گود میں چلا گیا۔ ہندوستان اور پاکستان کے ٹکراؤ کے نتیجے میں جموں کشمیر تقسیم ہو گیا۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے زریعے ہندوستان اور پاکستان نے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو ہندوستان و پاکستان کے ساتھ الحاق تک محدود کروا لیا اور کشمیری لیڈران ایک طرف یہ ورد کرنے لگے کہ مسئلہ کشمیر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کوئی علاقائی جھگڑا نہیں اور دوسری طرف ہندوستان کے حامی اسے ہندوستان کے ساتھ اور پاکستان کے حامی پاکستان کے ساتھ الحاق کو حق خود ارادیت قرار دینے لگے۔

غیر مشروط حق خود ارادیت کے لیے مقبول بٹ شہید کی قیادت میں سیاسی و عسکری جد و جہد شروع ہوئی مگر مقبول بٹ کی قید اور بعد میں پھانسی جس کے نتیجے میں ہم چند ساتھی بھی برطانیہ میں طویل عرصہ کے لیے قید ہو گئے۔ مقبول بٹ کی شہادت اور ہماری قید نے تحریک آزادی کشمیر کے اندر ایک نئی روح پھونکی مگر نیلسن منڈیلا کے ساتھیوں کی طرح ہمارے ساتھی ہمارے ساتھ کھڑے رہنے کے بجائے اپنے آپ کو پروجیکٹ کرنے لگے۔ آہستہ آہستہ عوام ان لوگوں سے بیزار ہو گئے ۔ اب ایک طرف اپنے آپ کو زندہ رکھنے کے لیے یہ لوگ شہیدوں کی برسیاں مناتے ہیں اور دوسری طرف غازیوں سے عداوت رکھتے ہیں۔ فیس بک کا اﷲ بھلا کرے اب ان کی ساری جد و جہد فیس بک اور وٹس اپ گروپ تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔

نیشنل کانفرنس اور مسلم کانفرنس بھی ایک طرف مسئلہ کشمیر کو عالمی مسئلہ قرار دیتی ہیں دوسری طرف اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے اپنی اسمبلیوں سے الحاق کی متنازعہ قراردادیں منظور کروائی گئیں۔ ان دونوں کی پالیسیاں مفاد پرستانہ ہی سہی مگر منافقانہ نہیں ہیں کیونکہ یہ اقتدار کی خاطر جو کچھ کرتی ہیں وہ واضع ہے۔ جبکہ آزادی پسند جماعتوں کے اندر ایسے منافق گھس آئے ہیں جوظاہری طور پر حریت پسند اور باطنی طور پر حریت کش ہیں۔ ایسے کردار زیادہ دیر تک چھپے نہیں رہ سکتے۔ انہیں نیشنل کانفرنس اور مسلم کانفرنس کے حشر سے سبق حاصل کرنا چائیے جو تمام تر وفاداریوں کے باوجود آقاؤں کے لیے قابل اعتماد نہیں ہیں ۔