ڈرامے کے ساتھ یہ ڈرامہ کیا ہے
- تحریر
- جمعہ 20 / اکتوبر / 2017
- 5844
کلفٹن کراچی کی ایک پر رونق شاپنگ مال کے فوڈ کورٹ میں ہم نے کاؤنٹر سے کھانے کی ٹرے پکڑی اور ایک خاموش کونے میں جا بیٹھے۔ گرم گرم سوپ کی چسکیاں لیتے ہوئے ہم نے کچھ دیر قبل خریدی کتاب کی ورق گردانی شروع کر دی۔ اسی دوران ساتھ والی میز پر تین نوجوان آکر بیٹھ گئے۔ تینوں گہرے دوست اور کاروباری رفیق لگ رہے تھے۔ بیٹھتے ہی انہوں نے اونچی اونچی آواز میں باتیں شروع کر دیں۔ تینوں کھانے اور آپس کی باتوں میں اتنے محو تھے کہ انہیں شاید اندازہ بھی نہ تھا کہ وہ خاصی اونچی آواز میں گفتگو کر رہے تھے۔ ان کی ایک ایک بات ہمیں سنائی دے رہی تھی۔ پہلے پہل تو قدرے بے زاری ہوئی لیکن ان کی باتوں کا موضوع ہی کچھ ایسا تھا کہ ہم نے کتاب کی ورق گردانی چھوڑ کر ان کی طرف کان لگا دیئے۔
تینوں کا تعلق ڈرامہ پروڈکشن سے تھا ۔ گفتگو کا عامیانہ پن چغلی کھا رہا تھا کہ تعلیم بھی واجبی ہے اور تربیت بھی ۔ ایک غالباٌ کسی چینل سے وابستہ تھا۔ دوسرا کسی معروف پروڈکشن ہاؤس سے منسلک تھا۔ تیسرا بھی ڈرامہ پروڈکشن ہی سے متعلق تھا۔ لیکن اس وقت ملازمت کی تلاش میں تھا۔ یہ تیسرا نوجوان اپنے دونوں ساتھیوں کو اپنے لئے کسی مناسب جاب کے لئے زور دے رہا تھا۔ اس دوران یہ نوجوان اپنی قابلیت کے تازہ ترین واقعات انہیں بتا کر اپنا کیس مظبوط کرنے کی کوشش میں تھا۔ یہ نوجوان ڈرامہ پروڈکشن میں ڈائیریکشن کے شعبے سے وابستہ تھا لیکن ایک کوالٹی کا بار بار اپنے دوستوں کو ذکر کر رہا تھا کہ وہ ڈرامے کے سین اور ڈائیلاگ لکھنے میں بھی ماہر ہے ۔ اس نے فخر سے کئی واقعات سنائے کہ کس طرح کہانی اور کام پھنس گیا۔ ادھر شوٹنگ کا وقت ہوا جا رہا ہے اور ڈائیریکٹر لکھے ڈائیلاگ سے مطمئن نہ تھا۔ اس نے آگے بڑھ کر یہ کام اپنے ذمے لے کر پندرہ بیس منٹ میں ڈائیلاگ لکھ دیئے۔ اس طرح کے اس نے کئی واقعات سنائے کہ کس طرح کہانی پھنس گئی اور اس نے وہیں سیٹ پر بیٹھے کہانی کو نیا موڑ دے کر اور نئے ڈائیلاگ لکھ کر پھنسے ہوئے ڈرامے کی گلو خلاصی کروائی۔
ٹیلی ویژن پر کبھی کبھار پروڈکشن سے متعلق دوستوں کے پاس آنے جانے اور ادب سے اپنی طبعی دلچسپی کے باعث ہمیں اندازہ تھا کہ ڈرامے کا اسکرپٹ کیا ہوتا ہے، منظر نامہ اور ڈٖائیلاگ کیسے لکھے جاتے ہیں اور ڈرامے کی شوٹنگ کے دوران مکمل اسکرپٹ کی موجودگی کس قدر اہم ہے۔ جب نوجوان نے یوں آسانی سے دعویٰ کیا کہ اس نے اسکرپٹ کو ڈائیریکٹر کی حسب منشا گرہ لگا کر کچھ سے کچھ کر دیا تو ہمیں قدرتی طور پر حیرت ہوئی۔ اس پر ہمیں کچھ عرصہ قبل مشہور اداکار سلیم شیخ کی گفتگو یاد آئی۔ اتفاق سے لاہور دوبئی جاتے ہوئے جہاز میں ہم دونوں کی نشستیں ساتھ ساتھ تھیں۔ گفتگو ابتدائی تعارف سے نکل کر زیادہ وقت ڈراموں پر ہی مرکوز رہی۔ ہم نے گھسا پٹا سا سوال ان سے کیا کہ ٹیلی ویژن ڈراموں کا معیار بہت گر گیا ہے، ایسا کیوں ہے۔ انہوں نے تفصیل سے اپنا نقطہ نظر بتایا جس میں سب سے زیادہ زور اسکرپٹ پر تھا۔ ان کا خیال تھا کہ اچھے لکھنے والے بہت کم ہیں۔ اچھی اور منفرد کہانی کی تلاش میں ان کے پروڈکشن ہاؤس کو مہینوں خوار ہونا پڑتا ہے۔ چل چلاؤ والی کہانیاں لکھنے والے بہت ہیں۔ ایک سی کہانی، بے کیف ڈائیلاگ، بے جان کردار نگاری۔ ڈرامہ کا کام اب مکمل کمرشل ہو گیا ہے۔ اب تو یہ حالت ہے کہ ڈرامہ وہی کامیاب سمجھا جاتا ہے جو بک جائے !
