فاٹا اصلاحات کا عمل
- تحریر سلمان عابد
- جمعرات 19 / اکتوبر / 2017
- 4413
اچھے جمہوری معاشروں کی بنیادی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ سیاسی ، سماجی ، معاشی ، قانونی ، انتظامی اور دیگر اصلاحات کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں ۔ کیونکہ جمہوری نظام کی کنجی اصلاحات کا عمل ہی ہوتا ہے ۔ جمہوریت پر مبنی نظام میں فوری انقلاب نہیں آتے بلکہ وہ اصلاحات کو بنیاد بنا کراپنے لیے بہتر اور خوشحالی کا راستہ اختیار کرتے ہیں ۔ اصلاحات کا عمل جتنا زیادہ مؤثر اور مضبوط ہوگا، اتنا ہی اس کی ساکھ بھی قائم ہوگی ۔ لوگ عمومی طور پر ایسی اصلاحات کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں جن سے ان کے مفادات وابستہ ہوتے ہیں ۔ وہ ان ملکیت کو بھی قبول کرتے ہیں ۔ لیکن ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ اصلاحات پر ہمارا یقین کمزور ہوتا ہے۔
خیبر پختونخواہ میں فاٹا اصلاحات کا عمل کئی دہائیوں سے ہماری سیاست کا موضوع بحث ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس علاقہ کو قومی سیاسی دھارے میں لایا جائے گا لیکن عملی طور پر تمام حکمران طبقات کا مقدمہ فاٹا میں اصلاحات کے حوالے سے بہت کمزور رہا ہے ۔ موجودہ حکومت میں خیبر پختونخواہ میں فاٹا کے ادغام کا مسئلہ بڑی شدت سے سامنے آیا ہے ۔ اس میں تین آرا ہیں ۔ اول فاٹا کو موجودہ شکل میں ہی برقرار رکھا جائے ۔ دوئم فاٹا کو نیا صوبہ بنا کر ایک نیا انتظامی یونٹ بنایا جائے اور سوئم اس کو خیبر پختونخواہ میں ضم کیا جائے۔ اسی بحث کو مدنظر رکھ کر وفاقی حکومت نے وفاقی مشیر خارجہ سرتاج عزیز کی سربراہی میں ’’ فاٹا اصلاحات کمیٹی‘‘ تشکیل کی جس میں وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ بھی شامل تھے ۔ اس کمیٹی نے ایک برس کی کوشش اور مختلف سطح پر فریقین سے مشاوت کے بعد جنوری 2017 میں فاٹا کو خیبر پختونخواہ میں ضم کرنے کا اعلان کیا۔ لیکن ابھی تک حکومت اس سفارش پر عملدرآمد کے لیے تیار نہیں ۔
یاد رہے کہ فاٹا اصلاحات کمیٹی نے 2015میں بیک وقت سیاسی ، انتظامی ، عدالتی اور سیکورٹی اصلاحات کے ساتھ ساتھ بھرپور تعمیراتی اور بحالی پروگرام کی تجویز پیش کی تھی تاکہ فاٹا کو پانچ برس کے اندر اندر خیبر پختونخواہ میں شامل کرنے کے لئے تیار کیا جاسکے ۔ خود خیبر پختونخواہ کی صوبائی اسمبلی نے متفقہ قرار داد کے ذریعے فاٹا کو خیبر پختونخواہ میں ضم کرنے کی حمایت کی ہے ۔ تحریک انصاف، پیپلز پارٹی ، عوامی نیشنل پارٹی ، مسلم لیگ (ق) ، مسلم لیگ (ن) اور جماعت اسلامی سمیت دیگر علاقائی جماعتیں فاٹا کی خیبر پختوانخواہ میں ضم کرنے کی حمایت کررہی ہیں۔ جبکہ محض دو جماعتیں جے یو آئی مولانا فضل الرحمن اور پختون خواہ ملی عوامی پارٹی یعنی محمود خان اچکزئی اس کی مخالفت میں پیش پیش ہیں ۔ جمہوری معاشروں میں فیصلے اکثریت کی بنیاد پر ہوتے ہیں جبکہ یہاں اکثریت کے فیصلے کو نظرانداز کرکے اقلیتی یعنی محض دو جماعتوں کی فیصلے کو بنیاد بناکر فاٹا کو خیبر پختونخواہ میں ضم کرنے میں مسائل پیدا کیے جارہے ہیں ۔
یہ ہی وجہ تھی کہ مئی 2017 میں پارلیمنٹ میں’’ قبائلی علاقہ جات رواج بل 2017 ‘‘ پیش کیا گیا تھا۔ خیال تھا کہ یہ متفقہ طور پر منظور ہوگا لیکن دو جماعتوں کی مخالفت کے باعث ایسا نہیں ہوسکا ۔ یہ دونوں جماعتیں کیونکہ حکومت کی اتحادی جماعتیں ہیں تو اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے ان دونوں اتحادی جماعتوں کے تحفظات کے باعث منظوری کے عمل کو پس پشت ڈال دیا ۔ عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی خان کی سربراہی میں ہونے والی صوبائی جماعتوں کی کانفرنس کے مشترکہ اعلامیہ میں بھی فاٹا کو خیبر پختونخواہ میں ضم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن وہاں بھی مولانا فضل الرحمن اور محمود اچکزئی نے مخالفت کی وجہ سے اس بل کو قائمہ کمیٹی میں بھیج دیا گیا ۔ اسی طرح ایک اور تجویز وفاقی حکومت نے پیش کی جس کے تحت ایف سی آر کو ختم کرنے اور اعلی عدلیہ کی عملداری کو فاٹا تک وسعت دی جائے ۔ مگر کچھ لوگوں نے یہ تاثر دیا کہ یہ مقامی لوگوں کے حقوق کو سلب کرنے کی کوشش ہے ، جو کہ غلط ہے ۔
