انقلاب روس کی 100ویں سالگرہ

1917 کے ماہ اکتوبر کا انقلاب انسانی تاریخ کا سب سے اہم واقعہ تھا جس میں پہلی دفعہ محنت کش محروم اور صدیوں سے ظلم و ستم اور استحصال کے شکار اکثریت نے براہ راست اقتدار پر قبضہ کیا۔ اور محنت کشوں کی ریاست کی تشکیل دی۔ عوام کے بنیادی وسائل روٹی کپڑا مکان علاج اور تعلیم کا حل کرنے کی عملی کوشش کی گئی۔ اس کے ساتھ روس میں ایجادات اور تحقیقات کے دور کا آغاز ہوا جس میں پہلی دفعہ کوئی شخص اس کرہ ارض کی حدود سے نکل کر خلاء میں داخل ہوا۔

1917 میں 8 ماہ کے عرصے میں دو تاریخی تبدیلیوں کا آپس میں ٹکراؤ ہوا۔ فروری کی تبدیلی جو ماضی کی جدو جہد کی گونج تھی جو گزشتہ صدیوں میں ہالینڈ، انگلینڈ، فرانس اور تقریباً تمام یورپ میں بورژوا انقلاب کے دور میں سلسلہ وار ہو چکی تھیں۔ انقلاب اکتوبر میں پرولتاریہ کی فتح کا اعلان کیا گیا۔  عالمی سرمایہ داری کو پہلی شکست روس کی سر زمین پر ہوئی۔ اس عظیم انقلاب کے بعد مزدور ریاست قائم ہوئی۔ یہ محنت کش طبقے کی فتح تھی جسے سرمایہ دار حکمران تسلیم کرنے سے انکار کرتے رہے۔ انقلاب کے بعد سوویت یونین پر 21ممالک کی افواج نے جارحیت کر دی تاکہ انقلاب کو کچل کر تاریکیاں دوبارہ مسلط کر دی جائیں۔ روس کے اندر خانہ جنگی نے مزدور ریاست کیلئے خوفناک مسائل پیدا کئے۔ انقلاب مخالف قوتوں کی کوشش تھی کہ عوام کا نئے نظام سے اعتماد اٹھ جائے اور پرانا سرمایہ دارانہ سسٹم دوبارہ قائم ہو جائے۔ ان مشکلات کے باوجود روس نے ترقی کی۔ ٹراٹسکی میں انقلاب روس کے دفاع میں لکھا۔  سوشلسٹ سماج کے اصولوں پر تاریخ میں پہلی دفعہ پیدا وار میں نتائج دیکھے گئے۔ روس نے صنعتی میدان میں مثالی ترقی کی۔ عسکری اعتبار سے ایک بڑی طاقت بنا۔

1913یعنی جنگ سے پہلے کے آخری سال میں خانہ جنگی عروج پر تھی۔ 1925سے لے کر 1932تک جرمنی کی صنعتی پید وار ڈیڑھ گناہ کم ہوئی۔ امریکہ کی دوگنی جبکہ سوویت یونین کی چار گنا ترقی ہوئی۔ یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اتنی شاندار ترقی کے باوجود پھر یہ انقلاب کیوں زوال پذیر ہوا۔  1991میں سوویت یونین کا ٹوٹنا سوشل ازم کا خاتمہ نہیں ہے۔ اسی کے ساتھ یہ سوال بھی اٹھایا جاتا ہے کہ حکمران طبقے کے بغیر کوئی سماج نہیں چلایا جا سکتا۔ امیر اور غریب کا فرق ازل سے قائم ہے اور جو بعد تک رہے گا۔ اس بات کا تفصیلی جواب بائیں بازو کے معروف دانشور ٹیڈ گرنٹ نے اپنی تصنیف روس سے رد انقلاب تک میں دیا ہے۔ لیکن یہاں پر یہ بیان کرنا مناسب ہوگا کہ درست سماجی سائنس کے علم کے بغیر سماج کا تجزیہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے کشش ثقل کے قانون کو سمجھے بغیر راکٹ بنانے کی کوشش کرنا۔ سرمایہ دار طبقہ کبھی نہیں چاہتا کہ اس کی حکمرانی اور پر تعیش زندگیوں کا خاتمہ ہو۔ حکمران مورثی سیاست اور اقتدار چاہتے ہیں۔ وہ نجی ملکیت کے نظام کو قائم رکھنا چاہتے ہیں تاکہ خاندانی دولت میں اضافہ ہوتا رہے۔ اسی لیے وہ محنت کشوں کی ہر تحریک کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔ سارے عالمی سرمائے نے متحد ہو کر افغانستان میں روس کے خلاف لڑائی لڑی اور اس کو منہدم کر دیا۔