‘ڈرامہ اب وہی ہے جو بک جائے‘ یہ الفاظ ایک بار پھر ہمیں سننے کو ملے تو ہم چونک گئے۔ یہ الفاظ اس پوری نشست پر حاوی رہے اور بار بار دہرائے گئے۔ گزشتہ ہفتے یونی ورسٹی آف مینیجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور کی ماہانہ ادبی بیٹھک تھی۔ اس نشست کا موضوع تھا، ڈرامہ: پرفارمنگ آرٹ سے آگے ! مہمانوں میں معروف لکھاری ، ڈائیریکٹر اور اداکار تھے۔ امجد اسلام امجد، بشریٰ رحمان، نعیم طاہر اور مسرت کلانچوی۔ چار میں سے تین معروف لکھاری ہیں اس لئے گفتگو میں ڈرامے میں اسکرپٹ، منظر نامے، ڈائیلاگ اور کردار نگاری پر تفصیل سے گفتگو حاوی رہی۔ نعیم طاہر کا بھی زیادہ فوکس مظبوط اسکرپٹ پر ہی تھا۔ انہوں نے امتیاز علی تاج کے لکھے انارکلی ڈرامے کا بھی ذکر کیا اور اپنے مختلف تجربات کے ذریعے یہی باور کروایا کہ ہدایت کاری، ٹیکنالوجی اور سہولیات کی بہتری کے باوجود ایک اچھی کہانی کے بغیر ایک کلا سیک ڈرامہ تخلیق نہیں ہو پاتا۔
امجد اسلام امجد کا خیال تھا کہ کمرشلزم آج کے پرائیویٹ ٹی وی کی مجبوری ہے لیکن اس مجبوری کو احسن طریقے سے نبھایا جا سکتا ہے اگر کہانی اچھی ہو، مرکزی خیال میں تنوع ہو اور آس پاس کی حقیقی زندگی سے اس کا ناطہ جڑا ہوا ہو ۔ انہوں نے اس تبدیلی پر دکھ کا اظہار کیا کہ اب ڈرامے ایک ہی ڈگر کے مسافر ہیں۔ رشتوں کے تقدس کی پامالی ایک فیشن بن گیا ہے۔ اعتراض پر جواب ملتا ہے کہ ہم تو وہی دکھاتے ہیں جو معاشرے میں ہو رہا ہے۔ امجد اسلام امجد کا ایک قابل غور نقطہ یہ تھا کہ تسلیم کہ ایسے واقعات معاشرے میں ہوتے ہیں لیکن ان کا تناسب بھی تو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ایک فی صد ہوں گے یہ واقعات، بہت ہوا تو ڈیڑھ دو فی صد۔ اب یہ کونسا سلیقہ ہے کہ اٹھانوے فی صد ڈرامے اسی خرابی کے گرد گھوم رہے ہیں۔
اسی طرح ایک زمانہ تھا کہ ڈرامے میں کہانی کے ساتھ ساتھ رشتوں کے تقدس کا اسی طرح خیال رکھا جاتا تھا جس طرح ہماری عام زندگی میں ہوتا ہے۔ بہن بھائی، بھابھی، نند ، دیور، چچا، پھوپھی وغیرہ۔ محبت پہلے بھی ڈراموں کا مرکزی موضوع ہوتی تھی لیکن اب محبت اس قدر بے مہار دکھائی جاتی ہے کہ خاتون دوست کو اپنی خاتون دوست کے شوہر کے ساتھ ملوث دکھایا جا رہا ہے۔ ماورائے ازدواج تعلقات ڈراموں کا ایک لازمی جزو بن گیا ہے۔ گھرانے کے رشتوں کا احترام مفقود دکھایا جاتا ہے۔ ایک زمانے میں نند بھابی ، دیور بھابھی کے رشتے کی اپنی مخصوص چاشنی اور چاہت تھی ، کھٹی میٹھی شرارتیں بھی، لاگ بھی اور لگاؤ بھی لیکن اب کم و بیش ہر ڈرامے میں یہ کردار ایک دوسرے کے ساتھ سازشوں میں اتنے فنا نظر آتے ہیں کہ ان رشتوں کی بنیاد ہی ہلتی محسوس ہوتی ہے ۔ ناظرین کی اکثریت ٹی وی کے کرداروں سے متاثر ہو تی ہے، بار بار اور تقریباٌ ہر ڈرامے میں ا سی نوع کی کردار نگاری سے ان کے دلوں میں بھی رشتوں کے بارے میں یہ تاثرات جڑ پکڑتے ہیں۔
ڈرامہ پروڈکشن میں پی ٹی وی میں اسکرپٹ کی منظوری ایک اہم مرحلہ ہوتی تھی جس میں کئی ماہ لگتے اور کئی لوگ شامل ہوتے تھے۔ لکھنے والے ایک سے بڑھ کر ایک اپنے وقتوں کے ادیب اور فنون لطیفہ کے شناور تھے۔ اشفاق احمد، بانو قدسیہ، اے حمید، فاطمہ ثریا بجیا، حسینہ معین، امجد اسلام امجد، بشریٰ رحمان، اصغر ندیم سید اور اس طرح کے بے شمار نامور لکھاری لیکن اب کیفیت بدل چکی ہے۔ موجودہ حالات میں ڈرامہ پروڈکشن بیشتر صورتوں میں ٹی وی چینل سے الگ کاروبار ہے۔ ڈرامہ تیار ہونے کے بعد کس چینل پر آن ائیر ہوگا ، اس کا فیصلہ اکثر بعد میں کاروباری معاملات کی روشنی میں طے ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں ڈرامہ تیار کرنے والوں کے ذہن میں بنیادی محرک اور خیال یہی رہتا ہے کہ ڈرامہ مناسب منافع پر بک جائے۔ جو موضوعات بہتر ریٹنگ لائیں، انہی پرسب فدا ہیں۔ جو کردار ہٹ ہو جائے سب اسی کو دوہراتے ہیں۔ کہانی میں گلیمر ، خواتین کردار بناؤ سنگھار میں یکتا ، بڑے بڑے عالی شان گھر ، دولت کی ریل پیل ، ملبوسات میں چمک دمک وغیرہ موجودہ ٹی وی ڈراموں کی پہچان ہیں ۔ ڈرامہ لکھنے سے لے کر ایڈیٹنگ تک ایک ہی دباؤ جاری و ساری رہتا ہے کہ ڈرامہ بک جائے۔
اس کمرشلزم نے تخلیق کے لئے تجربے کے رسک اور انفرادیت کی کوشش کو پابند کر دیا ہے۔ ریٹنگ کی دوڑ میں ڈرامے کا وہ روایتی انداز متروک ہو چکا ۔ اب تو پی ٹی وی بھی زیادہ تر ڈرامے مارکیٹ سے بنے بنائے خرید لیتا ہے کہ اپنی پروڈکشن سے یہ سستے پڑتے ہیں۔ ڈرامے ایک ہی شہر میں محدود ہونے ، مارکیٹ کی نبض سمجھنے والے چند لکھاریوں پر انحصار اور چند مخصوص موضوعات پر بنائے جانے کی وجہ سے تخلیق، انفرادیت، علاقائی رنگ اوردھرتی کی خوشبو سے دور ہو رہے ہیں۔ ایک ہی محرک ڈرامہ کی صنعت پر حاوی ہے کہ بک جائے گا۔ ہٹ ہو جائے گا۔ ریٹنگ لائے گا۔ باقی سب باتیں ثانوی ہو گئی ہیں۔
ہم اکثر سوچتے ہیں کہ ڈرامے کے ساتھ یہ کیا ڈرامہ ہو گیا!