قائدِ اعظم یونیورسٹی کا معاملہ
قائدِ اعظم یونیورسٹی میری مادر علمی ہے۔ ایک وقت تھا کہ اعلیٰ بیوروکریسی، عسکری افسران اور سیاستدانوں کے بچے اس سرکاری یونیورسٹی میں علمی منازل طے کرتے۔ ڈاکٹر کنیز یوسف پاکستان کی پہلی خاتون وی سی نے ایک ماں کی طرح اس ادارے کی نگہداشت کی۔ طلبہ کے ہوسٹل میں کھانے کا معیار چیک کرتیں۔ اگر پھول مرجھائے ہوئے ہوتے تو باغبانی کے شعبہ سے باز پرس کی جاتی۔ پاکستان کے مختلف کالجز میں سے روشن خیال اور ترقی پسند فکر کے استاتذہ کو قائل کرتیں کہ آپ کی جگہ کالج نہیں یونی ورسٹی ہے ۔
آج وقت اور حالات بدل چکے ہیں۔ آج وی سی اور رجسٹرار کسی علمی ادارے کا نہیں بلکہ بیوروکریسی کا حصہ دکھائی دیتے ہیں۔ پروفیسرز اور طلبہ کی صحبت کی بجائے وزیروں مشیروں اور افسروں کے ساتھ شب وروز بسر کرنے کو ترجیح دیتے ہیں ۔ قائدِ اعظم یونیورسٹی میں چند ماہ قبل طلبہ تنظیموں میں تصادم ہوا جس میں ملوث طلبہ کا یونیورسٹی داخلہ منسوخ کردیا گیا۔ اب طلبہ اپنے داخلوں کی بحالی کے لئے اور دیگر مسائل کے حل کے لئے ہڑتال پر ہیں۔ تین ہفتے سے تدریسی عمل معطل ہے۔ وی سی طلبہ سے مذاکرات کرنے پر رضامند نہ تھے۔ اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ اور وزارت داخلہ اس صورتحال میں متحرک ہوئی۔ طلبہ کے خلاف ایک آپریشن کی بازگشت سنائی دی لیکن آخری اطلاعات تک مذاکرات کے ذریعے معاملہ خوش اسلوبی سے طے پا گیا ۔ اگر مذاکرات کے ذریعے معاملہ حل کرنا تھا تو وی سی نے یہ راہ کیوں نہ اپنائی اور اتنے عرصہ تعلیمی حرج کیوں ہونے دیا۔ اور معاملات کو اپنے طور پر حل کیوں نہ کیا ۔
ایک سیمنار میں ہمارے دوست مرتضی نور کے توسط سے قائدِ اعظم یونیورسٹی کے وی سی ڈاکٹر اشرف جاوید کے خیالات سننے کا اتفاق ہوا۔ ان کے مطابق یونی ورسٹیوں میں اردو ادب اور دیگر سوشل سائنسز کے مضامین جن میں طلبہ کی تعداد انتہائی کم ہے بند کر دینے چاہئیں کیونکہ یہ شعبہ جات غیر نفع بخش ہیں ۔ امریکہ میں اعلیٰ تعلیم مفت نہیں۔ اعلیٰ تعلیم پبلک یونیورسٹیوں میں برائے نام فیسوں کے ساتھ ممکن نہیں ۔ ان کے ان خیالات کو سننے کے بعد مجھے اپنا تعلیمی دور یاد آگیا۔ چند ہزار روپے سمسٹر فیس اور پہلے سمسٹر کے بعد کلاس کے دس بچوں کو کارگردگی کی بنا پر وظائف مل جاتے تھے۔ ٹرانسپورٹ فری ہوتی تھی۔ آج طلبہ کو اے ٹی ایم مشینیں سمجھا جاتا ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ ایچ ای سی نے چار سالہ بیچلر کورس شروع کردیا جس کے لئے نہ تو یونیورسٹیوں کے پاس تجربہ کار فیکلٹی ہے اور نہ ہی انفراسٹرکچر ۔
ایک سمسٹر کی پچاس ہزار روپے فیس ہے۔ آج نجی یونیورسٹی اور سرکاری یونیورسٹی کی سمسٹر فیس میں کوئی فرق نہیں رہا ۔ ڈاکٹر اشرف جاوید امریکہ کی مثال دیتے ہیں۔ امریکہ میں ہائی اسکول تک بارہ سالہ تعلیم مفت ہے۔ اس کے بعد اگر آپ سکالرشپ کا امتحان پاس کرلیں تو تعلیم فری ہے اور اگر نہ پاس کر سکیں تو حکومت سے قرض حسنہ حاصل کرکے تعلیمی سلسلہ جاری رکھ سکتے ہیں۔ جبکہ پاکستان میں آج غریب آدمی کے بچوں سے تعلیم کے ذریعے ترقی کی منازل طے کرکے اپنی تقدیر بنانے کا حق چھین لیا گیا ہے۔ یونیورسٹی کاروباری ادارہ زیادہ دکھائی دیتی ہے۔ ڈاکٹر اشرف جاوید جیسے وی سی یونیورسٹی کو ٹیوشن اکیڈمی بنانا چاہتے ہی۔ں لیکن وہ یہ بھول گئے کہ جس امریکہ کی وہ مثال دے رہے ہیں، وہاں بہت سی یونیورسٹیوں میں اردو کے شعبہ جات قائم ہیں۔ امریکی طلبہ غالب، اقبال اور فیض پر ڈاکٹریٹ کر رہے ہیں۔ اردو کے علمی جریدے شائع ہو رہے ہیں۔ لگتا ہے امریکی ترقی نہیں کرنا چاہتے۔