وفاقی حکومت کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنی ہی بنائی گئی کمیٹی کی سفارشات کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اس کو لگتا ہے کہ ایسا کرنے سے اس کا سیاسی فائدہ ان کے مخالفین اوربالخصوص تحریک انصاف کو ہوسکتا ہے ۔ کیونکہ دلیل یہ تھی کہ اگر فاٹا کو خیبر پختونخواہ میں ضم کیا جاتا ہے تو پھر اس صوبے کی صوبائی نشستوں کی تعداد 124سے 147ہوجائے گی۔ جو انتخابی سیاست میں حکومت کے لیے نئی مشکل پیدا کرسکتی تھی ۔ لیکن یہ ایک چھوٹا سیاسی مسئلہ تھا جس کو بنیاد بنا کر فاٹا کے لوگوں کو ان کے حقوق سے محروم کیا جارہا ہے ۔ دیگر مسائل میں فاٹا کو لیویز فورس کو پولیس فورس میں تبدیل کرنے ، اصلاحات کے عمل کی نگرانی کرنے کے لیے چیف آپریٹنگ افیسر کی تقرری اور اعلی عدلیہ کو دی جانے والی وسعت تھی ۔ بعض سیاسی پنڈتوں کے بقول اسلام آباد کی حکومت فاٹا کے نظام کو صوبائی سطح پر دینے کی بجائے اپنے کنٹرول میں رکھنا چاہتی ہے۔ یہ ہی خواہش بنیادی طور پر فاٹا کو صوبہ میں ضم کرنے میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے ۔
بنیادی طور پر فاٹا کے بارے میں فیصلہ وفاقی حکومت نے کرنا ہے لیکن اس کی سیاسی اور آئینی زمہ داری بھی ہے کہ وہ اس صوبہ کی منتخب حکومت کی مشاورت سے آگے بڑھے اور صوبائی خود مختاری میں صوبہ کو ہی حق ملنا چاہیے کہ وہ اپنا فیصلہ خود کریں ۔ لیکن یہ ہی ہماری سیاسی تاریخ کا المیہ ہے کہ ہم مقامی یا صوبائی لوگوں کو نظر انداز کرکے اوپر سے اپنا فیصلہ مسلط کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو کیے گئے فیصلوں کی سیاسی ساکھ اور قبولیت کو نقصان پہنچانے کا سبب بنتا ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر آپ فاٹا میں عام لوگوں اور بالخصوص وہاں کی نئی نسل سے پوچھیں تو ان کی تحریک قومی دھارے میں شمولیت کی ہے ۔ وہ اب بھی سمجھتے ہیں کہ اس کی پہلی شرط فاٹا کو صوبہ خیبر پختونخواہ میں ضم کروانا ہے۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس فیصلہ سے ان کو آئینی ، انتظامی ، قانونی ، سیاسی اور مالی تحفظ حاصل ہوگا۔ یہ عمل یقینی طور پر مقامی لوگوں کو قومی دھارے کا حصہ بنائے گا اور ان علاقوں میں محرومی ،لاتعلقی، انتہا پسندی اور دہشت گردی کی سیاست کا بھی خاتمہ ہوگا ۔
یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ فاٹا کے لوگوں کے ساتھ جو سلوک اسلام آباد یا مجموعی طور پر ریاست نے کیا ہے وہ قابل مذمت ہے ۔ کیونکہ یہ واقعی عجیب منطق ہے کہ ہم ان لوگوں کو اپنے آپ سے علیحدہ کرکے اورمحرومیوں کا حصہ بنا کر ان سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ اس ریاست کے نظام کو ایسے ہی قبول کریں جیسے باقی لوگوں نے کیا ہوا ہے ۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم قومی سطح کے اہم اورحساس معاملات پر بھی ذاتی مفادات پر مبنی سیاست کرکے عام اور کمزور لوگوں کا استحصال کرتے ہیں ۔ کیونکہ ہمیں قومی مفاد سے زیادہ ذاتی مفاد اہم ہوتا ہے ۔ یہ ہی کچھ اس وقت کی حکومت نے فاٹا کے لوگوں کے ساتھ کیا ہے ۔ دکھ یہ ہے کہ اگر اس بار بھی فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کی کوشش محض سیاست اور ایک دوسرے پر سبقت لے جانے میں گم ہوگئی تو فاٹا کے لوگوں کا قومی دھارے میں آنے کا سفر مزید طویل ہوجائے گا ۔
ایک بات پاکستان کے سیاسی اور فکری محاز پر کام کرنے والے دانشوروں ، سول سوسائٹی ، سیاسی جماعتوں اور میڈیا کو سمجھنی ہوگی کہ فاٹا کا مسئلہ محض فاٹا کا مسئلہ نہیں ، اس مسئلہ کو قومی مسئلہ کے طور پر سمجھنا اور نمٹنا ہوگا ۔ کیونکہ اگر فاٹا میں اصلاحات کی مدد سے ان لوگوں کو یا علاقہ کو قومی دھارے میں لایا جاتا ہے تو اس کا اثر مجموعی طور پر پاکستان پر بھی ہوگا۔ ہم سب کو مل اس تاثر کی نفی کرنی ہوگی کہ ہم فاٹا کے لوگوں کے بارے میں فکرمند نہیں۔ ۔