تاریخ میں سب سے پہلے عظیم انقلاب اکتوبر کو ایک سازش قرار دینے کی کوشش کی گئی۔ سوویت یونین کے انہدام کی وجہ پولٹ بیورو اور بیورو کریسی کا کٹھ جوڑ تھا۔ لینن نے جمہوریت کو سوشل ازم کیلئے نا گزیر قرار دیا تھا لیکن سٹالن نے جنگ کے دنوں میں لینن کی پالیسیوں کی آڑ لے کر سوویت یونین کی معیشت میں جمہوریت کا خاتمہ کرکے آمر کی حیثیت اختیار کرلی۔ ان تمام باتوں کی پیشین گوئی لینن نے پہلے ہی کر دی تھی اور کہا تھا اگر جرمنی اور دیگر ممالک میں انقلاب نہیں پھیلتا تو روس کا انقلاب ختم ہو جائے گا۔ اور یہ بھی کہا تھا جرمنی کے انقلاب کی کامیابی کیلئے روس کے انقلاب کو قربان کیا جا سکتا ہے۔ فرد کی اجارہ داری کے خاتمہ کیلئے بھی لینن نے جمہوری مرکزیت کا اصول واضح کیا تھا۔ تاکہ کسی فرد کی اجارہ داری نہ قائم ہو سکے۔ سووت بیورو کریسی نے منصوبہ بند معیشت پر جلد اپنی برتری قائم کر لی۔ یاد رہے سوویت یونین کو منصوبہ بند معیشت کی وجہ سے ابھار حاصل ہوا تھا۔ ٹراٹسکی اور لینن کے درست نظریات ایک پورے عہد کیلئے پس پشت چلے گئے۔ جمہوریت کی عدم موجودگی کے باعث معیشت کا گلہ گھٹتا رہا جو بالآخر سویت یونین کے انہدام پر منتج ہوا۔

دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا انقلاب کے ساتھ ہمیشہ ایسا ہوتا رہے گا اور غیر طبقاتی سماج وجود میں نہیں آ سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے سماج کی پہلی کوشش پیرس میں 1871میں کی گئی جسے پیرس کمیون کا نام دیا گیا۔ اس وقت کارل مارکس اور فرییڈرک ہیگل برطانیہ میں محنت کشوں کی عالمی تنظیم انٹر نیشنل کی سربراہی کر رہے تھے۔ ان انقلابیوں کی موجودگی میں وہ انقلاب 70 دن سے زیادہ نہ چل سکا لیکن اس ناکامی سے انقلابی مایوس نہیں ہوئے تھے۔ ان انقلابات کے نتیجہ میں امیر اور غریب کا فرق مٹ نہیں سکا لیکن انسانی سماج ایسے عہد میں داخل ہو چکا ہے جہاں ایسی مشین اور ٹیکنیک حاصل کی جاسکے گی کہ کرہ ارض پر بسنے والے تمام افراد کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔ آج وہ بنیادیں موجود ہیں کہ سرمایہ داری سے بہتر نظام اور جعلی و جھوٹی جمہوریت کی جگہ حقیقی جمہوریت کا طرز حکومت قائم کیا جا سکتا ہے۔ سویت یونین میں سٹالزم کے انہدام سے تبدیلی اور بہتری کو ہی رد کرنا انسان کے انقلابات سے بھرے شاندار ماضی سے انحراف اور روشن مستقبل سے مایوسی کی علامت ہے۔ درحقیقت سٹالزم کی شکست مارکس ازم کے نظریات کی جیت ہے جس سے ثابت ہوتا ہے سرمایہ داری کے مکمل خاتمہ کیلئے دنیا کے محنت کشوں کو اکٹھا ہو کر عالمی سوشلسٹ انقلاب کی جدو جہد کو جاری رکھنا ہوگا۔ اس عالمگیر نظریات سے انحراف کا نتیجہ ناکامی ہے۔

آج پوری دنیا میں انقلاب روس کے حوالے سے بائیں بازو کے کارکن راہنما اور جماعتیں تقریبات کا اہتمام کر رہی ہیں۔ پاکستان میں بائیں بازو کی جماعتوں کو ساٹھ کی دہائی تک کافی پذیرائی رہی ہے۔ ان کی جڑیں ٹریڈ یونین اور کسانوں میں موجود تھیں اور اس کے علاوہ غریب طبقات کی حمایت حاصل تھی۔ صدر ایوب کے مارشل لاء کا سبب اور انتخابات کی منسوخی کی وجہ پاکستان میں بائیں بازو کی سیاست کا ابھار تھا جو کہ سامراج کو ہر گز قبول نہیں تھا۔ پاکستان پیپلزپارٹی نے سوشل ازم کے نعرے کو استعمال کرکے انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ بائیں بازو کے مقبول لیڈر پیپلزپارٹی کو پیارے ہوئے جس سے ملک میں حقیقی عوامی جمہوریت اور حقوق کی جدو جہد کرنے والے گروپوں کو نقصان پہنچا۔ سویت یونین کے منتشر ہونے کے بعد کچھ ترقی پسند بائیں بازو کے راہنما مایوس ہو گئے اور روزگار کی تلاش میں این جی اوز میں شامل ہو گئے۔ اور آج جمہوریت، لبرل ازم اور سیکولرازم کے راگ الاپتے رہتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود پاکستان میں موجود بائیں بازو کے کچھ گروہ اور جماعتیں نظام میں تبدیلی کیلئے سر گرم عمل ہیں۔ جن میں عوامی ورکرز پارٹی، مزدور پسند پارٹی، کیمونسٹ پارٹی آف پاکستان ، طبقاتی جدو جہد ، مزدور طبقاتی جدو جہد اور نیشنل سٹو ڈنٹ فیڈریشن شامل ہیں۔ اگر ان تمام گروپوں کے اتحاد کی شکل بن سکے تو پاکستان میں ایک مضبوط بائیں بازو کی جماعت بن کر ابھر سکتے ہیں۔ کیونکہ منتشر اور تنہا جہدو جہد کے ذریعے نظام میں تبدیلی کو یقینی نہیں بنایا جا سکتا اور نہ ہی قلیل تعداد کے ساتھ سرخ پرچم لہرا کر ریلیاں نکالنے سے انقلاب لایا جا سکتا ہے۔

نئے عہد میں تبدیلی کا طریقہ جمہوریت ہے جس کیلئے بائیں بازو کے گروپوں کو عوام کو متحرک کرنا ہوگا۔ ان تمام گروہوں کے ہاں بالشویک انقلاب ایک عظیم سیاسی میراث اور نشان منزل ہے۔ اور انہیں تاریخی سنہرے لمحات کے ذکر میں لطف اور کامرانی محسوس کرتے ہیں۔ کبھی سرخ پرچم لہراتے، انقلاب کے نعرے لگاتے اور گیت گاتے ہیں اور1917کے انقلاب سے نظریاتی تقویت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہیں انسانیت کے غیر طبقاتی سماج پر مبنی مستقبل پر بھی کامل یقین ہے کہ انقلاب کا سورج دوبارہ طلوع ہوگا۔ جس سے محرومیوں ، بھوک بیماری اور غربت کے تمام داغ مٹ جائیں گے۔ میرے خیال میں دائیں بازو کے کارکن اپنی ہاری ہوئی جنگ کو دوبارہ جیتنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن تاریخ کا دھارا ان کا ساتھ نہیں دے رہا ہے۔ شاید ہم جیسے رومانویت پسند ایسی تصوراتی تبدیلی کی  خواہش لےکر چلے جائیں گے۔